کیا کہتا ہے تیسرا فریق

شمارے میں ہم آ پ کو تیسرے فریق کے بارے میں بتا رہے ہیں ۔ حق اطلاع قانون کے تحت جو شخص اطلاع طلب کرتا ہے وہ پہلا فریق ہوتا ہے۔ جس محکمے یا پبلک آفیسر سے اطلاع طلب کی جا تی ہے وہ دوسرا فریق ہوتاہے۔ اس طرح کی اطلاعات طلب کرنے میں عام طور پر کو ئی پر یشانی نہیں ہوتی۔ لیکن اگر درخواست گزار کے ذریعہ مانگی جارہی اطلاع براہ راست طور پر اس سے متعلق نہ ہو کر کسی اور شخص سے متعلق ہو تو درخواست دینے والا شخص تیسرا فریق کہلاتا ہے۔ حق اطلاع قانون میں تیسرے فریق کی شناخت کو خفیہ رکھنے کا اہتمام ہے۔ آرٹی آئی قانون کی دفعہ 11کے مطابق ، ایسی اطلاعات جو کسی دوسرے شخص سے متعلق ہوتی ہیں، انہیں درخواست گزار کو دیے جانے سے قبل تیسرے فریق کی اجازت لینی پڑتی ہے۔ ایسے معاملوں میں یہ پبلک انفارمیشن آفیسر کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ درخواست ملنے کے پانچ دنوں کے اندر تیسرے فریق کو اس کی اطلاع دے گا اور اگلے دس دنوں کے اندر اطلاع جاری کرنے پر اس کی رضامندی یا نا اتفاقی طلب کرے گا۔ لیکن قانون میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ ایسی اطلاع ، جس میں سماجی مفاد شامل ہو یا تیسرے فریق کی اطلاع جاری کرنے سے ہونے والا ممکنہ نقصان اس سے وابستہ سماجی مفاد سے بڑ ا نہ ہو تو ایسی حالت میں وہ اطلاع جاری کی جا سکتی ہے۔ قانون میں یہ ایک اہم ذمہ داری پبلک انفارمیشن آفیسر کی ہے کہ وہ مانگی گئی اطلاع تیسرے فریق اور مفاد عامہ کو اچھی طرح سمجھ بوجھ کر جاری کرے۔ کئی معاملوں میں دیکھنے میں آیا ہے کہ پبلک انفارمیشن آفیسرز ذاتی مفاد یا محکمے کے دباؤ میں آکر تیسر ے فریق سے متعلق اطلاعات کو جاری کرنے سے روکنے کے لیے دفعہ 11کا غلط استعمال کررہے ہیں۔ ایسے میں انفارمیشن کمشنرزکی ذمہ داری کافی بڑھ جاتی ہے کہ وہ تیسرے فریق سے متعلق اطلاعات جاری کرنے میں مفاد عامہ کا خاص خیال رکھیں، جس سے قانون کی بنیادی روح ، شفافیت اور جواب دہی بچی رہے۔ یہاں ہم آپ کو تیسرے فریق سے متعلق کچھ اہم فیصلوں کے بارے میں بھی بتا رہے ہیں۔ ایک ٹیکس دہندہ کے ذریعہ داخل کی گئی ریٹرن کی اطلاع بھی تیسرے فریق سے متعلق مانی گئی ہے۔ انفارمیشن کمیشن نے ایک معاملے کی سنوائی کے دوران انکم ٹیکس رٹرن کی کاپی نہیں دلائی۔کمیشن کاماننا تھا کہ ٹیکس دہندہ کے ذریعہ یہ جانکاری انکم ٹیکس محکمہ کو یقین کی بنیاد پر دی جاتی ہے، جسے عام نہیں کیا جا سکتاہے، لیکن ایک دوسرے معاملے میں کمیشن نے انکم ٹیکس اسٹیٹمنٹ کی جانکاری عام کرنے میں کوئی اعتراض نہیں جتایا۔ اس سے ظاہر ہوتاہے کہ اطلاع دی جائے یا نہیں ، اس کا سارا دار ومدار انفارمیشن کمشنر پر ہے۔ ایک خاندان نے حق اطلاع قانون کے تحت ایک ڈاکٹر کی تعلیمی اسناد کی کاپی طلب کی، جسے میڈیکل بورڈ نے دینے سے منع کر دیا۔ بورڈ کا ماننا تھا کہ یہ کسی شخص کی ذاتی جانکاری ہے جسے دیے جانے سے اس شخص کے حقوق کی پامالی ہوتی ہے۔ کمیشن میں سنوائی کے دوران اس خاندان نے یہ اطلاع مفاد عامہ میں جاری کرنے کی دلیل دی۔ ان کا کہنا تھا کہ تعلیمی اسناد جس ڈاکٹر کے مانگے گئے ہیں، اس نے ان کے بیٹے کا علاج کیا تھا اور علاج کے دوران اس کی موت ہوگئی تھی۔ انہیں اندیشہ تھا کہ ڈاکٹر کی دستاویز فرضی ہیں۔ کمیشن نے بھی اس دلیل پر رضامندی ظاہر کی اور اطلاع مفاد عامہ میں جاری کرنے کے احکام دیے۔ g
پانی کا مسئلہ
فرسٹ اپیلیٹ آفیسر
(محکمہ کا نام)
(محکمہ کا پتہ)
موضوع: حق اطلاع ایکٹ2005 کے تحت درخواست
جناب عالی!
برائے مہربانی مجھے حق اطلاع ایکٹ، 2005کے تحت مندرجہ ذیل اطلاعات فراہم کی جائیں:
.1 آپ کے محکمے کے ریکارڈ کے مطابق میر ے علاقے(…….) کی کل آبادی کیا ہے؟
.2 آپ کے محکمے کے مطابق اصولاً روزانہ پینے کے پانی کی کتنی ضرورت ہے؟
.3 میر ے علاقے میں پانی پہنچانے والے مختلف ذرائع کون کون سے ہیں؟ ہر ایک ذریعہ سے روزانہ کتنا پانی مل رہا ہے؟
.4 حق اطلاع ایکٹ 2005کی دفعہ 2 (j) کے تحت میں محکمہ کے ذریعہ مختلف ذرائع سے سپلائی کئے گئے پانی کی مقدار کی جانچ کرناچاہتاہوں۔اس میں جس ذریعہ سے پانی سپلائی کیا جاتا ہے اور متذکرہ علاقے میں جہاں پانی پہنچتاہے، دونوں ہی جگہ شامل ہیں۔ برائے مہربانی مجھے تاریخ، وقت اور جگہ بتائیں جب میں آکر اس کی جانچ کر سکوں۔
.5 مورخہ …….سے ……کے درمیان پانی کی فراہمی کے محکمے کے ذریعہ حاصل شدہ پانی کے مسئلے سے متعلق شکائتوں کی فہرست فراہم کریں، خواہ وہ کسی بھی ذریعہ (تحریری ، کنٹرول روم یا فون) سے حاصل ہوئی ہوں۔ اس فہر ست میں مندرجہ ذیل اطلاعات ہونی چاہئیں:
(الف) شکایت کرنے والے کا نام اور پتہ (ب) شکایت کی تاریخ (ج) شکایت کی مختصر تفصیل (د) شکایت پر کی گئی کارروائی (ر) کا رروائی کی تاریخ
.6 ہمارے علاقے کا پانی بہت گندہ ہے۔ حق اطلاع قانون، 2005 کی دفعہ 2 (j)تحت اس علاقے میں واٹر ڈپارٹمنٹ کے ذریعہ سپلائی کئے جارہے پانی کا نمونہ میری موجودگی میں لیا جائے اور اس کی جانچ کی جائے۔ یہ نمونہ میرے گھر سے لیا جائے۔ برائے مہربانی اس وقت اور تاریخ کے بارے میں مجھے اطلاع کریں جب میرے گھر سے پانی کا نمونہ لیا جائے گا۔
میں درخواست کی فیس کی شکل میں10روپے الگ سے جمع کر رہا/رہی ہوں۔ یا
میں بی پی ایل کارڈ ہولڈر ہوں، اس لئے یہ فیس مجھے معاف ہے۔ میرا بی پی ایل کارڈ نمبر……ہے۔
اگر مانگی گئی اطلاع آپ کے محکمے/آفس سے متعلق نہیںہو ، توحق اطلاع ایکٹ،2005کی دفعہ6 (3)کے مطابق میری درخواست پبلک انفارمیشن آفیسر کو پانچ دنوں کے اندرمنتقل کردیں۔ساتھ ہی اس ایکٹ کے تحت اطلاع فراہم کرا تے وقت فرسٹ اپیلٹ آفیسر کا نام اور پتہ ضرور بتائیں۔
مخلص
نام :————————————————————————
پتہ : ————————————————————————-
تاریخ : ———————————————————————
منسلک دستاویز
(اگر کچھ ہوتو)

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *