دو خطوں کی دنیا

شائشتہ فاخری
لکڑی کی تلوار زمین کے سینے میں پیوست تھی۔ تاتار رکوع کے انداز میں جھکا پسینے میں شرابور ہو رہا تھا۔ تھکان کی پستی جسم پر حاوی تھی، مگر وامیرو کی محبت کا جوش جنوںاسے اپنی انتہا پر پہنچائے ہوئے تھا۔ زمین بھی جیسے اس کے جلال کی تاب نہ لاکربیچوں بیچ سے دو حصوں میںتقسیم ہوتی جا رہی تھی۔پہلے دراڑ، پھر نالا، پھر دریا جیسی چوڑی ہوتے ہوتے زمین دو حصوں میں بٹنے لگی، یہاں تک کہ بیچ میں گہری کھائی آ گئی۔ تاتار کی مضبوط پکڑ تلوار کی موٹھ پر تھی۔ کاندھے تک جھولتے گھنگھریالے بال اس کے روشن چہرے کو آدھا ڈھانکے ہوئے تھے۔ امن کا گہرا سمندر جن آنکھوں میں ہمیشہ ہلورے مارتا تھا، آج وہاں گہری بے سکونی تھی، افسردگی تھی، ساتھ ہی ساتھ غصے کے شعلے بھی۔ تاتار کا یہ روپ دیکھنے والوں کے لیے بے حد حیران کن تھا۔ خانقاہ کی پاک مٹی پر پلا بڑھا ایک مرداس حد تک اضطراب کی کیفیت میں آ سکتا ہے، اس کا لوگ یقین نہیں کر پا رہے تھے۔ زمین کے درمیان چوڑی ہوتی کھائی میںاچانک ابلتے پانی کا چشمہ پھوٹ پڑا۔ لوگ خوف سے چیخ اٹھے … ’رک جاؤ تاتار، رک جاؤ‘، مگر تاتار آج ساری حدیں پار کر جانے پر تلا ہوا تھا۔ یہاں تک کہ لگاتار اونچی ہوتی وامیرو کی آواز بھی اسے اپنے حواس میں نہیں لا سکی۔
تاتار کے بارے میں پوری آبادی میں طرح طرح کے قصے مشہور تھے۔ کچھ گڑھے ہوئے، کچھ سچائی کے قریب۔ مائیں جب گود میں بچوں کو تھپکتیں یا اچھلتے کودتے بچے کو بستر پر لٹانے کی کوشش کرتیں تو تاتار کے ہی قصے نکل پڑتے۔ اس کی کہانیاں سنتے سنتے بچے گہری نیند میں چلے جاتے۔ تاتار تک بھی ایسی باتیں پہنچتیں تو وہ ناراض ہوتا، اپنی قوم کی کم عقلی پر۔ اس کا ماننا تھا کہ قصے کہانیاں سناکر بچے سلائے نہیں، جگائے جاتے ہیں۔ کہانیاں قوم کو بیدار کرنے کے لیے ہوتی ہیں، غافل کرنے کے لیے نہیں۔ اس دنیا میں تاتار کی آمد کو لوگ کسی رحمت سے کم نہیں مانتے تھے۔بات زیادہ پرانی نہیں ہے۔ بیس پچیس سال کا عرصہ ہوا۔ اس وقت آبادی پر عذاب کے بادل منڈلائے ہوئے تھے۔ زمین گناہوں کے بوجھ سے دبی جا رہی تھی۔ لوگ رشتوں کی عظمت کھو رہے تھے۔ امانت میں خیانت ہوتی رہتی۔ لوگ چوری، غارت گری اور کشت و خون میں مصروف ہو کر زندگی کے معنی کھوتے جارہے تھے۔ دین مذہب سے دور ہو کر وہ کسی بھی طاقت کو تسلیم کرنے سے مکر رہے تھے۔ انا کی جنگ انسانیت کو شرمسار کر رہی تھی۔ جسم کی پیاس مردوں کو بھوکا بھیڑیا بنائے ہوئے تھی۔ عورتوں کی غیرت وحمیت خطرے میں تھی۔ سکوں کی اچھال پر نسوانی پیکر ناچا کرتے۔ ضمیر سیاہ چادروں میں منھ چھپائے سسکیاں بھر رہا تھا کہ قدرت مہربان ہو اٹھی۔ خانقاہ میں تاتار کی پیدائش ہوئی۔ والدین نے معاشرے میں پھیلتی بد حالی سے محفوظ رکھتے ہوئے اس کی پرورش خانقاہی ماحول میں کرنی شروع کی، مگر قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔
پانچ چھ سال کی عمر میں ہی تاتار کے والدین موت کے شکار ہو گئے۔ تاتار کی یتیمی اور یسیری نے حجرے سے باہر نکل کر اس کی پرورش کرنے کے لیے مجبور کر دیا۔ دادا کی گود میں تاتار پروان چڑھنے لگا۔ کم عمری میں ہی دادا نے تاتار کے قدم خانقاہ کے باہر نکلوا دیے۔ ’جاؤ…اور جا کرقوم کی گمراہی کو کم کرو۔‘
کچی عمر میں ہی تاتار نے اپنے اوپر ذمہ داری اٹھا لی۔ زمین کی خوشحالی کی ذمہ داری، آبادی کو راہ راست پر لانے کی ذمہ داری…تاتار کی کمر سے بندھی میان میں رکھی لکڑی کی تلوارلوگوں کے تجسس کا مرکز بنی رہتی۔ اس تلوار کو لے کر ماؤں نے اپنے بچوں کے لیے قصے گڑھ ڈالے۔
ایک بار تھکا ماندہ تاتار گھنے درخت کے نیچے تنے سے ٹیک لگا کر گہری نیند سو رہا تھاکہ اچانک ایک فرشتہ آیا، اجلی، روپہلی روشنی کے ہیولے میں۔ اس نے تاتار کو جگا کر وہ تلوار اسے تحفے میں دی اور کہا جب کبھی تم ہمت ہارنا، کھڑے نہ رہ کر تم گھٹنوں کے بل گرنے لگو تو پہلی اور آخری بار اس لکڑی کی تلوار استعمال کرنا۔ تمہارا ہاتھ جیسے ہی موٹھ کو اپنی گرفت میں لے گا تلوار خود بخودتمہاری مرضی کے مطابق چلنے لگے گی۔یہ تلوار کوئی معمولی تلوار نہیں تھی۔ اس کی موٹھ پر سونے کا پتّر تھا اور وہ سونے جواہرات سے جڑی ہوئی تھی۔
تاتار نے جب اس کہانی کو سنا تو دیر تک ہنستا رہا۔ اسے وہ دن یاد آیا جب والدین کی جدائی کے غم میں وہ رویا کرتا تھا۔ دادا اسے بہلانے پھسلانے کے طرح طرح کے طریقے ڈھونڈتے۔ کندھوں پر بیٹھا کر اسے ٹہلایا کرتے۔ کتابوں کو گیند کی طرح اچھال کر جان بوجھ کر ہاتھ پیچھے کر لیتے اور گرتی ہوئی کتاب کو تاتار پکڑنے کی کوشش کرتا ، کبھی کامیاب ، کبھی ناکام۔ سلسلہ چلاتا رہا۔ ایک دن نہ جانے کیا سوجھی کہ ننھا تاتار ضد کر بیٹھا کہ وہ بھی ابا جانی کی طرح کمر میں کھونس کرتلوار آبادی کی طرف نکلے گا۔ ددا کا دل گہری مایوسی میں ڈوب گیا۔ اس عمر میں خانقاہی بچے تلوار سے نہیں کتابوں سے دل بہلایا کرتے تھے۔ زمین سے چھت تک لگی کتابوں پر انھوں نے گہرے دکھ سے ایک نگاہ ڈالی اور خاموش ہوگئے۔ تاتار کو بھی جیسے موقع مل گیا۔ اس نے اپنی ضد پوری کرنے کے لیے کھانا پینا چھوڑ دیا۔ بے بس ہو کر دادا نے لکڑی کی ایک لمبی تلوار اپنے ہاتھوں سے تراشی۔ اس کی موٹھ پر سونے کا پتّر چڑھا کراس پر ہیرے جواہرات جڑ دیے۔ کتنی راتیں جگ کرانھوں نے اپنی عبادت اوردعاؤں کے حصار میںتلوار کو قید کیا۔ مگر پھر بھی تلوار تاتار کے ہاتھ میں نہیں آئی۔ دادا کا حکم تھا کہ جب وہ بڑا ہو جائے گا اور آبادی میں چہل قدمی کے لیے نکلے گا تب ہی وہ اس تلوار کو کمر میں کھونس سکتا ہے۔
دا د ا کی حکم عدولی کی جسارت تاتار میں نہیںتھی۔ کئی سال تک انتظار کرنے کے بعد جب اس نے پہلی بار تلوار پہلی بار کمر میں باندھی تو بہت خوش ہوا۔ خوشی میں اس کی آنکھیں کئی بار آنسوؤں سے چھلک گئی تھیں۔ اس دن آبادی میں گھومتے ہوئے اس نے محسوس کیا کہ وہ ان کے بیچ رہتے ہوئے بھی ان سے کتنا مختلف تھا۔ اس ایک احساس نے اس کی سوچ کا رخ بدل دیا۔ اس کا دل اپنی خانقاہ میں بھی نہ لگتا۔ وہ جانتا تھا کہ دادا جانی کی کتابیں زندگی کا درس دے سکتی ہیں، مگر زندگی جینے کا ہنر نہیں سکھا سکتیں۔ سکون دے سکتی ہیں، مگر ہجوم میں آباد خوشیوں کو تقسیم نہیں کر سکتیں۔ اپنی ذات کے لیے جینا بھی کیا جینا۔ عبادت زندگی کو منزل دیتی ہے، مگر منزل سے پہلے مقصد کی بات آتی ہے اور تاتار نے اپنی زندگی کا ایک ہی مقصدبنایا، زمین کی خوشحالی۔ وہ مٹی جہاں وہ پیدا اور بالآخر جہاں وہ دفنایا جائے گا۔ جب مٹی سے تشکیل پانا اور مٹی میں ہی فنا ہو جانا ہے تو زمین کی عظمت کیوں نہ تسلیم کی جائے۔ اس نے خانقاہی کتابیں بند کیں اور زیست کی کتابیں کھول لیں۔ وہ جانتا تھا کہ کتابوں سے الگ امن کی تحریر لکھنے کے لیے انسان کو انسان سے محبت کا درس لینا ہوگا۔ لوگ اپنے مسائل میں اسے کھینچنے لگے۔ دادا کی دی ہوئی تعلیم کی روشنی میں وہ لوگوں کے مسائل سلجھانے لگا۔ ان کی تکلیفیں دور کر کے امن چین کا پیغام دینے لگا۔ لوگوں کی آواز پروہ ان کے ساتھ ہوتا۔ لوگ اس کی رہنمائی میں بڑھنے لگے۔ تاتار کی کاوش رنگ لانے لگی۔ آبادی میں خوش حالی اور زمین پر امن ہونے لگی۔
دن بھر کی گہما گہمی اور بھاگ دوڑ کے بعد وہ اپنی خلوت میں آکر آنکھیں بند کیے خاموش لیٹا تھا ۔ تھکا ہوا جسم آرام کر رہا تھا۔ دماغ لوگوں کی الجھنیں سلجھانے میں گرفتار تھا۔ مگر دل جیسے کسی ویرانے میں بھٹکتا ہوا اپنی تنہائی پر خون کے آنسو بہا رہا تھا۔ اداس دل کو کہیں قرار نہیں تھا اور تاتار کے پاس اپنی اداسی کا کوئی جواز نہیں تھا۔ وہ کھلے آسمان کے نیچے آ گیا اور آہستہ قدموں سے چہل قدمی کر نے لگا ۔ اچانک اس کی سماعت سے ایک سریلا نغمہ ٹکرایا، شہد سے بھی میٹھا۔ کلیوں کی چٹکن سے بھی زیادہ سبک، باد صبا کی ٹھنڈک کا احساس کراتا، ریشمی زلفوں کی سرسراہٹ جیسا ہوا میں تیرتا ایک ایسا نغمہ جو سیدھے دل سے اتر کر روح کی گہرائیوں امیں اترتا، خوشبو سے اسے معطر کر گیا۔ چہل قدمی کرتے قدم رک گئے۔ سحر آمیز کیفیات سے گزرتے تاتار نے آواز کی سمت دیکھا اور ادھر ہی قدم بڑھا دیے۔ شام کا دھندلکا تھا، پہاڑی جھرنے کا اٹھتا شور موسیقی کی تان جیسا لگ رہا تھا۔ محبت کا نغمہ اپنے میٹھے سروں کے ساتھ ہوا میں گونج رہا تھا۔ تاتار کی کچھ تلاشتی آنکھیں ایک محور پر آکر ٹھہر گئیں۔ چند فاصلے پر بہتے پانی کے چشمے کے پاس ایک نسوانی پیکر اسے نظرآیا۔ اس نے خود کو سر سے پیر تک ایک سفید لبا دے سے ڈھانک رکھا تھا۔ کھلے بال، بل کھاتی زلفیں اس کے رخساروں کوبوسہ دے رہی تھیں۔ اس کی نظریں خلا میں تھیں اور یا قوتی ہونٹ جنبش کر رہے تھے۔ تاتار نے ایسی رومانی فضا کواپنے اندر نہ کبھی محسوس کیا تھا نہ کبھی ایسے بول اس کی سماعت تک آئے تھے۔ وہ ایک جادوئی کشش کے ساتھ اس کی طرف بڑھتا چلا گیا۔ قریب اور قریب … اور پھر گھٹنوں کے بل وہ اس کے سامنے بیٹھ گیا۔ سرور کی کیفیت میں تاتار کی آنکھیں بند تھیں۔ اس نے محبت کا یہ سوز، یہ گہرائی اب سے پہلے کبھی محسوس نہیں کی تھی۔
ایک غیر مرد کو اپنے قریب بیٹھا دیکھ کر وہ لڑکی خامووش ہو گئی۔ بند پلکیں تھر تھرائیں اور تاتار نے پوری آنکھیں کھول دیں ۔ ’’تم نے گانا کیوں روک دیا؟ نغمہ پورا کرو…‘‘
تاتار کی آواز میں حکم تھا۔ وہ لڑکی، جس کا نام وامیرو تھااس کے ماتھے پر ناگواری کی شکنیں آ گئیں۔ مگر اس کے لب خاموش رہے۔ ’’گاؤ…!‘‘ تاتار نے کچھ بلند آواز میں کہا۔ وامیرو پھر بھی خاموش رہی۔ تاتارکو اپنا وجودہوا میں تحلیل ہوتا محسوس ہوا، مگر دل کی بھٹکن کو جیسے قرار آگیا۔ یہی تو وہ سبزہ تھا، جہاں وہ اپنے کو آباد کرنا چاہتا تھا۔ حالانکہ تاتار نے اب تک وامیرو کی شکل نہیں دیکھی تھی۔
’’تم نے گانا کیوں روک دیا؟ گاؤ…گاؤ، ورنہ میری روح جسم سے پرواز کر جائے گی۔‘‘ تاتار لگ بھگ چیخ اٹھا۔ آج وہ ان لمحوں سے دوچار ہوا تھا جو نہ تو خانقاہ کی پاک فضا اسے دے پائی تھی نہ آبادی کا ہجوم اسے میسر کرا سکا تھا۔ وامیرو کی مسحور کن آواز ہوا میں تیرنے لگی۔ ہ اپنا گایا ہوا ادھورا نغمہ پورا کر رہی تھی۔ تاتار اسی طرح دوزانو بیٹھا رہا۔ سنتا رہا، محسوس کرتا رہا۔ روح کی افسردگی مٹنے لگی۔ بے قراری کو قرار مل گیا۔ جینے کے مقصد نے اپنے معنی تلاش کر لیے۔
اچانک آوااز رک گئی۔ نغمہ مکمل ہو چکا تھا۔ تاتار نے آنکھیں کھول دیں۔ سرخ آنکھوں سے اس نے وامیرو کی طرف دیکھا۔ اسے اپنے دادا کی سنائی ہوئی روم کی وہ دیوی یاد آ گئی، جسے لوگ وینس کے نام سے جانتے ہیں، جو حسن و محبت کی شاہکار ہے۔ وہ دیر تک بغیر پلکیں جھپکائے اسے دیکھتا رہا اور آہستہ سے بولا۔ ’’کل آؤگی! … اسی وقت یہیں پر…‘‘ وامیرو نے نہیں میں گردن ہلا دی۔
’’کیوں؟‘‘ تاتار حیران ہوا۔
’’ہماری طرف کی لڑکیاں دوسری طرف کے لڑکوں سے نہیں ملا کرتیں۔‘‘
’’کیوں؟‘‘تا تار نے سوال کیا ۔
’’ غیرت کی خاطر۔ غیرت ہی ہم عورتوں کا عظیم سرمایہ ہے، جسے ہم غیر مرد کے ساتھ تقسیم نہیں کر سکتے۔ یہ سبق ہمارے بزرگوں نے ہمیںدیا ہے۔ ‘ ‘
تاتار خاموش نگاہوں سے اسے دیر تک دیکھتا رہا۔
’’تمہارا نام کیاہے؟‘‘ لڑکی نے سوال کیا۔ ’’تاتار ‘‘ اس نے جواب دیا
تاتار نام سنتے ہی وامیرو پتھر سے اٹھ کھڑی ہوئی۔ حیرت سے پھیلی ہوئی جذبات سے پر آنکھوں سے تاتار کونہارنے لگی۔ تاتار کے کتنے قصے اس نے سنے تھے۔ وہ تو اسے کوئی آسمانی ذی روح سمجھتی تھی، جس سے ملنا ناممکن تھا، مگر یہ تاتار۔ وہ غور سے اسے دیکھ رہی تھی۔ گھٹنوں کے بل بیٹھا، آنکھوں میں التجا لیے یہ تاتار کتنا مختلف تھا اس تاتار سے جسے وہ جانتی تھی ۔
وامیرو کب چلی گئی ، کب شام رات میں ڈھل گئی تاتار کو پتہ ہی نہ چلا۔ وہ اسی پتھر پر رات بھر بیٹھا رہا جہاں بیٹھ کر وامیرو نے محبت کا نغمہ گایا تھا۔ آبشار کا ٹھنڈا پانی اس کے قدموں کو بوسہ دیتا رہا اور وہ سوچتا رہا کہ دادا نے اسے تعلیم دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ مغرب سے مشرق تک اور شمال سے جنوب تک کی تاریخ اسے سنائی تھی۔ تہذیبوں کا زوال کیسے ہوتا ہے، انسانیت کیسے مردہ ہو جاتی ہے اور قومیں کب غرق ہوتی ہیں، یہ ساری باتیں وہ جانتا تھا، مگر کبھی دادا نے یہ نہیں بتایا کہ زندگی کی معراج کیا ہے۔ لمحے اپنے بیش قیمتی سوغاتوں سے دامن کیسے بھرتے ہیں۔ انسان کب عظیم بن جاتا ہے۔ مایوسی کے اندھیرے نور کی بارش سے کب معطر ہوتے ہیں۔ کب سوئے ہوئے جذبے بیدار ہو کر انسان کو انسان بنا دیتے ہیں۔ تاتار انہی باتوں کو رات بھر سوچتا رہا اور سنورتا رہا۔ وقت مقررہ پر وامیرو بے چین ہو اٹھی۔ سوچ میں ٹھہراؤ اور پیروں کا اضطراب اسے خاص سمت پہنچنے کی ہدایت دے رہا تھا۔ بے قراری بڑھتی جا رہی تھی۔ شام کا دھندلکا بڑھتا جا رہا تھا۔ روح اس کے جسم سے آزاد ہونے کے لیے جیسے چھٹپٹانے لگی تاکہ وہ تاتار کے پاس پہنچ سکے۔ فانی جسم کے لافانی جذبے مچل اٹھے۔غیرت کی تمام بندشوں کو لانگھ کر وامیرو تاتار سے ملنے پہنچ گئی اور پھر ملنے بچھڑنے کا ایک لمبا سلسلہ جاری ہو گیا۔
وہ شام بھی تمام شاموں سے جدا نہیں تھی، مگر آبادی کے لیے خاص ضرور تھی، کیونکہ آج زمین پر میلے کا جشن تھا۔ ایک چھور سے دوسرے چھور تک لوگ خوشیاں منا رہے تھے۔ تاتارمخصوص جگہ پر بیٹھا وامیرو کا انتظار کر رہا تھا۔ دھندلکا بڑھتا جارہا تھا ۔ وامیرو نہیں آئی ۔ ایسا ممکن ہی نہیں تھا کہ بغیر کوئی پیغام دیے وامیرو اس کے پاس نہ پہنچے۔ اچانک گہراتے اندھیرے میں چمکتی ہوئی دو آنکھیں اسے دکھائی دیں، جن میں آبشار کا پانی ہلکورے لے رہا تھا۔تاتار بے چین ہو اٹھا۔ وہ تڑپ کر آگے بڑھا۔ جھاڑی کے پیچھے کھڑی وامیرو کو اس نے سینے سے لگا لیا۔ وہ اسے روتا ہوا نہیں دیکھ سکتا تھا، مگر وامیرو کے پیچھے اس کی ماں، اس کا کنبہ کھڑا تھا، جن کی آنکھوں میں غصے اور نفرت کے شعلے بھڑکے ہوئے تھے۔ ’’تم جانتے ہو، ہمارے کنبے کی لڑکیاں دوسرے کنبے میں نہیں بیاہی جاتیں!‘‘ وامیرو کی ماں نے شدید غصے کی حالت میں پوچھا۔
’’کنبہ پرستی زندگی کی معراج کو پیچھے نہیں ڈھکیل سکتی۔‘‘ تاتار نے پر سکون لہجے میں جواب دیا۔ خوف زدہ وامیرو اس کی پشت میں پناہ لیے کھڑی تھی ۔
’’محبت نے تمہای آنکھ کے پانی کو مار دیا ہے۔ تم غیرت فراموش کر بیٹھے ہو۔ ‘‘
وامیرو کا کنبہ چیخ اٹھا۔چیخیں اتنی بلند تھیں کہ بھیڑ اکٹھا ہونے لگی۔
ذلت کا گہرا احساس تاتار کو بے بے چین کر رہا تھا۔ بھیڑ بڑھتی جارہی تھی، معاملہ ٹاتار کا جو ٹھہرا۔ لوگ اس پر ہنس رہے تھے۔ اس کے خانقاہی ماحول کا مذاق اڑا رہے تھے۔ دادا کی پرور ش پر انگلیاں اٹھ رہی تھیں۔ تاتار جو ایک ادنیٰ انسان کی شکل میں ان کے سامنے مجرموں کی طرح کھڑا تھا، اس نے حدیںلانگھی تھیں۔ آخر کار اس کی قوت برداشت ختم ہو گئی۔ غصے اور جنون کے شعلے بھڑک اٹھے۔ تاتار آگے بڑھا اور کمرمیں کھونسی اپنی تلوار کو باہر کھینچ لیا۔ موٹھ پراس کی پکڑمضبوط تھی۔ اس نے تلوار کی نوک زمین پر گاڑ دی۔ تلوار دھنسنے لگی۔ وہ جیسے ہوش و حواس کھو بیٹھا۔ لوگ اسے روکنے کی کوشش کر رہے تھے، مگروہ سب بے بس ہوگئے اور اس کی تلوار زمین کو دو حصوں میں تقسیم کرتی ہوئی آگے بڑھتی جارہی تھی۔ ایک چھور سے دوسرے چھور تک وہ رکوع کے انداز میں جھکا تھا۔ اس کا جسم پسینے سے شرابور تھا۔ اور جب اس کاہاتھ رکا تو زمین دو حصوں میںتقسیم ہو چکی تھی۔ لکیر کی شکل میں ابھری دراڑ چوڑی ہونے لگی، اتنی چوڑی کہ پوری کھائی بن گئی۔ زمین کا جگر پھٹ گیا۔ پانی کا چشمہ پھوٹ پڑا۔ کھائی تیزی سے پانی سے بھرنے لگی۔ تاتار جب سیدھا ہوا تو اس نے دیکھا کہ وامیرو زمین کے دوسرے حصے پر کھڑی ہے۔ درمیان میں افانیں مارتا پانی کا ابال اور شور تھا۔
تاتار کے لیے اب دوری اورجدائی بے معنی تھی۔ وہ وامیرو کو حاصل کرنا چاہتا تھا، کسی بھی قیمت پر۔ قربت کی چاہ نے اس کی دور اندیشی کو کمزور کر دیا اور اس نے ایک چھلانگ میں درمیان میں آئی کھائی کو پار کرنا چاہا، مگر اس کے پاؤں خلا میں رہ گئے۔ وہ اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں سے زمین کے اس ٹوٹے ہوئے حصے کی کگار کو پکڑنے کی کوشش کرنے لگاتاکہ نیچے کی طرف جھولتے اپنے جسم کو سنبھال سکے، مگر وہ ناکام رہا۔ بھربھری مٹی کی وجہ سے اس کے ہاتھ کگار کو گرفت میں لینے سے ناکام رہے اور وہ افان مارتے پانی میں چھپاک کی آواز کے ساتھ نیچے گرا اور ڈوبتا چلا گیا۔ لوگ باگ اسے بچانے کے لیے کود پڑے، مگر خالی ہاتھ واپس لوٹے۔ تاتار کو نہ ملنا تھا، وہ نہیں ملا۔ غیرت کی جنگ نے اسے گم شدہ بنا دیا۔
ادھر سالہا سال لوگوں نے وامیرو کو دیوانوں کی طرح کھلے بال، کھلے سر محبت کے دل سوز نغمے گاتے یہاں وہاں بھٹکتے دیکھا۔ کہتے ہیں کہ یہ تاتار اور وامیرو کی بد دعا ہے کہ تب سے آج تک دنیا دو خطوں میں بٹ گئی۔ ایک محبت کی معراج حاصل کرنے والوں کی اور دوسری محبت کو پامال کرنے والوں کی۔ مائیں بچوںکو کہانیاں سناتیں کہ جس دن تاتار اور وامیرو واپس لوٹیں گے، دو خطوں میں بٹی یہ دنیا ایک ہو جائے گی ہمیشہ کے لیے ۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *