ہند ۔میمانمار مضبوط رشتے کی علامت : بہادر شاہ ظفر کا مزار

شفیق عالم 

گزشتہ دنوں ہندوستان کے وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ اپنے تین روزہ اہم سرکاری دورے پر میانمار گئے ۔یہ دورہ اس لیے بھی اہم تھا کیوںکہ پچھلے پچیس سالوں میں کسی ہندوستانی وزیراعظم کا میانمار کا یہ پہلا دورہ تھا۔ 1990کی دہائی میں فوج نے جب جمہوریت کا خاتمہ کرکے فوجی حکومت قائم کی، اسی وقت سے ان دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کشیدہ ہوگئے تھے ۔ ہندوستان نے کھل کر جمہوریت کی حامی رہنما آنگ سانگ سوکی کی حمایت کی تھی، جو وہاں کی فوجی جونٹا کو ناگوار گزری تھی۔ وزیر اعظم منموہن سنگھ کے اس دورے میںدونوں ملکوں کے درمیان تجارت اور سفارتی نوعیت کے کل 12معاہدوں پر دستخط کیے گئے اوررشتوںکو ہموار کرنے کے لیے اہم پیش رفت کی گئی۔ منموہن سنگھ میانمار میں اپنے قیام کے دوران آخری مغل بادشاہ، بہادر شاہ ظفر کے مزار پر حاضری دینے گئے اور خواجہ معین الدین چشتی کی درگاہ اجمیر سے خاص طور پر تیار کی گئی چادر چڑھائی۔
مغل بادشاہوں میں ہمایوں کوایک بدنصیب بادشاہ اس لیے تصور کیا جاتا ہے، کیوں کہ تما م پریشانیاں اٹھانے کے بعد جب وہ دوبارہ دہلی کی سلطنت پر قابض ہوا تو محض چند دنوں میں ہی اس کی موت ہو گئی۔ مغلوں میں جو دوسرا سب سے زیادہ بدنصیب بادشاہ تھا، وہ تھا محمد شاہ رنگیلے ، جسے روہیلوں نے اندھا کر دیا تھا۔ اس واقعہ کو اردو کے مشہور شاعر میر تقی میرؔ نے اپنے لافانی شعر ’’شاہاں کہ کہل جواہر تھی خاک پا جن کی /انہی کی آنکھوں میں پھرتی سلائیاں دیکھیںــ‘‘ سے امر کر دیا۔شاہ عالم کی سلطنت کے بارے میں مشہور تھاکہ ’’سلطنت شاہ عالم از دہلی تا پالم‘‘ (یعنی شاہ عالم کی حکومت دلی سے پالم تک محدود ہو گئی تھی)، لیکن عظیم مغل بادشاہوں (جن کے جاہ و جلال کا یہ عالم تھا کہ ان کے ابرو کے ایک اشارے سے لوگوں کی قسمت بدل جاتی تھی) میں جو سب سے زیادہ بد نصیب بادشاہ تھا، وہ تھابہادر شاہ ظفر۔ بہادر شاہ ظفر کی حکومت نہ صر ف لال قلعے کی چہار دیواری میں قید ہو کر رہ گئی تھی، بلکہ 1857کی ناکام جنگ آزادی کے بعد ان پراور ان کے خاندان پر جو مصیبتیں نازل ہوئیں، ا ن کی مثال کم از کم مغل ہندوستان میں تو نہیں ملتی ۔ جہاں ایک طرف انگریز مخالف مہم میں ہندوستانیوں کا قائد ہونے کی وجہ سے ان کا پورا خاندان انگریزوں کے عتاب کا شکار ہوا ، وہیں ہندوستانی مؤرخین نے بھی ان پر یہ الزام عاید کیا کہ عین لڑائی کے دوران انہوں نے انگریزوں سے خط و کتابت کی اور ان سے مفاہمت کی کوشش کی۔ یہاں تک کہ مسلمانوں کو بھی ان سے یہ شکایت رہی کہ ان کے ساتھ ہی ہندوستان میںمسلمانوں کی تہذیبی برتری کا سلسلہ ختم ہوگیا۔ ان تمام ناکامیوں اور رسوائیوں میںظفرؔ کو جس بات کا سب سے زیادہ ملال تھا، وہ تھا اپنے وطن سے جلاوطنی کا۔ اس احساس کا اظہار انہوں نے اپنی زندگی کی آخری دور کی غزلوں میں کیا ہے۔ ہرحال، 1857کی نا کام جنگ آزادی ہندوستانیوں کی اجتماعی حسیت پر ایک ایسا زخم چھوڑ گئی جس کی ٹیس ایک عرصہ گزر جانے کے بعد آج بھی محسو س کی جا سکتی ہے۔ اور اس لڑائی کے مرکز میں اگر کسی ایک شخص کا نا م لیا جا سکتا ہے تو وہ بہادرشاہ ظفر کا نا م تھا۔ اسی لیے ہندوستان کا کوئی بھی نمائندہ میانمار کا دورہ کرتاہے تو ظفرؔ کے مزار پر حاضر ی دینے ضرور جاتا ہے۔
انگریزوں کو ہمیشہ اس بات کا احساس تھا کہ جس طرح 1857 میں میرٹھ کے سپاہیوںنے ایک مجبور ،بے بس اور صرف نام کے بادشاہ کو اپنا شہنشاہ منتخب کر لیا ، اسی طرح آنے والے دنوں میں بھی بہادر شاہ ظفر کو ایک مرکز کی طرح استعمال کرتے ہوئے کوئی مزاحمتی مہم چلائی جا سکتی ہے۔ لہٰذا، انہوں نے اس کی ایک بہترین ترکیب نکالی اور انہیں جلاوطن کرکے ہندوستان کے سیاسی مرکز، دہلی سے بہت دور برما کی راجدھانی رنگون بھیج دیا ، جہاں انہوں نے اپنی عمر کے آخری چند سال ایک انگریز افسر کے گیریج میں گزارے۔ وہاں انہیں لکھنے پڑھنے کے لیے کاغذ اور قلم کی فراہمی پر پابندی لگا دی گئی تھی۔ لہٰذا، انہوں نے تنہائی دور کرنے اور اپنے احساسات کو ظاہر کرنے کے لیے اسی انگریز افسر کے گیریج کی دیواروں کا سہارا لیا اوراپنی مشہور غزل ’’پڑھے فاتحہ کوئی آئے کیوں /کوئی چار پھول چڑھائے کیوں؛ کوئی آکے شمع جلائے کیوں/میں وہ بے کسی کا مزار ہوں‘‘ کہی۔حالانکہ بعض محققین کا خیال ہے کہ یہ اشعار ظفرؔ کے نہیں ہیں، لیکن یہ اشعار جس طرح سے ظفرؔ کے حالات زندگی کا احاطہ کرتے ہیں وہ کسی اور پہ نہیں کرسکتے۔لیکن بہادر شاہ ظفر کے خود کے اندیشوں اور انگریزوں کے اس خیال کی کہ ان کی قبر کہیں انگریزوں کے خلاف کسی بغاوت کا مرکز نہ بن جائے، کی ترید اس وقت ہوگئی جب ہندوستان کی تحریک آزادی کے ایک عظیم سپاہی نیتاجی سبھاش چندر بوس نے ’’دہلی چلو‘‘ کا نعرہ دیا اور اپنے مہم کا آغاز کیاتوہندوستان کے اس آخری بادشاہ کے مزار پر حاضری دے کر انہیں خراج عقیدت پیش کرنا نہیں بھولے۔سیاسی رہنماؤںبہادرشاہ ظفر کے مزار پر حاضری کا سلسلہ آج تک جاری ہے۔
منموہن سنگھ سے قبل ہندوستان کے اس وقت کے صدر اے پی جے عبدالکلام نے اس مزار پر حاضری دی تھی اور دہلی میں واقع حضرت نظام الدین اولیا کی درگاہ سے خصوصی طورپر تیار کی گئی چادر چڑھائی تھی اور انہی کی غزل کا حوالہ دیتے ہوئے وہاں موجو د میسج بک میں ایک بڑا ہی دلچسپ پیغام لکھا تھا۔ انہوں نے لکھا تھا کہ ’’آپ نے پوچھا ہے کہ آپ کے مزار پر کون آئے گا؟ آج میں اپنے ملک کے عوام کی طرف سے یہاں آیا ، دعا کی، چراغ بھی روشن کیا، چادر بھی چڑھائی اور فاتحہ بھی پڑھا۔ اللہ آپ کو جنت دے۔ــ‘‘ ہندوستان، پاکستان اور بنگلہ دیش کا شاید ہی کوئی نمائندہ ہو جو میانمار جائے اور بہادر شاہ ظفر کے مزار پر حاضری نہ دے۔
1949میں بہادر شاہ ظفر میموریل سوسائٹی، دہلی نے یہ مطالبہ کیا تھا کہ بہادر شاہ ظفر کے جسد خاکی کی باقیات کو دہلی واپس لایا جائے ، لیکن اس وقت کے وزیر اعظم جو اہر لال نہر ونے یہ کہتے ہوئے منع کر دیا تھا کہ یہ مزارعلامت ہے ہندوستان کے اس یقین کی کہ وہ اپنی تہذیبی وراثت کے رکھ رکھاو ٔمیں میانمار پر بھر وسہ کر سکتا ہے۔ نیز انگریزوں نے برما کے راجہ تھائبو کو معزول کرکے رتنا گیری، مہاراشٹر جلاوطن کر دیا تھا، جہاں ان کے انتقال کے بعد ان کی سمادھی بنی ہوئی ہے۔ اس سمادھی کو بھی میانمار منتقل کرنے کی با ت چل رہی تھی، تاہم وزیر اعظم جو اہر لال نہرو اور میانمار کے وزیر اعظم نے مشترکہ طور پر یہ فیصلہ لیا کہ ان دونوں یادگاروں کو دونوں ملکوں کی مشترکہ تاریخی وراثت کا حصہ تصور کرتے ہوئے انہیں ان کے اصل مقام پر ہی چھوڑ دینا چاہیے۔ بہادر شاہ ظفر کے ضمن میں جو دوسری اہم بات ہے، وہ یہ ہے کہ رنگون (نیا نام ’ینگون‘) کے مقامی مسلمان انہیں بہت بڑا صوفی تصور کرتے ہیں اور ان کے مزار پر جا کر اپنی مرادیں پوری ہونے کی دعائیں مانگتے ہیں۔سرکاری اعداد وشمار کے مطابق میانمار میںمسلمانوں کی آبادی تقریباًآٹھ لاکھ ہے۔ لہٰذا ، قبر کی منتقلی سے انہیں بہت ہی مایوسی ہوگی۔ برمی مسلمانوں پر حالیہ کچھ برسوںفوجی حکومت کی جانب سے طرح طرح کے مظالم ڈھائے جا رہے ہیں۔ جن سے تنگ آکر انکی ایک بڑی تعداد ہجرت کرکے پڑوسی ملکوں کا سہارا لے رہی ہے۔یہ مہاجرین جن ملکوں کا سہارا لے رہے ہیںان میں ہندوستان بھی شامل ہے ، مگر یہاں پناہ لینے والوں کو بے پناہ مشکلوں کا سامنا کرنا پڑ رہا۔لہٰذا، منموہن سنگھ کو اپنے دورے میں اس مسئلے کو بھی شامل کر نا چاہئے تھا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ رنگون ہندوستانیوں کی اجتماعی حسیت میں شامل ہے اور اس میں بہادر شاہ ظفر کی معزولی اور رنگون میں جلاوطنی کا خاصا عمل دخل ہے۔ جو دوسری اہم بات ہے، وہ یہ ہے کہ بہادر شاہ ظفر کا مزار ان دونوں ملکوں کی تہذیبی روایت کا حصہ ہے ، جو ہندوستان کے ایک نہایت اہم ہمسایہ ملک سے رشتوں کو خوشگوار بنانے میں مدد گار ثابت ہوگا۔ لہٰذا، کم سے کم ہندوستانی حکومت اتنا تو کر ہی سکتی ہے کہ اس مزار کے دیکھ ریکھ کی ذمہ داری اپنے اوپر لے ، تاکہ بہادر شاہ ظفر کی یہ شکایت درست نہ ثابت ہو کہ ’’کسی بے کسی کا مزار ہوں‘‘۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *