ایمانداری کی سزا

دلیپ چیرین
ہریانہ کیڈر کے انڈین فاریسٹ سروسز کے افسر سنجیو چترویدی کو بدعنوانی کا پردہ فاش کرنے کی قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے۔ سنجیو چترویدی نے گزشتہ دنوں ہی سینٹرل ڈپیوٹیشن پر جانے کے لیے ریاستی حکومت سے اجازت مانگی تھی، لیکن ہریانہ حکومت نے انہیں اجازت نہیں دی،جبکہ مرکزی حکومت نے ہریانہ حکومت سے انہیں اجازت دینے کی سفارش کی تھی۔غور طلب ہے کہ سنجیو چترویدی نے ہریانہ میں ہو رہے جنگلاتی گھوٹالہ کا پردہ فاش کیا تھا۔ محکمۂ جنگلات کے افسران اور طاقتور لیڈروں کے درمیان ساز باز ہے، جس کے سبب محکمہ میں ہو رہے گھوٹالوں کے خلاف کارروائی نہیں ہو رہی ہے۔ چترویدی نے سی بی آئی تفتیش کا مطالبہ کیا تھا، اس کے بعد سے انہیں کئی طرح کی تفتیش کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔انہیں پریشان کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے سینٹرل ڈپیوٹیشن پر جانے کی خواہش ظاہر کی تھی۔ ذرائع کے مطابق، مرکزی وزارت برائے ماحولیات و جنگلات نے ہریانہ کے چیف سکریٹری پی کے چودھری سے کہا تھا کہ سنجیو چترویدی کو ان کی موجودہ ذمہ داریوں سے آزاد کر دیا جائے، تاکہ انہیں دہلی بلایا جا سکے، لیکن ابھی تک ریاستی حکومت نے کوئی جواب نہیں دیا ہے۔
وزارت کوئلہ کے لئے اہم بابو
وزارت کوئلہ آج کل بہت تذکروںمیں ہے۔گزشتہ مہینہ کوئلہ سکریٹری آلوک پیٹری ریٹائر ہوئے اور ان کی جگہ آسام کیڈر کے افسر ایس کے سریواستو کو کوئلہ سکریٹری مقرر کیا گیا۔ حالانکہ آلوک پیٹری ریٹائر ہو گئے ہیں، لیکن انہیں وزارت کوئلہ سے جانے نہیں دیا گیا ہے اور اگست تک وزارت کا صلاح کار مقرر کیا گیا ہے۔ آلوک پیٹری کو وزارت کوئلہ میں کسی طرح برقرار رکھنے کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، کیونکہ وزارت ابھی تنازعات میں پھنسی ہے۔ سی اے جی کی رپورٹ کے مطابق ، جس طریقہ سے کوئلہ کانوں کے الاٹمنٹ کیے گئے ہیں ، اس سے حکومت کو کروڑوں روپے کا خسارہ ہوا ہے۔اس تنازع میں وزیراعظم منموہن سنگھ بھی پھنسے ہوئے ہیں اور یو پی اے حکومت انہیں پاک صاف ثابت کرنے کی مناسب دلیل تلاش نہیں کر پائی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پیٹری کے پاس اس وزارت کی معقول معلومات ہیں۔انھوں نے اس وزارت میں طویل وقت گزارا ہے۔پیٹری اور سریواستو نے وزیر کوئلہ سری پرکاش جیسوال کے ساتھ کام کیا ہے۔ تاہم ، وزارت کو اس مصیبت سے نکالنے میں یہ دونوں بھی مدد کر سکتے ہیں۔ویسے بھی جب پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس شروع ہوگا تو سی اے جی رپورٹ پر سوال اٹھنا ہی ہے۔ ایسی صورت میں ان دونوں افسروں کی مدد لی جا سکتی تھی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *