عوام کو اکھلیش سے کافی امیدیں ہیں

سنتوش بھارتیہ
اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو کے دو فیصلوں پر ان کی تنقید ہو رہی ہے۔ پہلا فیصلہ اتر پردیش میں شام سات بجے کے بعد بازاروں اور مال کو بجلی نہ دینا اور دوسرا فیصلہ، جس میں انہوں نے ممبرانِ اسمبلی کو ڈیولپمنٹ فنڈ سے کار خریدنے کی اجازت دی تھی۔ وزیر اعلیٰ کے یہ دونوں فیصلے تنقید کا موضوع ضرور بنتے، لیکن وزیر اعلیٰ نے دونوں ہی فیصلوں کو نافذ ہونے کے 24 گھنٹے کے اندر واپس لے لیا۔ جب انہوں نے ان فیصلوں کو واپس لیا تو کہا گیا کہ اکھلیش یادو کمزور وزیر اعلیٰ ہیں۔ کمزور وزیر اعلیٰ شاید اس لیے کہا گیا کہ انہوں نے فیصلے واپس لے لیے۔ مجھے لگتا ہے کہ جنہوں نے اکھلیش یادو کو کمزور وزیر اعلیٰ کہا، ان کے دماغ میں کوئی شیطانی رہی ہوگی۔ ان کی خواہش رہی ہوگی کہ اکھلیش یادو ان فیصلوں پر بنے رہتے، تاکہ اتر پردیش میں ان کے خلاف بد اطمینانی، تنقید اور تحریک کا ماحول بنایا جاسکتا۔ لیکن اکھلیش یادو نے سمجھداری کا کام کیا۔ اکھلیش یادو کی سمجھداری ایک اچھے سیاست داں کی سمجھداری کہی جا سکتی ہے۔ اچھا سیاست داں اور اچھی حکومت وہی کہی جاتی ہے، جو لوگوں کی تنقیدوں سے سبق لے، اور لوگوں کی مانگ اور خواہشوں کی بنیاد پر فیصلے لے۔ جب اکھلیش یادو کے بجلی نہ دینے کے فیصلے کی مذمت ہوئی، تو انہوں نے اسے واپس لے لیا۔ ویسے ہی جیسے کار خریدنے کا فیصلہ لوگوں کی تنقید کا سبب بنا، انہوں نے فیصلہ واپس لے لیا۔ ایک ذمہ دار حکومت کو یہی کرنا چاہیے تھا۔ اکھلیش یادو ایسے لوگوں کی سازش میں نہیں پھنسے، جو یہ چاہتے تھے کہ وہ اپنے فیصلے پر بنے رہیں۔ میں اسے ان کی سمجھداری مانتا ہوں۔
اکھلیش یادو کو احتیاط برتنا چاہیے اور سمجھنا چاہیے کہ ان کے سامنے چنوتیاں کیا ہیں۔ انہیں تنہائی میں بیٹھ کر ان نکات کی نشاندہی کرنی چاہیے، جن کی وجہ سے سابق وزیر اعلیٰ مایاوتی کو ناپسند کیا گیا اور اکھلیش یادو کو پسند کیا گیا۔ اصولاً یہ کہہ سکتے ہیں کہ سماجوادی پارٹی کو پسند کیا گیا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ سماجوادی پارٹی سے زیادہ اکھلیش یادو کی اپیئرنس، ان کی باتیں، ان کے چہرے کا بھولا پن اور ان کی باتوں میں چھپے ہوئے ترقی کے نئے پیغام کو لوگوں نے پسند کیا۔ اس لیے کہہ سکتے ہیں کہ مایاوتی کے مقابلے لوگوں نے اکھلیش یادو کے وعدوں کو پسند کیا۔ اگر اکھلیش یادو انڈر لائن کریں گے کہ کیوں لوگوں نے انہیں پسند کیا، تو انہیں اپنے لیے ایک روڈ میپ دکھائی دے گا۔ اگر وہ اُس روڈ میپ پر چلیں گے تو پھر انہیں اس طرح کے فیصلے لینے سے بچنے میں آسانی ہوگی۔ اکھلیش یادو کو اب، جب وہ وزیر اعلیٰ بن گئے ہیں، اس لیے سمجھداری دکھانی ہوگی، کیوں کہ لوگوں کو ان سے امیدیں بہت زیادہ ہیں اور چونکہ امیدیں بہت زیادہ ہیں، اس لیے اکھلیش یادو کی ناکامی کے خطرے بھی بہت زیادہ ہیں۔ انہیں کوئی ایسا جوا نہیں کھیلنا چاہیے، جس سے یہ لگے کہ وہ فیصلے لینے میں جلد بازی دکھاتے ہیں یا وہ لوگوں کے کہنے پر فیصلے لے لیتے ہیں۔ سرکار کی ساکھ نہیں گرتی، بلکہ ساکھ سب سے پہلے اونچی کرسی پر بیٹھے لوگوں کی گرتی ہے، چاہے وہ وزیر اعلیٰ ہوں یا وزیر اعظم۔ اکھلیش یادو کو لوگ اسی نظر سے جانچیں گے اور پرکھیں گے۔
اکھلیش یادو کو سب سے زیادہ احتیاط فیصلے لینے میں اس لیے دکھانا چاہیے، کیوں کہ اتر پردیش ترقی کے راستے پر بہت پہلے رک چکا ہے، اس رکی ہوئی گاڑی کو تیزی سے چلانے میں ایک بڑا ڈر ہے۔ وہ ڈر ہے کہ گاڑی ڈی ریل نہ ہو جائے۔ اور ڈی ریل ہونے کا ایک بڑا سبب ہے بیورو کریسی، جو پالیسیوں کو نافذ کراتی ہے۔ بدعنوانی اس گاڑی کو روکنے میں ایک بڑے روڑے کا کام کرتی ہے۔ اکھلیش یادو کئی ساری نئی روایتیں شروع کر سکتے ہیں۔ اگر وہ ترقی کے کام کی ذمہ داری طے کریں اور ہر تیسرے مہینے اس بات کا جائزہ لیں کہ کس کی وجہ سے سرکار کے ذریعے لیے گئے فیصلے نافذ نہیں ہو پائے اور اگر اس شخص کی شناخت کر کے اسے سزا دیں، تو میرا ماننا ہے کہ اتر پردیش میں ترقی کا رکا ہوا پہیہ شاید چل پڑے۔ اکھلیش یادو بدلے کی کارروائی نہیں کر رہے ہیں، یہ قابل تعریف ہے۔ فیصلوں کو دیکھنے کا نظریہ طے کرنا بہت ضروری ہے۔ کس فیصلے کا اثر سماج کے غریب اور کمزور طبقوں پر پڑتا ہے اور اگر وہ فیصلہ غریب اور کمزور طبقوں کو طاقت نہیں دیتا، انہیں روٹی نہیں دیتا، انہیں روزگار نہیں دیتا تو وہ فیصلہ لوگوں کے مفاد کا فیصلہ نہیں ہے۔ ایسے فیصلے لینے سے بچنا چاہیے۔ اکھلیش یادو سے اتر پردیش کے ہی نہیں، بلکہ پورے ملک کے لوگوں کو ایک بڑی امید ہے، اور خاص کر ان لوگوں کو سب سے زیادہ امید ہے جو نوجوانوں کو اقتدار میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ اکھلیش یادو کی سمجھداری، اکھلیش یادو کی فیصلہ لینے کی صلاحیت، اکھلیش یادو کی عوام کے منصوبوں کو سمجھنے کی خواہش سب کسوٹی پر ہے۔ اور سب سے بڑی کسوٹی پر ہے یہ سوال کہ کیا نوجوان وزیر اعلیٰ ریاست کی ترقی کے لیے فیصلے لے سکتے ہیں؟ کیوں کہ اگر اکھلیش یادو ناکام ہوتے ہیں تو ملک میں ایک پیغام جائے گا کہ نوجوانوں کے ہاتھوں میں اقتدار نہیں سونپا جانا چاہیے اور اگر اکھلیش یادو کامیاب ہوتے ہیں تو دوسرا پیغام یہ جائے گا کہ نوجوانوں کے ہاتھوں میں ہی اقتدار سونپا جانا چاہیے اور جنہیں ملک کا مستقبل کہتے ہیں، انہیں زیادہ انتظار نہیں کرانا چاہیے۔ اکھلیش یادو کے لیے اتر پردیش میں سڑکیں، پینے کا پانی، چھوٹی چھوٹی صنعت اور ان کی مارکیٹنگ کی حکمت عملی بنانا ترجیح ہونی چاہیے۔ ذات برادری میں منافرت نہ بڑھے، اس پر اگر کوئی سب سے کارگر ڈھنگ سے دھیان دے سکتا ہے، تووہ اکھلیش یادو ہی ہیں۔ اکھلیش یادو جب وزیر اعلیٰ بنے، تب ان سے لوگوں نے امید کی تھی کہ اتر پردیش کا لاء اینڈ آرڈر اچھا ہو۔ ابھی تک اتر پردیش میں یہ دکھائی دے رہا ہے کہ قانون اور نظم و نسق پر لگام لگانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ اکھلیش یادو کو اس قانون اور نظم و نسق کو اپنی نجی ذمہ داری ماننی چاہیے اور انہیں ہر اُس جگہ ترجیحات کی بنیاد پر کارروائی کرنی چاہیے، جہاں قانون اور نظم و نسق خراب ہوتا ہوا دکھائی دے اور اس کے لیے بھی ذمہ داری انہیں ہی طے کرنی چاہیے۔ حکومت میں وزیر کی ذمہ داری، بڑے نوکر شاہوں کی ذمہ داری اور ان کی پیروی کرنے والے چھوٹے ملازمین کی ذمہ داری نہایت ضروری ہے۔ اکھلیش یادو کو یہ بھی دھیان میں رکھنا چاہیے کہ ذمہ داری طے کرنے کے عمل میں ایسا نہ ہو کہ اعلیٰ سطح پر غیر مناسب فیصلہ کیا گیا ہو، دھیان نہ دیا گیا ہو، لیکن سزا کسی چھوٹے ملازم کو دے کر بچنے کا راستہ نکال لیا گیا ہو۔
دراصل، اکھلیش یادو بہت کم عمر میں وزیر اعلیٰ بن گئے ہیں۔ کم عمر میں وزیر اعلیٰ بننا ان کے لیے خطرناک ہے، لیکن اس حالت کو موقع میں بدلنا بھی اکھلیش یادو کے ہاتھ میں ہے۔ اگر اکھلیش یادو کامیاب وزیر اعلیٰ ثابت ہوتے ہیں، اگر اکھلیش یادو سب کو ساتھ لے کر چلتے ہیں، اگر اکھلیش یادو ایسے فیصلے لیتے ہیں، جس سے عام لوگ، خاص کر غریب اور کمزور عوام کو، بغیر ذات پر مبنی بھید باؤ کے فائدہ ملے تو اکھلیش یادو کے لیے ملک کے سب سے اعلیٰ عہدہ پر جانے کے راستے کھل جائیں گے۔ اتر پردیش کے لوگ چاہیں گے کہ اکھلیش یادو اگلے دو تین الیکشن تک ان کے وزیر اعلیٰ بنیں اور اگر انہوں نے اتر پردیش کی تصویر بدلی تو پھر لوگ چاہیں گے کہ اکھلیش یادو ملک کے وزیر اعظم کے عہدہ کی طرف جائیں۔ یہ تبھی ممکن ہے، جب اکھلیش یادو خود اپنے لیے احتیاط طے کریں، خود اپنے لیے روڈ میپ بنائیں اور خود اپنے لیے پیمانہ متعین کریں کہ انہیں تین مہینے میں اتنا کام کرنا ہے اور پھر اگلے تین مہینے میں اتنا آگے جانا ہے۔ اگر اکھلیش یادو نے یہ سوچا کہ وہ چار سال تک اپنے ساتھیوں کے دماغ سے چلیں گے اور پانچویں سال اپنے دماغ سے چلیں گے تو اکھلیش یادو کو پانچواں سال ملنا مشکل ہو جائے گا۔ ابھی تک کے فیصلے یہ بتاتے ہیں کہ اکھلیش یادو عوام کی خواہشوں، عوام کی امیدوں، عوام کی نبض کو دھیان میں رکھ رہے ہیں۔ اگر اکھلیش یادو اپنی اس سوچ پر ڈٹے رہے تو ہمیں اتر پردیش کے لیے ایسا وزیر اعلیٰ مل جائے گا، جو اتر پردیش کی مجموعی ترقی کے لیے نئے راستے کھولے گا۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *