دلاور فگار کا شعری سفر : شباب سے فگار تک

ڈاکٹر خالد حسین 

دلاور فگارؔ کی ولادت 8 جولائی، 1928 کو بدایوں میں ہوئی۔ والدین نے دلاور حسین نام تجویز کیا۔ تعلیمی مراحل بدایوں اور آگرہ یونیورسٹی سے سر کیے۔ دلاور فگارؔ نے شاعری کی ابتدا غزل گوئی سے کی، تاہم جلد ہی انہوں نے دوشیزۂ غزل کے حلقہ زنجیر کو موئے آتش دیدہ سمجھ کر طنز و مزاح کے نخلستان میں پناہ لی اور اس کے دامنِ رنگین بلکہ سنگین کو پوری طرح تھام کر اپنی پوری زندگی اس کے سایہ دلنشیں میں گزار دی۔ ان کی غزلوں کا اولیں مجموعہ ’’حادثے‘‘ 1954 میں زیورِ طباعت سے آراستہ ہو کر شائقین ادب تک پہنچا۔ پہلے وہ شبابؔ بدایونی کی حیثیت سے غزل گو منظر عام پر نمودار ہوئے۔ ’’حادثے‘‘ کی اشاعت کے بعد وہ شبابؔ سے فگارؔ ہو گئے۔ ان کی ایک نظم ’’ابو قلموں کی ممبری‘‘نے 1956 میں دلدادگانِ ادب کو عموماً اور اہالیانِ بدایوں کو خصوصاً اپنی جانب متوجہ کیا۔ اس طویل نظم کو ہم ان کی کامیاب نظم کہہ سکتے ہیں۔ اس کے بعد ان کی مزاحیہ نظموں، قطعوں اور رباعیوں کا پہلا مجموعہ ’’ستم ظریفیاں‘‘ 1963 میں شائع ہوا۔ اس کی اشاعت کے بعد ان کا نام شہرت کے پروں پر اڑ کر بدایوں کی حدود کو پار کر گیا۔ اسی دوران ان کی ایک اور نظم ’’شاعرِ اعظم‘‘ منظر عام پر آئی۔درحقیقت، یہ نظم ان کے حق میں نہ صرف اسم بامسمّیٰ ثابت ہوئی، بلکہ ان کی شہرت کا اولیں سنگ میل بھی کہی جاسکتی ہے۔

دلاور فگارکا فن زندگی اور وارداتِ زندگی سے بہت نزدیک ہے۔ اگر اکبر الٰہ آبادی اپنے دور کے یگانۂ روزگار طنز و مزاح نگار ہیں تو فگار عصر رواں کے نمائندہ شاعر کہے جا سکتے ہیں۔ ان کے ہر قہقہے کی تخلیق فکر و تاثر اور شعورِ ادراک کے آغوش میں ہوئی ہے۔ حکومت، اربابِ حکومت اور سماج کے ہر طبقہ اور ہر سطح کا انسان اور کردار ان کی مزاحیہ تنقید شعری کا ہدف بنا ہے۔ ان کی مزاحیہ شاعری کے سنجیدہ مطالعے سے اکیسویں صدی کا مؤرخ پاکستان کی صحیح تاریخی حقیقتوں اور اس کے مضمرات تک بآسانی پہنچ سکتا ہے

بالعموم یہ دیکھا گیا ہے کہ انسان کی شخصیت و سیرت پر اس کے نام کا بہت حد تک اثر ضرور پڑتا ہے۔ ابتدا میں ان کے نام، دلاور حسین اور تخلص شبابؔ کے اثرات ان کے کلام میں دیکھے جاسکتے ہیں، یعنی وہ میدانِ غزل میں روایتی دلاوری، دوسرے لفظوں میں پہلوانی کرتے رہے اور شبابؔ کی مناسبت سے وہ معاملاتِ حسن و عشق اور شاہد و شباب کے ساتھ کباب کا ذکر بھی خوب لطف و لذت سے کرتے ہیں۔غزل کے دو اشعار بطور نمونہ دیکھئے:
مجھے ہنگامہ ہائے زیست سے ڈرنا نہیں آتا
کہ ہنگامے مری عمر رواں کے ساتھ چلتے ہیں
کبھی زاہد ، کبھی پیر مغاں کے ساتھ چلتے ہیں
چمن والے ہوائے گلستاں کے ساتھ چلتے ہیں
بدایوں سے ہجرت، دلاور فگار نے بحالت مجبوری کی یا معترفین کے سبز باغ دکھانے پر، تاہم یہ بھی طے شدہ امر ہے کہ بدایوں کے ان کے ہم چشموں کی بے مہری اور ان کے کلامِ نرم و نازک پر جا و بے جا حرف گیری نے بھی ان کو اپنے وطن عزیز سے بددل و برداشتہ ضرور کیا۔ اسی سبب وہ ایک سچے اور پکے محب وطن ہونے کے باوجود ترکِ وطن کرکے مجبوراً پاکستان منتقل ہوگئے۔ پاکستان جانے کے بعد دلاور فگار کے کلام میں نہ وہ شوخی اور نہ ہی وہ بے ساختگی نظر آتی ہے، جیسی ہندوستان میں تھی۔ یہ ضرور ہے کہ ظرافت کے ساتھ طنزیہ رموز و علائم کی فراوانی نے ان کی شاعرانہ جہت کو مزید وسعت ضرور بخشی۔ بہرحال، دلاور فگار اس صورتِ حال کی عکاسی یوں کرتے ہیں:
یہ کون جانِ بہاراں چمن سے جاتا ہے چمن کو اپنی بہاروں پہ ناز بھی نہ رہا
یہ کس نے چھین لیا مجھ سے ذوقِ شعر و سخن مرے کلام میں سوز و گداز بھی نہ رہا
جو کل عزیز تھے ، وہ آج یوں ہیں بیگانے کہ خویش و غیر میں کچھ امتیاز بھی نہ رہا
مذکورہ اشعار، دلاور فگار کے دل محزوں کی تڑپ، کسک اور مجبوری کی شہادت دے رہے ہیں اور میرؔ کے لفظوں میں، وہ اپنے اسی دل پر خوں کی اک گلابی سے، عمر بھر رہے شرابی سے۔ دلاور فگار، بدایوں سے رخصت ہو کر بھی جہاں اپنے ہم جلیسوں اور رفیقوں کی محبت کو یاد کرتے ہیں وہیں وہ اپنے ریا کار احباب کو بھی یوں مخاطب کرتے ہیں:
صرف مجھ کو ہی نہیں ترکِ گلستاں کا ملال
خود بھی مغموم ہیں اربابِ چمن میرے بعد
دوستو ! تم سے گزارش ہے یہ وقت رخصت
گل نہ ہو جائے کہیں شمع سخن میرے بعد
جن کو نفرت تھی مری ذات سے بے وجہ فگار
کس قدر خوش ہیں وہ یارانِ وطن میرے بعد
یہاں یہ سوال ضرور سر اٹھاتا ہے کہ دلاور فگار سنجیدہ غزل گوئی ترک کرکے، طنز و ظرافت کے خارزار میں کیوں کود پڑے؟ اس کا جواب اس رمز میں پنہاں ہے کہ ہماری یہ ارضی و سماوی کائنات چونکہ صرف توازن و اعتدال پر قائم ہے اور اس میں سرموٗ تغیر و تبدیلی قیامت کا سبب بن سکتی ہے۔ سائنسی اصطلاح میں اس کو ’’کشش ثقل‘‘ کہا جاتا ہے۔ اسی مانند کسی ملک، معاشرے اور افراد کی کار گزاریوں میں توازن قائم نہ رہے یا بے راہ روی اور بے اعتدالی راہ پا جائے تو شاعر و ادیب اپنے معاشرے کے گرد و پیش میں مروجہ اس نوع کی کج رویوں اور بے اعتدالیوں پر اپنی شعری و نثری مزاحیہ تخلیقات سے ان کا مذاق اڑاتا ہے اور کبھی طنز کے تیر چلاتا ہے، مقصد اصلاحِ قوم یا اصلاحِ معاشرہ کے ساتھ توازن و اعتدال کی جانب متوجہ کرنا ہوتا ہے۔ دلاور فگار نے یہی فریضہ اپنی شاعری سے ادا کیا اور اس مقصد میں وہ اپنی امید سے زیادہ کامیاب و کامراں بھی ہوئے۔
دلاور فگار، زیرک اور دوراندیش تھے، اس لیے اپنی ظریفانہ شاعری کے لیے اکبر الٰہ آبادی کو اپنا آئیڈیل بلکہ ماڈل بنایا، اس کے علاوہ انہوں نے پطرس، رشید احمد صدیقی، احمق پھپھوندوی، ظریف لکھنوی اور رئیس امروہوی کے اسلوب کو بھی پیش نظر رکھا۔
دلاور فگار نے طنز و مزاج کو محض تفنن طبع کی خاطر اختیار نہیں کیا، بلکہ اکبرؔ کی طرح ان کا مطمحِ نظر معاشرہ اور سماج کی دکھتی رگوں پر انگلیاں رکھنا تھا۔ سماج کی کج روی کا علاج وہ ایک تجربہ کار معالج کی طرح اپنے شعری نشتروں سے کرنے لگے۔ ان کے کلامِ نرم و نازک میں اگر اکبرؔ جیسی مقصدیت اور ظریفؔ جیسی ظرافت موجود ہے تو جعفریؔ اور رئیسؔ جیسی عصری آگہی بھی ہے۔ اکبرؔ، ظریفؔ اور واہیؔ کے بعد دلاور فگارؔ کی آواز و اسلوب ہمیں اپنی جانب فی الفور متوجہ کر لیتے ہیں اور یہ خوبی معمولی نہیں۔ دراصل فگار کی خوبی یہ ہے کہ انہوں نے طنز و ظرافت کو سنجیدگی اور سنجیدگی کو طنز و ظرافت کی شان عطا کی۔ اسی لیے ان کے یہاں شعلہ و شبنم باہم شیر و شکر ہو گئے ہیں، جن کے مطالعے سے ہمارے دلوں کو سرور اور آنکھوں کو نور حاصل ہوتا ہے۔
دلاور فگارؔ کا فن زندگی اور وارداتِ زندگی سے بہت نزدیک ہے۔ اگر اکبرؔ الٰہ آبادی اپنے دور کے یگانۂ روزگار طنز و مزاح نگار ہیں تو فگارؔ عصر رواں کے نمائندہ شاعر کہے جا سکتے ہیں۔ ان کے ہر قہقہے کی تخلیق فکر و تاثر اور شعورِ ادراک کے آغوش میں ہوئی ہے۔ حکومت، اربابِ حکومت اور سماج کے ہر طبقہ اور ہر سطح کا انسان اور کردار ان کی مزاحیہ تنقید شعری کا ہدف بنا ہے۔ ان کی مزاحیہ شاعری کے سنجیدہ مطالعے سے اکیسویں صدی کا مؤرخ پاکستان کی صحیح تاریخی حقیقتوں اور اس کے مضمرات تک بآسانی پہنچ سکتا ہے۔ ان کے مزاحیہ شعروں میں کوئی قہقہہ، کوئی مسکراہٹ اور کوئی تبسم سطحی یا پست نہیں ہے۔ اسی طرح ان کے ہر طنز و تمسخر کے بطون میں باہمی اخوت، ملی وحدت، انسانی بھلائی اور امن و آشتی کا بحر ذخار ٹھاٹھیں مارتا نظر آتا ہے، لطف یہ کہ ان کے قلم کو مصلحت و مرعوبیت اور مراعات و مروت نے کسی مقام پر بھی افشائے راز اور حق حقانیت کے اظہار سے کبھی باز نہ رکھا۔ وہ جو کچھ دیکھتے ہیں، جو کچھ محسوس کرتے ہیں، جو کچھ کہنا چاہتے ہیں اور جو کچھ مناسب سمجھتے ہیں بے محابا، بے جھجک اور بے لاگ سپرد تحریر کر دیتے ہیں۔ دلاور فگارؔ اپنی حیات میں کافی مقبول و محترم ہوئے اور عزو وقار نے ان کے آستانۂ شاعری پر ہزاروں سجدے نثار کیے۔ شاعری میں طنز و مزاح کے اصول و ضوابط سے عہدہ برآ ہونے میں انہوں نے بڑی مہارت و جسارت دکھائی اور یہی سبب ہے کہ آج دلاور فگارؔ کا نام طنزیہ و مزاحیہ شاعری کی تاریخ میں ایک عہد آفریں نام بن گیا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *