آرٹی آئی: چند سوالات اور ان کے جوابات

کیافائل نوٹنگ پبلک آفیسرس کو ایماندار صلاح دینے سے روکے گا؟
یہ غلط ہے ۔ اس کے بر عکس ہر افسر کو اب یہ معلوم ہوگا کہ جو کچھ بھی وہ لکھتاہے وہ پبلک ریویو کا موضوع ہو سکتا ہے، اور یہ اس پر مفاد عامہ میں زیادہ صحیح لکھنے کا دباؤ بنائے گا۔ کچھ ایماندار نوکر شاہوں نے الگ سے قبول کیا کہ آر ٹی آئی نے سیاسی اور دوسری طرح کے اثرات کو ختم کرنے میں کا فی مدد کی ہے۔ اب افسر سیدھے طور پر کہتے ہیں کہ اگر انہوں نے کچھ غلط کیا تو وہ اس قانون کے ذریعہبے نقاب ہو جائیں گے۔ اس لیے افسروں نے اس بات پر زور دینا شروع کر دیا ہے کہ سینئر افسر تحریری طور پر احکامات جاری کریں۔
سرکاری ریکارڈس صحیح طور پر آرگنائز نہیں ہیں؟
آر ٹی آئی کی وجہ سے سرکاری انتظامیہ پر اب ریکارڈس کو صحیح طریقہ سے رکھنے کا دباؤ بنے گا، ورنہ ذمہ دار افسر کو آر ٹی آئی قانو ن کے تحت سزا ہو گی۔
کیالمبی چوڑی اطلاع طلب کرنے والی درخواست کو خارج کیا جانا چاہئے؟
بالکل نہیں ، اگر کو ئی ایک لاکھ صفحوں کی جانکاری چاہتا ہے تو وہ ایسا تبھی کرے گا جب سچ مچ اسے اس کی ضرورت ہوگی۔ کیونکہ اس کے لیے اسے دو لاکھ روپے ادا کرنے ہوں گے۔یہ تو آپ نے مایوس کنبات کی ہے۔ صرف اس وجہ سے عرضیاں رد نہیں ہونی چاہئیں کہ لوگ سرکاری کام کاج سے جڑی جانکاری کے بجائے صر ف خود سے متعلق اطلاع طلب کریں۔ آرٹی آئی ایکٹ کی دفعہ 6(2)یہ واضح کرتی ہے کہ عرضی گزار سے یہ نہیں پوچھا جا سکتا کہ وہ کیوں جانکاری مانگ رہا ہے۔ اس لیے دہلی میں رہنے والا شخص وہ تمل ناڈو سے متعلق کوئی بھی جانکاری طلب کر سکتاہے ۔
اطلاع حاصل کرلینے کے بعد مجھے کیا کرنا چاہئے؟
اس سوال کا کوئی واضح جواب نہیں ہو سکتا۔یہ اس بات پر منحصر ہو گا کہ آپ نیکس طرح کی اطلاع حاصل کی ہے اور آپ کا مقصد کیا ہے۔ بہت سے معاملوں میں صر ف اطلاع طلب کرنے سے ہی آ پ کا مقصد پورا ہو جا تا ہے۔ مثال کے طور پر آ پ کومحض اپنی درخواست کی موجو د ہ حالت کی جانکاری مانگنے سے ہی آ پ کا پاسپورٹ یا راشن کا رڈ آپ کو مل جا تاہے، اورسڑکوں کی مرمت سے متعلق بہت سارے معاملے ایسے ہیں جس میںکچھ مہینوں کے اخراجات کا حساب مانگتے ہی سڑک کی مرمت ہو گئی۔ اس لئے اطلاع کی مانگ کرنا اور سرکار سے سوال پوچھنا خود ایک اہم قدم ہے۔لیکن اگر آ پ نے حق اطلاع کا استعمال کر کے بدعنوانی اور گھپلوں کو اجاگر کیا ہے تو آپ وجلنس ڈپارٹمنٹ اور سی بی آئی میں ثبوت کے ساتھ شکایت درج کر ا سکتے ہیں یا ایف آئی آر درج کرا سکتے ہیں۔
اطلاع طلب کرنے اور اس کے ذریعہ بدعنوانی کو بے نقاب کرنے والوں کو پر یشان کیے جا نے کا اندیشہ بھی ہے؟
ہاں، کچھ ایسے معاملے سا منے آئے ہیں جن میں اطلاع مانگنے والوں کو جسمانی طورپر نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی۔ ایسا اس وقت کیا جا تاہے جب اطلاع حاصل کرنے سے کسی بڑی سطح پر ہورہی بدعنوانی کا معاملہ اجاگر ہونے والا ہو۔لیکن اس کا مطلب یہ نہیںکہ ہر درخواست گزار کواس طرح کی دھمکی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ عام طورپر اپنی شکایت کی حالت جاننے یا پھر کسی عاممعاملے کی جانکاری حاصل کرنے کے لیے درخواست دینے پر ایسی پر یشانی کا سامنا نہیں کر ناپڑتا ہے۔ ایسا ان معاملوں میں ہو سکتاہے ، جن سے متعلق جانکاری طلب کرنے سے نوکر شاہوں اور ٹھیکہ داروں کے درمیان سانٹھ گانٹھ کا پر دہ فا ش ہو سکتاہے یا پھر کسی مافیا کے گٹھ جوڑ کے بارے میں علم ہو سکتاہے۔
اطلاع کے لئے درخواستوں کا ڈھیر لگ جانے سے عام سرکاری کام کاج متاثر نہیں ہو گا؟
درخواست داخل کرنے کی کارروائی میں بہت ساراوقت ، توانائی اور کئی طرح کے وسائل خرچ ہوتے ہیں۔ جب تک کسی کو واقعی اطلا ع کی ضرورت نہ ہو گی ، تب تک وہ درخواست داخل نہیں کرتا۔ آئیے کچھ اعداد وشمار پر غور کریں۔ دہلی میں 60سے زیادہ مہینوں میں 120محکموں میں 14,000درخواستیں داخل کی گئیں۔ اس کا مطلب ہر مہینے ہر محکمے میں اوسط 2سے بھی کم درخواستیں داخل کی گئیں۔ کیا ایسا لگتاہے کہ دہلی سرکار کے پا س درخواستوں کے ڈھیر لگ گئے ہوں گے۔
لوگوں کو بے تکی درخواست داخل کرنے سے کیسے روکا جا سکتاہے؟
کوئی بھی درخواست غیر ضروری یا بے تکی نہیں ہوتی۔ کسی کے لئے پانی کا کنکشن سب سے بڑا مسئلہ ہو سکتا ہے، لیکن افسر اسے غیر ضروری مان سکتے ہیں۔ نوکر شاہی میں موجود مفاد پرست عناصر کی جانب سے غیر ضروری درخواست کا سوال اٹھا یا گیا ہے۔ حق اطلاع ایکٹ کسی بھی درخواست کو غیر ضروری مان کر نا منظور کرنے کا حق نہیں دیتا۔ نوکر شاہوں کا طبقہ چاہتاہے کہ پبلک انفارمیشن آفیسر کو یہ حق دیا جائے کہ اگر وہ درخواست کو غیر ضروری سمجھے تو اسے نا منظور کر دے۔ اگر ایسا ہو تا ہے تو ہر پبلک انفارمیشن آفیسر ہر درخواست کو غیر ضروری بتا کر نا منظور کر دے گا۔ یہ اس ایکٹ کے لئے بہت ہی خراب حالت ہوگی۔

درخواست کا خاکہ

سڑک کی مرمت کی تفصیل
خدمت میں،
پبلک انفارمیشن آفیسر،
(محکمہ کا نام)
(محکمہ کا پتہ)
موضوع:حق اطلاع ایکٹ،2005کے تحت درخواست
عالی جناب،
نیچے سڑکوںکی فہرست دی گئی ہے: (یہاں سڑکوں کی تفصیل درج کریں)
مذکورہ بالا سڑکوں سے متعلق مندرجہ ذیل اطلاعات فراہم کرائیں:
.1 مورخہ …………………………….سے …………………..کے درمیان مندرجہ بالا سڑکوں کی مرمت (چھوٹے یا بڑے پیمانے پر)کتنی دفعہ ہوئی؟
.2اگر کوئی کام محکمے کے ذریعہ کرایا گیا ، تو ہر اس کام سے متعلق مندرجہ ذیل اطلاعات فراہم کرائیں:
(الف) اس کام سے متعلق اسٹاک رجسٹر کی کاپی، (ب)کام سے متعلق لیبر رجسٹر کی کا پی، (ج)ان جگہوں کی اصلی حالت جہاںکام کیاگیا،
(د)کا م کب ہوا، (ر)کام کے لیے استعمال کئے گئیسامان کا مرکب کیا تھا؟
.3اگر کام کسی ٹھیکہ دار کے ذریعہ کرایا گیا ، تو اس سے متعلق مندرجہ ذیل اطلاعات فراہم کرائیں:
(الف)میزرمنٹ بک کی کاپی( ایبسٹریکٹ اور ریکارڈ؛ دونوں ہی اندراجات کی تفصیل) (ب)اسکیچ کی کاپی، (ج)خرچ کے تخمینہ کی تفصیل کی کاپی،(د)اگر ٹھیکہ میں کسی طرح کی گارنٹی کا اہتمام تھا، تو اس کی تفصیل کی کاپی مہیا کرائیں اور ان حالات کی تفصیل فراہم کریں جس میں مذکورہ گارنٹی موثٔرہوتی ہے، (ر)ان اسسٹنٹ انجینئرس اور ایگزیکٹو انجینئرس کا نا م بتائیں، جنہوں نے ان کاموں کا معائنہ کیا اور ادائیگی کی منظوری دی۔ ان کے ذریعہ کام کے کس حصے کامعائنہ کیا گیا؟ (س)کیا اب تک کبھی کسی گارنٹی کے نظم کا استعمال کیا گیا ہے؟
.4حق اطلاع ایکٹ ، 2005کی دفعہ 2(j)کے تحت میں ان سڑکوں کی تعمیر میں استعمال کئے گئے سامان کا محکمے کے ذریعہ تصدیق شدہ نمونہ لنیا چاہتاہوں۔ نمونہ میرے ذریعہ منتخب جگہ سے میر ی موجودگی میں اکٹھا کیا جائے اور سیل بند ہو اور محکمے کے ذریعہ تصدیق کی جائے کہ سیل بند نمونہ کام میں استعمال کی گئی چیزوں کا اصلی نمونہ ہے۔ برائے مہربانی مجھے دن، وقت اور جگہ کی اطلاع دیں جب میں نمونہ لینے کے لیے آسکوں۔
.5اب ان سڑکو ں کی مرمت کب ہوگی؟
میں درخواست کی فیس کی شکل میں10روپے الگ سے جمع کر رہا/رہی ہوں۔ یا
میں بی پی ایل کارڈ ہولڈر ہوں، اس لئے یہ فیس مجھے معاف ہے۔ میرا بی پی ایل کارڈ نمبر……. ہے۔
اگر مانگی گئی اطلاع آپ کے محکمے/آفس سے متعلق نہیںہو ، توحق اطلاع ایکٹ،2005کی دفعہ6(3)کے مطابق میری درخواست پبلک انفارمیشن آفیسر کو پانچ دنوں کے اندرمنتقل کردیں۔ساتھ ہی اس ایکٹ کے تحت اطلاع فراہم کرا تے وقت فرسٹ اپیلٹ آفیسر کا نام اور پتہ ضرور بتائیں۔
مخلص نام:
پتہ: فون نمبر:
(منسلک دستاویز: (اگر کچھ ہو تو

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *