خواتین کو پیچھے رکھ کر مسلمان ترقی نہیں کر سکتے

پروفیسر اختر الواسع 

ملک میں بے شمار ایسی مسلم خواتین ہیں جو اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوکر سماجی ، تعلیمی اور اقتصادی میدان میں بہتر خدمات انجام دے رہی ہیں۔ ’چوتھی دنیا‘ ایسی خواتین کے تجربات پر مبنی انٹرویو کا سلسلہ شروع کرنے جارہا ہے تاکہ ان کے تجربات ،نئی نسل کی لڑکیوں کے لیے مشعل راہ ثابت ہوں ۔ اس سلسلے کی شروعات ہم پروفیسر اختر الواسع (صدر، شعبہ اسلامیات، جامعہ ملیہ اسلامیہ؛ اور وائس چیئرمین ،اردو اکیڈمی دہلی) کی گفتگو سے کررہے ہیں کیونکہ ہم چاہتے تھے کہ مسلم خواتین کا کردار حیات طیبہ سے لے کر دور حاضر تک، خواتین کے کارناموں کا مختصر جائزہ آپ کے سامنے پیش کریں جس سے یہ بات واضح ہوجائے کہ اسلام خواتین کو کیا حقوق و مراعات دیتا ہے۔ پیش ہے ذیل میں پروفیسراخترالواسع سے گفتگو کا ماحصل۔

کسی بھی مہذب معاشرے کی پہچان اس بات سے ہوتی ہے کہ وہ اپنی خواتین کے ساتھ کیسا سلوک کرتا ہے اور اقلیت کے ساتھ اس کا معاملہ کیسا ہے۔اس سلسلے میں چوتھی دنیا نے ایک بہترین قدم اٹھایا ہے اور موجودہ نسل میں خواتین کو معاشرے کی تعمیر میں حصہ دار بنانے کے لیے نامور خواتین کو ان کے لیے رول ماڈل بنا کرپیش کرنے کا جو سلسلہ شروع کرنے جارہا ہے، یہ ایک قابل قدر قدم ہے۔ اس سے ہمیں نہ صرف اپنے ماضی کی تابناک تاریخ سے واقفیت ہو گی بلکہ اس سے اپنی زندگی کو بہتر رخ پر لے جانے کا حوصلہ بھی ملے گا۔ سب سے پہلے میں یہ بتا دوں کہ اسلام میں عورت کے تئیں جونظریہ ہے وہ ہمہ گیریت اور مساوات پر مبنی ہے۔ اسلام نے عورت کو جنسی تسکین کا ذریعہ نہیں، معاشرے کا ایک اہم حصہ بنا کر پیش کیا ہے۔قرآن کریم کا مطالعہ کریں تو اس مقدس کتاب نے اپنے تمام خطاب میں مرد و عورت دونوںکو شامل کیا ہے، جیسے مسلمین و مسلمات، مؤمنین و مؤمنات وغیرہ ۔ قرآن نے ایک موقع پر مرد و عورت کے تعلق سے فرمایا ہے کہ یہ دونوں ایک دوسرے کے لیے باہمی لباس ہیں۔ لباس ایک استعارہ ہے، معاشرے میں دونوں کے مساوی مراتب کا۔ اگر لباس چھوٹا ہو تو لائق تحسین نہیں ہوسکتا۔ اسی طرح لباس بڑا ہو،تو بھی قابل ستائش نہیں ہوتا۔ اب جب کہ یہ ایک استعارہ ہے تو ایسی صورت میں دونوں یعنی مرد و عورت میں سے کوئی ایک چھوٹا یعنی کمتر اور کوئی بڑا یعنی برتر کیسے ہوسکتا ہے اور اس کی حوصلہ افزائی کیسے کی جاسکتی ہے۔ اس آیت نے معاشرے میں دونوں کی مساوات کا اشارہ دیا ہے۔اسلام میں خواتین کی اہمیت کااندازہ اس سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ قرآن میں عورت کے نام پر ایک سورۃ موجود ہے ۔ وہ ہے سورۃ مریم۔ اسی طرح جنس خواتین سے بھی ایک سورۃ موسوم ہے اور وہ ہے النسائ۔ اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ اسلام میں عورت کوخاص اہمیت دی گئی ہے اور اس کے مرتبے کا خیال رکھا گیا ہے۔
معاشرے کو بہتر بنانے کے لیے مردو عورت ایک دوسرے کے لیے لازم وملزوم ہیں۔ دونوں کی شخصیت کی تکمیل ایک دوسرے سے مل کر ہوتی ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ قرآن میں کہا گیا ہے کہ ’’ مرد عورت پر قوّام ہے‘‘ قوّام کا مطلب یہ لیا جاتا ہے کہ مرد عورت کا حاکم ہے، مگر سمجھنے والی بات یہ ہے کہ حاکمیت برتری کے اعتبار سے نہیں ہے بلکہ اس کو برتر یا حاکم اس معنی میں کہا گیا ہے کہ ایک مرد اپنے گھر کی عورت کی عزت و عصمت کا محافظ ہوتا ہے اور وہی اس سلسلے میں جوابدہ بھی ہے ۔ قوام، یعنی حاکم ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس کی ناموس کی حفاظت کے لیے جو تدبیر اختیار کرے اس میں وہ خود مختار اور حاکم ہے۔ یہاں پر قوام کا مطلب محافظ ہے ۔ایک اور بات ہے جو ہمیں اس وقت کہنی ہے کہ ہمارے معاشرے میں عورت اور مرد کے رشتے کو صرف میاں اور بیوی کی حد میں سمیٹ دیا گیا ہے۔ ہم عورت کو کسی اور زاویے سے دیکھتے ہی نہیں ہیں، جبکہ عورتیں ماں ،بیٹی اور بہن کے مقدس رشتے سے بھی جڑی ہوئی ہیں۔ اسلام نے ایک عورت یعنی ماں کے قدموں کے نیچے جنت رکھ دی ہے۔ اس طرح دیکھیں تو عورت کا مقام بہت بلند رکھا گیا ہے۔ اسلام پہلا مذہب ہے جس نے عورت کو وراثت کا حق دیا۔وراثت کا یہ اعلان ایک ایسے معاشرے میں ہوتا ہے ،جہاں لڑکیوں کو زندہ دفن کردیا جاتا تھا۔ ایسے ماحول میں وراثت کا حق دینا، لڑکیوں کی پرورش پر اللہ کی طرف سے انعام و اکرام کی بشارت دینا، عورت کی عظمت کا پتہ دیتا ہے۔ چنانچہ حدیث شریف میں کہا گیا ہے کہ ’’ ہر وہ ماں باپ جن کی دو بیٹیاں ہوں، وہ ان کی اچھی تربیت کریں اور شادی کریں تو وہ بیٹیاں ماں باپ کے لیے جہنم کی راہ میں حائل ہوجاتی ہیں‘‘۔ دورِ جاہلیت میں تو لوگ بیٹیوں کو پیدا ہونے کے بعد زندہ دفن کرتے تھے مگر آج کے معاشرے میں بیٹیوں کو ماں کے پیٹ میں ہی ماردیا جاتا ہے۔ آج ہمارے یہاں اسلام کی معنویت بڑھ چکی ہے۔آج نبی کی تعلیم کو عمل میں لانے کی ضرورت زیادہ ہے ،خاص طور پر بچیوں کے بارے میں جو ذہنیت بنی ہوئی ہے اس میں اسلامی تعلیم کو عام کرنے کی سخت ضرورت ہے۔ ذرا اور آگے سوچئے کہ جس زمانے میں ہر فرد کے لیے علم حاصل کرنا ایک ناممکن تصور تھا، ویسے دور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر فرد کے لیے علم کی اہمیت کو بتاتے ہوئے فرمایا کہ ’’ علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے‘‘۔ یہاں بھی آپؐ نے علم کو مردوں کے لیے خاص نہیں کیا، بلکہ اس میں عورت کو بھی شامل کیا۔ ایک اور حدیث ہے ،جس میں کہا گیا ہے کہ ’’ علم حاصل کرو ماں کی گود سے قبر تک‘‘۔ یہاں پر ماں کی گود کہا ،ابا کی گود نہیں۔اس سے اشارہ ہے کہ ماں کی گود بچے کی بہترین دانش گاہ ہے ۔یہ ایک کنایہ ہے کہ ہر آدمی اپنی بیٹیوںکو زیور تعلیم سے آراستہ کرے، تاکہ جب وہ بیٹی ماں بننے کے مرتبے میں پہنچے تو اس کی گود بچے کے لیے ایک بہترین تعلیم گاہ ثابت ہو۔ایک اچھی بات یہ ہے کہ ادھر کچھ دنوں میں لڑکیوں کی تعلیم کے تئیں رجحان میں تبدیلی آئی ہے، جس کا اندازہ بورڈ کے رزلٹ سے لگایا جاسکتا ہے کہ لڑکیاں نمبرات میں لڑکوں سے آگے ہیں۔ یہ لڑکیاں جب ماں کے مرتبے میں پہنچیں گی تو انشاء اللہ ان کی گود میں پلنے والے بچے علم و ہنر کے روشن ستارے ثابت ہوںگے۔
آج کل ایک آواز اٹھ رہی ہے خواتین کی خود مختاری کی۔ اگر غور کریں تو خود مختاری کا یہ تصور ہمیں نبی کی حیات طیبہ سے لے کر ماضی قریب تک میں مل سکتا ہے۔ خود مختاری چار شکل میں ہوتی ہے۔ اقتصادی، تعلیمی، سیاسی اور روحانی۔ اس کے علاوہ خود مختاری کسی اور شکل میں نہیں ہوسکتی۔یہ چاروں شکلیں اسلامی تاریخ میں موجود ہیں۔ اقتصادی خود مختاری کی مثال حضرت خدیجہ ؓسے دی جاسکتی ہے، جو ایک بڑی تاجر تھیں، جو اپنی تجارت کے لیے تجربہ کار افراد کو ہائر کرتی تھیں اور اسی سلسلے میں انہوں نے نبیؐ کو بھی تجارت کا شریک بنایا تھا۔ شادی کے بندھن میں بندھ جانے کے بعد اللہ کے رسول نے ان کو تجارت کرنے سے نہیں روکا، جو اقتصادی خود مختاری کی ایک روشن مثال ہے۔حضرت عمر ؓ نے مارکیٹ انسپکٹر کے طور پر گھر کی ایک خاتون کو ہی مقررکر رکھا تھا، کیونکہ مارکیٹ کے اتار چڑھائو کا اثر خانہ داری پر پہلے پڑتا ہے ،جس کے بارے میں ایک عورت ہی بہترین مشورہ دے سکتی ہے۔ جہاں تک تعلیمی خود مختاری کامعاملہ ہے، تو اس سلسلے میں حضرت عائشہ ؓ کی مثال دی جاسکتی ہے۔ ایک تہائی شریعت امت کو حضرت عائشہ ؓسے ملی ہے۔ آپ نے ان مسائل پر امت سے بات کی ہے جن پر بات کرتے ہوئے مائیں بیٹیوں سے کتراتی ہیں۔مگر آپ نے ان مسائل پر بات کی اور نبی کے پیغام کو لوگوں تک پہنچایا۔ ظاہر ہے آپ نے یہ کام نبی کے اشارے پر ہی کیا تاکہ کوئی بھی عائلی و سماجی تعلیم امت سے پوشیدہ نہ رہے۔اس طرح دیکھا جائے تو حضرت عائشہؓ امت کی سب سے پہلی معلمہ ہیں۔ اسی طرح سیاسی خود مختاری کی بات کریں تو اس کے لیے صلح حدیبیہ کے واقعہ کو دیکھا جاسکتا ہے۔ معاہدے میں مندرجات کو لے کر صحابہ تشویش میں تھے اور احرام اتارنے کو تیار نہیں تھے۔ اس صورت حال سے اللہ کے رسول پریشان تھے۔اس موقع پر ام المومنین حضرت ام سلمہؓ کے دانشمندانہ مشورے نے حضورؐ کی تمام فکر دور کردی۔ ام المومنین نے کہا کہ’’ اے اللہ کے رسول آپ اپنا احرام اتار دیجئے ،قربانی کیجئے‘‘۔ اللہ کے رسول نے ایسا ہی کیا۔ پھر کیا تھا، نبیؐ نے جیسے ہی احرام اتارا ،تمام صحابی احرام سے باہر آگئے۔ ایک عورت نے، یعنی ام سلمہ ؓنے ایک ایسا سیاسی حل نکالا کہ مسائل خود بخود حل ہوگئے۔اس طرح کی بے شمار مثالیں آپ کو اسلام کی تاریخ میں مل جائیں گی۔ اگر روحانی عظمت کی بات کریں تو رابعہ بصریہؒ کا نام پیش کیا جاسکتاہے۔انہوں نے اپنے قول و عمل سے عبادت کی صحیح روح کا پتہ دیا۔ ان کے بے شمار واقعات تاریخ کی کتابوں میں درج ہیں۔غرض اسلامی تاریخ میں ان چاروں خود مختاری کی مثالیں کثرت سے مل جائیں گی۔ سوشل ورک کی بات کی جائے تو ہارون رشید کی بیوی زبیدہ کا نام لیا جاسکتا ہے، جنہوں نے نہر کھدواکر بے شمار لوگوں کے لیے پانی کے مسائل حل کردیے۔ ہندوستان کے حوالے سے بات کی جائے تو یہ ملک تمام عالم اسلام کے لیے نمونہ رہا ہے۔ یہی ملک ہے جہاں رضیہ سلطان نے ایک خود مختار حکمراں کی حیثیت سے کامیاب حکومت کی۔ یہیں اکبر اعظم کے جاہ و جلال کو چیلنج دینے والی خاتون احمد نگر کی چاند بی بی ہیں۔ اگر علمی اعتبار سے بات کریں تو گلبدن بیگم (ہمایوں نامہ والی) سے لے کر جہاں آراء و زیب النساء تک ایک سلسلۃ الذھب ہے۔ یہی نہیں اس ملک میں ایک ریاست ایسی بھی ہے، جہاں ایک سو ایک سال تک چار بیگمات نے انتہائی کامیابی کے ساتھ حکومت کی ہے ، وہ ہیں بیگمات بھوپال۔آج برقع کو ترقی کی راہ میں رکاوٹ کہا جاتا ہے،مگران بیگمات نے پردے میں رہ کر حکومت کا سارا کام انجام دیا ہے۔اگر تعلیمی کارناموں کو دیکھیں تو جدید تعلیمی درسگارہ میں اگر کوئی عورت پہلی چانسلر منتخب کی گئی ہیں تو وہ ایک مسلم خاتون ہیں، نواب سلطان جہاں بیگم، سربراہ ریاست بھوپال ، جو علی گڑھ یونیورسٹی کی دسمبر 1920 میں چانسلر چنی گئیں۔ ہماری تحریک آزادی کا تذکرہ بیگم حضرت محل کے بغیر پورا نہیں ہوسکتا۔ ان کے آہنی عزم نے سامراجیوں سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔ اسی طرح علی برادران کو نیا عزم دینے والی ایک عورت ہی تھی، یعنی ان کی ماں ’’بی اماں‘‘، جن کے انتقال پر مہاتما گاندھی نے آنسو بہائے تھے۔ وہ کھادی پہنتی تھیںاور بڑے بڑے جلسوں کو خطاب کرتی تھیں۔حضرت حسرت موہانی کو رئیس الاحرار بنانے میں بیگم حسرت موہانی کا بڑا کردار ہے۔ جب وہ جیل میں ہوتے تھے تو بیگم موہانی کانپور میں کھادی کی دکان چلا رہی ہوتی تھیں۔
لوگ عام طور پر کہتے ہیں کہ عورتوں کی حکمرانی ہوگی تو قوم تباہ ہوجائے گی۔ ان لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ ریاست بھوپال میں خواتین کی حکمرانی کے جواز کا فتویٰ مولانا اشرف علی تھانوی نے دیا تھا اور ان کی حکومت سے جڑنے والوں میںسید سلیمان ندوی، نواب صدیق حسن خان جیسے بڑے بڑے علماء شامل تھے۔ آزاد ہندوستان میں سب سے طویل مدت تک ڈپٹی چیئر پرسن نجمہ ہپت اللہ رہیں، انورہ تیمور آسام کی چیف منسٹر رہیں،محسنہ قدوائی برسوں یوپی اور مرکز میں وزیر رہیں۔ فلم انڈسٹری کی مثال دوں گا تو لوگ کہیں گے کہ خواہ مخواہ کی مثال ہے، مگر ثانیہ مرزا کو کھیل کی دنیا میں مثال کے طور پر تو پیش کیا ہی جاسکتا ہے۔ آزاد ہندوستان میںسپریم کورٹ کی پہلی خاتون جج جسٹس فاطمہ بی وی تھیں۔ اسی طرح مختلف تجارتی اداروں میں مسلم خواتین اہم عہدوں پر کام کررہی ہیں، یعنی زندگی کی دوڑ میں عورتیں تیزی سے ابھر رہی ہیں۔یہ دوڑ چاہے ملی میدان میں ہو یا دیگر میدانوں میں۔ مولانا سالم قاسمی کی صاحبزادی عظمیٰ ناہیدمسلم پرسنل لا ء بورڈ میں عورتوں کی ترجمانی کر رہی ہیں۔ پروفیسر حسینہ حاشیہ اور لکھنؤ سے بیگم نسیم اقتدار علی جیسی بزرگ خاتون مسلم خواتین کے لیے کام کر رہی ہیں۔ یہ سب معاشرے میں تبدیلی کا ایک اہم اشارہ ہے۔ اسی طرح صحافت میں نور جہاں ثروت نے پرانی دہلی کی تنگ گلیوں سے نکل کر مردوں کے تسلط میں اپنی پہچان بنائی۔ نئی نسل میں وسیم راشد کا نام لیا جاسکتا ہے، جنہوں نے پرانی دہلی کی تنگ گلیوں سے نکل کر صحافت میں اپنا ایک مقام بنایا ہے۔ ان کے علاوہ کئی مثالیں ہیں جیسے سیما مصطفی، نکہت کاظمی، غزالہ امین وغیرہ۔ اسی طرح تدریسی خدمات میں بہت سے نام ہیں۔ ادب کی ترویج میں بھی خواتین کا بڑا کردار رہا ہے۔ غرض انہیں جہاں موقع ملتا ہے وہ اپنا کام کررہی ہیں۔ ہم مسلمانوں کے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ جو معاشرہ اپنی آدھی آبادی، یعنی خواتین کو پیچھے رکھے گا وہ کبھی ترقی نہیں کرسکتا ہے اور جتنی جلدی اس حقیقت کو سمجھ جائیں ہمارے حق میں اتنا ہی بہتر ہے، پہلے ہی بہت دیر ہوچکی ہے۔

Share Article

One thought on “خواتین کو پیچھے رکھ کر مسلمان ترقی نہیں کر سکتے

  • June 20, 2012 at 3:39 pm
    Permalink

    بروفيس اخترالواسع صاحب كي يه كفتكو مسلم قوم كي لئي اايك مهميز ثابت هوكا انشاءالله. جوتهي دنيا كا يه اقدام لائق صد تحسين هي

    “علم حاصل كرو ما ن كي كود سي قبر تك”
    صرف يهي ايك حديث مسلم امة كيلئئ كافي هى كه وه ابني لركون و لركيون كي تعليم مين تفريق نه كرين.مان كي تعليم كي بغير بجون كي تربيت ادهوري رهيكي ايسي وقت مين جب باب حصول معاش كيلئي باهر هو.

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *