اسپیشل سیکورٹی

دلیپ چیرین
گزشتہ کچھ برسوںکے دواران دہلی اور اسکے آ س پا س کے علاقوں میںرہائش پزیرشمال مشرقی ریاستوں کے طالب علموں کے خلاف نسلی امتیازات کے معاملے سامنے آئے ہیں۔ دہلی اور اس کے مضافات میںپڑھنے یا نوکری کرنے کی غرض سے آنے والے شمال مشرقی ہندوستان کے لوگوںکو اس با ت کی شکایت بھی رہتی ہے کہ ان کے علاقے کے بہت کم افسر وں کی تقرری راجدھانی میں ہوتی ہے ، جس کی وجہ سے ان کے مسائل پر سنجیدگی سے غور نہیں کیاجاتاہے ۔ گزشتہ دنوں ایک طالب علم نے گڑگاؤں میں خودشی کرلی۔ ایسا کہا جارہا ہے کہ اس کے ساتھ بھی امتیازی سلوک کیاگیا۔ اس طر ح کی خبریں ملک کی دوسری ریاستوں سے بھی آرہی ہیں۔ اسی طرح کی وارداتوںکے بعد حکومت نے اس مسئلے پر توجہ دینا شروع کی ہے۔ پہلی دفعہ شمال مشرقی ریاستوںکے پانچ آئی پی ایس افسروں کی تقرری دہلی پولیس میں کی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق23آئی پی ایس افسروں کو دہلی سے باہر کچھ وقت پہلے ہی بھیجا گیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ان افسروں کے تبادلے کی خاص وجہ یہی رہی ہوگی۔ جن پانچ آئی پی ایس افسروں کی تقرری دہلی میں کی جارہی ہے وہ ہیں میزورم کے جان نہلئی اور اروناچل پردیش کے کم کمنگ،نبام گنٹے، ایوربتن اور ایل این رنگ چل۔ امید کی جارہی ہے کہ ان افسروں کی دہلی میں تقرری کے بعدشمال مشرقی ہندوستان کے طالب علموں کی خود اعتمادی بڑھے گی اور انہیں نسلی امتیاز کا شکار نہیں ہونا پڑے گا۔
یو ٹی آئی کو سی ای او کا انتظار
یو ٹی آئی کے نئے سی ای او کی تلاش جارہی ہے۔ گزشتہ سال یو ٹی آئی کے سی ای او ، یو کے سنہا کو SEBI کا سر براہ بنایا گیا تھا۔ اس کے بعدسے یوٹی آئی کے سی ای او کی تقرری نہیں ہوئی ہے۔ ذرائع کے مطابق سینئر آئی اے ایس افسرجیتیش کھوسلہ کی تقرری اس عہدے پر کرنے کے لئے یہ تاخیر کی گئی۔ جیتیش کھوسلہ اس سے قبل وزارت خزانہ میں کام کر چکے ہیں اور انہیں وزیر خزانہ پرنب مکھرجی کی مشیراومیتاپال کی حمایت حاصل ہے۔ لیکن غیر ملکی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں(Foreign Institutional Investors) نے جیتیش کھوسلہ کی تقرری کی مخالفت کی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ کھوسلہ کی تقرری کے بعد ان کے مسائل میں اضافہ ہوسکتاہے۔ اب امید کی جارہی ہے کہ اس کے بعد جلد ہی یو ٹی آئی کے سی ای او کے عہدے پر کسی کی تقرری ہوجائے۔
خصوصی کلب
سول سروس میںایک مدت سے آئی اے ایس کیڈر کے عہدیداروںکا دبدبہ رہاہے جسے دوسرے آل انڈیا سروسیز کے افسر ناپسند کرتے آئے ہیں۔ اب آئی پی ایس افسر بھی دائرہ وسیع کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق سی بی آئی اب آئی پی ایس افسروںکو ایک خصوصی کلب میں بدلنے کا منصوبہ بنارہی ہے۔ فطری طور پر اس سے سی بی آئی میں کام رہے غیر آئی پی ایس افسر ناخوش ہیں۔ سی بی آئی ،سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کے دس عہدوں کو آئی پی ایس افسروں کو حوالے کرنے جارہیہے، ساتھ ہی ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس کی تعداد بڑھا کراس پر آئی پی ایس افسروں کو بحال کرنا چاہ رہی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سی بی آئی کے ڈائریکٹر اے پی سنگھ نے ڈپارٹمنٹ آف پرسنل افیئرس کو اس تبدیلی کی اطلاع دے دی ہے۔ لیکن اس سے غیر آئی پی ایس افسر ناراض ہیں کیونکہ کچھ غیر آئی پی ایس عہدیداروں کو یہ امید تھی کہ انہیں پروموشن دے کر ایس پی یا ایس ایس پی رینک کا افسر بنادیا جائے گا۔ لیکن آئی پی ایس افسروں کے اس فیصلے سے وہ مایوس ہیں۔ اب انہیں احساس ہو گیاہے کہ انکے پروموشن کے مکانات محدود ہو جائیں گے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *