سائیں بابا سنستھان ٹرسٹ میں گھوٹالہ

آلوک مشرا 

ایک محاورہ ہے : جہاں دولت جمع ہوگی، وہاں چور کی نظر پڑے گی ہی۔ شرڈی کے سائیں بابا تو فقیر تھے اور فقیری میں ہی ساری زندگی گزار دی۔ ہاں، انہوں نے غریب و لاچار لوگوں کی مدد کرنے میں کوئی کوتاہی نہیں برتی۔ مگر شرڈی کے سائیں بابا سنستھان میں جیسے جیسے عقیدت مندوں کے ہجوم میں اضافہ ہوا اور ساتھ ہی عطیہ کی رقم میں اضافہ ہوتا گیا، تو وہاں بھی چوروں کی نظر ٹک گئی۔ فقیر کے گھر میں ہی عقیدت مند بن کر ڈاکو داخل ہو گئے اور سائیں کی امانت میں خیانت کرنے کا دور شروع ہو گیا۔ یہ سب سیاسی نگہداشت میں ٹرسٹ کے ممبران کے ذریعے کیا جا رہا ہے۔ سائیں کے گھر میں جب سے سیاست نے دراندازی کی، تب سے وہاں گھوٹالوں کا کاروبار بھی شروع ہو گیا۔ ٹرسٹ میں شامل ہر لیڈر کی کوشش رہتی ہے کہ اس کے ساتھ ہی اس کے رشتہ دار بھی فیضیاب ہوں۔ اس کے لیے وہ قواعد و ضوابط اور ٹرسٹ کو ہونے والے مالی خسارہ کی پرواہ بھی نہیں کرتے ہیں۔ اسی لیے تو یہاں پرساد کے لڈو سے لے کر گاڑی تک کے معاملے میں سینکڑوں کروڑوں کے گھوٹالوں کی پرتیں کھلنی شروع ہو گئی ہیں۔ ان گھوٹالوں کے خلاصے سے سائیں کے عقیدت مندوں میں غصہ دیکھا جا رہا ہے۔ سائیں کے ٹرسٹ میں مالی بدعنوانی کا یہ سلسلہ برسوں سے جاری ہے۔ اس کی خبر حکومت کو بھی تھی، لیکن اس نے اس کی طرف دھیان دینے کی ضرورت بھی نہیں سمجھی، جب کہ یہاں پر رائج مالی بدعنوانی سے فکر مند سائیں کے کئی عقیدت مند لگاتار وزیر اعلیٰ پرتھوی راج چوان، پرنسپل سکریٹری اور وزارتِ قانون کو خط لکھ کر اپنی تشویش ظاہر کرتے رہے۔ مگر انتظامیہ اور حکومت سائیں کے ان عقیدت مندوں کی تشویش کو نظر انداز کرتی رہی۔ بار بار وہاں بدعنوانی کی تشویش ظاہر کیے جانے پر بھی حکومت کے اس مایوس کن رویہ کا سبب تھا سائیں کے سنستھان میں، حزب اقتدار میں شامل کانگریس اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کی ٹرسٹ میں برابر کی حصہ داری۔ کورٹ کے ذریعے برخاست پرانے بورڈ آف ٹرسٹی کے 13 ممبران میں 7 نیشنلسٹ کانگریس اور 6 کانگریس کے تھے۔ حزب اقتدار میں شامل دونوں پارٹیوں نے یہ حکمت عملی اپنائی تھی کہ یکے بعد دیگرے چیئرمین اور نائب چیئرمین کا عہدہ بدل کر مالی منافع کے اس ٹرسٹ پر قبضہ جمائے رکھا جائے گا۔ اس کا پتہ اس بات سے ہی چل جاتا ہے کہ پرانے بورڈ آف ٹرسٹی کو عدالت کے ذریعے برخاست کیے جانے کے بعد جس نئے بورڈ آف ٹرسٹی کی تشکیل ہوئی، اس میں بھی انہی دونوں پارٹیوں کا قبضہ برقرار رہا۔ جب اس سیاسی چالاکی کو عدالت کے سامنے لایا گیا تو اس نے نئے بورڈ آف ٹرسٹی کو اپنا کام کاج سنبھالنے پر روک لگا دی اور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی صدارت والی کمیٹی کو فی الحال سائیں سنستھان کا کام کاج دیکھنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت کے ذریعے کیے گئے اس انتظام کے بعد دھیرے دھیرے ٹرسٹ میں شامل لیڈروں کی نگہداشت میں پنپنے والے بدعنوانی سے پردہ اٹھنے لگا ہے۔

لوٹ مچی ہے۔ زمین، پانی، آسمان، بھگوان۔ سب جگہ لوٹ۔ لٹیروں کو انسان کیا بھگوان کا بھی ڈر نہیں۔ کروڑوں لوگوں کے اعتقاد کی علامت شرڈی سائیں بابا سنستھان ٹرسٹ میں بھی لوٹ مچانے سے نہیں ڈرتے یہ لٹیرے۔ عقیدت مندوں کی طرف سے دیے جانے والے عطیہ کے پیسے سے جہاں عوامی فلاح و بہبود کا کام ہونا تھا، کچھ لوگوں نے اس سے اپنی فلاح و بہبود کا کام کرنا شروع کردیا۔ یہ کارنامہ شرڈی سائیں بابا سنستھان ٹرسٹ کے ممبران نے انجام دیا ہے۔ مذہب اور سیاست کے ساز باز کا نتیجہ کیا ہو سکتا ہے، ملاحظہ کریں چوتھی دنیا کی اس خاص رپورٹ میں۔

شری سائیں بابا سنستھان ٹرسٹ کے انفارمیشن آفیسر اور ایڈمنسٹریٹو آفیسر نے کوپر گاؤں کے باشندہ سنجے بھاسکر راؤ کالے کے ذریعے آر ٹی آئی کے تحت مانگی گئی اطلاعات کے جواب میں لکھے خط میں بتایا ہے کہ سال 2010-11 کے اقتصادی بجٹ کے مطابق سنستھان کی آمدنی 255 کروڑ، خرچ 151.70 کروڑ ہے اور باقی بچی رقم 103.30 کروڑ روپے ہے۔ سال 2011-12 میں خرچ کی گئی رقم یوں ہے: شرڈی کے اندر کی سڑکوں کی تعمیر کے 9 کروڑ 60 لاکھ 64 ہزار 639 روپے، شری رامپور کے سب ڈویژنل آفیسر کو دیے گئے۔ آئی ٹی آئی اسٹوڈنٹ رمیش گوپی ناتھ امبرے کی وفات پر ایک لاکھ روپے اس کے والد گوپی ناتھ کسن امبرے کو دیے گئے۔ شرڈی نگر پنچایت کو 2 لاکھ 59 ہزار 95 روپے ڈی پی روڈ اور رِنگ روڈ ڈیولپمنٹ کے لیے دیے گئے۔ اس کے علاوہ شرڈی نگر پنچایت کو 50 لاکھ روپے بطور سینی ٹیشن ٹیکس دیے گئے۔ مہاراشٹر ایئرپورٹ ڈیولپمنٹ کمپنی، ممبئی کو 15 کروڑ روپے شرڈی ایئرپورٹ ڈیولپمنٹ کے لیے دیے گئے۔ اس کے بعد دوبارہ شرڈی نگر پنچایت کے نام 2 کروڑ 91 لاکھ 22 ہزار 190 روپے جاری کیے گئے۔ ایم ایس آر ٹی سی کے بس اسٹینڈ ڈیولپمنٹ کے لیے آرکی ٹیکٹ کی فیس کے طور پر 15 ہزار 75 روپے دیے گئے۔ اس کے بعد ایک بار پھر مہاراشٹر ایئرپورٹ ڈیولپمنٹ کمپنی،ممبئی کو 20 کروڑ شرڈی ایئرپورٹ ڈیولپمنٹ کے لیے دیے گئے (درج بالا حساب کتاب 26 جولائی، 2011 کا ہی ہے)۔ ان اعداد و شمار پر نظر ڈالنے سے پتہ چلتا ہے کہ روڈ ڈیولپمنٹ کے نام پر سنستھان کے ذریعے بار بار کروڑوں کی رقم جاری کی جاتی رہی ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ سنستھان کے ذریعے جاری کی گئی رقم سے سڑکوں کا کتنا ڈیولپمنٹ ہوا ہے، اس کی کوئی تفصیل فراہم نہیں کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ ایسے میں شرڈی کی ترقی کے لیے حکومت کی طرف سے جو کروڑوں کی رقم جاری کی جاتی ہے، وہ جاتی کہاں ہے؟
آر ٹی آئی کارکن سنجے کالے نے مہاراشٹر کے چیف سکریٹری کو خط لکھ کر سائیں ٹیک پروجیکٹ کے لیے کاگنی زینٹ کمپنی سے کنٹریکٹ کرنے میں ہوئی بے ضابطگی اور بدعنوانی کی طرف توجہ مرکوز کرائی تھی۔ جواب میں چیف سکریٹری کے دفتر سے جو خط آیا اس میں اس ایشو کو نظر انداز کر دیا گیا تھا۔ اس پر کالے نے 21 نومبر کو دوبارہ چیف سکریٹری کو خط لکھا اور توجہ دلائی کہ 29 اگست کو سائیں سنستھان کے ذریعے کاگنی زینٹ کمپنی سے سائیں ٹیک پروجیکٹ کے لیے جو قرار کیا گیا تھا، وہ قواعد و ضوابط کے مطابق نہیں ہے اور اس میں بدعنوانی کا شک ظاہر کرتے ہوئے، آپ کے پاس درخواست بھیجی تھی، جس کے جواب میں آپ کی بجائے سائیں سنستھان نے جواب دینے کی کوشش کی، جس میں بنیادی ایشو کو ٹال دیا گیا ہے۔اس پورے معاملہ میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی برتے جانے کا اندیشہ ہے۔ کاگنی زینٹ کمپنی نے سائیں ٹیک پروجیکٹ پر جنوری 2010 سے کام شروع کر دیا ہے، جب کہ قرار ہوئے بغیر دس ماہ قبل کسی کمپنی کے ذریعے کام کیا جانا اصولاً صحیح نہیں ہے۔ سائیں بابا سنستھان کا قرار جب 22 مئی، 2010 کو ہوا تو وہ جنوری سے بھلا کیسے کام شروع کر سکتی ہے۔ اس قرار میں وَرک شیڈول کا مسودہ بھی منظور کیا گیا ہے۔ اس مسودے میں ایشو نمبر 1 کے اخیر میں اس بات کا صاف طور پر ذکر کیا گیا ہے کہ جنوری 2010 سے کام جاری ہے۔ مسودے کے ایشو نمبر 2 میں لکھا ہے کہ مئی ماہ کے اخیر میں اس پروجیکٹ کا پہلا مرحلہ سنستھان کے سپرد کرنا طے کیا گیا ہے جبکہ کمپنی نے سائیں ٹیک پروجیکٹ کا پہلا مرحلہ 2011 میں وزیر اعلیٰ کے ہاتھوںسپرد کیا۔ اس نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو کمپنی اگر مئی میں پروجیکٹ کا پہلا مرحلہ پورا کرنے میں ناکام تھی تو کمپنی کے ساتھ کیا گیا قرار بے فائدہ ہوجاتا ہے۔ قرار کے مطابق کمپنی کو سائیں ٹیک پروجیکٹ جنوری 2011 میں پورا کرکے دینا تھا اور اس نے پروجیکٹ کا پہلا مرحلہ ہی جولائی 2011 میں پورا کیا۔ اس لحاظ سے ورک شیڈول کی دفعہ 5.1 کے تحت یہ قرار پوری طرح رد ہوجاتا ہے۔

اس طرح 21.87 کروڑ کے سائیں ٹیک پروجیکٹ کے قرار کو فوری رد کیا جانا چایئے۔ پہلے خط کے ایشو نمبر 2 میں سال 2007 سے 2011 کے درمیان میں پورے سائیں سنستھان کو کمپیوٹر فراہم کرنے پر کل 46,87,080 روپے خرچ کیے جانے کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس کے تحت 20 سہولتیں سنستھان کی طرف سے مہیا کرائی جاتی ہیں۔ سنستھان نے ان میں 17 نئی سہولتوں کو بھی جوڑ دیا ہے۔ جس میں بنیادی طور سے واٹر سپلائی،،سیکورٹی، تعمیر، کرمچاری، ٹیلیفون بل، تقریب منصوبہ بندی،پرانے ریکارڈ کی دیکھ بھال، ای میل سہولت، بجلی محکمہ، سفر کا اہتمام، ٹرانسپورٹ سہولت، میٹنگ شعبیوغیرہ کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ مذکورہ 17 میں سے 70 فیصد سہولتیں فراہم ہورہی ہیں۔کام کاج بھی اچھا چل رہا ہے۔مشینری (کمپیوٹر)4.60 کروڑ روپے کی ہے تو باقی 17.27 کروڑ روپے پانچ سال میں بیمہ اور ان کی دیکھ بھال پر خرچ ہونے کی بات آپ کے محکمہ کے ذریعہ کہی گئی ہے۔ اس کا مطلب کیا لگایا جائے۔ 4.60 کروڑ کے کمپیوٹر اگر پانچ سال میں ہر سال بدلے بھی جائیں تو کسی بھی صورت میں 21.87 کروڑ روپے خرچ نہیں ہو سکتے ہیں۔ اس کے باوجود آپ کے محکمہ اور سائیں سنستھان کے عہدیدار کاگنی زینٹ کمپنی کی خوبیاں بیان کر رہے ہیں۔اس سے تو 12,800 کروڑ روپے کی پونجی اور ایک لاکھ تکنیکی ماہرین والی اس کمپنی کی صلاحیت پر سوالیہ نشان لگ جاتا ہے۔
اس کے بعد کالے نے 24 نومبر کو وزیر اعلیٰ پرتھوری راج چوان کو خط لکھ کر بھی سائیں سنستھان کے کاروبار میں 15 خامیاں بتائی ہیں اور بھاری بدعنوانی ہونے کے الزام لگائے ہیں ساتھ ہی سائیں سنستھان میں ہوئے مالی کاروبار کی کیگ (CAG)سے جانچکرانے اور بد عنوانی کے معاملوں کی جانچ سی آئی ڈی یا سی بی آئی یا ان جیسی قابل اعتماد جانچ ایجنسی سے کرانے کی مانگ اپنے خط میں کی ہے۔ ساتھ ہی سجھائو دیا
ہے کہ ہر محکمے کا چیف ایگزیکٹیو اعلیٰ تعلیم یافتہ اور تربیت یافتہ ہونا چاہئے۔
اس مقدس سنستھان کی بد عنوانی کی کہانی یہیں نہیں رکتی ہے۔ الگ الگ مالی بے ضابطگیوں کے تحت تقریباً 100 کروڑ کے گھوٹالے کی تشویش سنجے کالے نے ممبئی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو لکھے خط میں ظاہر کی ہے۔ ساتھ ہی ہائی کورٹ کی اورنگ آباد بینچ میں رٹ بھی دائر کی ہے۔ جس کی سنوائی شروع کرتے ہوئے جسٹس بھوشن گوئی اور جسٹس سنیل دیشمکھ نے سرکار اور بورڈ آف ٹرسٹی سے تین ہفتہ میں اپنا موقف رکھنے کی ہدایت دیہے۔ رٹ میں کہا گیاہے کہ سائیں مندر سے متعلق گھوٹالوں کی جانکاری دیتے ہوئے، وہاں کے کام کاج میں بے ضابطگی کو دھیان میں رکھتے ہوئے کسی سیاسی فرد یا اس کے قریبی ، رشتہ داروں کوبورڈ آف ٹرسٹی میں نہ لیا جائے۔ سنستھان میں ہوئی مالی بے ضابطگی کی رقم بورڈ آف ٹرسٹی کے ممبروں سے وصول کی جائے۔ رٹ میں بتایا گیا ہے کہ مندر سنستھان کے ٹرسٹیوں نے یہ کہہ کر پرساد کے لڈوئوں کی فروخت پر روک لگا دی تھی کہ نقصان ہو رہا ہے۔ مگر سچائی یہ ہے کہ پرساد کے لڈوئوں کے 39 سے 40 ہزار پیکٹوں کی فروخت ہر روز ہوتی ہے۔ اس پر روک لگا کر بورڈ نے پرساد میں پیڑوں کی فروخت کا ٹھیکہ ایک نجی ادارے کو دیا ہے۔ اس نجی ادارے کے ذریعہ یومیہ 911کلو پیڑوں کی فروخت کی جاتی ہے جس کا مطلب یہ ہوا کہ سال میں 3 لاکھ 30 ہزار کلو پیڑے کی فروخت پرساد کی شکل میں ہوتی ہے۔ اس طرح نجی ادارے کا سالانہ کاروبار 115 کروڑ کا ہے جس میں نفع زیادہ ہے۔ وہیں ٹرسٹیوں کے اس فیصلے سے سنستھان کو ایک کروڑ 65 لاکھ کا ماہانہ نقصان ہورہا ہے۔ رٹ دائر کرنے والے کا سیدھا الزام ہے کہ سائیں سنستھان کے صدر ’جینت سیانے‘‘ نائب صدر ’’ شنکر رائو کولہے‘‘ اور ’’ رادھا کرشن ویکھے پاٹل ‘‘( موجودہ وزیر ِ برائے زراعت) نے اپنے اختیارات کا غلط استعمال کیا ہے۔ اتنا ہی نہیں اپنے قریبی ، رشتہ داروں کو ٹھیکہ دلانے کے لئے بڑے لیڈروں نے کوشش کی ہے۔ اس کے لئے سنستھان کے تمام حساب کتاب کی جانچ قابل اعتماد ایجنسی سے کرانے کو کہا گیا ہے۔ کالے کا کہنا ہے کہ اگر یہاں کے اقتصادی کاروبار کی جانچ صحیح طریقے سے کی گئی تو یہ گھوٹالہ اور بڑی شکلمیں سامنے آ سکتا ہے۔
بہر حال سائیں سنستھان کے بورڈ آف ٹرسٹی کی کارگزاریوں کا جیسے جیسے خلاصہ ہوتا جارہا ہے اس سے سائیں بابا کے بھگت مایوس ہیں۔ ساتھ ہی ایک بات اور ثابت ہوتی ہے کہ جہاں پر دولت جمع ہوتی ہے وہاں بدعنوانی اپنی جگہ بنا لیتی ہے۔ جس مذہبی سنستھان میں سیاست داخل ہو جاتی ہے وہاں کے تقدس پر آنچ آنے لگتی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ عدالت کی مداخلت سے سائیں کے گھر میں سیاست کی وجہ سے جو گندگی پھیلی ہے اور بد عنوانی پنپی ہے وہ صاف ہو پائے گی۔ سارے سائیں بھگتوں کی نظریں اب عدالت پر لگی ہیں۔
باکس:
کیسے کیسے گھوٹالے
موبائل خریدنے میںبھی گھوٹالہ ہوا۔ چوتھی دنیا کے پاس موجود دستاویزوں کے مطابق بورڈ آف ٹرسٹی کے ممبروں نے خود کے لئے موبائل خریدنے میں بھی ٹرسٹ کے پیسے کا استعمال کیا ہے۔ سابق وزیر اور سنستھان کے نائب صدر شنکر رائو کولہے نے پانچ سالوں میں 6 مہنگے موبائل سیٹ خریدے۔ اور اس کے لئے پیسے کی ادائیگی سنستھان کی طرف سے کی گئی۔ ان کے موبائل بل کے ہزاروں روپے بھی سنستھان کی طرف سے دیے گئے۔ ساتھ ہی ، سنستھان کے سی ای او اور ڈپٹی سی ای او نے جب باہری ملک کا دورہ کیا تو اس کی ادائیگی بھی سنستھان نے ہی کی جبکہ انہوں نے اس کے لئے سرکار سے پہلے اجازت نہیں لی تھی۔دورہ کرنے کے بعد انہیں اس سفر کے لئے اجازت دے دی گئی۔ بھجن گائک سریش واڈیکر کے لندن میں کام کاج کے لئے سنستھان نے انہیں دس لاکھ روپے دیے لیکن ویزا نہ ملنے کی وجہ سے یہپروگرام نہیں ہو سکا ۔ لیکن اس مد سے بھی تقریباً 4 لاکھ روپے سنستھان کو واپس نہیں ملے۔بورڈ آف ٹرسٹی کے ممبروں کی تقرری کو لے کر بھی کئی سوال کھڑے ہوتے ہیں ۔ مثلاً سنستھان کے قانون 8 بی کے تحت سبھی ممبروں کو ایک حلف نامہ دینا ہوتا ہے کہ وہ سائیں بھگت ہیں لیکن بورڈ آف ٹرسٹی کے ممبروں نے ایسا کوئی حلف نامہ نہیں دیا تھا۔ اس حساب سے دیکھیں تو پرانے بورڈ کے ممبروں کی تقرری بھی غیر قانونی تھی۔ چوتھی دنیا کے پاس موجود دستاویز سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ بورڈ کے یہ ممبر میٹنگوں سے بھی غائب رہتے تھے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *