کمزور پڑیں سونیا: بڑھی کانگریس کی مصیبت

وی صندل
یہ کہنا درست نہیں ہے کہ یو پی اے سرکار اپنی سمت کھو چکی ہے۔ تاہم، یہ بیان اہم سوالات کو اجاگر کرتا ہے، سیاسی اور قومی دونوں سطحوں پر۔ کیا اس وقت ہم ہندوستانی سیاست پر نہرو – گاندھی خاندان کے اثرات کے خاتمہ کی شروعات کو دیکھ رہے ہیں۔ کیا لوگوں کا وہ بڑا طاقتور طبقہ، جو بغیر کوئی سوال کیے ہمیشہ گاندھی خاندان کا فرمانبردار رہا، اب اس سے دور ہوتا جا رہا ہے اور اسے کسی نئے متبادل کی تلاش ہے؟ یہ بات یقینی طور پر کہی جاسکتی ہے کہ یو پی اے چیئرپرسن سونیا گاندھی نے اپنا جو دبدبہ بنایا تھا، اس میں کمی آئی ہے۔ یہی نہیں، بلکہ گاندھی فیملی کو امیٹھی اور رائے بریلی جیسے اپنے خاندانی حلقے میں جو ’روایتی‘ حمایت حاصل تھی، وہ بھی اب ختم ہوتی جا رہی ہے۔ امیٹھی کی نمائندگی گزشتہ 29 سالوں سے گاندھی خاندان کے ہی رکن کے ذریعے کی جاتی رہی ہے۔ سب سے پہلے 1980 میں سنجے گاندھی یہاں سے منتخب ہوئے، اس کے بعد راجیو گاندھی 1981 میں یہاں سے ضمنی انتخاب جیت کر آئے اور پھر انہوں نے 1984 اور 1989 کے انتخابات میں یہاں سے جیت حاصل کی (وہ 1991 میں بھی یہاں سے الیکشن جیتے، لیکن تب ان کی موت ہو چکی تھی)، سونیا نے 1999 میں یہاں سے جیت حاصل کی، اور راہل گاندھی 2004 اور 2009 کے انتخابات میں یہاں سے کامیاب ہوئے۔ لیکن حال ہی میں اترپردیش میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے نتائج نے امیٹھی اور رائے بریلی کے عوام کی ناراضگی کو پوری طرح اجاگر کردیا، جو گزشتہ کئی سالوں سے شدید ہوتی جا رہی تھی۔ قابل ذکر ہے کہ لوگوں کی ناراضگی کی ان باتوں کو بڑے پیمانے پر نظر انداز کردیا گیا، جو کافی مہنگا ثابت ہوا، کیوں کہ نظر انداز کرنے کی وجہ سے یہاں کے عوام اور گاندھی فیملی کے درمیان جو رابطہ تھا، وہ ٹوٹ گیا۔ امیٹھی اور رائے بریلی کے لوگوں کی نارضگی، جس کی وجہ سے گاندھی خاندان اور کانگریس کو زبردست جھٹکا پہنچا، کی چند مثالیں دیکھنا مزے سے خالی نہیں ہوگا:

کیا سونیا گاندھی کے اندر ملک کے ترقیاتی اہداف کو واپس حاصل کرنے کی قوتِ ارادی اور قائدانہ صلاحیتیں ہیں؟ اب جب کہ ان کی اتھارٹی زوال پذیر ہے، کیا ان کے اندر بڑی اصلاحات کرنے، ’مخلوط سیاست‘ کو بہانہ نہ بنانے، اور مستقبل کے لیے ہندوستان کے وسیع امکانات کو نہ صرف ملک میں، بلکہ عالمی سطح پر ایک بار پھر بروئے کار لانے کا وژن اور صلاحیت ہے؟حالات یہی بتا رہے ہیں کہ پرنب مکھرجی جیسے ہی رائے سینا ہلس پر قبضہ کر لیتے ہیں، جیسا کہ بڑے پیمانے پر امید کی جا رہی ہے، سونیا گاندھی کی اتھارٹی کو ایک نیا اور سب سے بڑا خطرہ پیدا ہو جائے گا۔

’راہل مایاوتی کو قصوروار ٹھہرا کر دہلی میں اطمینان سے نہیں بیٹھ سکتے۔ انہیں یہاں آنا چاہیے اور لوگوں کے مسائل حل کرنے چاہئیں۔ وہ یہاں پر مہینے میں صرف ایک بار آتے ہیں، بعض دفعہ تین مہینوں میں ایک بار آتے ہیں، جب کہ ہم پریشانیوں سے گھرے ہوئے ہیں۔ لوگ اس بار کانگریس کو امیٹھی اور رائے بریلی سے اکھاڑ پھینکیں گے…‘
’راہل یہاں آنے اور یہاں کے زمینی سطح کے کارکنوں سے باتیں کرنے کا خوب شور مچاتے ہیں، اس کے بعد چائے پینے کسی دلت کے گھر پہنچ جاتے ہیں۔ کیا وہ یہ سوچتے ہیں کہ لوگ بیوقوف ہیں؟ لوگ یہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ وہ صرف دکھاوا کر رہے ہیں۔‘ ’کانگریس نے گزشتہ 50 سالوں کے دوران دلتوں اور غریبوں کے لیے کچھ بھی نہیں کیا، تو وہ بھلا اب کیا کریں گے؟ امیٹھی اور رائے بریلی کے لوگ یہ جانتے ہیں اور اسی لیے وہ تبدیلی چاہتے ہیں…‘
یوپی کے حالیہ اسمبلی انتخابات کے نتائج نے ڈرامائی طریقے سے یہ تبدیلی پیدا کی ہے۔ یہی نہیں، بلکہ راہل گاندھی، جن کی ہائی پروفائل لیڈرشپ کو ہر موقع پر چڑھا بڑھا کر بیان کیا گیا، جس وقت نتائج کا اعلان ہو رہا تھا، سیاسی منظرنامے سے غائب ہوگئے اور ابھی تک حقیقت میں نمودار نہیں ہوئے ہیں۔ یو پی اسمبلی انتخابات کے نتائج کا اثر گاندھی فیملی کے دوسرے ممبران پر بھی دیکھنے کو ملا۔ پرینکا گاندھی ہمیشہ اپنی حاضر جوابی کی وجہ سے پہچانی جاتی تھیں، لیکن اس بار وہ لوگوں کی بھیڑ میں جوش پیدا کرنے میں ناکام رہیں۔ ان کا نام نہاد ’جادو‘ پھیکا پڑ گیا۔ سونیا گاندھی نے بھی انتخاب سے پہلے جو ایک دو دورے کیے، اس میں وہ عوام پر اپنا کوئی خاص اثر نہیں چھوڑ پائیں اور خود اپنے علاقے میں لوگوں کی حمایت جٹانے میں ناکام رہیں۔ گاندھی فیملی کی یہ وہ چند ناکامیاں تھیں، جس میں گزشتہ کئی سالوں سے تیزی سے اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
کوئی بھی آدمی اب تک یہ نہیں بھول پایا ہے کہ بہار کے اسمبلی انتخابات میں راہل گاندھی نے اپنا کوئی اثر نہیں چھوڑا تھا۔ سونیا گاندھی کے داماد، روبرٹ وڈیرا نے یوپی کے حالیہ اسمبلی انتخابات میں فیملی کے ساتھ انتخابی مہم میں جس طرح حالات کو سنبھالا، اسے مشکل سے ’سازگار‘ کہا جاسکتا ہے۔ ناکامیوں کی لمبی فہرست کے ساتھ ہی سوالوں کی بھی ایک لمبی فہرست ہے۔ مثال کے طور پر، 2004 سے، جب راہل گاندھی رکن پارلیمنٹ بنے، کیا انہوں نے اب تک پارلیمنٹ کی کارروائی میں اپنا کوئی تعمیری رول ادا کیا ہے؟ لوک پال بل پر بحث کے دوران، ان کی ’گیم چینجر‘ (کھیل کو بدلنے والا) کی اصطلاح کو بہت سے ماہر سیاست دانوں نے ’گیم چینجر‘ کے طور پر ہی دیکھا۔ ہند- چین تعلقات، ہندو پاک ’مذاکرات‘، افغانستان، مشرق وسطیٰ کے حالات پر راہل گاندھی کے نظریات کیا ہیں؟ اور سب سے اہم سوال یہ کہ اقتصادیات اور دوسرے مسائل، جیسے ایک سے ایک گھوٹالے، جن کی وجہ سے ہندوستان کی شرح ترقی بری طرح متاثر ہوئی ہے، پر راہل گاندھی کے نظریات کیا ہیں؟ ’وکی لیکس‘ کی طرف سے جو ایک دو متنازع بیان سامنے آئے، ان کے علاوہ راہل گاندھی کے دماغ میں کیا چل رہا ہے، یہ کسی کو معلوم نہیں ہے، حالانکہ کانگریس کے بہت سے لوگ ان کو ’ہندوستان کا مستقبل کا لیڈر‘ تصور کر چکے تھے۔
سونیا گاندھی کی طرف واپس لوٹتے ہیں۔ یو پی اے – 1 نے جب اپنے تین سال پورے کیے، تو کسی نے ہندوستانی کرکٹ ٹیم اور سونیا گاندھی کا موازنہ کیا۔ اس کا ایک مزیدار اقتباس ذیل میں دیا جا رہا ہے:
’.1 سونیا گاندھی اور گریگ چیپل: انہیں آپ کوچ کہیں، مینٹر کہیں یا گائڈنگ پرسنالٹی، ان دونوں میں ہر چیز مشترک ہے۔ ان کے پروفیشنل ازم پر حالانکہ کسی کو کوئی شبہ نہیں ہے، تاہم حقیقت یہی ہے کہ دونوں ہی دوسرے ملک میں پیدا ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے ہندوستانیوں سے معاملات طے کرنے میں انہیں بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔
یکسانیت یہیں ختم نہیں ہوتی۔ ان کے درمیان ایک اور چیز مشترک ہے، اور وہ ہے ٹیم کے سربراہ کا انتخاب۔ ڈاکٹر سنگھ کو جہاں وزیر اعظم کے عہدے تک پہنچنے کے لیے سونیا گاندھی کا شکر گزار ہونا چاہیے، وہیں دراوڑ کے بارے میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ انہیں اونچے عہدے پر بیٹھانے میں گریگ کی حمایت حاصل تھی۔ اور جیسا کہ ورلڈ کپ ختم ہونے کے بعد دیکھنے کو ملا کہ کرکٹ ٹیم کی ناکامی کے لیے گریگ کو قصوروار نہیں ٹھہرایا گیا، اسی قسم کی کوششیں سونیا گاندھی کو لے کر بھی ہو رہی ہیں تاکہ یو پی اے حکومت کی ناکامیوں کا قصوروار انہیں نہ ٹھہرایا جائے۔
یہ بات پوری طرح ظاہر ہو چکی ہے کہ ان دونوں کی کمیونی کیشن کی صلاحیت مشکوک ہے اور انہیں کبھی بھی بہتر کمیونی کیٹر نہیں مانا گیا۔ لیکن ہم میں سے سبھی لوگ یہ جانتے ہیں کہ ’بات ان کی میز تک ہی جا کر رکتی ہے…‘
اور اب، صدارتی امیدوار کے انتخاب کے وقت ممتا بنرجی نے سونیا گاندھی کو لے کر جس طرح کا بے خوف و خطر ہو کر ڈرامہ کیا اس سے سونیا گاندھی کی نااہلی اور طرفداری تو ظاہر ہوتی ہی ہے، یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں جب تک مجبور نہیں کیا جائے تب تک وہ کوئی فیصلہ نہیں لیتیں، ان کی حالت ایک ایسے لیڈر کی ہوگئی ہے جس کے ہاتھ سے کمان نکل چکی ہے۔ شاید ان سب کی وجہ سونیا گاندھی کی صحت ہے، یہاں پر قابل ذکر ہے کہ ان کی بیماری کو لے کر جس قسم کی رازداری برتی جا رہی ہے اس نے ان کی اتھارٹی پر نئے اور حقیقی سوال کھڑے کردیے ہیں۔ کہنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ ان کی صحت سے متعلق رازداری کا احترام نہیں کیا جانا چاہیے۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ اس نے غیر صحت مند افواہوں کوگرم کردیا ہے اور خود کانگریس پارٹی کے اندر نئی سازشیں پیدا کردی ہیں۔ اس بات کو سب نے محسوس کیا کہ بہت سے وزراء اب بڑی تیزی سے اپنے مفاد اور اپنی مرضی کے مطابق کام کر نے لگے ہیں، جو اس بات کی واضح علامت ہے کہ ان کے لیڈر کا اب مکمل کنٹرول نہیں رہا۔ مزید پریشان کرنے والا سوال یہ ہے کہ وہ اب کتنے اور دنوں تک لیڈر بنی رہ سکتی ہیں۔ ملک کی موجودہ صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے، اس سے بھی بڑا سوال لوگ یہ پوچھنے لگے ہیں کہ سونیا گاندھی، جن کے حکم کے بغیر پی ایم او کام نہیں کرتا، اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کیا کر رہی ہیں کہ ہندوستان کی پٹری سے اتر چکی سماجی- سیاسی – اقتصادی ترقی کی گاڑی کو واپس پٹری پر لایا جاسکے، جس کی وجہ سے کبھی اس کی پذیرائی کی جاتی تھی؟ ہندوستانی اقتصادیات کی شرحِ ترقی 9 فیصد سے گھٹ کر اب 6 فیصد تک آ چکی ہے، اور یہی سب سے بڑی تشویش کا باعث ہے۔
کیا سونیا گاندھی کے اندر ملک کے ترقیاتی اہداف کو واپس حاصل کرنے کی قوتِ ارادی اور قائدانہ صلاحیتیں ہیں؟ اب جب کہ ان کی اتھارٹی زوال پذیر ہے، کیا ان کے اندر بڑی اصلاحات کرنے، ’مخلوط سیاست‘ کو بہانہ نہ بنانے، اور مستقبل کے لیے ہندوستان کے وسیع امکانات کو نہ صرف ملک میں، بلکہ عالمی سطح پر ایک بار پھر بروئے کار لانے کا وژن اور صلاحیت ہے؟
حالات یہی بتا رہے ہیں کہ پرنب مکھرجی جیسے ہی رائے سینا ہلس پر قبضہ کر لیتے ہیں، جیسا کہ بڑے پیمانے پر امید کی جا رہی ہے، سونیا گاندھی کی اتھارٹی کو ایک نیا اور سب سے بڑا خطرہ پیدا ہو جائے گا۔ جیسا کہ ایک کالم نگار نے آگاہ کیا ہے ’ اگر پرنب، رائے سینا ہلس جانے کے بعد، ایک بار پھر یہ ثابت کرنا چاہیں کہ وہ سب سے زیادہ عقل مند ہیں، تو یہ حکومت کے لیے ایک برا سگنل ہوگا۔ مشکل سے نجات دلانے کے طور پر پیش کرنے کی بجائے انہیں حکومت کے ایک رہنما، دوست اور فلسفی کے طور پر راشٹرپتی بھون بھیجنا بہتر ہوگا۔‘
قصہ یہیں ختم نہیں ہوتا۔ جیسا کہ ممتا بنرجی نے ابھی راستہ دکھایا ہے، اس بات کا قوی امکان ہے کہ شرد پوار، بال ٹھاکرے، نتیش کمار اور ملائم سنگھ یادو جیسے بڑے علاقائی لیڈر بھی زور و شور سے بولنے اور کام کرنے لگیں گے۔ اس سلسلے میں دیکھا جائے تو ملائم سنگھ نے بھلے ہی صدارتی امیدوار کی یو پی اے کی پسند کی حمایت کی ہے، لیکن ان کے بیٹے اور یو پی کے وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو پہلے ہی یہ اعلان کر چکے ہیں کہ برسر اقتدار متحدہ ترقی پسند محاذ کے دن بہت کم بچے ہیں۔ ایسے میں جب کہ سونیا گاندھی کی اتھارٹی اور ہندوستانی سیاست میں گاندھی فیملی کے رول پر بہت سارے سوالات اٹھ رہے ہیں، کیا اس بات کی قوی امید ہے کہ ہندوستان کو اب بہتر ڈھنگ سے چلایا جائے گا، بہ نسبت اس کے جیسا کہ اسے گزشتہ کئی سالوں سے چلایا جا رہا ہے؟ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہندوستانی عوام، جو ہمیشہ سیاسی پنڈتوں سے زیادہ عقل مند ثابت ہوئے ہیں، شاید کسی حد تک انا ہزارے کی تحریک سے متاثر ہوکر، اپنے حقوق کو حاصل کرنے اور بہتر زندگی گزارنے کے لیے اب کمربستہ ہو چکے ہیں۔ ’کام کرو یا جاؤ‘ اب شاید یہی سب سے بڑا فارمولہ بن چکا ہے، جیسا کہ رائے بریلی اور امیٹھی کے انتخابی نتائج نے ثابت کیا۔ اس طرح سے لوگ اب وقت کے ساتھ چلنے لگے ہیں۔ کیا یہی بات گاندھی فیملی کے بارے میں بھی کہی جا سکتی ہے؟ ماضی کی طرح اب صرف نام کا سہارا لینے سے ہی کوئی کام نہیں چلے گا۔ اب وہ وقت آ پہنچا ہے کہ گاندھی فیملی بیدار ہو اور ہندوستانی عوام کی اس مانگ کو پورا کرے کہ کام کرنے اور نہ کرنے کے درمیان کے فاصلہ کو بغیر کوئی دیر کیے ختم کیا جائے گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *