یو پی اے دوئم حکومت نے ناکامی کے تین سال پورے کئے

ڈاکٹر قمر تبریز

مرکز میں بر سر اقتدار، کانگریس کی قیادت والی یو پی اے دوئم حکومت نے اپنے تین سال مکمل کر لیے ہیں۔ وزیر اعظم ڈاکٹر منمو ہن سنگھ کہہ رہے ہیں کہ ’’میں پہلا آدمی ہوں جو یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہمیں اور اچھا کرنے کی ضرورت ہے، لیکن ہماری حصولیابیاں کافی ہیں، اس میں کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے۔‘‘ وہیں یو پی اے کی چیئر پرسن سونیا گاندھی بھی وزیر اعظم کی آواز میں آواز ملاتے ہوئے کہہ رہی ہیں کہ ’’یو پی اے دوئم کی حصولیابیاں شاندار ہیں۔ ہم کسی کو بھی انہیں کم کرکے دکھانے کا موقع نہیں دیں گے۔‘‘ دونوں کے اس بیان پر اگر گہرائی سے سوچا جائے تو اس میں کہیں نہ کہیں اس بات کا ایک احساس ضرور جھلکتا ہے کہ حکومت نے عوام سے جو وعدہ کیا تھا، یا عوام کو اس حکومت سے جتنی امیدیں تھیں، اسے پورا کرنے میں چوک ہوئی ہے۔ہندوستان میں عام طور پر کسی بھی پارٹی کو حکومت کرنے کے لیے پانچ سال کا موقع ملتا ہے، لہٰذا ہر برسر اقتدار پارٹی کی یہی کوشش ہونی چاہیے کہ اسے عوام کی امیدوں کو انہی پانچ سالوں میں پورا کرنا ہے۔

بچے جب اسکول میں پڑھنے جاتے ہیں، تو اسکول کی طرف سے سال کے اخیر میں ان کا رپورٹ کارڈ تیار کیا جاتا ہے، جس کی بنیاد پر یہ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ اس بچے کو اگلی کلاس میں پروموٹ کرنا ہے یا نہیں۔ یو پی اے دوئم حکومت نے اپنے تین سال پورے کیے اور خود ہی اپنا رپورٹ کارڈ بھی تیار کر لیا۔ ظاہر ہے، جب خود سے رپورٹ کارڈ تیار کیا گیا ہے تو اس میں صرف اچھائیاں ہی اچھائیاں لکھی ہوں گی۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اپوزیشن پارٹیاں اور ملک کے عوام مل کر یو پی اے دوئم حکومت کا رپورٹ کارڈ تیار کرتے، تاکہ یہ معلوم ہوتا کہ حکومت نے اپنی ذمہ داریاں کتنی پوری کی ہیں اور کہاں کہاں اس سے چوک ہوئی ہے اور پھر اسی کی بنیاد پر یہ فیصلہ ہوتا کہ منموہن حکومت کو آئندہ دو سالوں تک اقتدار میں برقرار رہنا چاہیے، یا پھر ملک میں عام انتخابات کا اعلان کر دینا چاہیے۔

پانچ سال کی اپنی کڑی محنت سے ہی کوئی پارٹی خود کو عوام کے درمیان مقبول بنا سکتی ہے۔ اسے اپنا سیاسی وجود برقرار رکھنے کے لیے ایمانداری سے کام کرنا لازمی ہے، ورنہ عوام کو اسے اقتدار سے باہر کرنے میں دیر نہیں لگتی۔ لیکن یو پی اے حکومت کو تو اس ملک کے عوام نے پہلے پانچ سال مکمل کرنے کے بعد دوبارہ اقتدار میں بنے رہنے کا سنہرا موقع دیا، اس لیے اب وہ یہ بہانہ نہیں بنا سکتی کہ کام کرنے کے لیے اس کے پاس وقت کم پڑ گئے۔ اب اگر خوش قسمتی سے ملے اگلے پانچ سال کی مدت میں بھی یو پی اے حکومت عوام کی امیدوں کو پورا نہیں کر پاتی ہے، تو اسے اس کی سب سے بڑی بدقسمتی ہی کہا جائے گا۔شاید یہی احساس منموہن سنگھ اور سونیا گاندھی کی فکرمندی کا باعث ہے، اس لیے جہاں ایک طرف وزیر اعظم یہ کہہ رہے ہیں کہ ’’وہ اور بھی بہتر کر سکتے تھے‘‘، تو دوسری طرف یو پی اے چیئر پرسن دھمکی بھرے الفاظ میں کہہ رہی ہیں کہ وہ اپنی حصولیابوں کو کم کرکے دکھانے کی کسی کو بھی اجازت نہیں دیں گی۔
تمام ہندوستانیوں کو کانگریس کا یہ نعرہ کہ ’کانگریس کا ہاتھ عام آدمی کے ساتھ‘ یو پی اے حکومت کے آٹھ سال پورے ہونے پر آج بھی اس لیے کھوکھلا نظر آتا ہے، کیوں کہ اس حکومت نے نہ تو عام آدمیوں کے مسائل حل کیے ہیں اور نہ ہی ملک میں بدعنوانی پر کسی قسم کی روک لگی ہے۔ سال 2009 میں دوسری بار وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالتے وقت ڈاکٹر منموہن سنگھ نے کہا تھا کہ ’اگلے 100 دنوں کے اندر مہنگائی پر قابو پا لیا جائے گا‘۔ لیکن مہنگائی کم ہونے کی بجائے بلا روک ٹوک بڑھتی ہی جا رہی ہے، جس کی وجہ سے اس ملک کے عام آدمی کی زندگی مشکل سے مشکل ہوتی جا رہی ہے، حالانکہ خود وزیر اعظم منموہن سنگھ، وزیر خزانہ پرنب مکھرجی اور پلاننگ کمیشن کے ڈپٹی چیئرمین مونٹیک سنگھ آہلووالیہ کا شمار ہندوستان کے ماہرین اقتصادیات میں ہوتا ہے، اس کے باوجود مہنگائی پر قابو نہ پانا سب کو حیرت میں ڈالتا ہے۔ پھر اسے یو پی اے حکومت کی ناکامی نہیں کہیں گے تو اور کیا کہیں گے۔
اسی طرح ہمارے ملک کے جو کسان ہیں، وہ اپنی محنت سے لاکھوں کروڑوں ٹن اناج ہر سال پیدا کرتے ہیں، لیکن حکومت نے نہ تو اسے محفوظ رکھنے کا اب تک کوئی حل نکالا ہے اور نہ ہی اس کی تقسیم ٹھیک ڈھنگ سے ہو پا رہی ہے۔ آج بھی لاکھوں ٹن اناج کے سڑنے کی خبریں آ رہی ہیں، جب کہ یو پی اے حکومت ’فوڈ سیکورٹی بل‘ کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کو اپنی ایک بڑی حصولیابی بتا رہی ہے۔ اسی طرح غیر ملکی سرمایہ کاری یا ایف ڈی آئی کے نام پر یو پی اے حکومت نے ملک کے ہزاروں، لاکھوں مزدوروں اور کھیت سے بازار تک اشیائے خوردنی پہنچانے کے کام میں لگے لوگوں کے مستقبل سے کھلواڑ کرنے کی کوشش کی ہے، جسے لے کر اس طبقے میں کافی بے چینی پائی جاتی ہے۔ چھوٹے دکانداروں کو اب یہ خوف لاحق ہو گیا ہے، ملک میں بڑی کمپنیوں کے آتے ہی ان کی دکانیں بند ہو جائیں گی، پھر وہ اپنا گزر بسر کیسے کریں گے۔
بنیادی تعلیم کے بارے میں وزیر اعظم صاحب کہتے ہیں کہ ’’پرائمری اسکولوں میں داخلے اب بڑے پیمانے پر ہو رہے ہیں۔ ہم نے گزشتہ دو سالوں میں 51 ہزار اسکول کھولے ہیں اور 6.8 لاکھ ٹیچروں کو مقرر کیا ہے‘‘، جب کہ زمینی صورتِ حال یہ ہے کہ بہار کے اندر 26.21 فیصد، اروناچل پردیش میں 8.09 فیصد اور جھارکھنڈ میں 7.59 فیصد پرائمری اسکول ایسے ہیں جہاں پر اسکول کی عمارت ہی نہیں ہے؛ ناگالینڈ میں 29 فیصد اور میگھالیہ میں 21 فیصد پرائمری اسکول ایسے ہیں، جن میں پینے کے پانی کا انتظام نہیں ہے؛ بہار میں 94 فیصد، منی پور میں 90 فیصد، تریپورہ میں 78 فیصد، جھارکھنڈ میں 76 فیصد اور اڑیسہ میں 70 فیصدپرائمری اسکول ایسے ہیں جہاں پر بجلی کا کوئی انتظام نہیں ہے، اور بہار میں 85 فیصد، اروناچل پردیش میں 77 فیصد اور مغربی بنگال میں 72 فیصد پرائمری اسکول ایسے ہیں جہاں پر بچوں کے کھیلنے کے لیے میدان نہیں ہیں۔ یہی نہیں، ملک کے ہر چھ میں سے ایک اسکول ایسا ہے، جہاں پر بیت الخلا (ٹوائلیٹ) نہیں ہے۔
ملک میں بدعنوانی کا یہ عالم ہے کہ انا ہزارے اور بابا رام دیو کی ایک آواز پر لاکھوں لوگ حکومت کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے جمع ہو جاتے ہیں۔ لوگوں کی یہ بھیڑ ہمیں بتاتی ہے کہ عوام موجودہ یو پی اے حکومت سے خوش نہیں ہیں، بلکہ ان کے اندر حکومت کے خلاف زبردست غم و غصہ پایا جاتا ہے، جس کا احساس وزیر اعظم اور یو پی اے حکومت میں شامل دیگر لیڈروں کو بھی ہے، اس کے باوجود اسے ختم کرنے کی اب تک کوئی ٹھوس کوشش نہیں کی گئی ہے۔ اگر آٹھ سال حکومت میں رہتے ہوئے بھی کانگریس ملک میں بدعنوانی پر قابو نہیں پا سکی ہے، تو اسے یو پی اے کی ناکامی ہی کہا جائے گا، نہ کہ اس کی حصولیابی۔
البتہ یو پی اے حکومت نے رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ اور دیہی روزگار گارنٹی اسکیم یعنی نریگا کے تحت عوام کو کافی راحت دی ہے، لیکن آر ٹی آئی کارکنان کا قتل اور نریگا میں ہونے والی بدعنوانی پر قابو پانا بھی یو پی اے حکومت کی ہی ذمہ داری ہے، اور اس ذمہ داری سے وہ اپنا دامن نہیں بچا سکتی۔ اسی طرح ٹیلی کام گھوٹالہ، لاکھوں کروڑ کا کوئلہ گھوٹالہ، کامن ویلتھ گھوٹالہ اور اس جیسے نہ جانے کتنے گھوٹالے یو پی اے حکومت کے چہرے پر بدنما داغ ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ گزشتہ دنوں ملک میں ہونے والے اسمبلی انتخاب میں کانگریس کو کافی مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ شاید اسی لیے آج سونیا گاندھی یہ کہہ رہی ہیں کہ دو سال بعد جب ملک میں عام انتخاب ہوں گے تو عوام اپنا فیصلہ حکومت کے ذریعے کیے گئے وعدوں کی بنیاد پر نہیں کریں گے، بلکہ وہ یہ دیکھیں گے حکومت نے حقیقت میں کیا کرکے دکھایا ہے۔ اگر یو پی اے دوئم حکومت کو اب بھی اپنی ذمہ داری کا صحیح احساس ہو جاتا ہے تو اگلے دو سال ایمانداری سے کام کرنے کے لیے کم نہیں ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ 2014 الیکشن سے پہلے منموہن حکومت اپنے کاموں کے ذریعے عوام کے اندر اپنا کھویا اعتماد واپس حاصل کر پاتی ہے یا نہیں۔ g

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *