ٹریفک نظام شریعت کی نظر میں

وسیم احمد 

کچھ لوگوں کو تیز رفتاری سے گاڑی چلانے کی عادت پڑ جاتی ہے۔ بھیڑ بھاڑ والا علاقہ ہو یا مین روڈ ،ان کی رفتار کم نہیں ہوتی ہے۔ان کی اس عادت کی وجہ سے محلے اور بازاروںکی سڑکوں پر گزرنے والوں کو پریشانیاں ہوتی ہیں، چوٹیں آتی ہیں ۔ان کی اس عادت کی وجہ سے مین روڈ پر حادثے ہوتے ہیں مگر پھر بھی ایسے لوگ اپنی اس بری عادتوں سے باز نہیں آتے ہیں۔وہ گاڑی چلاتے وقت اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ ٹریفک نظام کی پاسداری کرنا اخلاقی ،شرعی اور سماجی ذمہ داری ہے۔اگر ہم ٹریفک نظام کو نظر انداز کرتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ ہم نہ صرف قومی آئین سے روگردانی کررہے ہیں بلکہ مذہبی تقاضے کو بھی پسِ پشت ڈال رہے ہیں۔ حجۃ الوداع کے موقع پر اللہ کے رسول کی چال کے بارے میں حضرت اسامہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ ’قدرے دھیمی تھی۔جب راستہ خالی ملتا تھا تو چال میں قدرے تیزی آجاتی تھی‘۔آپ بھیڑ والے علاقے میں اپنی سواری کو اس لئے دھیمی رفتار سے چلاتے تھے کہ کسی کو کوئی تکلیف نہ پہنچیں مگر آج نئی نسل کے نوجوانوں میں تیز رفتاری کا جنون پیدا ہوگیا ہے۔ جسے دیکھیں بائیک پر سوار محلے کی گلیوں اور سڑکوں پر اس طرح تیز رفتاری سے بھگاتا ہوا نظر آتا ہے گویا وہ ہر قانون سے بالا تر اور اخلاقی ذمہ داریوں سے بری ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں فرمایا ہے کہ’’ زمین پر اکڑ کر نہ چلو‘‘(سورہ امراء)۔ کیونکہ اکڑ کر چلنا تکبر کی علامت ہے۔اکڑ کر چلنے کا مطلب ہے ایسی چال جس میں دوسروں کو کمتراور خود کو برتر سمجھا جائے۔اب ذرا تیز رفتاری سے ڈرائیو کرنے والوں کے انداز ِ چال پر غور کریں تو پتہ چلتا ہے کہ وہ دوسروںسے آگے بڑھ کر خود کو برتر ثابت کرنے کی کوشش کررہا ہے ۔ظاہر ہے یہ بھی اکڑ کا ایک رخ ہے جو اللہ کے نزدیک پسندیدہ نہیںہے۔ایک جگہ فرمایا گیا ’’ سچے بندے وہ ہیں جو انکسار سے چلتے ہیں‘‘ چال میں انکساری سے مراد ہر وہ چال ہے جس سے شرافت جھلکتی ہو۔ اب خود ہی غور کر لیا جائے کہ تیز رفتاری سے بائیک چلانا کس حد تک شرافت کے زمرے میں آتا ہے۔

اگر غور کریں تو تیز رفتار ڈرائیونگ سے قرآن کے اس حکم کی بھی خلاف ورزی ہورہی ہے جس میں کہا گیا ہے ’’ اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو‘‘ اس کی تشریح میں علماء نے لکھا ہے کہ ہر ایسے محرکات سے بچا جائے جس میں ہلاکت کا خطرہ ہو۔اب تیز رفتاری سے چلانے والے خود ہی غور فرمالیں کہ تیز رفتاری کی وجہ سے شہروں میں ہر روز کتنے حادثے ہورہے ہیں جس کی وجہ سے جانیں تلف ہورہی ہیں۔اگر قرآن کے اس مفہوم کو پھیلاکر دیکھا جائے تو تیز رفتاری سے ڈرائیونگ کرنا بھی ’’ خود کو ہلاکت میں ڈالنے کے مترادف ہے جس سے گریز کرنا ضروری ہے۔

یوں تو ہر مذہب و مکتب کے ماننے والوں کو قومی آئین کا احترام کرنا چاہئے مگر ہذہب اسلام کے پیروکاروں پر یہ ذمہ داری کچھ زیادہ ہے۔کیونکہ اس مذہب نے نہ صرف عبادت و ریاضت بلکہ معاشرت کے بارے میں بھی سب کچھ صاف لفظوں میں بتا دیا ہے اور اپنے پیروکاروں کو حکم دیا ہے کہ وہ ایک اچھے معاشرے کی تشکیل میں نمایاں کردار ادا کریں۔اب اگر کوئی مسلم اس حکم سے روگردانی کرتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ اپنے مذہب کے حکم کو ترک کررہا ہے جس کو کسی بھی طرح سراہا نہیں جا سکتا ہے۔اس کے علاوہ ہمارے مذہب میں وطن سے محبت کرنے کی بات کہی گئی ہے۔علماء نے لکھا ہے کہ وطن سے محبت کا مطلب یہ ہے کہ ملک کے آئین و دستور کا احترام کیا جائے۔اب اگر کوئی فرد قومی آئین کو اپنی زندگی میں نافذ نہیں کرتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ مذہب کے منشاء کے خلاف کررہاہے۔
ہمیں یہ غور کرناہے کہ ٹریفک نظام کی خلاف ورزی سے ہم کس طرح اپنی شریعت کی خلاف ورزی کرر ہے ہیں۔اللہ نے سورہ النساء میں فرمایا ’’ اللہ کی اطاعت کرو،رسول کی اور اپنے ذمہ دار حاکموں کی‘‘ ۔ظاہر ہے حاکموں کی اطاعت اسی صورت میں ممکن ہوسکتی ہے جب ہم ان کے بنائے ہوئے قوانین کو عمل میں لائیں۔ ٹریفک کا جو نظام بنایا گیا ہے ،اسی نظام کے مطابق ڈرائیونگ کرنی چاہئے۔ متعلقہ محکمے سے لائسنس جاری کرتے وقت ہم سے جو وعدے لیے جاتے ہیں، ان وعدوں کو پورا کرنا چاہئے۔اگر ان وعدوں اور شرطوں کو پورا نہیں کرتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ ہم حاکم کی اطاعت نہیں کررہے ہیں،جس کو شریعت میں ناپسند کیا گیا ہے۔حکومت نے گاڑی کی رفتار کی ایک حد مقرر کردی ہے۔اس حد سے زیادہ رفتار سے چلانا غیر قانونی ہے۔اب اگر کوئی اس مقررہ رفتار سے زیادہ چلاتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ غیر قانونی عمل کررہا ہے اورملک کے آئین کا احترام نہیں کررہا ہے اور جیسا کہ ہم نے اوپر بیان کیا ہے کہ وطن سے محبت کا تقاضہ ہے کہ اس کے آئین کا لحاظ رکھا جائے۔لہٰذا جن کو اپنے وطن سے محبت ہے انہیں اس کے آئین کا بھی احترام کرنا ہوگا اور بائیک یا گاڑی اسی رفتار سے چلانا ہوگا جس رفتار سے چلانے کی اجازت قانون نے دی ہے۔اگر ایسا نہیں کرتے ہیں تو ایسے لوگ از روئے شرع کئی طرح سے قابل مواخذہ ہوسکتے ہیں۔ ایک تو لائسنس لیتے وقت جو وعدہ کیا تھا کہ وہ مقررہ رفتار کی حد میں ڈرائیونگ کریں گے ،اس کی خلاف ورزی ہوئی،دوسرے قانون شکنی ،تیسرے حکام کی نا فرمانی اور اس کے علاوہ پاس سے گزرنے والوں کو اذیت رسانی ۔جبکہ ایک اچھے مسلم کی پہچان یہ ہے کہ اس سے دوسروں کو سلامتی ملے ،نہ کہ خوف و ڈر۔اگر غور کریں تو تیز رفتار ڈرائیونگ سے قرآن کے اس حکم کی بھی خلاف ورزی ہورہی ہے جس میں کہا گیا ہے ’’ اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو‘‘ اس کی تشریح میں علماء نے لکھا ہے کہ ہر ایسے محرکات سے بچا جائے جس میں ہلاکت کا خطرہ ہو۔اب تیز رفتاری سے چلانے والے خود ہی غور فرمالیں کہ تیز رفتاری کی وجہ سے شہروں میں ہر روز کتنے حادثے ہورہے ہیں جس کی وجہ سے جانیں تلف ہورہی ہیں۔اگر قرآن کے اس مفہوم کو پھیلاکر دیکھا جائے تو تیز رفتاری سے ڈرائیونگ کرنا بھی ’’ خود کو ہلاکت میں ڈالنے کے مترادف ہے جس سے گریز کرنا ضروری ہے۔
بات صرف تیز رفتار ی کی نہیں ہے بلکہ اس کے علاوہ بھی کئی ایسے مواقع ہیں جہاں ڈرائیونگ کرتے ہوئے قانون کی خلاف ورزی ہوتی ہے جیسے ریڈ لائٹ کروس کرنا،نو پارکنگ ایریا میں گاڑی کھڑی کرنا، رانگ سائد سے چلنا،نو زون میں جانا،بغیر ہیلمیٹ کے گاڑی چلانا ،دو آدمی سے زیادہ بائیک پر سوار ہونا وغیرہ ۔یعنی ہر وہ عمل جو ٹریفک نظام کے خلاف ہوں اسی زمرے میں آتا ہے اور اس کو شرعی نقطہ نظر سے بہتر نہیں کہا جاسکتا ہے۔
ہمارے فیشن زدہ معاشرے میں نئی نسل مذہب کے تقاضوں کو بھلاتی جارہی ہے۔ بچوں میں فیشن اور شو بازی کا مزاج اتنا عام ہوتا جارہا ہے کہ مناسب اور غیر مناسب کی تمیز ان سے مٹتی جارہی ہے۔ افسوس تو اس وقت ہوتا ہے جب ان کی اس غیر مناسب حرکت میں بڑوں کی سہہ شامل ہوتی ہے۔اس کی مثال محلوں میں بچوں کو بائیک چلانے سے دی جاسکتی ہے۔ یہ بچے ابھی 18 سال کے نہیں ہوتے ہیں۔ ان کے پا س ڈرائیونگ لائسنس نہیں ہوتا ہے۔والدین اس بات کو جانتے ہیں ۔اس کے باوجود انہیں نہیں روکتے ہیں۔ یہی نہیں ،بسا اوقات یہ خود ہی بائیک بچوں کے ہاتھ میں پکڑا دیتے ہیں۔یہ بچے بائیک لے کر گلی او رسڑکوں پر اتنی تیز رفتاری سے چلاتے ہیں کہ پاس سے گزرنے والا ڈر جاتا ہے۔کئی دفعہ پاس سے گزرنے والا خود پر قابو نہیں رکھ پاتا اور گر پڑتا ہے جس کی وجہ سے زخمی ہوجاتا ہے۔ظاہر ہے اگر اس طرح تیز رفتار گاڑی نہ چلائی جائے تو گرنے کی نوبت نہیں آئے گی اور نہ کوئی زخمی ہوگا۔ہمیں اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ حدیث شریف میں فرمایا گیا ہے کہ مسلم وہ ہے جس کے شر سے مسلم محفوظ رہیں۔یعنی کسی دوسرے مسلم بھائی کو تکلیف نہ پہنچے ۔اب اگر اس طرح سے لاپروہی اور غیر قانونی طریقے پر ڈرائیونگ کی جائے گی تو دوسروں کو تو اذیت ہوگی ہی، ایسے مسلمان کے بارے میں تو یہی کہا جائے گا کہ اس نے اللہ اور اس کے رسول کے اس مذکورہ قول کو سنا ہی نہیں ۔ حیرت تو اس بات کی ہے کہ خود کو دیندار کہنے والے لوگ بھی اس غلطی میں ملوث ہیں۔انہیں احساس ہی نہیں ہوتا کہ وہ جو کررہے ہیں یا اپنے بچوں کو کرنے کی اجازت دے رہے ہیں یہ شرعی نقطہ نظر سے بہتر عمل نہیں ہے۔اس کی وجہ شاید یہ ہو کہ ہم صرف مسجدوں تک جانے اور نماز پنجوقتہ نماز ادا کرلینے کے بعد یہ سمجھ لیتے ہیں کہ دین کی ذمہ داری پوری ہوگئی۔ حالانکہ مذہب اسلام صرف مسجدوں میں نہیں بلکہ مسجد سے باہر آنے کے بعد معاشرتی زندگی میں بھی لاگو کرنے کا نام ہے۔ پڑوس کے ساتھ ، محلے والوں اور شہر والوں کے ساتھ ہمار اسلوک کیا ہے۔ملک کے تئیں ہمارے کیا جذبات ہیں اور قانون کا احترام کس حد تک کرتے ہیں ،یہ تمام ہی چیزیں مذہب اسلام کا حصہ ہیں اور ان کو عمل میں لانے میں ہمیں سوچنا چاہئے کہ ہمارا مذہب ہم سے کیا مطالبہ کررہاہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *