بہار میں بے زمین کسانوں کے ساتھ دھوکہ

سروج سنگھ

گڈ گورننس میں کیا کسانوں اور غریبوں کو لوٹا جاتا ہے؟ عام طور پر تو ایسا نہیں مانا جاتا ہے، لیکن کچھ حقائق اور دستاویز بتاتی ہیں کہ بہار میں یہی ہو رہا ہے۔ بے زمین کسانوں کو پاور ٹلر کاغذوں پر دے دیا جاتا ہے اور بدلے میں انہیں بینک کا نوٹس پہنچا دیا جاتا ہے۔ سرکاری افسران اور ملازمین کی ملی بھگت کی وجہ سے دلال مرے ہوئے لوگوں کے نام پر جعلی کاغذات پیش کرکے اور فرضی دستخط کرکے فصل کے نقصان کی تلافی کی رقم نکال رہے ہیں۔ سب سے افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ ایسے واقعات رکنے کے بجائے بڑھتے جا رہے ہیں۔ نتیجہ یہ کہ گڈ گورننس کا چہرہ داغدار ہو رہا ہے۔ سرکاری ملی بھگت سے کیسے کسانوں اور غریبوں کا حق لوٹ لیا جاتا ہے، اس کی مثال دیکھنے کو ملی نالندہ ضلع بین پرکھنڈ میں۔ وہاں کے کسانوں کو جب بینک کے نوٹس کے ذریعے جانکاری ملی کہ ان پر ساٹھ ہزار روپے کا قرض ہے اور وہ بھی پاور ٹلر لینے کا، تو وہ حیران رہ گئے۔ کسانوں نے یہاں وہاں فریاد بھی کی، پر کہیں سنوائی نہیں ہوئی۔ ڈی ایم کے جنتا دربار میں معاملہ جانے کے بعد پولس بیدار ہوئی اور اس نے چار دلالوں کو رنگے ہاتھوں گرفتار کرکے جیل بھیج دیا۔

پہلے تو قدرت نے یہاں کے غریب کسانوں کو تباہ کر دیا اور جو کسر باقی رہ گئی، اسے گڈ گورننس کے افسروں نے دلالوں کے ساتھ مل کر پوری کردی۔ فضل کے نقصان کی تلافی کے نام پر پیسوں کی آپس میں بندر بانٹ کر لی گئی اور متاثر کسان تاکتے رہ گئے۔ سرکاری جانچ رپورٹ بتاتی ہے کہ انچل کاریالیہ کے ملازمین، افسران اور نگراں کمیٹی کے ممبران کی ملی بھگت سے فصل کے نقصان کا فائدہ حاصل کرنے والوں کی غلط فہرست بناکر فرضی طریقے سے سرکاری رقم نکال کر اس کی بندر بانٹ کر لی گئی۔ سب ڈویژنل پولس آفیسر مدھے پورہ، وجے کمار کی جانچ رپورٹ بتاتی ہے کہ فہرست میں ایسے لوگوں کے نام بھی شامل کر لیے گئے، جو اَب اس دنیا میں نہیں ہیں۔

اس پورے معاملے میں دلال، بینک اور سی او کی ملی بھگت سامنے آئی۔ جس کے پاس ایک دھری زمین نہیں ہے، اس کے نام پر بھی پاور ٹلر کا لون نکالا گیا۔ اب تک اس طرح کے پچاس معاملوں کا خلاصہ ہو چکا ہے۔ کئی معاملوں کی جانچ جاری ہے اور ان میں اور بھی بڑے گھوٹالوں کا پردہ فاش ہونے کی امید ہے۔ پولس نے اس معاملے میں بہار شریف کی ہرش پاور ٹلر ایجنسی کے ملازم ششی کمار، پرناما، سرمیرا، چندن کمار، لوہڑی، راجیو رنجن کمار اور شری کانت پرساد کو چار پاور ٹلروں کے ساتھ دبوچ لیا۔ اس میں بہار شریف کے ایس بی آئی (ای ڈی بی) اور پی این بی کی رہوئی اور نالندہ برانچ کے ساتھ ساتھ وسطی بہار گرامین بینک کے ملازمین کی ملی بھگت بھی کھل کر سامنے آ رہی ہے۔ ڈی ایس پی فریش رام نے کہا کہ بین کے اُس وقت کے سی او اور بینک کے ملازمین کی ملی بھگت سے دلالوں نے غلط ایل پی سی بناکر پاور ٹلر کے نام پر فرضی طریقے سے پیسے نکال لیے۔ بتایا جاتا ہے کہ بین کے سی او دفتر میں تعینات ملازمین، منوج کمار اور شاہد کا رول سب سے زیادہ مشکوک ہے اور موٹی رقم لے کر دلالوں کو انہوں نے ہی فرضی ایل پی سی مہیا کرائی۔

بین کے مہیش پورہ گاؤں کی رہنے والی سشیلا دیوی بیوہ ہیں اور بے زمین بھی، لیکن دلالوں نے انہیں بھی نہیں بخشا۔ گاؤں کے دلال کیلو پرساد نے پہلے ان سے سادے کاغذ پر انگوٹھا لگوا لیا اور پھر ان کے نام پر پاور ٹلر کی رقم نکال لی۔ اسی طرح بلندر پاسوان، اومیش پاسوان، چندر کلا دیوی، دنیش پاسوان، دھرمیندر پاسوان، ہریہر پاسوان، پوتر ٹھاکر، ڈبلیو پاسوان، سریو پاسوان، مہندر پاسوان، اندر دیو پاسوان اور کیلاش ٹھاکر کے نام پر رقم نکال لی گئی، جب کہ ان کے پاس ایک دھر زمین نہیں ہے۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ سنجے اگروال نے کہا کہ معاملے کو سنجیدگی سے لے کر تفصیلی جانچ کی جا رہی ہے اور کسانوں کو ٹھگنے والوں کو کسی بھی حال میں بخشا نہیں جائے گا۔ ضلع زرعی افسر سداما مہتو نے بتایا کہ زرعی افسر کی منظوری کے بغیر بینک نے لون دے دیا، یہی سب سے بڑی گڑبڑی ہے اور اسے گرانٹ نہیں ملنی چاہیے۔ اس قسم کے واقعات صرف نالندہ تک محدود نہیں ہیں، بلکہ پورے بہار میں زرعی آلات کے لیے گرانٹ کے نام پر لوٹ کا کھیل جاری ہے، جس کے شکار غریب اور بے زمین کسان ہو رہے ہیں۔
مردوں کو ملا فصل کے نقصان کی تلافی کے طور پر پیسہ
ضلع مدھے پورہ اور علاقہ کمار کھنڈ۔ 2008 کے سیلاب میں تباہ ہوئے اس علاقہ کے لوگوں کی بدقسمتی ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ پہلے تو قدرت نے یہاں کے غریب کسانوں کو تباہ کر دیا اور جو کسر باقی رہ گئی، اسے گڈ گورننس کے افسروں نے دلالوں کے ساتھ مل کر پوری کردی۔ فضل کے نقصان کی تلافی کے نام پر پیسوں کی آپس میں بندر بانٹ کر لی گئی اور متاثر کسان تاکتے رہ گئے۔ سرکاری جانچ رپورٹ بتاتی ہے کہ انچل کاریالیہ کے ملازمین، افسران اور نگراں کمیٹی کے ممبران کی ملی بھگت سے فصل کے نقصان کا فائدہ حاصل کرنے والوں کی غلط فہرست بناکر فرضی طریقے سے سرکاری رقم نکال کر اس کی بندر بانٹ کر لی گئی۔ سب ڈویژنل پولس آفیسر مدھے پورہ، وجے کمار کی جانچ رپورٹ بتاتی ہے کہ فہرست میں ایسے لوگوں کے نام بھی شامل کر لیے گئے، جو اَب اس دنیا میں نہیں ہیں۔ ان کے نام سے بھی پیسہ نکال لیا گیا۔ جہاں فائدہ حاصل کرنے والے دستخط کرتے ہیں، وہاں ان کے نام کے سامنے انگوٹھے کا نشان لگا کر رقم نکال لی گئی۔ جانچ رپورٹ کہتی ہے کہ فائدہ حاصل کرنے والے اصلی ایک ایک آدمی کے نام سے تین تین چیک بنائے گئے، جن میں سے دو چیک فرضی لوگوں کے ذریعے بھنا لیے گئے۔ فائدہ حاصل کرنے والے وہ اصلی لوگ جو سرکاری نوکری کی وجہ سے باہر کام کر رہے ہیں، ان کے نام پر بھی پیسہ نکال لیا گیا، جب کہ اصل لوگ پیسہ لینے آئے ہی نہیں۔

دھان خریدنے میں گھوٹالہ
ارون ساتھی
شیخ پورہ ضلع میں سرکار کے ذریعے طے شدہ قیمت پر دھان خریدنے میں بڑے پیمانے پر گھوٹالے کی بات سامنے آئی ہے۔ ضلع میں کوآپریٹو ڈپارٹمنٹ نے صرف 78 کسانوں سے 11,584 کوئنٹل دھان کی خرید کر لی۔ اتنا ہی نہیں، جس کسان کے پاس چار ایکڑ کھیت ہے، اس سے 500 کوئنٹل دھان خرید کر ضلع کے کسانوں کے نام عالمی ریکارڈ بھی بنا دیا گیا، یعنی فی کٹھا کسانوں نے بیس من دھان کی پیداوار کی۔ یہ انکشاف شیخ پورہ کے کھنڈ پر کی باشندہ اور بہار راجیہ کسان سبھا کی رکن راج کماری مہتو کے ذریعے آر ٹی آئی کی بنیاد پر مانگی گئی اطلاع کے بعد ہوا۔ ایک خلاصہ یہ بھی ہوا کہ ضلع میں صرف 78 کسان ہیں، جن کے گھر ایک کروڑ اٹھارہ لاکھ روپے چلے گئے۔ اس سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ سرکاری افسران کس طرح کسانوں کو ملنے والے پیسوں کی بندربانٹ کر لیتے ہیں۔ یقینی طور پر ان کسانوں کے گھر یہ رقم نہیں گئی اور افسران نے فائلوں پر دھان کی خرید کر لی۔ بی جے پی لیڈر اجے کمار اکشے اسے بہار کا سب سے بڑا گھوٹالہ مانتے ہیں۔ اکشے کی مانیں تو یہ محض ایک نمونہ ہے۔ اگر جانچ کی جائے تو پورے صوبہ میں یہ گھوٹالہ سامنے آئے گا۔ ضلع میں اتنا بڑا گھوٹالہ ہو گیا، پر نگرانی محکمہ کے سکریٹری اور ضلع آفیسر انچارج اشوک کمار چوہان کو اس کی بھنک تک نہیں ہے۔ وہ صرف جانچ کرانے کی بات کہتے ہیں۔ انہوں نے جانچ کی بات تو کہی، پر ابھی تک کسی طرح کی کوئی پہل نہیں کی گئی۔ دھان خرید کو لے کر پہلے بھی گھوٹالے ہونے کی خبریں آتی رہی ہیں، پر کبھی کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ اگر گہرائی سے جانچ کی جائے تو اس قسم کے کئی معاملے سامنے آ سکتے ہیں کہ افسر اور ملازم آپسی ملی بھگت سے کس طرح کسانوں اور مزدوروں کو ملنے والے پیسوں سے اپنی تجوریاں بھر لیتے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *