یہ جمہوریت کو کمزور کرنے والی اپوزیشن ہے

ڈاکٹر منیش کمار

یہ اس ملک کی بدقسمتی ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی ملک کی بنیادی اپوزیشن پارٹی ہے۔ آپسی پھوٹ، سازش، بد اخلاقی، توانائی کی کمی، انتشار اور کارکنوں میں زبردست مایوسی کے درمیان یوپی جیسی اہم ریاست میں شکست کا سامنا اور الگ الگ ریاستوں میں موجود پارٹی کی تنظیموں میں بغاوت، اس وقت بھارتیہ جنتا پارٹی کی یہی فطرت بن گئی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی ایک با اعتماد اپوزیشن کا رول ادا کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اسے اپنے کاموں اور ذمہ داریوں کا احساس ہی نہیں ہے۔ مہنگائی ہو یا بے روزگاری یا پھر عوام سے جڑے دیگر مسائل، بی جے پی صرف خانہ پری کے لیے احتجاجی مظاہرہ اور پارلیمنٹ کے اندر ہنگامہ کرتی ہے اور اس کے بعد خواب خرگوش کی حالت میں چلی جاتی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے بیانوں اور احتجاجی مظاہروں میں عوام کے تئیں حساسیت کی کمی صاف دکھائی دیتی ہے۔ عوام کے ساتھ مل کر عوام کی آواز اٹھانے کا ہنر بی جے پی بھول چکی ہے۔

ملک کے عوام پریشان ہیں۔ حکومت ایک کے بعد ایک عوام کو پریشانیوں میں مبتلا کرنے والی پالیسیوں پر عمل کر رہی ہے۔ اسے بدقسمتی ہی کہیں گے کہ حکومت کا کوئی متبادل نظر نہیں آ رہا ہے۔ بی جے پی کے نئے صدر سے لوگوں کی امیدیں بڑھی تھیں، لیکن وہ بھی ناکام ثابت ہوئے۔ گروہ بندی پہلے سے کہیں زیادہ تیکھی ہو چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بی جے پی نے عوام کے سوالوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ نہ کوئی حکمت عملی ہے، نہ ہی کوئی آئڈیولوجیکل اور اقتصادی روڈ میپ ہے۔ پارٹی میں گروہ بندی کا یہ عالم ہے کہ ایک ناکام صدر کو دوبارہ صدر منتخب کر لیا گیا ہے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بی جے پی اپنی اہمیت و افادیت کو ہی ختم کرنے پر آمادہ ہے۔

جمہوری نظام میں اپوزیشن کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ حکومت کے کام کاج پر نظر رکھے، اس پر لگام کسے، عوام کی حامی بن کر حکومت کی پالیسیوں اور اسکیموں پر سوال اٹھائے، غریبوں، دیہی باشندوں اور مظلوم طبقوں کے لیے جدوجہد کرے، ان کی قیادت کرے اور ان کے ساتھ مل کر ان کے مطالبات کی حمایت میں تحریک چلائے۔ اگر اپوزیشن یہ کام کرتی ہے تبھی اس کی اہمیت و افادیت برقرار رہتی ہے۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتی تو ایسی اپوزیشن کا کیا فائدہ۔ پھر حکومت کا بے لگام ہونا تو فطری ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کا کمزور ہونا ہی مرکزی حکومت کی عوام مخالف پالیسیوں اور بدعنوانی کی بنیادی وجہ ہے۔
ممبئی میں عجیب و غریب نظارہ دیکھنے کو ملا۔ نتن جے رام گڈکری کو پھر سے پارٹی کا قومی صدر منتخب کر لیا گیا۔ اسٹیج پر جب انہیں لال کرشن اڈوانی لڈو کھلا رہے تھے، تب ان کے پیچھے کھڑے بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیے حکمت عملی تیار کرنے والے ارون جیٹلی کا چہرہ تمتمایا ہوا نظر آر ہا تھا۔ صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے اس فیصلہ سے خوش نہیں ہیں۔ دوسرا اہم واقعہ نریندر مودی کا نیشنل ایگزیکٹیو میں واپس لوٹنا۔ مودی گزشتہ دو میٹنگوں سے غائب رہے۔ ہر بار پارٹی ترجمان اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈروں نے ملک سے جھوٹ بولا کہ مودی مصروف ہیں اور ان سے کوئی ناراضگی نہیں ہے۔ لیکن ممبئی میں یہ صاف ہو گیا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر لیڈروں کے درمیان مقابلہ آرائی اب دشمنی میں بدل گئی ہے۔ مودی اپنی شرطوں پر نیشنل ایگزیکٹیو میں شامل ہوئے۔ جب تک سنجے جوشی کو ساری ذمہ داریوں سے آزاد نہیں کر دیا گیا، تب تک نریندر مودی نہیں مانے۔ ممبئی میں دو دنوں تک چلنے والی نیشنل ایگزیکٹیو کی میٹنگ سے ایک بات تو صاف ہو گئی کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اپنی مخصوص پہچان کھو کر ایک علیحدہ اور عام پارٹی کی شکل میں ملک کے عوام کے سامنے آئی۔ پارٹی کے کارکنوں کو اب سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کہ وہ خوشیاں منائیں یا پھر اپنا سینہ پیٹ پیٹ کر ماتم کریں۔
نریندر مودی اور سنجے جوشی آر ایس ایس کے پرماننٹ کیڈر ہیں۔ دونوں کسی زمانے میں دوست بھی رہے۔ ایک ساتھ گجرات میں کئی سالوں تک کام بھی کیا۔ دونوں نے ایک ساتھ سیاست بھی شروع کی تھی۔ لیکن دوست جب دشمن بن جاتے ہیں تو ایک دوسرے کی جان کے دشمن بن جاتے ہیں۔ ایسا ہی کچھ نریندر مودی اور سنجے جوشی کے درمیان ہوا۔ سنجے جوشی آر ایس ایس کے چہیتے ہیں اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے کارکنوں میں کافی مقبول بھی ہیں۔ وہ بی جے پی کے ان چند لیڈروں میں سے ایک ہیں جو کارکنوں کا استعمال نہیں کرتے، بلکہ ان کے کام آتے ہیں۔ 1990 میں جب نریندر مودی گجرات بی جے پی کے جنرل سکریٹری بنے، تب سنجے جوشی سکریٹری تھے۔ دونوں نے پانچ سال ایک ساتھ کام کیا اور پہلی بار 1995 میں بی جے پی گجرات میں انتخاب جیتی اور کیشو بھائی پٹیل وزیر اعلیٰ بنے۔ اس کے بعد گجرات بی جے پی میں شنکر سنگھ واگھیلا نے بغاوت کر دیش۔ اس دوران نریندر مودی کو دہلی بھیج دیا گیا اور سنجے جوشی گجرات کے سنگٹھن منتری بنائے گئے۔ دونوں کی دشمنی تب سے شروع ہوئی جب 1998 میں نریندر مودی واپس گجرات آنا چاہتے تھے، لیکن سنجے جوشی نے مودی کی مخالفت کی تھی۔ دونوں کی دشمنی اور بھی تیز ہوگئی جب 2001 میں پارٹی نے نریندر مودی کو وزیر اعلیٰ بنایا اور سنجے جوشی کو قومی سنگٹھن منتری بنایا گیا۔ لیکن 2005 میں سنجے جوشی کو پارٹی سے اس وقت استعفیٰ دینا پڑا، جب ان کا نام ایک فرضی سی ڈی کے معاملے سے جڑ گیا۔ سنجے جوشی کے حامیوں کو لگتا ہے کہ اس سی ڈی کانڈ کے پیچھے نریندر مودی سے جڑے لوگوں کا ہاتھ ہے۔ اس کانڈ کے بعد سے تقریباً چھ سال تک سنجے جوشی بی جے پی سے باہر ہی رہے۔ پچھلے سال نتن گڈکری نے سنجے جوشی کو واپس بی جے پی میں نہ صرف شامل کیا، بلکہ اتر پردیش میں انہیں الیکشن کی ذمہ داری دے دی۔ اگر اتر پردیش میں بی جے پی 100 کے آس پاس سیٹیں جیت گئی ہوتی تو شاید سنجے جوشی کو پارٹی کا سنگٹھن منتری بنا دیا جاتا اور انہیں مودی کی ضد کے سامنے جھکنا نہیں پڑتا۔ فی الحال بازی نریندر مودی نے جیت لی ہے۔ نریندر مودی کو لگتا ہے کہ اگر سنجے جوشی کو قومی سنگٹھن منتری بنادیا گیا تو ان کے مستقبل کے لیے مشکلیں پیدا ہو سکتی ہیں۔ وزیر اعظم کے عہدہ کے لیے ان کی دعویداری کی مخالفت پارٹی کے اندر سے ہی شروع ہو جائے گی۔
ممبئی کی نیشنل ایگزیکٹیو کی میٹنگ میں نتن گڈکری کو پھر سے صدر منتخب کیا گیا ہے۔ اصلیت یہ ہے کہ پارٹی کے کئی بڑے لیڈر گڈکری کے کام کاج سے ناخوش ہیں۔ اتر پردیش الیکشن کے دوران جب سینئر لیڈروں کو بتائے بغیر گڈکری نے مایاوتی کے ایک داغی وزیر بھگوان سنگھ کشواہا کو پارٹی میں شامل کر لیا تھا، تب پارٹی میں کافی ہنگامہ ہوا تھا۔ کئی لیڈروں نے آر ایس ایس کے سینئر اہل کاروں سے شکایت بھی کی تھی اور ساتھ ہی گڈکری کو صدر کے عہدہ سے ہٹانے کا بھی یہ لوگ مطالبہ کر چکے تھے۔ اس کے باوجود گڈکری صدر بنے رہے۔ گڈکری کے کام کاج کا طریقہ الگ ہے۔ ملک کی سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی کا صدر ہونا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ اس کے کندھوں پر بہت بڑی ذمہ داری ہوتی ہے۔ جمہوری نظام میں اپوزیشن پارٹی کے لیڈر کی ذمہ داری حکومت چلانے والی پارٹی سے کئی معنوں میں زیادہ ہوتی ہے۔ اگر یہ کندھا کمزور ہو ، تو ملک کی سیاست پر اس کا برا اثر پڑتا ہے۔ ایسے آدمی کے پاس ملک کو الگ راہ دکھانے کی دور اندیشی اور مضبوط شخصیت کا ہونا لازمی ہے۔ گڈکری نے دو سالوں میں یہ ثابت کیا ہے کہ ان کے پاس ملک اور پارٹی چلانے کا کوئی وژن نہیں ہے۔ بی جے پی کے سینئر لیڈر تماشہ بین بن کر گڈکری کے کارناموں کو دیکھتے رہے ہیں۔ دو سال تک وہ کچھ کر نہیں سکے۔ نتن گڈکری نے اب تک ایک بھی ایسا کام نہیں کیا ہے، جس سے کارکنوں کا حوصلہ بڑھے یا پارٹی کے حامیوں کا اعتماد پھر سے جیتا جاسکے۔ ان کے برتاؤ سے ایسا کوئی اشارہ بھی نہیں مل رہا ہے۔ بی جے پی کے ہیڈکوارٹر میں ناامیدی بڑھنے لگی ہے۔ اب تو لوگ یہ کہنے لگے ہیں کہ نتن گڈکری کے آنے کے بعد بھی پارٹی کے کام کرنے کے طریقے میں کوئی مثبت تبدیلی نہیں آئی ہے۔
جمہوری نظام میں عوام کسی پارٹی کو اپوزیشن میں اس لیے بیٹھنے کا موقع دیتے ہیں، تاکہ وہ اس کے درد و غم کو سمجھے اور حکومت کے خلاف آواز بلند کرے۔ جمہوری نظام میں اپوزیشن کو اپنی اہمیت و افادیت ثابت کرنی ہوتی ہے۔
اسے صرف جدوجہد ہی نہیں کرنی ہوتی ہے، بلکہ یہ بھی ثابت کرنا ہوتا ہے کہ وہ موجودہ حکومت سے زیادہ بہتر کام کر سکتی ہے، تاکہ عوام اس پر بھروسہ کر سکیں اور اسے اگلے انتخاب کے بعد حکومت چلانے کا موقع دیں۔ اس لیے اس کی ذمہ داریاں زیادہ بڑھ جاتی ہیں۔ لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی کیا کر رہی ہے؟ پٹرول کی قیمتیں بڑھ گئیں، لیکن بی جے پی کے اندر اس بات کو لے کر بحث ہو رہی ہے کہ مودی نیشنل ایگزیکٹیو میں آئیں گے یا نہیں۔ یہ ایسی اپوزیشن پارٹی ہے جو مشکل کے اس دور میں عوام میں یہ بھروسہ نہیں جگا پا رہی ہے کہ وہ کانگریس کی متبادل بن سکتی ہے۔ ملک میں مہنگائی ہے، کساد بازاری ہے، روپیہ سستا اور پٹرول مہنگا ہو گیا ہے، کسان بے حال ہیں، مزدور پریشان ہیں، پینے کے پانی کا مسئلہ ہے، صحت کی حالت خستہ ہے، دہشت گردی کا خطرہ ہے، نکسلیوں کا مسئلہ ہے، اداروں کے جواز پر سوال کھڑے ہونے لگے ہیں۔ کہا جاسکتا ہے کہ ملک میں جمہوریت کمزور ہوتی جا رہی ہے، لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی مصنوعی مخالفت کے علاوہ کچھ بھی کرنے میں ناکام نظر آتی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈروں کو عوام کی یہ پریشانیاں نظر نہیں آ رہی ہیں۔ بڑی بڑی کئی ریاستوں میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت ہے، اس کے باوجود وہ مرکزی حکومت کے گھوٹالے، بدعنوانی اور مہنگائی کے خلاف ملک گیر تحریک چلانے کی صلاحیت کھو چکی ہے۔ مرکز میں کوئی قابل لیڈر نہیں ہے، اس لیے ریاستوں کے لیڈر اپنی من مرضی سے پارٹی کے آداب توڑ رہے ہیں۔ پارٹی میں خیمہ بازی کا عالم یہ ہے کہ لال کرشن اڈوانی اگر رتھ یاترا پر نکلتے ہیں تو وہ ایک فلاپ شو بن جاتا ہے۔ ’پارٹی وِد دی ڈِفرینس‘ آج ’پارٹی آف ڈِفرینس‘ بن گئی ہے۔ پارٹی کی قیادت کون کر رہا ہے، یہ بھی صاف نہیں ہے۔ آر ایس ایس نے گڈکری کو پارٹی کی تنظیم کو مضبوط کرنے کے لیے صدر بنایا تھا، لیکن دو سال کے بعد پارٹی پہلے سے زیادہ بے یار و مددگار اور کمزور دکھائی دے رہی ہے۔
بھارتیہ جنتا پارٹی ممبئی کی نیشنل ایگزیکٹیو کی میٹنگ کے بعد پہلے سے زیادہ فکرمند، متذبذب، غیر منظم، بے سمت اور بکھری ہوئی نظر آ رہی ہے۔ لیڈروں کی آپسی پھوٹ اور خود غرضی کی وجہ سے بھارتیہ جنتا پارٹی نے ملک کے عوام کو یہ پیغام دیا ہے کہ اسے نہ تو ملک کی فکر ہے اور نہ ہی عوام کی پریشانیوں سے کوئی مطلب ہے۔ نیشنل ایگزیکٹیو میں جو کچھ ہوا اس سے یہ بھی صاف ہوتا ہے کہ لیڈروں کو نہ تو پارٹی کے مستقبل کی کوئی فکر ہے او رنہ ہی کارکنوں کا خیال رکھنے والے لیڈر بچے ہیں۔ اور سب سے بڑی بات یہ کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو بنیادی اپوزیشن پارٹی ہونے کی ذمہ داری نبھانے کی سمجھ نہیں ہے۔ یہ اب اٹل بہاری واجپئی کی بی جے پی نہیں ہے، جس سے حکومت ڈر جایا کرتی تھی۔ اس کی وجہ بھی صاف ہے۔ پارٹی آئڈیولوجی کو لے کر تذبذب کا شکار ہے، تنظیم میں اصلاح کیسے ہو، اس پر بے سمتی کی حالت ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے پاس کانگریس سے الگ کوئی اقتصادی پالیسی نہیں ہے۔ اقتصادی پالیسی، خارجہ پالیسی اور تمام ایسی پالیسیاں جن سے عوام کا سیدھا واسطہ ہے، ان میں یہ کانگریس سے الگ نظر نہیں آتی۔
بی جے پی نے اپنی کرتوتوں سے ہندوستانی سیاست کو 30 سال پیچھے دھکیل دیا ہے۔ سیاسیات کی کتابوں میں 80 کی دہائی تک کی ہندوستانی سیاست کو ایک جماعت کے غلبہ (وَن پارٹی ڈومی نینس) سے تعبیر کیا جاتا تھا۔ یہ سچ ہے کہ ملک کے عوام دو جماعتی نظام چاہتے ہیں۔ گزشتہ چند دنوں سے بی جے پی میں جو ہو رہا ہے، اس سے تو یہ طے لگتا ہے کہ مستقبل میں ہندوستانی سیاست میں دو جماعتی نظام ہوگا تو ضرور، لیکن دوسری پارٹی بی جے پی نہیں کوئی اور ہوگی۔ تیسرے اور چوتھے محاذ کو کمر کس کر میدان میں اترنا ہوگا، تاکہ ملک میں جمہوریت کو فروغ حاصل ہو سکے۔ ان محاذوں کا مسئلہ یہ ہے کہ اس قسم کے محاذ صرف انتخاب کے دوران بنتے ہیںاور نتیجے آنے کے بعد پھر سے بکھر جاتے ہیں۔ ان میں تال میل بٹھانا بہت مشکل کام ہے، اسی لیے یہ پارٹیاں ایک مضبوط اپوزیشن کا رول نبھانے میں ناکام ثابت ہوئی ہیں۔ ہندوستان میں جمہوری ترقی کے لیے یہ ضروری ہے کہ بی جے پی بچی رہے۔ بی جے پی کو اگر بچنا ہے تو اسے پرانی چیزوں کو چھوڑنا ہوگا اور نئی سوچ، نئے طریقے کو اپنانا ہوگا۔ اسے ایسی آئڈیولوجی کو اپنانا ہوگا جو تمام مذاہب، فرقوں اور ذاتوں کو اپنے اندر سمو سکے۔ موجودہ لیڈروں کو غودغرضی اور آپسی چپقلش سے اوپر اٹھ کر اتحاد بحال کرنے اور ایک دوسرے کے خیالات کا احترام کرنے کی ضرورت ہے۔ تنظیم میں تبدیلی لانی ہوگی، تاکہ کارکنوں کو متحد کیا جاسکے، ان کے حوصلے کو بلند رکھا جاسکے۔ تنظیم میں جمہوری قدروں کو بڑھاوا دینے کی ضرورت ہے۔ بی جے پی کو خود کو بچانے کے لیے ایئر کنڈیشن میں بیٹھ کر میڈیا کے ذریعے سیاست کرنے والوں سے بچنا ہوگا۔ نوجوانوں، کسانوں، مزدوروں اور عوام کے درمیان کام کرنے والے لیڈروں کو پارٹی میں قیادت کی ذمہ داری دینے کی ضرورت ہے۔ طالب علموں کی سیاست سے آنے والے نوجوان کارکنوں کو بی جے پی میں جگہ دینی ہوگی۔ اکیسویں صدی کے ہندوستان کے لیے بی جے پی کا ایجنڈا کیا ہے، اس کے بارے میں عوام کو صاف صاف بتانا ہوگا۔ بی جے پی کو اس فرقہ وارانہ ایجنڈے کو چھوڑنا ہوگا، جس کی وجہ سے دوسری پارٹیاں اسے اپنی حمایت دینے سے منع کرتی ہیں۔ اگر بی جے پی خود کو بدلنے کے لیے تیار ہے تو آنے والے وقت میں بی جے پی پھر سے کھڑی ہو سکتی ہے، ورنہ دھیرے دھیرے وہ ریاستیں بھی ہاتھ سے نکل جائیں گی، جہاں اس وقت بی جے پی کی حکومت ہے۔ کمزور بی جے پی کی وجہ سے ملک میں پھر سے وَن پارٹی ڈومی نینس کا دور چل پڑے گا، جو ملک میں جمہوریت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔افسوس اس بات کا ہے کہ جن موضوعات پر نیشنل ایگزیکٹیو میں بحث ہونی تھی، وہ نہیں ہوئی۔
ملک میں جمہوریت کو مضبوط کرنے کے لیے بی جے پی کا مضبوط ہونا ضروری ہے۔ کیا بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈروں کو اس ذمہ داری کا احساس ہے؟ کیا ملک کو قیادت عطا کرنے کی دور اندیشی اور قوتِ ارادی ان کے پاس ہے؟ یہ ملک کی بدقسمتی ہے کہ ہمارے یہاں قابل اعتبار اپوزیشن نہیں ہے۔ کہنے کو تو اپوزیشن ہے، لیکن اسے اپنے کاموں اور ذمہ داریوں کا احساس ہی نہیں ہے۔ مہنگائی ہو یا بے روزگاری یا پھر عوام سے جڑے دیگر مسائل، اپوزیشن خاموش ہے۔ آئی پی ایل کا گھوٹالہ، جس میں لیڈروں، وزیروں، صنعتی گھرانوں اور بی سی سی آئی کے اہل کاروں پر میچ فکسنگ سے لے کر انڈر ورلڈ کی ملی بھگت تک کا خلاصہ ہوا، لیکن اپوزیشن صرف خانہ پری کے لیے پارلیمنٹ میں شور مچا کر خواب خرگوش کی حالت میں چلی گئی۔ مہنگائی سے پریشان ملک کے عوام خود کو یتیم محسوس کر رہے ہیں۔ ان کے لیے سڑکوں پر اتر کر تحریک چلانے والا کوئی نہیں ہے۔ ٹو جی گھوٹالہ، کوئلہ گھوٹالہ، کامن ویلتھ گیمس گھوٹالہ، آدرش گھوٹالہ، آئی پی ایل گھوٹالہ، گویا کہ ملک میں گھوٹالوں کی لائن لگ گئی ہے، لیکن اس کے خلاف کوئی آواز اٹھانے والا نہیں ہے، سب خاموش ہیں۔ ایک زمانہ تھا جب صرف 64 کروڑ روپے کے بوفورس گھوٹالہ کے خلاصہ نے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا اور حکومت کو جانا پڑا تھا۔ آج 26 لاکھ کروڑ روپے کا کوئلہ گھوٹالہ ملک کے سامنے ہے، لیکن حیرانی کی بات یہ ہے کہ اپوزیشن خاموش ہے۔

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Latest posts by ڈاکٹر منیش کمار (see all)

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *