الیکٹرونک میڈیا: ایک خوبی، ہزار خامی

ابرار احمد اجراوی 

ہندوستان میں ریڈیو کی ابتدا 1924 میں ہوگئی تھی، لیکن ملک میں ٹیلی ویژن کی عمر ابھی پچاس پچپن سال ہی ہوئی ہے۔ اطلاعاتی ٹکنالوجی کے انقلاب سے پہلے مطبوعہ صحافت کا ہی جلوہ تھا۔ اگر پرنٹ میڈیا سے الیکٹرانک میڈیا کا تقابل کریں، تو وہ اس کے سامنے طفل مکتب لگتا ہے۔ لیکن حالیہ تناظر میں دیکھا جائے، تو برقی ذرائع ابلاغ کی زود رفتاری نے مطبوعہ صحافت کو بہت پیچھے چوڑ دیا ہے۔ الیکٹرانک ذرائع ابلاغ نے ساری معلومات کو آپ کے ڈرائنگ روم تک بآسانی پہنچادیا ہے۔ انٹرنیٹ جیسے جام جہاں نماکے وجود میں آنے کے بعد تو اطلاعاتی ٹکنالوجی کے میدان میں وہ انقلاب آیا ہے کہ جس کا تصور بھی دو دہائی قبل ممکن نہ تھا۔ برقی ذرائع ابلاغ خواہ وہ ریڈیو ہو یا ٹیلی ویژن، کمپیوٹر ہو یا سنیما، موبائل ہو یا انٹرنیٹ نے جہاں معلومات کی ترسیل میں ہنگامہ برپا کیا ہے، وہیں صارفیت پسندی اور کمر شلائزیشن نے سطحیت اور عجلت کا خون بھی ذرائع ابلاغ کی رگوں میں دوڑا دیا ہے۔ وجہ یہی ہے کہ اب رپورٹنگ خبر رسانی کے جذبے کے ساتھ نہیں کی جاتی، بلکہ اب مسابقہ آرائی اور TRPبڑھانے کی دوڑ لگی ہوئی ہے۔ ککرمتے کی طرح ہر گلی نکڑ پر پھیلے پرائیویٹ نیوز چینل نے خبروں کی جگہ افواہوں کا بازا ر گرم کرنا شروع کردیا ہے۔وہ اشتہاریت کے میدان میں اتنا آگے بڑھ گئے ہیں کہ اخلاقیات اور پریس قوانین کی خلاف ورزی پر آمادہ ہیں۔

پہلے میڈیا غیر جانبدار ہوتا تھا۔ذات پات، مذہب اور اونچ نیچ کا کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ اب میڈیا اور خاص طور سے الیکٹرانک میڈیا نے فرقہ پرستی کا چولا پہن لیا ہے۔ وہ جب چاہے جعلی واقعات کی بنیاد پر کسی کی پگڑی اچھال دے۔ کسی کو دہشت گرد اور دیش دروہی بناکر پیش کردے۔ کوئی حملہ ہو پولس والوں اور ہماری انتظامیہ کو تو اس کی کانوں کان بھنک تک نہیں لگتی، لیکن ادھر حملہ ہوا، کہیں بم بلاسٹ ہوا اور ادھر ہمارے نیوزچینل والے ایکسکلوزو (Exclusive)اور اسپیشل اسٹوری کے نام پرکئی ماسٹر مائنڈ ڈھونڈ لاتے ہیں اور اس پر سنسنی خیز تبصرے شائع کرنے لگتے ہیں۔

الیکٹرانک میڈیا نے اطلاعاتی میدان میں بہت سے قابل رشک نقوش بھی ثبت کیے ہیں۔ برقی میڈیا کی وجہ سے سیاسی کرسیوں پر براجمان طبقہ ہر وقت خوف کے دائرے میں محصور رہتا ہے۔ پرنٹ میڈیا تو بڑی مشکل سے ان سفید پوش طبقوں کے خلاف کوئی تحیر خیز خبر نشر کرپاتا ہے، لیکن برقی ذرائع ابلاغ نے ان سفید پوش طبقے کی ہر حرکت پر نظر رکھنے میں جرأت رندانہ کا مظاہرہ کیا ہے۔ لیکن ہمارے الیکٹرانک میڈیا کا ہر پہلو اتنا روشن نہیں ہے۔ اس نے تعمیر سے زیادہ تخریب اور اطلاع سے زیادہ اشتہار پر فوکس کیا ہے۔برقی ذرائع ابلاغ نے اپنے کامیاب اسٹنگ آپریشن کے ذریعے بدعنوانوں کے دلوں میں دہشت ضرور پیدا کر رکھی ہے۔ لیکن اس کا گناہ اس کے کار خیر پر بھاری ہے۔ اسٹنگ آپریشن کی آڑ میں اسی الیکٹرانک میڈیا نے بد عنوانی کے کارو بار کو بھی بڑھاوا دیا ہے۔ جس سے دشمنی ہوئی اس کے خلاف اسٹنگ آپریشن کرکے سودے بازی کا بازار گرم کرلیا۔ کسی کی شبیہ شکنی الیکٹرانک میڈیا کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہو کر رہ گیاہے۔ منفعت اندوزی کی ہوس نے الیکٹرانک میڈیا والوں کو کہیں کا نہیں چھوڑا ہے۔ سروودے اسکول دریا گنج کی ایک خاتون ٹیچر کے خلاف ایک پرائیویٹ نیوز چینل کا اسٹنگ آپریشن سراسر جھوٹا اور فرضی تھا۔ چند سال قبل جس اسٹنگ آپریشن میں ازہر ہند دارالعلوم دیوبند سمیت چند بڑے مدارس کے مفتیان کرام کو فتویٰ کے بدلے نوٹوں کی گڈی ہاتھوں میں پکڑتے ہوئے دکھایا گیا تھا، وہ بھی جعل پر مبنی تھا۔ برقی میڈیاکی اسی قسم کی غیر اخلاقی حرکتوں کو دیکھ کر بعض سیاست داں اور دانشور نیوز چینل والوں کی ہوس کا پردہ فاش کر نے کے لیے ان کا اسٹنگ آپریشن کرنے کے فراق میں ہیں۔جس کرپشن کے خلاف ہمارا میڈیا شمشیر بکف نظر آتا تھا اب وہ خود اس حمام میں ننگا ہوگیا ہے۔
پہلے میڈیا غیر جانبدار ہوتا تھا۔ذات پات، مذہب اور اونچ نیچ کا کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ اب میڈیا اور خاص طور سے الیکٹرانک میڈیا نے فرقہ پرستی کا چولا پہن لیا ہے۔ وہ جب چاہے جعلی واقعات کی بنیاد پر کسی کی پگڑی اچھال دے۔ کسی کو دہشت گرد اور دیش دروہی بناکر پیش کردے۔ کوئی حملہ ہو پولس والوں اور ہماری انتظامیہ کو تو اس کی کانوں کان بھنک تک نہیں لگتی، لیکن ادھر حملہ ہوا، کہیں بم بلاسٹ ہوا اور ادھر ہمارے نیوزچینل والے ایکسکلوزو (Exclusive)اور اسپیشل اسٹوری کے نام پرکئی ماسٹر مائنڈ ڈھونڈ لاتے ہیں اور اس پر سنسنی خیز تبصرے شائع کرنے لگتے ہیں۔ خاص خبر اور اسپیشل انویسٹی گیٹو اسٹوری کی تلاش نے سب سے زیادہ سنسنی خیزی کو بڑھاوا دینے کے علاوہ سطحیت اور غیر اخلاقی رویوں کو شہہ دیا ہے، جس کے نتیجے میں خبروں کا معیار پست سے پست تر ہوتا جارہا ہے۔ بازاریت اور اشتہاریت کے تصور نے الیکٹرانک میڈیا کا اصلی چہرہ مسخ کرکے رکھ دیا ہے۔ پیسے کمانے اور اپنی TRP بڑھانے کے لیے ایسے ایسے بیہودہ اور فحش اشتہار نشر کیے جارہے ہیں، جنھیں کوئی بھی مہذب شخص دیکھنا پسند نہ کرے۔ پرفیومز، صابن، زیورات، ملبوسات، لڑکیوں کے پوشیدہ کپڑوں اور زیبائشی سامان کو حیا سوز ایکٹرس کی مدد سے اس طرح اسکرین پر اجاگر کیا جارہا ہے کہ اخلاقیات کا جنازہ نکل گیا ہے۔الیکٹرانک میڈیا والے ہندستان کے 80 فیصد عوام سے تو کوئی دلچسپی نہیں لیتے، لیکن گنتی کے چند خاندانوں میں جنم لینے والی فلم ادا کار اور داکاراؤں کی زندگی کے ایک ایک پل کو مرچ مسالہ لگا کر نشر کرنا ان کی عادت ثانیہ بن کرر رہ گئی ہے۔ کس ہیروؤن کا کس کے ساتھ معاشقہ چل رہا ہے، کون کس کے ساتھ DATING پر جارہا ہے، کون ایکٹریس امید سے ہے، یہی کچھ الیکٹرانک میڈیا کا میدان بن گیا ہے۔ ایسے ماحول میں پیدا ہونے والی نسل نے اسی فحاشی اور عریانیت کو سماج کی مسلمہ قدر کے طور پر برتنا شروع کردیا ہے۔ وہ پیدا ہوتے ہی دیکھتا ہے کہ گھر کے سارے لوگ شراب و کباب کی محفل گرم کیے ہوئے ہیں۔ بچے ماں باپ کے سامنے ہی اخلاق سوز حرکت کر رہے ہیں او روالدین تحسین و آفریں کے نعرے بلند کر رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں آنکھیں کھولنے والے بچے کا یہی حشر ہوسکتا ہے۔
یہ تو رہی ہمارے ہندی اور اردو نیوز چینل کے پروگراموں کی نوعیت۔ اب آئیے ذرا ان کے معیار پر بھی غور کر لیجیے۔ ان تجرباتی اعتبار سے نابالغ اور فیشن ایبل رپورٹرزنے اپنی جدت پسندی کا مظاہرہ کرنے اور زبان دانی کا سکہ لوگوں پر جمانے کے لیے زبان کا زائیچہ بھی بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔ ان کی زبان سے ایسے ایسے الفاظ ادا ہورہے ہیں، جن کے معانی و مطالب سے بھی وہ ناآشنا ہوتے ہیں۔ اب’ مخالفت ‘کے بجائے’ خلافت‘ ہورہی ہے۔اب بارش ہوتی نہیں، بلکہ بارش برستی ہے۔ بارش بند نہیں ہوتی ، بلکہ برسات بند ہوتی ہے۔ان نیوز چینل والوں کی ڈکشنری لگتی ہے تبدیل ہوگئی ہے، وہ مہارت کو مہارتھ بولتے ہیں۔جمع الجمع بنانے کا جرم تو یہ غیر اردو داں لوگ دھڑلے سے کر رہے ہیں۔جذباتوں ، خیالاتوں، اور علماؤوں ان نیم خواندہ رپورٹرز کی زبان پر چڑھا رہتا ہے۔اس معاملے میںاین ڈی ٹی وی وغیرہ کے لوگ بڑی احتیاط سے کام لیتے ہیں، لیکن آج تک اور اسٹار نیوز والے خوب اردو کا مثلہ کر رہے ہیں۔ یہ تو غلط الفاظ کے استعمال کی بات رہی، اگر ان کے تلفظ پر غور کریں تو سر پیٹ لینے کو جی چاہے گا۔ یہ لوگ تو بے روک ٹوک’ ذلیل‘ کو’ جلیل‘ بنادیتے ہیں۔
الیکٹرانک میڈیا کی فیملی کے سارے ممبران کا یہ حال نہیں ہے۔ اب بھی بہت سے ایسے نیوز چینل ہیں، جن کے نزدیک صحافت تجارت سے زیادہ ایک مشن کی حیثیت رکھتی ہے۔ ان کے رپورٹرس اور کیمرہ مین افواہوں کا بازار گرم نہیں کرتے، بلکہ وہ موقع واردات پہنچ کر ایک سماجی ورکر کا کام بھی کرتے ہیں۔ اپنا TRP بڑھانے کے لیے لوگوں میں دہشت اور خوف کا ماحول قائم نہیں کرتے۔وہ رپورٹنگ اور اطلاعات رسانی کا کام انجام دیتے ہیں، اور وہ اس سلسلے میں کسی جانبداری یا تعصب یا کسی ذہنی تحفظ کا مظاہرہ نہیں کرتے۔ ایسے ہی میڈیا کے افراد اور رپورٹرس سے برقی ذرائع ابلاغ کی آبرو باقی ہے، ورنہ بیش تر نیوز چینلوں پر جس قسم کی بے سروپا باتوں کو نمک مرچ لگاکر نشر کیاجاتا ہے، اس سے برقی میڈیا کب کا دم توڑ چکا ہوتا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *