مرنا جینے سے زیادہ مشکل: لوگ کر رہے ہیں قبروں کا کاروبار

اجے کمار 

ہندوستان پر حکومت کرنے والے راجہ، مہاراجہ اور نوابوں کو لوگ آج سینکڑوں سالوں بعد بھی بھول نہیں پائے ہیں۔ یہ راجہ، مہاراجہ بھلے ہی عالیشان محلوں میں رہتے تھے، لیکن ان کا دل عوام میں بستا تھا۔ ان کی اسی خوبی نے ان کا نام تاریخ کے صفحات میں سنہرے حروف میں درج کرا دیا۔ اودھ کے نواب آصف الدولہ کے بارے میں تو یہاں تک کہا جاتا تھا کہ ’’جس کو نہ دے مولا، اس کو دے آصف الدولہ‘‘۔ اکبر اور آصف الدولہ جیسے تمام بادشاہوں نے عوام کی بھلائی کے لیے وقت بہ وقت اپنی بڑی بڑی زمینیں اور دیگرجائیدادیں وقف کیں، لیکن بعد میں چل کر وقف کی یہی جائیدادیں، مذہب کی آڑ میں کئی ’بڑے‘ لوگوں کے مالا مال ہونے کا ذریعہ بن گئیں۔ کبھی غریبوں کے لیے وقف کی گئی ان زمینوں پر مدرسے، مسجدیں اور قبرستان بنے دکھائی دیتے تھے، لیکن آج کچھ طاقتور لوگوں نے ان جائیدادوں کو اپنی جاگیر بنا لیا ہے۔ وقف کی زمینوں پر بڑے بڑے مکان اور اسپتال بن کر کھڑے ہو گئے ہیں۔

شیعہ فرقے کی قیادت کرنے والے مولانا کلب جواد پر الزام لگایا گیا کہ لکھنؤ کے امام باڑہ، ترکاری منڈی چوکی کی غفران ماب قبرستان میں وہ لاشوں کو دفنانے کی اجازت تبھی دیتے ہیں، جب مرنے والے کے رشتہ دار کم از کم پچاس ہزار روپے ان کے ہاتھ پر نہ رکھ دیں۔ یہ معاملہ اس وقت منظر عام پر آیا، جب کچھ لوگوں نے شیعہ وقف بورڈ میں باقاعدہ تحریری شکایت درج کراتے ہوئے یہ بتایا کہ اپنے رشتہ دار کی میت لے کر جب وہ قبرستان پہنچے تو وہاں مولانا کی طرف سے مقررکردہ منیجر نے ان سے پچاس ہزار روپے مانگے اور کہا کہ مولانا کا حکم ہے کہ جب تک پیسہ ادا نہ کیا جائے، تب تک لاش کو دفن کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔

وقف کی جائیدادوں پر قبضے کا تنازع گزشتہ دنوں اتنا بڑھا کہ لکھنؤ کے مشہور امام باڑے کے باہر شیعہ وقف بورڈ کے صدر اور بی ایس پی کا دامن چھوڑ کر سماجوادی کا چولا پہننے والے وسیم رضوی اور شیعہ مذہبی رہنما مولانا کلب جواد کے حامیوں کے درمیان مار پیٹ تک کی نوبت آگئی۔ اس میں کئی گاڑیوں کو تو نقصان پہنچا ہی، ساتھ میں کئی لوگوں کو چوٹیں بھی آئیں، جنہیں اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ پولس کو دونوں گروپ کو خاموش کرانے میں کافی مشقت کرنی پڑی۔ کچھ لوگوں کو بدامنی پھیلانے کے الزام میں گرفتار بھی کیا گیا۔ یہ سارا ہنگامہ جمعہ کے دن ہوا۔ بعد میں معاملے نے اتنا طول پکڑا کہ اتر پردیش شیعہ سنٹرل بورڈ آف وقف کے چیئرمین، سید وسیم رضوی کو اپنے عہدہ تک سے ہٹنا پڑا۔ وسیم رضوی نے شیعہ مذہبی رہنما مولانا کلب جواد پر قبریں بیچنے سمیت کئی سنگین الزام لگائے تھے۔ مولانا کلب جواد اپنے اوپر لگے الزاموں سے اتنے غم زدہ ہوئے کہ انہوں نے حکومت پر دباؤ بنانے کے لیے ٹھیک اسی دن، یعنی 28 مئی کو اپنے حامیوں کے ساتھ وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ کی جانب کوچ کرنے کا اعلان کردیا، جس دن قانون ساز اسمبلی کا اجلاس شروع ہونے والا تھا۔ اس سے انتظامیہ کے ہاتھ پیر پھول گئے۔ اعلیٰ سطح پر چہل قدمی تیز ہو گئی اور جواد صاحب کی دباؤ کی حکمت عملی کامیاب ہوگئی۔ وسیم رضوی کے ذریعے اپنے عہدہ سے استعفیٰ دینے کا اعلان کرتے ہی شیعہ مذہبی رہنما مولانا کلب جواد نے وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ کی طرف کوچ کرنے کا اپنا پروگرام ملتوی کر دیا۔ اس معاملے کی شروعات کچھ دنوں پہلے تب ہوئی تھی، جب شیعہ سنٹرل بورڈ کے صدر، سید وسیم رضوی نے مولانا کلب جواد کے خلاف سی بی آئی جانچ کی سفارش ریاستی حکومت سے کی تھی، جس کی وجہ سے مولانا کلب جواد اور شیعہ بورڈ کے درمیان ٹکراؤ کھل کر سامنے آ گیا۔ یہ دیگر بات ہے کہ اس جنگ میں قربانی کا بکرا وسیم رضوی کو ہی بننا پڑا۔
اتر پردیش شیعہ سنٹرل بورڈ کے صدر، رضوی نے وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو کو اپنا استعفیٰ تو سونپ دیا، لیکن استعفیٰ کے ساتھ کئی سوال اٹھانے سے بھی نہیں چوکے۔ وزیر اعلیٰ کو بھیجے گئے اپنے استعفیٰ میں رضوی نے الزام لگایا کہ لکھنؤ میں ایک بڑی رقم لے کر قبریں بیچی جا رہی ہیں۔ سب سے زیادہ مہنگی قبریں امام باڑہ غفران ماب میں مولانا کلب جواد صاحب فروخت کر رہے ہیں۔ رضوی کا کہنا تھا کہ ان کے پاس اس سلسلے میں کئی شکایتیں آئی تھیں، جن کی جانچ میں معاملہ صحیح پایا گیا۔ اس کے بعد وقف بورڈ نے جواد صاحب سے وضاحت مانگی اور حکومت سے اس پورے معاملے کی اعلیٰ سطحی جانچ کرانے کا مطالبہ کیا۔ اس کے ساتھ ہی الزام لگایا کہ جواد صاحب انتظامیہ پر دباؤ ڈالنے کے لیے، عوام کو گمراہ کرکے اپنے مفاد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ رضوی کا الزام تھا کہ جواد صاحب اپوزیشن سے مل کر سماجوادی حکومت کی شبیہ خراب کر رہے ہیں، اپوزیشن پارٹیوں کے ساتھ ساز باز کرکے شہر کے پرامن ماحول کو بگاڑنے پر آمادہ ہیں۔ لیکن مولانا کلب جواد بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں تھے۔ حکومت سے لے کر عام آدمیوں تک، تمام محاذوں پر وہ تب تک دباؤ بناتے رہے، جب تک اکھلیش حکومت نے رضوی سے استعفیٰ نہیں لے لیا۔ مولانا کلب جواد کے حامیوں سے جب اس سلسلے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ وسیم رضوی خود زمین ہڑپنے کے کھیل میں لگے رہتے ہیں اور انہوں نے غریبوں کی کروڑوں روپے کی زمینوں پر، انہیں ڈرا دھمکا کر قبضہ کر رکھا ہے۔
بہرحال، اس لڑائی سے اتنا تو صاف ہو ہی گیا کہ کسی بھی مذہب کے ٹھیکہ داروں کے لیے آج اپنا مقصد پورا کرنا ہی اولین ترجیح بن گیا ہے۔ ان کے ذریعے یہ بات پوری طرح بھلا دی گئی ہے کہ مسجدوں میں ہر خاص و عام مسلمان جاکر نماز ادا کر سکتا ہے، مدرسوں میں ان کے بچوں کو مفت تعلیم دی جاتی ہے، امام باڑوں میں ہر مسلمان ماتم و مجلس کے لیے جا سکتا ہے اور قبرستان کی زمینیں ان کے عزیزوں کو دفنانے کے لیے استعمال میں لائی جاتی ہیں۔ وقف کی ان جائیدادوں کو استعمال کرتے وقت کسی بھی طرح پیسہ لینا یا دینا جائز نہیں ہے۔ پورے ملک میں پھیلی وقف کی ان جائیدادوں کی دیکھ بھال کی ذمہ داری سنی وقف بورڈ اور شیعہ وقف بورڈ کے کندھے پر ہے ۔ وقف بورڈ کی ان زمینوں کی نگرانی کے لیے الگ الگ متولی مقرر کیے گئے ہیں، لیکن آج یہی ذمہ دار حضرات وقف کی جائیدادوں کا غلط استعمال کرنے پر آمادہ ہیں۔ جن لوگوں کو وقف جائیداد کا نگراں بنایا گیا تھا، آج وہی لوگ اسے اپنی جاگیر سمجھ کر نہ صرف اس کا غلط استعمال کر رہے ہیں، بلکہ اس پر ناجائز قبضہ بھی کر چکے ہیں۔ ان لوگوں کی ’مہربانی‘ کی وجہ سے قبرستانوں میں لاشوں کو دفنانے کے لیے، مرنے والے کے رشتہ داروں کو ہزاروں روپے دے کر قبریں خریدنی پڑتی ہیں۔ اس کے لیے انہیں اپنے گھر کے زیورات تک بیچنے پڑتے ہیں۔ ویسے تو لکھنؤ اور اس کے آس پاس کے شہروں میں ہر قبرستان کا یہی حال ہے، کہیں چوری چھپے تو کہیں کھلے عام ناجائز طریقے سے قبرستانوں کے متولی لاشیں دفنانے کے لیے غریبوں سے پیسہ وصول کر رہے ہیں، لیکن معاملہ اس وقت سب سے زیادہ سنگین ہو گیا، جب ایک مشہور شیعہ رہنما کا نام اس معاملے میں سامنے آیا۔
شیعہ فرقے کی قیادت کرنے والے مولانا کلب جواد پر الزام لگایا گیا کہ لکھنؤ کے امام باڑہ، ترکاری منڈی چوکی کی غفران ماب قبرستان میں وہ لاشوں کو دفنانے کی اجازت تبھی دیتے ہیں، جب مرنے والے کے رشتہ دار کم از کم پچاس ہزار روپے ان کے ہاتھ پر نہ رکھ دیں۔ یہ معاملہ اس وقت منظر عام پر آیا، جب کچھ لوگوں نے شیعہ وقف بورڈ میں باقاعدہ تحریری شکایت درج کراتے ہوئے یہ بتایا کہ اپنے رشتہ دار کی میت لے کر جب وہ قبرستان پہنچے تو وہاں مولانا کی طرف سے مقررکردہ منیجر نے ان سے پچاس ہزار روپے مانگے اور کہا کہ مولانا کا حکم ہے کہ جب تک پیسہ ادا نہ کیا جائے، تب تک لاش کو دفن کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔ جب اس قسم کی کئی شکایتیں شیعہ وقف بورڈ کے سامنے آئیں تو وقف بورڈ کے چیئرمین سید وسیم رضوی نے اس کی جانچ کرائی۔ جانچ کے لیے وقف بورڈ کی طرف سے مقرر کیے گئے سید باقر رضا نے شکایت کرنے والوں کے ذریعے دیے گئے ثبوتوں کی بنیاد پر جب تفتیش کی تو پتہ چلا کہ تمام شکایتیں صحیح ہیں اور مولانا کلب جواد ناجائز طریقے سے قبروں کے کاروبار میں ملوث ہیں۔ اتنا ہی نہیں، کہا تو یہاں تک گیا کہ گزشتہ کئی سالوں میں وہ قبروں کے کاروبار سے کروڑوں روپے کما چکے ہیں۔ جواد صاحب جیسی شخصیت کے خلاف جانچ کی ضرورت کے بارے میں جب شیعہ وقف بورڈ کے چیئرمین، سید وسیم رضوی سے پوچھا گیا تو ان کا جواب تھا کہ قانون کے دائرے میں چھوٹے، بڑے سبھی آتے ہیں۔ کسی فردِ واحد کو یہ آزادی نہیں ہے کہ وہ اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے قانون کی خلاف ورزی کرے۔ شیعہ وقف بورڈ نے اپنی جانچ میں پایا کہ اتر پردیش میں شیعہ قبرستانوں میں قبروں کو ناجائز طریقے سے بیچنے کا کام برسوں سے چل رہا ہے۔ شیعہ وقف بورڈ نے اس سلسلے میں 20 مارچ 2012 کو باقاعدہ نوٹس جاری کرکے قبرستانوں میں قبروں کے بیچے جانے کو غیر قانونی قرار دیا، جس کے بعد سے کافی قبرستانوں میں یہ کاروبار بند ہو چکا ہے، لیکن کچھ قبروں کو بیچنے کا سلسلہ بدستور جاری رہا۔ ایک اندازہ کے مطابق، قبروں کے کاروبار کا یہ سلسلہ دس سال سے بھی زیادہ عرصے سے چل رہا ہے، بہت سے لوگوں کو اس کا غم بھی ہے اور انہوں نے اپنی طرف سے اس کے خلاف آواز بھی بلند کی، لیکن انہیں انصاف کبھی نہیں ملا۔
ایسے ہی متاثرین میں سے ایک سید عباد مہدی ہیں، جن کا کہنا ہے کہ ’’بات زیادہ پرانی نہیں ہے۔ میرے سامنے میری بہن کی لاش پڑی تھی۔ میں اس کی لاش دفن کرنے کے لیے قبر کی جگہ مانگ رہا تھا اور وہ بھی اس قبرستان میں جسے لاشیں دفنانے کے لیے غریبوں کے نام وقف کیا گیا تھا۔ لیکن اس قبرستان میں مجھے اپنی بہن کی لاش کو دفنانے کے لیے پچاس ہزار روپے دینے کے لیے مجبور کیا گیا۔ میں نے کسی طرح قرض مانگ کر رقم جمع کی، تاکہ میری بہن کی لاش دفنائی جا سکے۔ اس کے بعد قبرستان میں بیٹھے منیجر نے مجھے جو رسید دی، اس پر لکھا تھا کہ میں نے جو پچاس ہزار روپے دیے، وہ عطیہ کے طور پر دیے۔ یہ رسید میں نے اپنی شکایت کے ساتھ وقف بورڈ کو دی۔‘‘ مہدی کا درد یہیں ختم نہیں ہوا۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’کچھ ماہ بعد ہی میری دوسری بہن نیلوفر نقوی کا انتقال دل کی دھڑکن رکنے سے ہوگیا۔ ہم پھر میت لے کر امام باڑہ غفران ماب پہنچے، تو دوبارہ ہم سے قبر کے لیے پچاس ہزار روپے وصول کیے گئے اور رسید عطیہ دینے کی دی گئی۔ میں نے اس ناجائز وصولی کی تحریری شکایت شیعہ وقف بورڈ کو شکایتوں کے ساتھ دی۔‘‘
کہا جاتا ہے کہ ایک خاص فرقہ کے بڑے مذہبی رہنما، جن کی ایک آواز پر پوری شیعہ برادری سڑکوں پر اتر جاتی ہے، جن کی باتوں پر لوگ آنکھ بند کرکے یقین کرتے ہیں، یہاں تک کہ اتر پردیش کی حکومت پر جن کا بھاری دباؤ اور اثر ہے، اس مذہبی رہنما کے ناجائز کاموں کی فہرست لمبی ہے۔
قبر بیچنے کے الزامات کو غلط ثابت کرنے کے لیے 26 مئی کو امام باڑہ غفران ماب (جس کے متولی جواد صاحب ہیں) کے منیجر اظہار حسین نقوی نے ایک پریس کانفرنس کی۔ منیجر کا کہنا تھا کہ انہوں نے کبھی کوئی قبر نہیں بیچی۔ اس پر وہاں موجود اور قبر خریدنے کا دعویٰ کر رہے سابق فوجی آفیسر ایس اے حسین ان پر برس پڑے۔ ثبوت کے طور پر انہوں نے قبر خریدنے کی رسید بھی دکھائی، جس پر 21 فروری، 2012 کی تاریخ درج تھی اور پچاس ہزار ڈونیشن کی بات لکھی تھی۔ بات اتنی بڑھی کہ سابق فوجی آفیسر اور قبرستان کے منیجر کے ساتھیوں کے درمیان مار پیٹ کی نوبت آ گئی۔
شیعہ وقف بورڈ میں تحریری شکایت درج کرانے والے ایک اور شخص عابد رضا تو یہاں تک کہتے ہیں کہ ’’میں اس بات کا چشم دید گواہ ہوں کہ رات میں قبرستان کا منیجر، جو مولانا (کلب جواد) کا رشتہ دار بھی ہے، مزدوروں کے ذریعے بغیر نام کی قبروں کو کھدواکر ان کی ہڈیاں بورے میں بھروا تا ہے اور پھر رکشے پر لدواکر کہیں بھیج دیتا ہے اور اس کے بعد مزدور اس زمین کو برابر کر دیتے ہیں، جس میں دوبارہ نئی قبر پیسے لے کر بنا دی جاتی ہے۔‘‘ اتنا ہی نہیں، پرانے لکھنؤ کے چوک پر واقع قبرستان غفران ماب میں جو قبرستان غریبوں کے لیے وقف کیا گیا تھا، اس کی سات ہزار مربع فٹ زمین میں قبروں کے اوپر ناجائز قبضہ کرکے، ایک پرائیویٹ اسپتال کھڑا کر دیا گیا۔ اس اسپتال کو قبروں کے اوپر ستون بناکر کھڑا کیا گیا ہے۔ ان ستونوں کو کھڑا کرنے کے لیے کھودے گئے گڑھوں کی وجہ سے سینکڑوں قبریں مسمار ہوئی ہیں۔ بہت سی قبروں کے تو نام و نشان بھی مٹ گئے ہیں۔ ناجائز طریقے سے قبرستان کی زمین پر قبضہ کرکے بنائے گئے اس اسپتال کا افتتاح بھی مولانا کلب جواد کے ہاتھوں ہوا، جس کا ثبوت باقاعدہ اسپتال کے دروازے پر چسپاں ہے۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ جس وقف بورڈ نے ایک مشہور مذہبی رہنما کو اس قبرستان کا متولی بنایا، سامرا اسپتال کی تعمیر اور اس کی کرایہ داری کے سلسلے میں اس نے کوئی اجازت شیعہ وقف بورڈ سے نہیں لی۔ قبرستان کی زمین ناجائز طریقے سے لاکھوں روپے میں لیز پر جعفرہ سائنٹیفک اینڈ ویلفیئر سوسائٹی کے ٹرسٹی ثمر عباس کو دے دی گئی۔ لیز کی شرطوں کے مطابق سامرا اسپتال کا کرایہ تیس ہزار روپے ماہانہ ہے اور ناجائز طریقے سے آنے والا یہ پیسہ بھی ایک خاص آدمی کی جیب میں جا رہا ہے۔ ویسے سچائی یہ بھی ہے کہ بھلے ہی قبروں کو بیچنے کے نام پر دونوں گروپ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں لگے ہوں، لیکن پردے کے پیچھے کی سچائی یہی ہے کہ دونوں ہی گروپ یہ جنگ اپنی ساکھ بچانے کے لیے لڑ رہے تھے۔ ویسے اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ قبروں کی خرید و فروخت کا یہ کاروبار دیگر کچھ کربلاؤں میں بھی چل رہا ہے، جس میں کربلا ملکہ جہاں، عیش باغ، لکھنؤ؛ کربلا امداد حسین خاں، ٹکیت رائے کا تالاب، لکھنؤ اور کربلا امام باڑہ آغا باقر، تال کٹورہ، لکھنؤ کے نام اہم ہیں۔

کلب جواد ٹھاکرے بننا چاہتے ہیں: وسیم رضوی
شیعہ وقف بورڈ سے استعفیٰ دینے کے بعد بورڈ کے کارگزار صدر، وسیم رضوی نے الزام لگایا ہے کہ مولانا کلب جواد بال ٹھاکرے بننا چاہتے ہیں، جو بھیڑ کے دَم پر کچھ بھی کرا لینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ مولانا جواد بھی حکومت کو ٹھاکرے کی طرز پر دباؤ میں لیتے ہیں۔ رضوی نے الزام لگایا کہ مولانا نے اپنی تقریر میں ہندوستانی آئین کی یہ کہہ کر بے حرمتی کی ہے کہ وہ انڈین وقف ایکٹ کو نہیں مانتے ہیں، کیوں کہ اسے غیر شرعی حکومتوں نے بنایا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *