سوشلزم ہماری معیشت ہے

اعجاز حفیظ خاں
فرانس کے صدارتی الیکشن میں بائیں بازووالے جیت گئے ۔ فرانس کے سوشلسٹ صدر فرانسوا اولاند نے پانچ سال تک صدر کے منصب پر رہنے والے قدامت پرست رہنما نکولس سرکوزی کو شکست سے دوچار کر دیا۔کہا جا رہا ہے کہ سرکوزی کی شکست میں مسلمان ووٹرز کا بھی ایک اہم کردار ہے۔ایک سوال کہ اس کے پاکستان پر کیا اثرات مرتب ہوں گے ؟یہ بات اب اگلے وقتوں کی سی لگتی ہے کہ 1960ء دہائی میں پاکستان کے نوجوانوں میں سوشلزم کی روح اُن کے جسم کا جیسے سب سے خوبصورت حصہ ہوتی تھی ۔1970ء الیکشن میں اُس وقت کے مغربی پاکستان میں پیپلز پارٹی کے بانی بھٹو صاحب اسے بیلٹ بکس تک لانے میں کامیاب ہو گئے ۔ حالانکہ وہ دن پاکستان کے لئے بہت پر آشوب تھے ۔لیکن بھٹو صاحب کی کرشماتی شخصیت کی بدولت وہ پیپلز پارٹی کا اب تک کاسب سے شاندار دور حکومت کہا جاتا ہے۔اُن دنوں اُن کے بہت امیدوار ،جن کے پاس ٹرانسپورٹ صرف سائیکل تھی ،انہوں نے لمبی لمبی گاڑیوں والوں کو پیچھے چھوڑ دیا تھا۔یہ بات بھی بڑی دلچسپی کی ہے کہ حالیہ صدارتی انتخا بات سے پہلے فرانسو ا اولاندے کے پا س اسکوٹر ہی اُن کی سواری تھی ۔شکست خوردہ سرکوزی گلیمر مزاج تھے ۔’’دریدہ دل ‘‘ کوبہر کیف اُن کا ایک یہی اندازاچھا لگا تھا۔اب جب ’’صدارتی مے خانہ ‘‘ان سے چھوٹ گیا ہے ،اس کا تو بعد میں ہی پتہ چلے گا کہ اُن کے رومانس پر کیا گزرتی ہے۔
ایک قدامت پرست کا گلیمر مزاج ہونے میں ہمیں کوئی حیرت نہیں ہے ۔ہمارے یہاں پاکستان میں اس سے بھی اگلی ڈگری والے انتہا پرست بھی کم رومانس پسند نہیں ہیں ۔لیکن انہوں اسے بھی جیسے کیسے لبادے میںچھپایا ہوا ہے ۔لیکن اُن کے قریبی اور نصیبی رُفقاء کو اس کا علم ہو تا ہے ۔محبت کا اقرار کرنا بھی بہادری کے زمرے میں آتاہے لیکن اس ’’محاذ ‘‘ پر ہمارے یہ بہت ہی بزدل ثابت ہو ئے ہیں ۔اِن کے عطا کردہ غم بھی حوا کی بیٹی کو ہی پالنے پڑتے ہیں ۔پرور دگار نے عورت کا دل ہی کچھ ایسا بنایا ہے کہ وہ بڑے سے بڑے دکھ کو بھی اُس کے اندر بسا لیتی ہے اور زبان پر جیسے تالہ لگا لیتی ہے ۔ میکسم گورکی اپنے افسانے ’’ماں‘‘ (ماں کے نام سے انہوں نے ایک شہرہ آفا ق ناول بھی لکھا ہے )میں لکھتے ہیں کہ ’’آئیے ہم عورت کی ،ماں کی شان میں ترانے گا ئیں،جس کی محبت کسی رکاوٹ سے آشنا نہیں ہے۔جس کے سینے نے پوری دنیا کو پالا پوسا ہے ۔پروان چڑھایا ہے ۔انسان میں جو بھی خوبصورت خصوصیات ہیں،وہ سورج کی شعاعوں اور اُس کی ماں کے دودھ کا عطیہ ہیں۔یہی وہ چیز ہے ،جو ہمارے اندر زندگی کی محبت پیدا کرتی ہے ‘‘۔ ہمارے پاکستانی کلچر بالخصوص سیاسی کلچر میں بھی محبت کرنے والا تو ہر کوئی دکھائے دے گا لیکن حوا کی بیٹی کو اپنا نام دینے والے ڈھونڈنے سے بھی نہ مل پا ئیں گے ۔یہی وجہ ہے کہ ایسے لوگ روح کی آسودگی سے محروم رہتے ہیں۔ عرض ہے کہ جو کسی کو دھوکا دیتا ہے ،دراصل وہ خود کو دیتا ہے ۔بدقسمتی سے بہت سی نوخیز کلیاں آسانی سے ان تجربہ کاربھونروں کی بھینٹ چڑھ جاتی ہیں۔ لیکن بھونروں کی ’’پرواز ‘‘ جاری رہتی ہے ۔ سوویت یونین کے تحلیل ہونے کے بعد یہ ایک نظریہ اخذ کیا گیا تھا کہ اب سوشلزم صرف بھولے بسرے گیتوں کی طرح ہی رہے گا ۔ہمارے یہاں تو رجعت پسندوں نے اس نظریے پر جیسے رقص و سرور کی محفلیں منعقد کیں ۔جنرل ضیا کے حواری اور ’’سواری ‘‘اس میں پیش پیش تھے۔حالانکہ جس ملک میں غربت اور مفلسی ہو ،وہ سوشلسٹ معیشت سے ہی اپنی قدموں پر کھڑا رہ سکتا ہے ۔لیکن بھٹو دشمنی میں اُس وقت کے سیاسی سوداگروں نے مذہبی لبادہ اوڑھ کر سوشلزم کے بارے میں ایسا ’’بازار ‘‘سجایا کہ جس میں خریداری جیسے حرام ہو ۔اصل میں ان کی پشت پر سرمایہ دارانہ نظام تھا ۔بھٹو صاحب کے نور سے وہ لوگ اندھیرے بپا کرنے میں ناکام رہے ۔لیکن افغانستان کی صورت میں انہیں ایک ہاٹ کیک مل گیا ۔آج بھی جس کے ذائقے سے ان کے منہ میں پانی آجا تا ہے۔ حالانکہ اب وہاں کا سیاسی ماحول بدل گیا ہے ۔بہت سا پانی پلوں کے نیچے سے گزر چکاہے ۔لیکن نائن الیون کے بعد ایک بار پھر سے ان لوگوں کی سوئی ہوئی امنگیں جاگ اٹھی ہیں ۔وہ پرانے سہانے خواب دوبارہ اُن کا پیچھا کرنے لگے ہیں ۔دوسری طرف اب وہ پرانی راتیں بھی نہیں رہیں ۔یہ بات طے شدہ ہے کہ ان لوگوں کو آخر ِ کار شکست ہو گی۔
پیارے پاکستان میں آج ماحول کچھ اس قسم کا بنا یاجا رہا ہے کہ جیسے یہ کوئی نا کام ریاست ہو ۔پیپلز پارٹی کی دشمنی میں ہمارے ’’رہبر ‘‘کیا کچھ نہیں کر رہے ۔اب ان لوگوں کا ٹارگٹ دو تہائی اکثریت سے منتخب ہونے والے وزیر اعظم جناب یوسف رضا گیلانی ہیں ۔میاں نواز شریف ہوں ،عمران خان ہوں یا دفاع پاکستان کونسل …منزل ایک ہے لیکن راستے جدا جدا ہیں ۔کسی موڑ پر بھی یہ ایک ہو سکتے ہیں ۔یہ لوگ عدلیہ کے نام پر بھی سیاسی ماحول کو آلودہ کر رہے ہیں ۔اُن کے اس عمل سے دونوں اطراف نقصان ہو رہا ہے ۔خدا نہ کرے کہ یہ بات کسی قومی سانحے تک جا پہنچے ۔کچھ لوگ اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ کسی عدالتی فیصلے سے انہیں منزل مل جا ئے گی ۔معاف کیجئے گا ! اس کے لئے عوام سے رجوع کرنا ہو تا ہے ۔کچھ مہینوں کا صبر کیوں نہیں ہو پارہا ؟اگر عوام ساتھ ہیں تو پھر الیکشن میںاس کا فیصلہ ہونا چاہیے ۔اس سے کیوں ڈرا جا رہا ہے؟ایک بات یہ بھی عرض کرتے چلیں کہ ’’جو ڈر گیا ،وہ مر گیا‘‘۔ ہمارے کل کے بہت سے سورما آج بھی زندہ ہیں لیکن سیاسی طور پر جیسے زندہ در گور ہوں ۔فرانس کے صدارتی انتخابات میں سوشلسٹ رہنما فرنسوا اولاندکی کامیابی پاکستان جیسے غریب ملک کے لئے کسی ٹھنڈی ہوا کے جھونکے سے کم نہیں ہے ۔میکسم گوری اپنے ایک اور افسانے ’’سزا ‘‘ کے آخری پیرا میں میں لکھتے ہیں کہ ’’سوشلسٹ؟میرے دوست !میرا تو خیال ہے کہ ہر مزدور پیدائشی سوشلسٹ ہوتا ہے اور ہم کتابیں بھلے ہی نہ پڑھیں لیکن سچ کو سونگھنے کے لئے ہماری ناکیں بہت تیز ہیں ۔کیوں کہ سچ میں ہمیشہ مزدوروں کے پسینے کی خوشبو ہوتی ہے !‘‘آخر میں بھٹو مرحوم کی آج کی حکمران پیپلز پارٹی کو بھی یہ یاد کراتے چلیں کہ اُن کی پارٹی کا ایک ستون ’’سوشلزم ہماری معیشت ہے ‘‘تھا۔
(کالم نگارپاکستان کے سینئر جرنلسٹ ہیں)

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *