مسلم ریزرویشن: جو حکومت دینا نہیں چاہتی

وسیم راشد 

ایک بار پھر سے مسلم ریزرویشن کو لے کر پورے ملک میں تنازع کھڑا ہوگیا ہے۔کانگریس نے یوپی الیکشن کے وقت جو لالی پاپ مسلمانوں کو 4.5 ریزرویشن کی شکل میں دیا تھا، اس کی حقیقت اس وقت اور واضح ہوگئی جب آندھرا پردیش ہائی کورٹ نے اس ریزرویشن کو یہ کہہ کر مسترد کردیا کہ یہ مذہب کی بنیاد پر ہے، جس کا آئینی اعتبار سے کوئی جواز نہیں۔نیشنل کونسل آف اپلائڈ اکنامک ریسرچ (NCAER)کے 2010 کے اعدادو شمار کے مطابق ہر 10 میں سے 3 مسلمان خط افلاس کے نیچے زندگی بسر کررہے ہیں جن کی ماہانہ آمدنی 550 روپے سے بھی کم ہے ۔ایسے میں اگر مسلمانوں کو کچھ رعایت مل جاتی ہے اور وہ تعلیم و نوکریوں میں کچھ آگے آجاتے ہیں تو اس سے نہ صرف ان کی حالت سدھرے گی بلکہ ملک کی اقتصادی صورت حال میں بھی بہتری آئے گی،حالانکہ ہندوستان کے آئین میں یہ بات بار بار کہی جاتی رہی ہے کہ مذہب کی بنیاد پر کسی کو ریزرویشن نہیں دیا جا سکتا مگر یہ بات زیادہ تر اسی وقت سننے میں آتی ہے جب مسلم ریزرویشن کی بات کہی جاتی ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ کانگریس مسلمانوں کو بیوقوف سمجھتی ہے اور اسے اس بات کا احساس ہوگیا ہے کہ اس قوم میں چونکہ لیڈر شپ کا فقدان ہے اور یہ قوم تعلیمی و اقتصادی لحاظ سے پسماندہ ہے اس لئے اس کے ساتھ کھلواڑ کی جا سکتی ہے۔الیکشن کے موقع پر سلمان خورشید نے مسلم ووٹ بینک کے لئے 9.5 فیصد ریزرویشن دینے کی بات کہہ ڈالی مگر حقیقت یہ ہے کہ کانگریس مسلمانوں کو ریزرویشن دینا ہی نہیں چاہتی ۔اگر وہ مسلمانوں کی پسماندگی پر سنجیدہ ہوتی تو رنگناتھ مشرا کمیشن اور سچر کمیٹی سفارشات پر ضرور عمل کرتی۔

ایسا پہلی بار نہیں ہوا کہ ریزرویشن کو مسترد کیا گیا ہے ۔آندھرا پردیش ہائی کورٹ نے چوتھی بار اس ذیلی کوٹہ کو مسترد کیا ہے۔آندھرا پردیش حکومت 2004 سے مسلمانوں کے لئے ریزرو کوٹہ کی حمایت کررہی ہے اور اسے نافذ کرنے کی کوشش میں ہے ۔پہلی مرتبہ جولائی 2004 میں ریاستی حکومت کی طرف سے مسلمانوں کے لئے سرکاری ملازمتوں اور تعلیمی اداروں میں 5 فیصد ریزرویشن دینے کا اعلان کیا گیا تھا ۔اسے ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا اور ستمبر 2004 میں اسے مسترد کردیا گیا۔جون 2005 میں مسلمانوں کو سرکاری ملازمتوں اور تعلیمی اداروں میں 5 فیصد ریزرویشن دینے کا آرڈیننس جاری کیا گیا۔ اس کے بعد اسمبلی میں یہ بل منظور ہوا،جس نے آرڈیننس کی جگہ لی۔اسے بھی آندھرا پردیش ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا اور اسے بھی 2005 میں رد کردیا گیا مگر اس کے بعد وائی ایس آر حکومت نے اس سلسلہ میں پھر کوشش کی اور 2007 میں مسلمانوں کو 5 فیصد ریزرویشن دینے کا قانون بنایا لیکن اسے بھی مسترد کردیا گیا۔اب آندھرا پردیش کی حکومت نے ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کی ہوئی ہے۔آندھرا پردیش کے اس فیصلے پرمسلم سیاست داں و دانشورانِ ملت حیران ہیں اور اپنے اپنے طورپر ہائی کورٹ کے اس فیصلے پر خیالات کا اظہار کررہے ہیں۔ چنانچہ حیدرآباد کی ایک اہم مسلم سیاسی پارٹی ’’ مجلس اتحاد المسلمین ‘‘ کے صدر اور لوک سبھا کے ممبر اسد الدین اویسی نے حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے صحافیوں سے کہا کہ ’’ کورٹ کو شاید غلط فہمی ہوئی ہے ،یہ ریزرویشن کوئی نیا نہیں ہے۔کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ’ریزرویشن کو نیشنل کمیشن آف بیک ورڈ کلاسس کو نہیں سونپا گیا ،جو سکشن 9 کے تحت بہت ضروری تھا‘ لیکن سیکشن 9 پسماندہ ذاتوں کو شامل کرنے اور نکالنے کے بارے میں بتاتا ہے اور اس مقدمے میں کہیں نکالنا اور شامل کرنا نہیں ہے کیونکہ جو اقلیتیں 4.5 کی مجاز ہیں وہ پہلے ہی سے 27 فیصد سے فائدہ اٹھارہی ہیں۔‘‘
ان تمام کوششوں سے ایک بات ضرور سامنے آتی ہے کہ اس معاملے میں کم سے کم آندھرا پردیش کی حکومت کی نیت صاف ہے اور اس نے کوشش برابر کی ہے مگر جب بات مرکزی سرکار کی آتی ہے تو جہاں چدمبرم ، کپل سبل، سلمان خورشید اور منو سنگھوی جیسے بڑے بڑے قد آور لیڈر ہوں اور ان سب کے رہنے کے باوجود آخر کانگریس نے اس سلسلہ میں کوئی ٹھوس قدم کیوں نہیں اٹھایا ۔جس وقت 5 ریاستوں کے الیکشن ہونے والے تھے اور کانگریس کا ٹارگٹ یوپی تھا ۔اس وقت 27 فیصد او بی سی کوٹے میں سے 4.5 فیصد ریزرویشن مسلمانوں کو دیا گیا تو بڑا شور ہوا تھا مگر ’جوچیرا تو ایک قطرۂ خوں نہ نکلا ‘کے مصداق جب اس ذیلی کوٹہ کی حقیقت سامنے آئی تو مسلمان دنگ رہ گئے کیونکہ جس کوٹہ کو بار بار مسلم کوٹہ کہا جارہا تھا وہ درحقیقت مسلم کوٹہ نہ ہوکر سبھی پسماندہ ذاتوں جس میں بودھ، پارسی، جین،سبھی شامل ہیں ،ان سب کے لئے تھا مگر اس کو نام دیا گیا ’’ مسلم ریزرویشن‘‘ کا۔حالانکہ اس وقت ’چوتھی دنیا‘ نے خلاصہ کیا تھا اور قارئین تک اس حقیقت کو پہنچایا تھا کہ اس کوٹہ ریزرویشن سے مسلمانوں کو زیادہ خوش ہونے کی ضرورت نہیں ہے،کیونکہ یہ ریزرویشن صرف مسلمانوں کے لئے نہیں ہے،مگر پھر بھی مسلمانوں کو جو بھی مل رہا تھا اسے غنیمت جان کر قبول کر لیا گیا،لیکن آندھرا پردیش ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعدیہ بات سامنے آئی کہ’ چوتھی دنیا ‘نے جو کہا تھا وہ سچ تھا اور کانگریس ریزرویشن کے نام پر مسلمانوں کو بہلانے کی سیاست کھیل رہی تھی۔ایسا لگتا ہے کہ کانگریس مسلمانوں کو بیوقوف سمجھتی ہے اور اسے اس بات کا احساس ہوگیا ہے کہ اس قوم میں چونکہ لیڈر شپ کا فقدان ہے اور یہ قوم تعلیمی و اقتصادی لحاظ سے پسماندہ ہے اس لئے اس کے ساتھ کھلواڑ کی جا سکتی ہے۔الیکشن کے موقع پر سلمان خورشید نے مسلم ووٹ بینک کے لئے 9.5 فیصد ریزرویشن دینے کی بات کہہ ڈالی مگر حقیقت یہ ہے کہ کانگریس مسلمانوں کو ریزرویشن دینا ہی نہیں چاہتی ۔اگر وہ مسلمانوں کی پسماندگی پر سنجیدہ ہوتی تو رنگناتھ مشرا کمیشن اور سچر کمیٹی سفارشات پر ضرور عمل کرتی۔ مسلمانوں کی کئی ذاتیں تعلیمی اور اقتصادی طور پر بے حد پچھڑی ہوئی ہیں۔ ایسی برادریوں کو مرکزی سرکار کی نوکریوں اور یونیورسٹیوں میں داخلے میں ریزرویشن کے ذریعہ ضرور فائدہ ہوتا ۔اگر ریزرویشن مل جاتا تو اس بات سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ یقینا مسلمانوں کی خستہ حالت بہتر ہوتی مگر حکومت یہ چاہتی ہی نہیں کہ مسلمان پڑھ لکھ کر یا اقتصادی اعتبار سے آسودہ ہوکر سوچنے سمجھنے اور فیصلہ کرنےکے لائق بن سکے۔65 سال سے مسلمانوں کی حالت زار کا رونا سب روتے ہیں مگر کرتا کوئی کچھ نہیں ہے۔
1990 میں وی پی سنگھ کی کوششوں سے منڈل کمیشن سفارشات کے تحت او بی سی کوٹے کا فائدہ مسلمانوں کو مل رہا ہے ،مگر اتنا نہیں مل پا رہا جتنا ذیلی کوٹہ سے مل سکتا ہے۔ حکومت یہ جانتی سمجھتی ہے کہ مسلمانوں کو اس وقت معاشی، اقتصادی اور تعلیمی طور پر مضبوط کرکے ملک کی ترقی میں شامل کرنے والا بنانا ہے تو کچھ نہ کچھ کرنا ہی ہوگا مگر ابھی تک حکومت نے کوئی خاطر خواہ قدم نہیں اٹھایا ،ایسے میں حکومت کی چالبازی کو سمجھنے کی ضرورت ہے ۔الیکشن مینی فیسٹو میں جس 4.5 فیصد کو نمایاں کرکے پیش کیا گیا ،الیکشن کے بعد وہ کیسے عمل میں نہیں آسکا؟۔دراصل کانگریس پارٹی اس معاملے کو زندہ رکھنا چاہتی ہے ۔وہ سپریم کورٹ بھی جائے گی ۔مسلمانوں کو دلاسہ بھی دے گی مگر کرے گی کچھ نہیں ۔ کیونکہ اسے 2014 کا انتظار ہے ۔ اگر ابھی اس نے مسلمانوں کے درد کا مداوا کر دیا تو پھر 2014 کے الیکشن میں وہ کون سا جھنجھنا مسلمانوں کو پکڑائے گی۔
دراصل مسلم لیڈرس کو،مسلم تنظیموں کو اس چال کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔جس طرح مسلم لڑکوں کو اٹھائے جانے کے معاملات سامنے آرہے ہیں ،وہ سب ایک سوچی سمجھی اسکیم کے تحت کیا جارہا ہے۔ اس سلسلے میںمسلم تنظیمیں مل کر ان کا دفاع کر رہی ہیں حالانکہ ابھی بھی سب ایک پلیٹ فارم پر نہیں آئی ہیں مگر پھر بھی، جو بھی ہے ،جتنا بھی ہے کم سے کم اے ٹی ایس یا پولیس محکمہ کو اس بات کا اندازہ تو ہوگیا ہے کہ اس طرح مسلم بچوں کو اٹھانا کوئی حلوہ نہیں ہے ۔ اسی طرح ریزرویشن کے معاملے میں بھی سبھی مسلمتنظیموں کو چاہئے کہ ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوجائیں اور اپنا احتجاج درج کرائیں اور حکومت کو یہ بتا دیں کہ مسلمان اب بابری مسجد ،گجرات کے نام پر آنسو بہانے میں نہیں رہے گا بلکہ اسے اپنی نئی نسل کی فکر ہے اور ان کی تعلیم و تربیت اور ان کے مستقبل کے لئے انہیں کچھ کرنا ہے۔
اس ضمن میں ایک نقطے کی وضاحت کردینا ضروری ہے کہ اقلیتوں کے لئے کیے جانے والے ریزرویشن کے لاگو ہونے میں کیا قباحت ہے؟۔اصل بات یہ ہے کہ جو مراعات بعض دوسرے طبقات یا افراد کو دی جاتی ہیں وہی مراعات اگر مسلمان طلب کرتے ہیں تو بیمار ذہنیت والے لوگ آئین کا سہارا لے کر ان مراعات کو چھیننے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ آئین ہی یہ کہتا ہے کہ مذہب کی بنیاد پر کسی کے ساتھ برا سلوک نہ کیا جائے۔1950 میں پریزیڈنشل آرڈر کے تحت آرٹیکل 341 میں جو دھوکہ مسلمانوں کے ساتھ ہوا تھا ،جس میں شیڈول کاسٹ، شیڈول ٹرائبس کا ریزرویشن تب تک ہی ملنا تھا جب تک وہ ہندو رہیں گے ،بعد میں اس کے اندر سکھوں اور بودھ مذہب کو بھی جوڑ دیا گیا،لیکن مسلمانوں اور عیسائیوں کو اس سے الگ رکھا گیا۔یہ سب اندر ہی اندر ہوگیا اور اسے ہی قانونی ترمیمی ایکٹ مان لیا گیا جبکہ آئین میں ترمیم کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ پارلیمنٹ میں بل پیش کیا جاتا ہے ، اس پر بحث ہوتی ہے،پھر اسے منظوری دی جاتی اور اس کے بعد اس بل کو صدر جمہوریہ کے پاس دستخط کے لئے بھیجا جاتا ہے ۔اس طرح دیکھا جائے تو مسلمانوں کے ساتھ فریب کا سلسلہ یہیں سے شروع ہو چکا تھا۔اس فریب میں صرف حکومت ہی ذمہ دار نہیں تھی بلکہ مسلم قیادت میں کمزوری بھی اس کی ذمہ دار تھی۔مسلمانوں میں

کوئی ایسا طاقتور لیڈر نہیں پیدا ہوسکا جو اپنی بات منوالیتا اور اس پریزیڈنشل آرڈر کی مخالفت کرسکتا،کوئی ایسا لیڈر ہوتا جو سامنے آکر یہ کہہ سکتا کہ ہم مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن مانگ ہی کب رہے ہیں؟ہم تو معاشی اور تعلیمی طور پر پسماندہ قوم ہونے کے ناطے ریزرویشن مانگ رہے ہیں۔ایسا تو نہیں ہے کہ آئین میں ترمیم نہیں کی جاسکتی ۔ہمارا آئین بہت ہی لچیلا ہے۔ اس میں وقت بہ وقت ضرورت کے مطابق ہمیشہ ہی ترمیم ہوتی رہی ہے اور اب تک آئین میں 100 سے زیادہ ترمیمات ہوچکی ہیں۔اب اگر وقت کی ضرورت ہے تو پھر کیا حرج ہے کہ اس پر خور وخوض کیا جائے۔بلکہ مسلمانوں کو چاہئے کہ اپنے مطالبات کے لئے سیدھے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹائیں اور عدالت سے براہ راست سوال کریں کہ ہندو، بودھ مذہب کے نام پر ریزرویشن پانے کے حقدار ہیں تو پھر مسلمانوں کو اس سے کیوں الگ رکھا گیا ہے ۔ان کو بھی آرٹیکل 341 کے تحت جوڑا جائے اور لفظ مسلمان بھی شامل کیا جائے۔
اگر مسلمانوں کو 4.5 فیصد ریزرویشن مل جاتاہے تو یقین جانئے ہر ایڈمیشن ،ہر نوکری میںان کی مناسب نمائندگی ہوجائے گی۔اس وقت جس شعبے میں بھی جائیے ،مسلمانوں کی نمائندگی بہت کم ہے۔ آئی اے ایس میں 2010 میں جو 920 طالب علم منتخب ہوئے تھے ان میں سے مسلمان صرف 31 تھے یعنی صرف 3 فیصد۔اسی طرح 2010 میں 479 ججوں میں سے صرف 30 مسلمان جج یعنی 6.26فیصد تھے۔یہ تو صرف دو کی مثال دی گئی ہے مگر دیگر شعبوں میں مسلمانوں کی نمائندگی دو یا تین فیصد سے زیادہ نہیں ہے۔ہمدرد یونیورسٹی کے ریٹائرڈ چانسلر سید حامد جو کہ طویل عرصہ تک آئی اے ایس کوچنگ کراتے رہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ بڑی محنت اور لگن سے یہ کوچنگ کراتے تھے مگر جس دن انہیں اندرونی طور پر یہ پتہ چلا کہ حکومت کی پالیسی یہ ہے کہ 5 فیصد سے زیادہ مسلمان آئی اے ایس میں نہ آپائیں اور حقیقتاً ہوا بھی یہی کہ ان کا نمبر بڑھا ہی نہیں ،بس تبھی سے ان کا دل ٹوٹ گیا ۔دہلی پولیس محکمہ کو ہی لے لیجئے۔ اس میں مسلمانوں کی نمائندگی نہ کے برابر ہے اور اب مائنارٹی کمیشن کے چیئرمین وجاہت حبیب اللہ صاحب نے اس سلسلے میں کچھ پیش رفت کی ہے ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ دہلی پولیس کا رویہ بھی اس ضمن میں بے حدتعصبانہ ہے۔ ایس پی سے جب مائنارٹی کمیشن نے جواب طلب کیا کہ مسلمان شامل کیوں نہیں ہیں تو ایس پی نے جواب دیا کہ ہمیں کوئی ایسا مسلمان ہی نہیں ملتا جسے ہم پولیس میں شامل کرسکیں۔بنگال اور آسام میں تو مسلمانوں کی آبادی 30فیصد ہے لیکن وہاں پر بھی پولیس محکمہ میں یہ تعصب موجود ہے ۔خود پارلیمنٹ میں مسلمانوں کی نمائندگی بہت کم ہے ۔مجبور ہوکر اب مسلمان یہ سوچنے لگا ہے کہ اس کے لئے حکومت اور سیاسی پارٹیاں ہی ذمہ دار ہیں جو ان کا استحصال کر رہی ہیں ۔حکومت اگر مسلمانوں کو مطمئن دیکھنا چاہتی ہے اور ان کی اقتصادی اور تعلیمی ترقی چاہتی ہے تو صرف اور صرف سچر کمیٹی اور رنگناتھ مشرا کمیشن سفارشات کو دھول چاٹ رہی الماریوں سے نکال کر سامنے لائے اور انہیں نافذ کرے،آئین میں ترمیم کرے اور مسلمانوں کو چاہئے کہ اپنے لیڈران کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کریں اور ان سے کہیں کہ ہمارے حقوق کی مانگ کرو۔65 سال سے جو قوم معاشی نا برابری جھیل رہی ہے اسے اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کے لئے اس وقت ریزرویشن دیاجائے تاکہ اس قوم کی جہالت اور معاشی تنگی کا سدبب ہوسکے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *