پاکستان کا بجٹ ڈے

اعجاز حفیظ خاں

تمام تر رکاوٹوں،تھکاوٹوں ،سازشوں اور رنجشوں کے باوجود ’’بجٹ صاحب ‘‘کی تقریب رونمائی ہو ہی گئی ۔اُس شام دو ریکارڈ قائم ہوئے ۔ایک تاریخ ساز اور دوسرا تاریک ساز ۔حکومت کے حصے میں پہلا آیا اور دوسرا … اسے حاصل کرنے کے لئے اپوزیشن نےMuscles Powerکو بھی شو کیا۔ پہلے اس پر بات ہوگی ۔اس کے بعد تاریخ ساز ایونٹ کو موضوع بنا ئیں گے ۔ویسے بھی غصے کو پہلے بیان کر دیا جائے تو دل کو بھی کچھ قرار مل جا تا ہے ۔اُس کی دھڑکنوں میں ردھم آ جا تا ہے ۔ یہ بھی عرض کرتے چلیں کہ میں اُس شام کو اپوزیشن کے غصے کی بات کر رہا ہوں ۔مجھے یہ بھی کہنے دیجئے کہ ایک خاص مائنڈ سیٹ کی دن رات ’’کوششوں ‘‘کی بدولت ہماری سیاست کا دل بھی بے ایمان ہو چکا ہے ۔دن یہ کسی کے ساتھ ہوتا ہے ،شام کسی کے اور رات کسی اورکے چراغاں میں لگا ہوا ہوتا ہے ۔ کاروبار کوئی بھی ،ہمارے یہاں تو ایسا ہی ہوتا ہے ۔افسوس اس بات کا ہے کہ دماغ والوں نے دل والوں کو بھی اس راستے پر ڈال دیا ہے ۔خدا خیرکرے ۔منظور ثاقب ؔ نے کیا سچ بیان کیا ہے ۔
ثاقب ؔہو جیسے یہ بھی کوئی بیچنے کی چیز!
بستی میں بِک رہا ہے یوں ایماں نجانے کیوں؟

جہاں تک اس کے اعدا د شمار کا تعلق ہے ۔ ہمیشہ یہی دیکھنے میں آیا ہے کہ ایک سے بڑھ کر ایک سرخ فیتہ بھی اس سے بندھا ہوا ہو تا ہے ۔تنخوا ہوں اور پنشن میں اضافہ صرف20 فیصد کیا گیا ۔پیپلز پارٹی کی سیاسی قیادت اسے کم سے کم 50 فیصد کرنا چاہتی تھی ۔ ہماری رائے میںمہنگائی کے تناسب سے اسے 100 فیصد ہونا چاہیے تھا لیکن سرخ فیتے نے اسے ’’چھانٹ ‘‘کر رکھ دیا۔ایک لاکھ نوجوانوں کو روزگار دینے کے بھی اعلان کیا گیا ہے ۔خدا کرے اس پر عمل بھی ہو۔

ایسی حالت میں تو قومی اسمبلی میں’’ تاریک سازی ‘‘ کے نئے ریکارڈ قائم ہونا ہی تھا۔ مسلم لیگ ن کے ارکان ہی اس میں سب سے آگے تھے ۔باقی اپوزیشن اس کو انجوائے کر رہی تھی ۔اس صورتحال پر حیرانگی کی کوئی بات نہیں۔62فیصد پاکستان کے حکمران جماعت کے سربراہ میاں نواز شریف کئی بار جلسہ عام میں کہہ چکے ہیں کہ ’’لاتوں کے بھوت باتوں سے ماننے والے نہیں ‘‘۔اُس شام اُن کی پارٹی کے’’ سر فروش پارلیمنٹیرینز‘‘نے اس کا ثبوت بھی دیا ۔حسب ِمعمول اپوزیشن لیڈر چوہدری نثار علی خان صاحب اس کا جائزہ لیتے رہے ۔امید رکھنی چاہیے کہ آئندہ الیکشن میں بھی اِن ارکان کو پارٹی کی جانب سے انعام و اکرام کے طور پر پھر سے ٹکٹوں سے نوازہ جائے گا۔ عرض ہے کہ ایک ٹکٹ میں دو مزے …پاکستانی سیاست میں تھیٹر بازی کے اس نئے رجحان نے حیرت انگیز طور پر کمال ترقی کی ہے ۔پھر عمران خان صاحب کیوں نہ اس بہتی گنگا سے فائدہ اٹھاتے ۔اُن کے نظریات حد درجہ رجعت پسندانہ اور اُن کے لئے جینز شرٹس کے جذبات بھی حد درجہ ہمدرددانہ۔معاف کیجئے گا ! یہ بات بھی ایک ٹکٹ میں دو مزے پر ہی ختم ہو تی ہے۔لیکن ایک بات عرض کرتا چلیں کہ اس قسم کے رومانس کے دن بہت ہی مختصر ہوتے ہیں ۔موجودہ بین الاقوامی حالات میں پاکستان میں یہ رومانس مشکل سے رات ہی گزار سکے ۔ہمارے پیارے عوام معصوم اور مظلوم ہیں ۔انہیں توبیوقوف بنایا جا سکتا ہے لیکن دنیا کو نہیں۔انتہا پسندی نے صرف ہمارے یہاں ہی تباہی نہیں مچائی بلکہ پوری دنیا اس کے ہاتھوں زخم رسیدہ ہے ۔اور اِن ہاتھوں میں کس کس ہاتھ ہے؟مصطفیٰ زیدی نے کہا تھا ۔
میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں
تمام شہر نے پہنے ہوئے دستانے
غیروں سے کیا گلہ کرنا ،جب اپنے ہی تباہ کرنے پر تُلے ہو ئے ہیں ۔مقصد یہی ہے کہ کسی طرح سے حکومت مل جا ئے ۔چاہے اس کے لئے کسی کا حکم نامہ ہی کیوں نہ شامل ہو ۔اپنے ان پیاروں سے عرض کریں گے کہ اب پاکستان میں وہ موسم جا چکا ہے ۔جانے والے تو مشکل سے ہی لوٹ کر آتے ہیں ۔معزز قارئین ! کچھ دیر کے لئے مان لیتے ہیں کہ اگر عوام کو گمراہ کر کے یا کسی ادارے کے سہار ے،’’ اسلام آباد ‘‘فتح یاب ہو ہی جاتا ہے تو چار دن کی زندگی میںحکومت کی مدت کتنی بنے گی؟صرف اتنی مدت کے جیت کے لئے دونوں جہان کو ہا رجانا…فیض احمد فیض ؔ نے کہا تھا
دونوں جہان تیری محبت میں ہار کے
وہ جا رہا ہے کوئی شب ِ غم گزار کے
کم سے کم لوڈ شیڈنگ کے ستائے ہو ئے عوام کی راتوں کو تو آگ نہ لگا ئیں ۔ایک اس بات کی سمجھ نہیں آتی کہ مسلم لیگ ن ہی اپنے آپ کو صرف اپوزیشن کیوں سمجھتی ہے؟باقی پارٹیاں بھی اپوزیشن میں ہیں۔انہوں نے تو اُس شام کی ’’تاریک سازی ‘‘ میں اپنا حصہ نہیں ڈالا ۔پیپلز پارٹی نے لاتوں کی بجائوں باتوں سے کام چلایا ۔میری نظر میں اُن کی دفاعی پالیسی بجٹ ڈے میں اُن کا پلس پوائنٹ ثابت ہوئی ۔اسی پالیسی کی وجہ سے ہی وزیر اعظم جناب یوسف رضا گیلانی اپنا پانچواں بجٹ پیش کرنے میں کامیاب رہے ۔ پاکستان کے ماضی کے پیش ِ نظر اسے ریاست کی خوش قسمتی ہی کہیں گے ۔چلیں کسی بہانے سے ہمارے یہاں بھی اچھی خبریں جنم لے رہی ہیں لیکن ہمارے سیاسی گورکنوں یہ سب بھلا کیسے اچھا لگے گا ۔لہٰذا وہ قوم کو زخم لگانے کے لئے آج بھی اپنی ’’کھدائی ‘‘ میں دن رات لگے ہو ئے ہیں ۔ہر بار فوجی ڈکٹیٹر کے جانے کے بعد یہ لوگ توبہ کر کے عوام کی صفوں میں بھی گھسے ہوئے ہوتے ہیں۔ان کے حضور ریاضؔ خیر آبادی کا ایک شعر ہی عرض کئے دیتے ہیں
جام ِ مے توبہ شکن ، توبہ مری جام شکن
سامنے ڈھیر ہیں، ٹوٹے ہوئے پیمانوں کے
یاد آیا کہ ’’میثاق ِ جمہوریت ‘‘کے وقت بھی توبہ کی گئی تھی ۔اُس کا کیا بنا ؟یار لوگ عرف عیار لوگ کچھ بھی کہیں ،جناب یوسف رضا گیلانی پر قسمت پوری طرح سے مہربان ہے ۔یاد آیا شروع کے دنوں انہیں مہمان وزیراعظم کہا گیا تھا اور …اب تو اُن کے میزبانی میں کسی بھی پاکستانی وزیراعظم نے پانچواں بجٹ پیش کر کے ایک نیا ریکارڈ قائم کر دیا ہے ۔ جہاں تک اس کے اعدا د شمار کا تعلق ہے ۔ ہمیشہ یہی دیکھنے میں آیا ہے کہ ایک سے بڑھ کر ایک سرخ فیتہ بھی اس سے بندھا ہوا ہو تا ہے ۔تنخوا ہوں اور پنشن میں اضافہ صرف20 فیصد کیا گیا ۔پیپلز پارٹی کی سیاسی قیادت اسے کم سے کم 50 فیصد کرنا چاہتی تھی ۔ ہماری رائے میںمہنگائی کے تناسب سے اسے 100 فیصد ہونا چاہیے تھا لیکن سرخ فیتے نے اسے ’’چھانٹ ‘‘کر رکھ دیا۔ایک لاکھ نوجوانوں کو روزگار دینے کے بھی اعلان کیا گیا ہے ۔خدا کرے اس پر عمل بھی ہو۔بہت سے سرخ فیتے اسے بھی جکڑنے کی کوشش کریں گے۔تمام تر گلوں شکوں کے ،پُر آشوب معاشی حالات میں موجودہ وفاقی بجٹ کو کسی حد تک عوام دوست کہا جا سکتا ہے لیکن عوام دشمن قوتیں اس کے ساتھ کیا سلو ک کرتی ہیں؟یہ بات کو بھی ضرور عرض کریں گے کہ اُس شام پارلیمنٹ میں ہنگامے سے بیرون ِ ملک پاکستان کی بہت رسوائی ہوئی ہے ۔لیکن ہنگامہ کرنے والوں کو اس سے کیا ۔انہوں نے تو پارٹی قیادت کے حکم کی تعمیل کی ہے ۔آخر میں اکبرؔ الہ آبادی کو بھی یاد کر لیتے ہیں ۔g
ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سی جو پی لی ہے
ڈاکہ تو نہیں مارا چوری تو نہیں کی ہے
— — — — — (کالم نگار پاکستان کے مشہور صحافی ہیں)

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *