سرکاری اعلانات کا کیا ہوا؟

عام طور پرکوئی حکومت عوام کی سہولت کے لئے کوئی منصوبہ مر تب کرتی ہے یا اس کا اعلان کرتی ہے ،اوربعدمیں کوئی دوسری حکومت آکراس منصوبے کو سردبستے میں ڈال دیتی ہے۔ اس کے علاوہ کئی موقعوں پر (خاص طورپر کسی قدرتی آفت کے وقت)حکومت کی جانب سے امداد کا اعلان کیا جاتا ہے، لیکن وقت گزرنے کے بعد حکومت اپنے اعلان کو بھول جاتی ہے۔ خاص طور سے انتخابات سے عین پہلے تو برسر اقتدار جماعتیں اعلانات کی بوچھار کر دیتی ہیں، لیکن جیسے ہی انتخابات ختم ہوتے ہیں وہ انہیں بھول جاتی ہیں۔ ظاہر ہے اس سب کے پس پردہ ووٹ کی سیاست کی کارفرمائی ہوتی ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ عام آد می کیا کرتاہے؟ آخر یہ کیسے ممکن ہے کہ حکومت اپنے ہی وعدوں سے مکر جائے اور عام آدمی بھی خاموشی سے اسے قبول کر لے۔ دراصل عام آدمی کی خاموشی ہی سرکار یا نیتاؤں کو اپنے وعدوں ، اعلانات یا منظور شدہ منصوبوں سے پیچھے ہٹنے کی طاقت دیتی ہے۔ ایسے میں یہ ضروری ہے کہ ہم سرکار سے جواب طلب کریں کہ آخر کیوں کسی خاص منصوبہ کو سردبستے میں ڈال دیا گیا؟ آخر کیوں کسی خاص منصوبے کے نفاذ میں تاخیر ہو رہی ہے؟ اور اس کے لئے ذمہ دار کون ہے؟ اس شمارے میں ہم ایک ایسی ہی سرکاری اسکیم کے متعلق آ پ کو مطلع کر رہے ہیں، جسکا اعلان ہوئے تو برسوں پہلے ہوگیا تھا ، لیکن اب تک اس پر عمل نہیں ہو سکا ہے۔ کریلی(مدھیہ پریش) سے چوتھی دنیا کے قاری جتندر گپتا نے ہمیں خط لکھ کر ایک ایسے ہی سرکاری منصوبہ کے متعلق جانکاری دی تھی۔ معاملہ کچھ یوںتھا: 1960-70 کے دوران وزارت ریلوے نے چھندواڑا-کریلی-ساگر ریل لائن کا سروے کرایا تھا۔ جتندر گپتا کے ذریعہ دستیاب کرائی گئی اطلاع کے مطابق، اس ریل لائن کی کل لمبائی245کلو میٹر ہے اور سال 2000میں اس منصوبے کے لئے735 کروڑ روپے کے بجٹ کا اہتمام کیا گیا تھا، لیکن اب تک اس منصوبہ پر عمل نہیں کیا جا سکا۔ ظاہر ہے اس منصوبہ کو سرد بستے میں ڈال دیا گیاہے ۔ ہم اس شمارے میں اسی مسئلے سے متعلق ایک آرٹی آئی درخواست شائع کر رہے ہیں۔ اگر اس درخواست کا استعمال کوئی شخص اس سے مماثل مدعوںپر حکومت سے سوال پوچھنے کے لئے کرنا چاہے، توکر سکتا ہے۔ اس کے لئے صرف آ پ کو اپنے موضو ع سے متعلق وزارت یا سرکاری محکمہ کا پتہ بدلنا ہوگا۔ چوتھی دنیا حق اطلاع قانون سے منسلک آ پ کے کسی بھی مسئلے کے حل یا مشورہ دینے کے لئے ہمیشہ آ پ کے ساتھ ہے۔ آ پ ہم سے خط ، ای میل یا فون کے ذریعے رابطہ کر سکتے ہیں۔

(درخواست کا نمونہ (سرکاری منصوبوں کی حالت جاننے کے لئے

خدمت میں،
پبلک انفارمیشن آفیسر
( محکمہ کا نام)محکمہ کا پتہ)
موضوع: حق اطلاعات قانون 2005 کے تحت درخواست
عالی جناب،
فلاں ….وقت ….تاریخ کو فلاں وزارت کی جانب سے فلاں اعلان ہو ا تھا، لیکن اب تک اس سرکاری اعلان/منصوبے پر کوئی عمل درآمد نہیں ہو سکا ہے۔ نہ ہی اس منصوبے پر کام ہو سکا ہے۔ برائے مہربانی اس سے متعلق مندرجہ ذیل اطلاعات دستیاب کرائیں (اگر اس معاملے سے متعلق کوئی دستاویز یا اخبار میں چھپی کسی خبر کی کٹنگ ہو تو اسے حوالے کے طورپر استعما ل کرتے ہوئے اس درخواست کے ساتھ منسلک کر سکتے ہیں):
.1مذکورہ منصوبے/پروجیکٹ پر متعلقہ محکمہ یا افسر کی جانب سے کون کون سی کارروائی کی گئی ہے؟ اس کی مختصر تفصیل فراہم کریں۔
.2کیا مذکورہ منصوبے /پروجیکٹ کے لئے مرکزی حکومت /ریا ستی حکومت /ضلع انتظامیہ نے اب تک بجٹ مختص کیا ہے؟ اگر ہا ں تو کتنا؟
.3اب تک مذکورہ منصوبے /پروجیکٹ پر کام نہ شروع ہونے کی وجہ کیا ہے یا مذکو رہ منصوبے /پروجیکٹ کی موجودہ حالت کیا ہے؟مکمل تفصیل فراہم کریں۔
.4مذکورہ مجوزہ منصوبے /پروجیکٹ کے مکمل ہو نے کا نشانہ کب تک رکھا گیا؟مکمل جانکاری فراہم کریں۔

میں اس آر ٹی آئی درخواست کے ساتھ فیس کی شکل میں دس روپے جمع کررہی/رہا ہوں۔
آپ کانام: ——————————–پتہ : ————————-
فون نمبر:—————— منسلکہ(اگرکچھ ہو) ——————— (1)۔ درخواست کی کاپی
(2 )درخواست فیس کی رسید کی کاپی (3 )پبلک انفارمیشن آفیسر کے ذریعہ دیے گئے جواب کی کاپی۔
قارئین کے خطوط
پہلی اور دوسری اپیل
برائے مہربانی مجھے حق اطلاع قانون کے تحت پہلی اور دوسری اپیل کے متعلق جانکاری فراہم کریں۔ کیا اس کے لئے کوئی فیس بھی لگتی ہے؟
آصف منصوری، شاستری کالونی، کٹنی، مدھیہ پردیش
اگرآپ کی آرٹی آئی درخواست کے عوض آپ کو کوئی جواب نہیں ملتا ہے تو آ پ اسی محکمے میں فرسٹ اپیلیٹ آفیسر کے پا س اپیل کر سکتے ہیں۔ اگر وہا ںسے بھی آپ کو مطلوبہ اطلاع نہیں ملتی تو آ پ اس معاملے میں دوسری اپیل کر سکتے ہیں۔ دوسری اپیل ریاستی انفارمیشن کمیشن یا مرکزی انفارمیشن کمیشن میں کر سکتے ہیں ۔اگرکوئی معاملہ ریاستی حکومت کا ہے تو ریاستی انفارمیشن کمیشن اور مرکزی حکومت کے کسی محکمے کا ہے تو مرکزی انفارمیشن کمیشن میں کر سکتے ہیں۔ اور دیگرجانکاری چوتھی دنیا کی ویب سائٹ سے بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کا پتہ ہے:www.chauthiduniya.com
انکم ٹیکس پی آئی او
مجھے محکمۂ انکم ٹیکس کے سبھی پبلک انفارمیشن افسروں کی جانکاری دیں، ان کے پتے اور رابطہ کے نمبر بھی فراہم کرائیں۔
دلیپ کمار، ای میل سے
کسی بھی سرکاری محکمے میں پبلک انفارمیشن آفیسر کا عہدہ ہوتا ہی ہے۔ آر ٹی آئی درخواست داخل کرنے کے لئے آپ کو صر ف دفتر کا پتہ معلوم ہونا چاہئے۔ اس کے لئے عہدیدار کے نام کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *