مسلم لڑکوں کی گرفتاری کا سلسلہ آخر کب تک؟

وسیم راشد
یہ ہمارا ملک ہندوستان ہے ۔جی ہاں! ہمارا اپنا ملک ،ہمارے آباء و اجداد کا ملک جس کی آزادی کے لئے ہمارے بزرگوں نے اپنی جانیں قربان کردیں۔ہمارا ملک ہندوستان کہ جب بٹوارہ ہوا تو کہا گیا کہ اب تمہارا ملک ’پاکستان‘بن گیا ہے ۔وہاں جائو۔لیکن ہمارے آباء و اجدادنے کہا کہ نہیں،یہ ہی ہمارا وطن ہے۔ہم یہیں پیدا ہوئے ہیں اور یہیں کی مٹی میں ملنا چاہتے ہیں۔ہمارے پُرکھوں کی کی قبریں یہیں پر ہیں۔ہم ان کو چھوڑ کر کہاں جائیں۔میں اور آپ اور ہندوستان کا ہر مسلمان اسی جذبے سے اس ملک میں رہ گیا کہ یہاں سے ہم کو کہیں نہیں جانا ۔ہم غیروں کے ملک میں کیوں جائیں اور اس طرح ہم نے 65 سال گزار دیے۔مگر افسوس کہ آج تک ہماری وفاداری کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا رہا ہے ۔اس طویل عرصہ میں بار بار ہمیں اپنی وفاداری کا ثبوت دینا پڑا ۔بار بار ہمارے بزرگوں کو یہ جتانا اور بتانا پڑا کہ ہم اس ملک کے وفادار ہیں۔ہم اپنی وفاداری دکھانے میں لگے رہے اور ہماری نسلوں پر مظالم کے پہاڑ ڈھائے جاتے رہے۔یہ مظالم دہشت گردی کے نام پر روا رکھے گئے۔

 

ہمارے نوجوانوں کو چلتے چلتے اٹھایا جانے لگا اور بغیر کسی اطلاع دیے انہیں دہشت گرد قرار دے کر جیلوں میں ٹھونسا جانے لگا اور اب ہماری حالت یہ کردی گئی ہے کہ گھروں میں لڑکوں کو جوان ہوتے دیکھ کر مسلمان مائیں خوف سے کانپنے لگتی ہیں کہ کہیں ان کے بچے کو پولیس بنا کسی وجہ کے اٹھا نہ لے، باپ فکر مند رہنے لگے جب تک جوان بیٹا سلامت گھر نہ لوٹ آئے۔اس وقت ہم مسلمان خوف و دہشت میں جی رہے ہیں۔ہمارے بچوں کو بنا کسی اطلاع کے اسکولوں ، مدرسوں اور ٹرینوں سے اٹھا لیا جاتاہے اور ہم کو اطلاع تک نہیں دی جاتی ۔

حالانکہ دہشت گردی صرف ہندوستان کا مسئلہ نہیں تھا اور نہ ہے بلکہ دہشت گردی کی اذیت سے آج پوری دنیا پریشان ہے اور ہر طبقے میں دہشت گردانہ مزاج رکھنے والے لوگ موجود ہیں مگر شک کے دائرے میں رکھ کر معتوب کیے گئے صرف ہمارے مسلم نوجوان۔معاملہ صرف دہشت گردی کی حدوں میں سمٹا ہوا نہیں ہے بلکہ جب بھی موقع ملا ،جہاں بھی ملا اور جس طرح بھی ملا متعصب ذہن رکھنے والوں نے مسلمانوں کو اذیت پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔میرٹھ ،ملیانہ ،ہاشم پورہ ، گجرات ، فاربس گنج جیسی لمبی فہرست ہے جن میں قومی فسادات کو ہوا دی گئی اور پھر بے رحمی کے ساتھ مسلمانوں کا قتل عام ہوا،عورتوں کی عصمت دری ہوئی اور معصوم شیر خوار بچوں کو ماں کی گود سے چھین کر جلادیا گیا۔سب کچھ ہوا مگر ہم نے خاموشی برتیکہ شاید ظلم کرنے والوں میں انسانیت جاگ جائے،مسلم قائدین ہمارے نام پر ہمارا سودا کرتے رہے ،کوئی پرسان حال نہیں اور نوبت یہاں تک آگئی کہ ہمارے نوجوانوں کو چلتے چلتے اٹھایا جانے لگا اور بغیر کسی اطلاع دیے انہیں دہشت گرد قرار دے کر جیلوں میں ٹھونسا جانے لگا اور اب ہماری حالت یہ کردی گئی ہے کہ گھروں میں لڑکوں کو جوان ہوتے دیکھ کر مسلمان مائیں خوف سے کانپنے لگتی ہیں کہ کہیں ان کے بچے کو پولیس بنا کسی وجہ کے اٹھا نہ لے، باپ فکر مند رہنے لگے جب تک جوان بیٹا سلامت گھر نہ لوٹ آئے۔اس وقت ہم مسلمان خوف و دہشت میں جی رہے ہیں۔ہمارے بچوں کو بنا کسی اطلاع کے اسکولوں ، مدرسوں اور ٹرینوں سے اٹھا لیا جاتاہے اور ہم کو اطلاع تک نہیں دی جاتی ۔ تازہ ترین واقعہ سے اگر شروع کریں تو جامعۃ الفلاح کے دو طالب علم جن کی عمریں صرف 15,14 سال ہیں ،ان کو جس طرح ٹرین سے اتارا گیا اور پھر کئی دنوں تک ان کا کوئی سراغ نہیں ملا اور جب دونوں ملے تو پتہ چلا کہ نامعلوم افراد نے حراست میں لیاتھا اور پھر دونوں کو کشمیر پولیس کی تحویل میں دیا گیا۔تحویل میں دینے والی ایجنسی کا کچھ پتہ نہیں چل پایا کہ وہ کون تھی۔حیرت کی بات ہے کہ اس دور میں جبکہ سائنس و ٹکنالوجی چاند کی سطح پر کتنے گڑھے ہیں ،اس کا پتہ لگا لیتی ہے ،وہاں یہ پتہ نہیں لگایاجا سکا کہ چلتے پھرتے دو نوجوانوں کو دن دہاڑے اغوا کر لیا جاتاہے اور 6 دن تک ان کا پتہ نہیں چل پایا ۔
دراصل اعظم گڑھ کو اس وقت پورے ملک میں نشانہ بنایا جارہا ہے اور یہاں کے مدرسوں کو دہشت گردی کا اڈا سمجھا جارہا ہے ۔ یہ دونوں بچے بھی ضلع اعظم گڑھ میں تعلیم حاصل کررہے تھے،غالباً ا ن کا یہی قصور تھا جس کی وجہ سے انہیںبلا جواز گرفتار کیا گیا ۔اگر مدرسہ کے مہتمم کوشش نہ کرتے اور ریاستی حکومت سے لے کر مرکزی حکومت تک اپنی آواز بلند نہیں کرتے تو شاید ان دونوں لڑکوں کی لاشیں ہی ملتیں ۔ یہ دونوں لڑکے صرف اور صرف اس لئے واپس ملے کہ پہلی بار لکھنؤ،اعظم گڑھ اور دہلی میں مسلم تنظیموں نے متحد ہوکر احتجاج درج کرایا اور مدرسہ انتظامیہ نے بھی ریاستی حکومت کو پانچ روز کی مہلت دی کہ اگر یہ لڑکے نہ ملے تو ریاستی سطح پر مظاہرہ کیا جائے گا۔اس دھمکی کے بعد ا ن لڑکوں کے ساتھ کھیل کھیلا گیا اور ان میں سے ایک ’وسیم بٹ‘ کو حزب المجاہدین کا جنگجو بتا یا ۔ دونوں لڑکے جو بالکل کم عمر ہیں ،مدرسے میں پڑھتے ہیں ،کہیں آتے جاتے نہیں ،باہر کے لوگ ان سے ملنے نہیں آتے ۔ایسے میں یہ معصوم کیسے دہشت گرد بن گئے۔جنوری میں سوپور تھانہ پر حملہ کرنے کا جو الزام ان پر لگایا گیا ہے ،اس وقت دونوں بھائی چھٹی میں اپنے گھر پر موجود تھے۔یہ ایک ایسی گتھی ہے جو سلجھنے میں ہی نہیں آتی کہ کب کسی مدرسے کے بچے کو دہشت گرد قرار دے دیا جائے۔نہ ان کے حرکات و سکنات سے پتہ چلتا ہے ،نہ ہی ان کی سرگرمیوں سے ،مگر اچانک وہ دہشت گرد بن کر سامنے لے آئے جاتیہیں ۔کوئی آواز نہیں اٹھاتا ،کوئی نہیں بولتا یہ سوچ کر کہ جانے سچائی کیا ہے؟اگر یہ نوجوان دہشت گرد ہیں تو کم سے کم اتنا تو قانون کا لحاظ رکھا ہی جائے کہ ان کو گرفتار کرنے سے پہلے گرفتاری کا جواز بتا یا جائے اور اس کی اطلاع گھر والوں کو دی جائے۔ اس طرح بہار کے انجینئر فصیح الدین محمود کو سعودی عرب سے اٹھالیا جاتا ہے۔فصیح محمود کا تعلق دربھنگہ ضلع میں بھار سمیلہ نامی گائوں سے ہے اور اسی کے گائوں سے تین اور لڑکے گرفتا ر کیے گئے ہیں اور ان سب پر ایک ہی طرح کا الزام ہے کہ تینوں انڈیں مجاہدین سے وابستہ ہیں۔ یہ گرفتاریاں بہار پولیس کو بتائے بغیر دوسری ریاستو کی پولیس نے کی ہیں ۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر یہ نوجوان واقعی کسی دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہیں تو انہیں اس طرح سے خفیہ طریقے پر کیوں اٹھایا جاتا ہے۔اگر واقعی پولیس کے دعوے میں سچائی ہے تو انہیں ڈنکے کی چوٹ پر گرفتار کرنا چاہئے۔ ایسے چپ چپاتے گرفتار کرنا اس بات کی علامت ہے کہ ان معصوموں کو انتہائی خفیہ طریقے پر اس لئے پکڑا جاتا ہے کہ جب تک ان کی گرفتاریاں منظر عام پر آٗئیں ،تب تک ان کو ٹارچر کرکے ان کے ذہن کو اپنے قبضے میں کرکے ان کو اگلوانے کے لئے تیار کر لیا جائے۔ورنہ اے ٹی ایس کسی بھی لڑکے کو دہشت گرد سمجھ کر گرفتار کرتی ہے تو پہلے مقامی پولیس کو اطلاع کیوںنہیں دیتی۔
اگر یہی حال رہا تو پھر کچھ مافیا گروپ اور اغوا کرنے والوں کی تو چاندی ہوجائے گی۔کسی کو بھی اغوا کرتے وقت یہ کہہ دیا جائے گا کہ دہشت گرد سمجھ کر اٹھایا ہے ۔اٹھانے والا چاہے کسی مافیا گروپ کا ہی کیوں نہ ہو۔اس سے جرائم میں اور بھی اضافہ ہوگا اور ساتھ ہی مسلم نوجوانوںکی زندگیاں مزید خطرے میں پڑ جائیںگی۔ ظاہر ہے ملک میں امن کے لئے یہ ایک خطرناک پہلو ہے ۔یہی وجہ ہے کہ بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے اے ٹی ایس کے اس طرز گرفتاری کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کہا کہ یہ ایک غیر قانونی عمل ہے۔بہار سے ان بچوں کو کرناٹک اے ٹی ایس نے گرفتار کیا تھا اور حیرت کی بات تو یہ ہے کہ کرناٹک کے وزیر اعلیٰ اس طرح سے گرفتار کرنے کو جائز ٹھہرانے کی کوشش کرتے ہوئے جو دلیل دے رہے ہیں وہ انتہائی بچکانہ ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ ایسا کرنے کی وجہ یہ ہے کہ خفیہ کارروائی کہیں فاش نہ ہوجائے اسی لئے احتیاط برتی گئی۔ان کے اس بیان پر بہار کے پولیس ڈائریکٹر جنرل نے بے اطمینانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریاستوں میں اعتما د ہونا چاہئے ورنہ یہ عدم اعتمادی خطرناک ثابت ہوگی۔ اس واقعہ کے بعد لوگ بری طرح سہمے ہوئے ہیں۔ دربھنگہ اور مدھوبنی ضلع کے لوگوں کا کہنا ہے کہ جس گائوں کا کوئی ایک مسلمان اس طرح کے الزام میں پکڑا جاتا ہے تو اس پورے گائوں کے مسلمانوں کو دہشت گرد وں کا مددگار مان لیا جاتا ہے،یہی نہیں پورے خاندان کے لوگ اس سے کنارہ کر لیتے ہیں ۔گائوں کے لوگ اس سے کتراتے ہیں۔شہروں میں بھی ایسے نوجوانوں کی زندگی آسان نہیں ہوتی ۔ابھی کچھ ہی دن پہلے دہلی کے ایک نوجوان محمد عامر کو 14 سال تک بغیر کسی گناہ کے جیل میں رکھا گیا۔جب وہ جیل سے باہر آیا تو اس کی ماں اندھی ہوچکی تھی اور باپ کا انتقال ہوچکا تھا۔ یہ لڑکا آج بھی بے یارو مددگار زندگی گزار رہا ہے۔یہی حال ہوتا ہے ان تمام مسلم لڑکوں کا جن کو بلا کسی وجہ کے دہشت گردی کے الزام میں پھنسا کر سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا جاتا ہے ۔خدا را! اس کھیل کو بند کرو۔اگر مسلم لڑکے گناہگار ہیں تو قانونی طریقے سے گرفتار کرو ،ہم سب ان کی سزا میں شامل رہیں گے مگر جو ظلم ہے اس میں ہم کسی طرح بھی ہتھار نہیں ڈالیں گے اور لڑیں گے اپنے حق کے لئے۔

Share Article

2 thoughts on “مسلم لڑکوں کی گرفتاری کا سلسلہ آخر کب تک؟

  • June 16, 2012 at 1:03 pm
    Permalink

    آداب
    تحریر اچھی لگی۔ اخبارات تو رپورٹ کی چاشنی سے پڑھ لیا جاتا ہے لیکن ساتھ میں ضروری یہ بھی ہے کہ تحریر کی بناوٹ اور طرز تحریر میں کتنی سجاوٹ ہے۔ افسوس کا پہلو یہ ہے کہ آج بھی اردو تحریر خواہ نستعلیق میں لکھی جائے یا نسخ میں۔ قاعدہ یہی بہتر ہے کہ قومہ اور وقفہ سے پہلے اسپیس نہ دیا جائے۔ جبکہ عموماً اخباروں میں یہ غلطیاں عام ہے۔ آج کل ڈیزائین یا تزئین کے نام پر بھی یہی کچھ خطوط کے ساتھ کیا جارہا ہے۔ خط کو بگاڑ دوں اور ڈیزائن کا نام دے دو۔ ایسا ہی ہو رہا ہے۔ کام کے وقت کی بورڈ سے ایسے آواز آتی ہے جیسے کوئی بڑا ماہر شخص کام کر رہا ہے لیکن نتیجہ اخبارات کو دیکھ کر یہی ہوتا ہے کہ ہمیں صرف اخبار بیچنا ہے اور پیسے کمانا ہے۔
    میری گزارش بس اتنی ہی ہے کہ اگر ہو سکے تو کمپوزنگ کے وقت اس بات کا خیال رکھا جائے کہ وقفہ قومہ وغیرہ سے پہلے اسپیس نہ دیا جائے۔ اور بھی بہت سارے الفاظ ہیں جسے کیسے لکھا جائے یعنی ٹائپ کیا جائے یہ انسٹیٹیوٹ میں سکھایا جاتا ہے۔
    فیروزہاشمی
    چپیانہ خورد عرف تگڑی، گوتم بدھ نگر، اترپردیش
    ٩٨١١٧٤٢٥٣٧

    Reply
  • June 16, 2012 at 9:45 am
    Permalink

    مادام ایڈیٹور.ورے گود.

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *