سعودی عرب،القاعدہ کے ہاتھوں لٹنے کو تیار نہیں

اسد مفتی 

جرمنی کے ایک ہفت روزہ میں ایک مضمون شائع ہوا ہے جس میں اس بات کی طرف اشار ہ کیا گیا ہے کہ امریکہ اور مغربی ممالک خلیج فارس میں سعودی عرب کو بھی نشانہ بنانا چاہتے ہیں۔اس سے پہلے یہ ممالک افغانستان اور عراق کو نشانہ بنا چکے ہیں اور ایران کے خلاف تیاریاں آخری مراحل میں ہیں۔ ایسے میں جرمنی کے رسالے کی یہ رپورٹ اس بات کی نشاندہی کررہی ہے کہ سعودی عرب بھی جو خلیج فارس کے علاقے اور تیل پیدا کرنے والے ممالک میں ایک بے حد اہم مقام رکھتاہے ، نیو کلیئر ہتھیار بنارہا ہے اور اس کام میں اس کو بہت پہلے سے پاکستان کی مدد حاصل ہے۔ جرمنی کے اس میگزین ’سییرو‘ نے لکھا ہے کہ سعودی سائنس داں 1999 سے پاکستان کے ایک نیو کلیئر پاور سینٹر میں کام کر رہے ہیں۔ اس شمارے میں امریکی نیو کلیئر تجزیہ نگار’ جون پائیک‘ کا بھی بیان شائع کیا گیا ہے جس میں اس نے کہا ہے کہ پاکستان کے آدھے سے زیادہ نیوکلیئر ہتھیاروں میں سعودی عرب کے بارکوڈ کو دیکھا جا سکتا ہے۔ اس نے الزام لگایا ہے کہ ایسا اس لئے ہیکہ پاکستان کے نیو کلیئر پروگرام کو آدھے سے زیادہ مالی تعاون سعودی عرب نے دیا ہے۔ میگزین نے دعویٰ کیا ہے کہ سٹیلائٹ سے لی گئی تصویروں سے بھی یہ واضح ہوتا ہے کہ سعودی عرب نے ریاض کے جنوب میں السولیہ نامی علاقے میں ایک خفیہ زیر زمین شہر بسا رکھا ہے جہاں میزائیل سازی کے کارخانے موجود ہیں۔ اس کے ساتھ ہی مغربی ذرائع میں یہ بات بھی کہی جاتی ہے کہ پاکستان کے لمبی رینج والے غوری میزائیل کی طرز کے بہت سے میزائیل ا ن کارخانوں میں رکھے ہوئے ہیں۔
میرے حساب سے یہ تازہ انکشاف اس علاقے میں مسائل پیدا کرسکتا ہے اس لئے سب سے پہلے تو اس میگزین کی رپورٹ کی سچائی اور اس کے درست ہونے کے امکانات کا جائزہ لیا جانا چاہئے اور یہ پتہ چلانا چاہئے کہ اس رپورٹ کی اشاعت کے اغراض و مقاصد کیا ہیں اور اس خبر کو موجودہ حالات میں کیوں منظر عام پر لایا گیا ہے کہ ان تمام حالات میں سعودی عرب کے تعلق سے جرمن میگزین کی رپورٹ کی اشاعت بہت اہمیت کی حامل سمجھی جائے گی۔ اس انکشاف سے نہ صرف سعودی عرب بلکہ تمام خلیجی علاقہ میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے بلکہ ایران کی فکر مندی میں بھی اضافہ ہوگیا ہے اور سعودی عرب نے اپنے تحفظات کے لئے اقدام کرنے شروع کردیے ہیں۔ آپ کو یاد ہوگا کچھ عرصہ قبل سعودی عرب میں کیا ہونے جارہا تھا؟ایک نہایت منظم سازش کے تحت سعودی ریفائنری ’البقیق آئی ٹرمینل‘ کو اڑانے کی کوشش،جس کی ذمہ داری القاعدہ نے قبول کی تھی۔ اگر القاعدہ کی یہ سازش کامیاب ہوجاتی تو کم از کم ایک ملین بیرل تیل کی سپلائی دس ماہ تک قطعی رک جاتی اور اس کے نتیجے میں تیل کی قیمتیں آسمان پر پہنچ جاتیں ۔پوری دنیا کی معیشت کا جنازہ نکل جاتا۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ سعودی تیل گنوانے کی صورت میں صرف برطانیہ میں تیل کی قیمت تین گنا بڑھ جائے گی۔ پچھلے دنوں’ سنڈے اکسپریس ‘نے ایک رپورٹ شائع کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ برطانوی اور امریکی کمپنیوں نے کہا ہے کہ اگر کسی وجہ سے سعودی حکمرں اقتدار سے علٰیحدہ کردیے جائیں تو سعودی آئل پلانٹ ،فارمز اور پراسسنگ پلانٹس سنبھال لئے جائیں گے۔رپورٹ کے مطابق تحقیقاتی مصنف جیرالڈ بوسنر نے خفیہ انٹلی جنس دستاویزات تک رسائی حاصل کی جس میں انکشاف ہوا کہ سعودی عرب نے غیر ملکی حملہ آوروں، اندرونی دشمنوں ، انتہا پسندوں اور القاعدہ کی جانب سے قدرتی وسائل کے ذخائر پر قبضہ روکنے کے لئے غیر معمولی اقدامات کیے ہیں لیکن ان کے یہ منصوبے اور اقدامات انتہا پسندوں کے لئے ٹرمپ کارڈ ہوسکتے ہیں جو انہیں اس بات کی اجازت دیں گے کہ وہ مغرب کو اپنے سامنے جھکادیں ۔یہ اسلامی دہشت گرد عالمی معیشت کو تباہی سے دوچار کرسکتے ہیں کیونکہ سعودی عرب دہشت گرد القاعدہ یا اسلامی انتہا پسندوں کے ہاتھوں اقتدار گنوانے کے بجائے تیل کے ذخائر کو از خود تباہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہاہے۔ سعودی حکمراں تیل اور گیس پائپ لائنوں کو انتہا پسندوں کے سعودی عرب پر قبضے کی کوشش کی صورت میں از خود تباہ کردیں گے۔ سعودی حکام نے پہلی گلف وار کے بعد تیل کے ذخائر کو دشمنوں کے ہاتھوں میں جانے سے روکنے کے لئے پلاننگ شروع کی تھی اور انہوں نے تیل و گیس کی سپلائی لائنوں میں خفیہ تباہ کن نیٹ ورک بچھا دیا ہے۔یہ نیت ورک’ سنگل بٹن سیلف ڈسٹرکشن سسٹم‘ پر مشتمل ہے اور اسے ’بلٹ ان فیل سیف‘ کے ذریعے محفوظ رکھا گیاہے تاکہ اگر کوئی دنیا کے تیل کے سب سے بڑے ذخائر کو ان سے چھین لے اور ان کو ملک سے فرار ہونے پر مجبور کردے تو وہ اس کو یقینی بنا دیں کہ وہ ان کے لئے کچھ بھی چھوڑ کر نہیں گئے۔ جیرلڈ بوسنر کی لکھی کتاب میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ سبوتاژ سسٹم میں چیک کے تیار کردہ سمٹکس اکسپلوسیوز استعمال کیے گئے ہیں۔ پلان میں نیو کلیئر سسٹم 137 اور سڑانئیم 90 استعمال کیا گیا ہے تاکہ اس کے ذریعہ اہم مقامات کو صدیوں تک ناقابل استعمال بنایا جاسکے۔ اگر ایسا ہوگیا تو سعودی عرب کے ذخائر کئی دہائیوں تک بے کار پڑے رہیں گے ۔ تیل کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ ہوگا اور امریکہ و مغرب کی معیشت کساد بازاری کا شکار ہو جائے گی۔g

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *