ساٹھ سال کا نوجوان

میگھنا ددیسائی
یہ سوچ کہ ہندوستان میں پارلیمانی جمہوریت ہوگی اور یہ ساٹھ سال تک چلے گی اور اس کے بعد اور زیادہ مضبوط ہو جائے گی، دنیا کے کئی ملکوں کے لیڈروں کو حیران کر سکتی ہے۔ مجھے یاد ہے کہ پہلے میرے کچھ جاننے والے یہ دلیل دیتے تھے کہ ہندوستان کی ضرورت مطلق العنان شہنشائیت کی ہے۔یہاں تک کہ1857 کی بغاوت کامقصد بھی مغلیہ حکومت کو پھر سے قائم کرنا تھا، لیکن ہندوستان ایک جمہوری ملک بنا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ہندوستان میں برطانوی اقتدار تھا۔ہندوستان میں جمہوریت کی کوئی قدیم تاریخ نہیں رہی ہے۔ قدیم ہندوستان میں علاقائی جمہوریت تھی، لیکن اسے جمہوریت نہیں بلکہ اشرافی حکومت کہا جا سکتا ہے۔ پنچایت بھی کچھ خاص لوگوں تک محدود تھی، نہ کہ منتخب تنظیم تھی۔ اس میں دلت اور خواتین کے مسائل کا حل نہیں ہوتا تھا۔ہندوستان میں مساوات کا تصور مغرب سے آیا، حالانکہ باہری حکمراں ہندوستانیوں کے ساتھ عدم مساوات کا سلوک کرتے تھے۔ یہ ایک تضاد تھا کہ عدم مساوات کا ارتکاب کرنے والے لوگوں نے مساوات کے تصور کو پنپنے میں مدد کی۔ برطانوی اقتدار کے سبب مغربی تعلیم کا ہندوستان میں رواج ہوا اور انگریزی بولنے والے ہندوستانیوں نے ہی ہندوستانی تحریک آزادی کی قیادت کی۔ گاندھی جی نے پارلیمانی راہ کو نا منظور کر دیا تھا، لیکن انہوں نے کانگریس پارٹی کو جمہوری شکل دی، جس میں بڑے پیمانے پر لوگوں نے تحریک جمہوریت میں حصہ لیا۔ حالانکہ کانگریس گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935 میں ترمیم چاہتی تھی،لیکن پھر بھی اس نے اس کا استعمال 1946 کی آئین ساز اسمبلی میں اکثریت حاصل کرنے کے لیے کیا۔ اس وقت جو انتخاب ہوا تھا، اس میں سبھی لوگوں کو نمائندگی نہیں دی گئی تھی، لیکن ساٹھ سال پہلے جس جمہوریت کو اپنایا گیا، وہ صحیح معنی میں جمہوریت تھی، جس میں سبھی بالغ لوگوں کو حق رائے دہی کا اختیار دیا گیا تھا ۔
آزادی کے بعد کی پہلی دہائی میںسب سے اچھی جمہوریت تھی۔ ممبران پارلیمنٹ کو آزادی کے لیے لڑی گئی لڑائی کا تازہ تجربہ تھا۔آزادی کی تحریک ان کا آئڈیل تھی اور ہندوستان میں تبدیلی لانا ان کا ہدف تھا۔اس وقت کی سیاسی پارٹیوں کے اندر جمہوریت تھی اور ممبران پارلیمنٹ کو پارلیمنٹ کے وقار کا خیال رہتا تھا۔ شروع کے کئی برسوں تک پارلیمنٹ میں کانگریس کی اکثریت تھی، لیکن ایک مضبوط اپوزیشن بھی تھی۔قومی سوشلسٹ پارٹی ایک سماجوادی جمہوری پارٹی تھی، جس میں نریندر دیو، رام منوہر لوہیا اور جے پرکاش نارائن جیسے قد آور لیڈر تھے۔ حالانکہ جے پرکاش نارائن کبھی پارلیمنٹ میں نہیں بیٹھے، لیکن پھر بھی پارٹی کے اندر ان کا کافی اثر تھا۔ کمیونسٹ پارٹی کو جمہوریت قبول کرنے میں وقت لگا، لیکن اس نے بھی اسے قبول کیا اور پارٹی کے لوگ ممبر پارلیمنٹ بھی بنے۔ اس وقت پارلیمنٹ میں سنجیدہ موضوع پر بحث کی جاتی تھی۔ تھوڑا شور و غل بھی ہوتا تھا، لیکن آج کی طرح نہیں۔ دوسری پارلیمنٹ میں چین کے ایشو پر بحث کی گئی، جس میں آچاریہ کرپلانی نے نہرو کی چین پالیسی کی مخالفت کی تھی ۔ تیسری پارلیمنٹ اس معنی میں افسوس ناک رہی کہ پانچ سال میں تین وزیر اعظم دیکھنے کو ملے۔ چوتھی پارلیمنٹ میں معیار میں گراوٹ آنی شروع ہو گئی۔ کانگریس کی تقسیم کے بعد پارٹی کے اندر کی جمہوریت غائب ہو گئی۔ قومی سوشلسٹ پارٹی بھی ٹوٹ گئی اور کمیونسٹ پارٹی بھی کئی ٹکڑوں میں بٹ گئی۔ پارلیمنٹ وزیر اعظم کے ارد گرد گھومنے لگی اور فیروز گاندھی جیسے آزاد سوچ والے ممبران پارلیمنٹ کم ہی رہے۔
پانچویں پارلیمنٹ میں جمہوریت کی پوزیشن سب سے نچلی سطح پر رہی اور ایمرجنسی کا اعلان کیا گیا، جس کے سبب عام انتخابات ملتوی کر دیے گئے۔ اس وقت جے پرکاش نے عوام کو بیدار کیا اور تحریک چلائی۔ حالانکہ جنتا پارٹی کی سرکار ناکام ثابت ہوئی، لیکن جو بیج لوہیا اور جے پرکاش نے بویا تھا اس کا اثر دس سال بعد دکھائی دیا۔ مگر اس میں ایک کمی رہ گئی تھی۔ ان لوگوں نے حکومت کے فیصلے کی مخالفت کرنی تو سکھائی لیکن پارٹی کے اندر جمہوریت کی بحالی کا سبق نہیں پڑھایا ۔ کہا جا سکتا ہے کہ ہندوستان نے پچاس اور ساٹھ کی دہائی کی جمہوریت کو پھر سے حاصل نہیں کیا ۔ آج کی سیاسی پارٹیاں بزنس فارم کی طرح ہیں، جو سیاسی طاقت کا کاروبار کرتی ہیں۔ سیاست میں آئو اور انتخاب جیتنے کے لیے پیسے لگائو۔ یہ سب سے فائدہ مند کاروبار بن گیا ہے۔ لیڈوں کا سرمایہ دیگر شعبوں میں کام کرنے والے لوگوں کی بہ نسبت تیزی سے بڑھ رہا ہے۔انتخابات دولت سے لڑے جا رہے ہیں ۔ ایک بار انتخاب جیت جانے کے بعد انتخاب جتانے والوں کے تئیں ان کی ذمہ داری پوری ہو جاتی ہے۔ ان لوگوں کی طرف دیکھنا بھی ان کے لیے ناگوار ہوتا ہے۔ اگلے انتخاب سے 6 مہینے پہلے ہی ان کو اپنے حلقے کی یاد آتی ہے۔ اب مستقبل قریب میں اس سسٹم میں تبدیلی کی کوئی امید بھی نہیں دکھائی دے رہی ہے۔ لیکن ایک دن آئے گا، جب سیاسی پارٹیوں کے اندر بھی جمہوری سوچ فروغ پائے گی اور پارلیمنٹ پھر سے ملک کی آواز بنے گی۔ دیر ہو سکتی ہے، لیکن ایسا ضرور ہوگا۔ وہ صبح کبھی تو آئے گی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *