ذکیہ غزل سے انٹرویو

ذکیہ غزل کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔ وہ اس وقت کنیڈا کی ادبی محفلوں کی جان مانی جاتی ہیں۔ اپنی شاعری میں انہوں نے بڑی خوبصورتی سے عورت کے جذبات و احساسات کی عکاسی کی ہے۔ ان کی شاعری عورت کے وجود کا احساس کراتی ہے، اس کی اہمیت کو تسلیم کراتی ہے۔ گزشتہ دنوں جب وہ دہلی تشریف لائی تھیں تو چوتھی دنیا اردو کی ایڈیٹر وسیم راشد نے چوتھی دنیا کے اسٹوڈیو میں ان کا انٹرنیٹ ٹی وی اور اخبار کے لیے انٹرویو کیا۔ ملاحظہ کریں اس انٹرویو کا ایک اہم حصہ۔

آپ کا آبائی وطن پاکستان ہے اور آپ کنیڈا جاکر بس گئی ہیں۔ آپ کو ایسی کیا خوبی نظر آئی کنیڈا میں کہ آپ اپنا وطن چھوڑ کر وہاں جا بسی ہیں؟
میرا نام، مقام، میری شہرت جو کچھ بھی ہے وہ سب میرے وطن کی وجہ سے ہے۔ میں پیدا وہیں ہوئی، تعلیم وہیں حاصل کی، شاعری وہیں پروان چڑھی، شہرت وہیں ملی، مقبولیت وہیں ملی، سب کچھ وہیں تھا۔ ایک ہجرت میرے ماں باپ نے شاید ہمارے لیے کی تھی، ایک ہجرت شاید ہم نے اپنے بچوں کے لیے کی۔ اس کی خاص وجہ بھی میرے ابو ہیں۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے میرے بچے اکیلے جا رہے تھے، میں ایک روایتی قسم کی ماں ہوں، میں نے سوچا کہ میرے بچے وہاں ہائر ایجوکیشن کے لیے جا رہے ہیں، تو وہ اپنے کاموں میں مصروف ہو جائیں گے، ان کے کپڑے کون دھوئے گا، ان کو کھانا کون دے گا، اس ٹینشن میں میں مبتلا رہی اور میں فیصلہ نہیں کر پاتی تھی کہ میں جاؤں یا نہ جاؤں، لیکن میں نے یہی فیصلہ کیا کہ مجھے اپنے بچوں کے ساتھ رہنا چاہیے۔ مجھے زیادہ وقت نہیں ہوا، ابھی صرف تین سال ہوئے ہیں کنیڈا گئے ہوئے۔ لیکن میں اکثر پاکستان آتی جاتی رہتی ہیں، پوری دنیا میں گھومتی پھرتی رہتی ہوں اور مشاعرے پڑھتی رہتی ہوں۔ لیکن ہاں، وہاں جاکر رہنے میں اور بطور مہمان وہاں جانے میں کافی فرق ہے۔ وہاں زندگی کافی مشکل ہے، لوگ خاصی مشینی ہیں، لیکن ہم جیسے لوگ ایڈجسٹ ہو جاتے ہیں۔ خیر، ماں کو تو قربانی دینی ہی پڑتی ہے۔
آپ نے ایک بہت اچھا سا جملہ بولا کہ آپ ایک روایتی قسم کی ماں ہیں، لیکن آپ کی شاعری بالکل روایتی قسم کی نہیں ہے۔ حیرت انگیز بات ہے یہ۔ میں یہ بھی نہیں کہوں گی کہ آپ کی شاعری آپ کی شخصیت کی تضاد ہے۔
گل و بلبل، لب و رخسار، محبت، عشق اور عاشقی سے شاعری کہیں آ گے چلی گئی ہے، تو اب ہم سماجیات کو پینٹ کرتے ہیں، معاشیات کو پینٹ کرتے ہیں، سیاسیات کو پینٹ کرتے ہیں۔ ہر وہ ایشو، ہر وہ مسئلہ جو کسی بھی ایک عام آدمی کا ہوسکتا ہے، وہ میں شاعری میں لکھتی ہوں۔ ہوسکتا ہے کہ میری شاعری کی ایک وجہ یہ بھی ہو کہ میں نے عام خواتین سے ہٹ کر شاعری کی ڈگر کو اپنایا۔ میں نے مختلف موضوعات پر لکھا اور لوگوں نے بے انتہا پسند کیا۔ ظاہر ہے کہ کسی کے دل کی کوئی بات اگر میرے لبوں سے نکل رہی ہے، میرے قلم سے نکل رہی ہے اور لوگوں کے دل کو چھو رہی ہے، تو یہ میری جیت ہے۔
شاعری کا شوق آپ کے اندر کہاں سے پیدا ہوا؟
دیکھئے شاعری تو میں بچپن سے کر رہی ہوں۔ بچپن کا مطلب ہے نویں کلاس سے۔ اسکول میں نظم گوئی کا ایک مقابلہ ہوا تھا، تو اس میں میں نے ’سونی دھرتی‘ کے عنوان سے ایک نظم لکھی تھی، جس پر مجھے تیسرا انعام ملا تھا، جس پر میں خوب روئی تھی۔ اس پر میرے والد نے کہا تھا کہ تیسرے نمبر کو اتنا حقیر نہ سمجھو، اسے اگر پہلا سمجھ کر محنت کروگی تو کچھ لکھ پاؤگی، اور اگر ابھی سے ہمت ہار کے رونے پیٹنے بیٹھ جاؤ گی تو کچھ نہیں ہو پائے گا۔ اس کے بعد پھر اسی طرح سے کالج، یونیورسٹی کی سطح پر ہونے والے تمام مقابلوں میں حصہ لیتی رہی۔ اس میں نعت گوئی بھی تھی، میں ایک اچھی مقررہ تھی۔ اس کے بعد میں نے جامعہ کراچی سے نفسیات میں ایم اے کیا۔ وہیں سے الیکشن لڑکے میں کونسلر بھی بنی، اس لیے سیاسیات میں بھی خاصی پکڑ ہے۔
زمانہ طالب علمی کے اگر کچھ اشعار آپ کو یاد ہوں تو سنائیں؟
زمانہ طالب علمی کی میری ایک نظم یوں ہے:
میں اپنی دعاؤں کے سارے پھول
تمہاری جھولی میں ڈال کر
تہی دامن واپس جا رہی ہوں
تم چاہو تو انہیں مسل کر پھینک دو
یا انہیں سمیٹ لو
اور اگر ایسا نہیں کر سکتے
تو میری جاگی ہوئی راتیں
میری عبادتیں مجھے واپس کردو
میری ایک غزل کافی مقبول ہوئی تھی، اس زمانے میں جس پر میں نے یونیورسٹی سے انعام بھی حاصل کیا تھا:
روح تو جاناں تیری ہے، جسم پتھر ہو گیا
شب کو تارے ایسے ٹوٹے چاند بے گھر ہو گیا
میں تو تیرے موسموںمیں آپ ہی ڈھلتی رہی
کیا ہوا جو تیرا لہجہ آج خود سر ہو گیا
ہجر کا وہ ایک لمحہ جو مجھے تجھ سے ملا
آنکھ سے کل رات ٹپکا اور سمندر ہو گیا
میرے سچے لفظ اس کے نام سے جانے گئے
آج میں کچھ بھی نہیں اور وہ پیمبر ہو گیا
کنیڈا میں اس وقت جو شاعری ہو رہی ہے، وہاں پر اور کون سی شاعرات ہیں جو اردو میں اچھی شاعری کر رہی ہیں؟
کنیڈا میں بھی اچھے لکھنے والے موجود ہیں، ادبی منظرنامہ وہاں کا خاصا مضبوط ہے۔ البتہ شاعرات کا وہاں فقدان ہے۔ ایک یا دو ہی شاعرات ہیں، جیسے شمالی امریکہ میں ڈاکٹر صبیحہ صبا اور حمیرہ رحمن بڑی اچھی شاعرہ ہیں، ہمارے یہاں کنیڈا میں نصرت صدیقی صاحبہ اور وسیم سید صاحبہ بہت اچھی نظم کی شاعرات ہیں۔ اور دو چار شاعرات ہیں، جو اچھی ہیں اور اچھا لکھنے والی ہیں۔ وہاں پر ادبی پروگرام بہت اچھے ہوتے ہیں، بہت عمدہ شاعری ہو رہی ہے۔
آپ نے پوری دنیا کا سفر کیا ہے۔ ہندوستانی شاعرات کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟
ہندوستان میں مشاعروں کا کلچر تو بہت مضبوط ہے اور میں سمجھتی ہوں کہ ایسا کلچر کہیں بھی نہیں ہے۔ پاکستان سے میں اکثر یہاں کے مشاعروں میں شرکت کرتی رہی ہوں۔ میرا خیال ہے کہ بھوپال ہو، دیوبند ہو، آگرہ ہو یا لکھنؤ ہو، کوئی جگہ ایسی نہیں ہے جہاں پر میں نے مشاعرہ نہ پڑھا ہو۔ کچھ شاعرات سے ملاقات ہوتی رہتی ہے۔ بس تھوڑا سا یہ ہے کہ، آپ کے یہاں شاعری تھوڑی سی کمرشیل ہے۔ میرے ساتھ یہ ہے کہ میں جو کچھ لکھتی ہوں وہی مشاعروں میں بھی پڑھتی ہوں۔ یہاں مجھے لگتا ہے کہ شاید درجہ بندی موجود ہے، مشاعروں کا کلام الگ ہے اور کتابوں کا کلام الگ۔
آپ کی شاعری کی اصل سچائی کیا ہے؟
پاکستان کے حالات اتنی تیزی سے بنتے بگڑتے ہیں، میں اس معاملے میں بہت حساس ہوں، مجھے اپنے وطن سے بہت محبت ہے، ظاہر ہے ہر آدمی کو اپنے وطن سے محبت ہوتی ہے۔ جب ملک کسی تباہی کی طرف جاتا ہے، کسی پریشانی کی طرف جاتا ہے تو بہت تکلیف ہوتی ہے۔ تو میں اس سے متاثر ہو کر اکثر غزلیں لکھتی ہوں، مثال کے طور پر یہ چند اشعار:
خوفِ نادیدہ ہے کوئی جو میرے بچوں کو
بے ضرر سی بھی شرارت نہیں کرنے دیتا
…………
اپنی ہستی کو سر افراز بناؤ لوگو
کب تلک جھکتے چلوگے یونہی سرکار کے ساتھ
…………
اس قسم کے شعر میں بہت کہتی ہوں۔ ایک دفعہ میں پاکستان کے ایک سالانہ مشاعرہ میں شعر پڑھ رہی تھی، وہاں پر دس بیس ہزار لوگ موجود تھے۔ جب میں نے ڈائس پر آکر یہ شعر پڑھا:
ملک بیچ دیتے ہو بے ضمیر ہو اتنے
کیا تمہارے بچوں کا اور کوئی ٹھکانہ ہے؟
تو ایک بزرگ کونے میں اٹھ کے کھڑے ہوگئے اور زارو قطار رونے لگے اور کہنے لگے کہ آپ اس شعر کو دوبارہ پڑھیے، پھر سہ بارہ پڑھیے۔ انہوں نے مجھ سے یہ شعر کئی بار پڑھوایا۔ یہ المیہ ہے کہ بعض چیزیں اتنی سچی ہوتی ہیں کہ ہمارے جو بزرگ جنہوں نے قربانیاں دیں، ایک وطن چھوڑ کر دوسرے وطن گئے اور وہاں جاکر بھی انہیں کوئی خاص اچھی صورتِ حال کا سامنا نہیں کرنا پڑا، تو ہمارے بزرگوں کو تو دکھ ہوگا اس بات کا۔ وہاں سبھی کو اس بات کا افسوس ہے، خاص طور پر جو لوگ اسے محسوس کرتے ہیں اور لکھتے ہیں۔ میں تو ان چیزوں پر بہت قلم اٹھاتی ہوں اور لکھتی ہوں۔
آج کے قلم کار کے لیے کوئی پیغام دینا چاہیں گی؟
ہاں، میں اتنا ہی کہوں گی کہ اگر ہم اپنے عہد پر نہیں لکھ رہے ہیں تو ہم سچے نہیں ہیں۔ اگر ہم قلم کار ہو کر اپنے عہد کی چیزوں کو منظر نامے پر نہیں لائیں گے تو وہ چیزیں عام نہیں ہوں گی، لوگوں کو پتہ نہیں چلیں گی۔ اس لیے بطور شاعر اور قلم کار ہماری یہ ذمہ داری ہے کہ ہم اپنی تخلیقات کے ذریعے اپنے عہد کی ترجمانی کریں، ناانصافی کے خلاف آواز بلند کریں اور لوگوں کو بیدار کریں۔

Share Article

One thought on “ذکیہ غزل سے انٹرویو

  • June 12, 2012 at 8:35 pm
    Permalink

    ذکیہ غزل کا انٹرویو پڑھکر بہت اچّھا لگا ایک شیر مے اپنے تسسرات بیانکررہا ہونن “تخلیک میری موت کی پابند نہیں ہے، مارکر بھی می اردو کی رسالو مے ملونگا”

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *