کیا قانون سے بالاتر ہیں خفیہ ایجنسیاں

احتشام الحق
پچھلے دنوں دربھنگہ کے ایک مسلم نوجوان کفیل اختر کی گرفتاری نے یہ ثابت کردیا ہے کہ ملک کی خفیہ ایجنسیوں کے سامنے قانون اور آئینی طریقہ کار کی کوئی اہمیت نہیں رہ گئی ہے۔ وہ کسی مسلمان کو گرفتار کرنے کے لیے ہر قانون ، ضابطے اور اخلاق کو با لائے طاق رکھ سکتی ہیں۔ کفیل اختر کو گرفتار کرنے کے لیے کرناٹک پولیس کے دس بارہ افراد علی الصباح ڈکیتوں کی طرح باڑھ سمیلا میں واقع اس کے گھر میں داخل ہوئے اور اس سے قبل کہ گھر کے لوگ کچھ سمجھ پاتے وہ پردہ نشین خواتین کو دھکے دیتے ہوئے چھت پر چڑھ گئے جہاں وہ اپنے بال بچوں کے ساتھ کمرے میں سویا ہوا تھا اور بغیر آواز دئے ہوئے اس کی خواب گاہ میں گھس گئے۔ جب اس کی بیوی نے آگے بڑھ کر ان کی اس اچانک اور غیر متوقع حرکت پر احتجاج کیا اور انہیں سخت سست کہا تو اس کو بھی دھکے دے کر آگے بڑھے اور نیند کی حالت میں ہی کفیل اختر کو دبوچ لیا اور لنگی اور بنیا ن میں ہی اسے اپنے ساتھ لے جانے لگے۔ حتیٰ کہ اسے قضائے حاجت پوری کرنے سے بھی روکنے لگے۔ بڑی منت سماجت کے بعد قضائے حاجت پوری کرنے اور پینٹ پہننے کی اجازت دی گئی۔ پھر اسے علاقائی پولیس انچارج اور مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنے کے بجائے رانچی کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ گھر والوں کی اطلاع کے مطابق ان لوگوں نے یہ کہا کہ رانچی میں ایک تصویر پہچاننے کے بعد اسے چھوڑ دیا جائے گا۔ اس کے بعد پولیس اسے رانچی لے گئی اور وہاں کی عدلیہ میں پیش کرنے کے بعد اسے بنگلور پولیس کے حوالہ کردیا گیا ہے۔ گھر والوں کا کہنا ہے کہ وہاں اس پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ دھماکہ کی ذمہ داری قبول کرے۔ جب کہ ان کا کہنا ہے کہ اس نے کبھی کرناٹک یا بنگلور کا سفر کیا ہی نہیں۔ بہت پہلے کبھی وہ دلی رہتا تھا لیکن پانچ سات سالوں سے وہ دربھنگہ میں رہ رہا تھا اور کہیں کا کوئی سفر نہیں کیا تھا۔

اس سے قبل بھی 55 سالہ سائیکل مستری محمد کفیل کو بھی دھوکہ دے کر ہی گرفتار کیا گیا تھا۔ بجائے محلہ میں واقع اس کی دکان پر پہنچنے اور گرفتار کرنے کے جب وہ اپنے بچے کو ڈاکٹر کے پاس لے جار ہا تھا شاہراہ پر ضرورت مند کی طرح اشارہ سے اسے بلایا گیا۔ جب وہ اس شخص کے پاس پہنچا تو اسے قریب کھڑی ایک گاڑی کے پاس چلنے کے لیے کہا گیا۔ جب وہ گاڑی کے پاس پہنچا تو اسے زبردستی گاڑی میں گھسیٹ کر داخل کرلیا گیا اور پھر دلی پولیس کے نوجوان اسے لے اڑے۔ اس کے گھر والوں کو اندازہ ہوا کہ اسے اغوا کرلیا گیا ہے اور جب انہوں نے تھانہ میں رپورٹ کی اور پولیس نے اغوا کار سمجھ کر خفیہ ایجنسی کی گاڑی کا پیچھا کیا تو اس کے کسی اہلکار نے فون کرکے بتایا کہ اسے گرفتار کیا گیا ہے۔ اسے بھی مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنے کے بجائے سیدھے دلی لے جایا گیا جہاں ابھی تک وہ تفتیشی کارروائی میں الجھا ہوا ہے۔ اب تک اس کے خلاف کوئی چارج شیٹ داخل نہیں کی گئی۔ یہ شخص غریب مفلوک الحال ہے جو سائیکل ٹھیک کرنے کی ایک چھوٹی سی دکان چلا کر حلال طریقہ سے بال بچوں کی پرورش کرتا تھا۔ چونکہ ابھی تک اس پر کوئی چارج شیٹ نہیں داخل کی گئی ہے اس لیے اس کی رہائی کے کوئی آثار ابھی نظر نہیں آ رہے ہیں۔ اس وجہ سے اس کے چھوٹے چھوٹے بچے بھوک اور پریشانی کا سامنا کر رہے ہیں۔ اسی طرح ممبئی بم دھماکہ معاملہ میں بے قصور گرفتار نقی کے بھائی تقی نے جب غیر سرکاری تنظیموں کا سہارا لیا اور پریس کانفرنس کے ذریعہ حقیقت کو اجاگر کرنے کی کوشش کی تو یہ بات ممبئی اے ٹی ایس کو ناگوار گزری اور اس پر بھی اس سلسلہ کا الزام عائد کرتے ہوئے دلی پولیس کو اطلاع دئے بغیر اس کو گرفتار کرنے کے لیے وہ دلی میں اس کی ورک شاپ پہنچ گئی۔ جہاں تقی اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ اس اثنا میں قرب و جوار کے لوگوں کو پتا چل گیا اور لوگوں نے آکر ممبئی اے ٹی ایس کے جوانوں کا گھیراؤ کرلیا قریب تھا کہ اینٹ پتھر برستے کہ دلی پولیس آ پہنچی اور اے ٹی ایس والوں کو اپنے ساتھ لے گئی اور پولیس چوکی لے جاکر انہیں پتلی گلی سے نکال دیا۔ اس کے بعد تقی کے گھر والوں نے معاملہ سیدھے سپریم کورٹ میں دائر کیا۔ سپریم کورٹ نے معاملہ کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے ممبئی اے ٹی ایس کو ویڈیو رکارڈنگ کے سے ساتھ تفتیشی کارروائی کرنے کا حکم دیا۔ اس حکم پر پوچھ گچھ کے بعد اسے نجات ملی۔ اس طرح وہ بے جا گرفت سے بچ سکا۔ اگر یہ سب واقعی مجرمین ہیں تو خفیہ ایجنسیوں کوایسے ڈراموں کی ضرورت کیا ہے؟ وہ چاہیں تو آئینی ضابطہ کی پابندی کرتے ہوئے بھی مجرمین کو گرفتار کرسکتے ہیں۔ ضابطہ کی پابندی کرنے پر انہیں عوام کی جانب سے بھی کسی دقت کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ اس سے تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ قانون سے بالاتر ہیں۔ اور یہ سوال کھڑا ہوتا ہے کہ کیا آئینی طریقہ مجرمین کو پکڑنے اور سزا دینے کے لیے نا مناسب ہے؟اس آئینی بے حرمتی سے صاف پتا چلتا ہے کہ ملک کی خفیہ ایجنسیاں ایک خاص مقصد کو سامنے رکھ کر کام کر رہی ہیں اور اس خاص مقصد کو بروئے کار لانے میں سیکولر آئینی طریقہ اس کی اجازت نہیں دے سکتا۔ اس لیے ان کی نظر میں آئین کی کوئی اہمیت نہیں رہ گئی ہے۔
اب تک اس سلسلہ میں بہار کے درجن بھر مسلم نوجوانوں کی گرفتاری عمل میں آ چکی ہے جن کا کوئی جرم اب تک سامنے نہیں آیا ہے۔ بلکہ ان پر زبردستی دباؤ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ وہ ناکردہ گناہوں کا اعتراف کرلیں تاکہ ان ایجنسیوں کے ذمہ تفویض کردہ کام انجام کو پہنچے۔ اس کے باوجود ان ساری گرفتاریوں میں اصل ملزم کے طور پر جس شخص کا نام آیا ہے وہ پولیس کی گرفت سے بالکل باہر ہے۔ نہ پولیس کی کارروائیوں سے یہ ظاہر ہو رہا ہے کہ اصل ملزم کو انہیں پکڑنا ہے۔ کیونکہ ایک طرف تو ملک کے کئی صوبوں کی خفیہ ایجنسیاں بہار کے چند اضلاع پر ٹوٹ پڑی ہیں اور امن پسند شہریوں کو ہراساں بلکہ دہشت زدہ کر رہی ہیں۔ان سب کے ہزار جتن کے باوجود ایک مبینہ دہشت گرد جس نے نہ صرف دہشت گردانہ واقعات انجام دئے ہیں بلکہ ان کے بقول ملک کے کچے ذہنوں کو بھی خراب کیا ہے ان کی گرفت سے بچا ہوا ہے۔ اب تو ایسے خدشات ظاہر کیے جارہے ہیں کہ واقعی اگر ایسا کوئی شخص تھا تو وہ ان خفیہ ایجنسیوں کا ہی ہتھکنڈہ تھا جو ملک کی کثیر مسلم آبادی والے امن پسند علاقوں کو دہشت گردانہ واقعات کے لیے تیار کرنے کے لیے بھیجا گیا تھا تاکہ بھگوا فکر کو سیاست کا موقع ملے اور یہ ثابت ہوسکے مسلمان دہشت گرد ہوتے ہیں۔ ورنہ کیا وجہ ہے کہ کوئی شخص ملک کے کسی حصہ میں با ضابطہ نیٹ ورک تیار کرے اور ملک کی خفیہ ایجنسیاں اس سے بالکل بے خبر ہوں۔ کوئی نیٹ ورک روز دو روز میں تیار نہیں ہوسکتا۔ اب وقت آگیا ہے کہ مسلمان گول بند ہو کر اس فتنہ کے خلاف کھڑے ہوں اور وزارت داخلہ پر یہ دباؤ ڈالیں کہ اصل ملزم کو سامنے لایا جائے۔ اور وزیر اعظم سے اپیل کی جائے کہ وہ اپنی سطح سے اس کی جانچ کرائیں تاکہ حقیقت حال کا پتہ چل سکے اور شکوک و شبہات میں مبتلا مسلمانوں کا سیکولرزم پر یقین اور پختہ ہوسکے۔ کیونکہ اس طرح کے واقعات سے خفیہ ایجنسیوں پر سے لوگوں کا اعتماد ختم ہو رہا ہے اور یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ ملک کے اکثر حصوں میں جہاں جہاں مسلمانوں کو اس طرح کے واقعات میں نشانہ بنایا گیا اسی طرح کے ڈراموں سے کام لیا گیا ہے۔ ظاہر ہے اس سے سیکولرزم کی ساکھ کمزور ہوگی اور ملک میں انارکی پھیلے گی۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم حکومت اور خفیہ ایجنسیوں سے مانگ کریں کہ اب تک جو تفتیشی کارروائیاں ہو چکی ہیں یا ہونی ہیں انہیں جلد مکمل کرکے سارے واقعات کو عوام کے سامنے لایا جائے اور اگر خفیہ ایجنسیوں کی طرف سے سچ کے اظہار کی سزا بھگتنی نہ پڑے تو گرفتار شدگان کو میڈیا کے روبرو ہونے کا موقع دیا جائے تاکہ ہمارا اعتماد بحال ہو اگر حکومت اسے غیر ضروری نہ سمجھے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *