تبصرۂ کتب

نام کتاب : فکر
مصنف : رضوان عابد قریشی
صفحات : 344
قیمت : 200 روپے
ناشر : الوعظ پبلشرز، الوعظ انٹرنیشنل، گلی جامن والی، دریا گنج، نئی دہلی
تبصرہ نگار : شاہد نعیم

رضوان عابد قریشی کے مضامین اکثر و بیشتر اخبارات و رسائل میں پڑھنے کو ملتے ہیں۔ مذہبی اور اصلاحی مضامین لکھنے میں انہیں ملکہ حاصل ہے۔ ان کے بیانیہ میں ہمیشہ تاریخ اسلام حاوی رہتا ہے۔ ملت کا درد ان کے دل میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب وہ قلم اٹھاتے ہیں تو ایک فاتح قوم کی تاریخ اور موجودہ دور میں اس کی زبوں حالی آشکارا ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ملت کو کھویا ہوا مقام دلانے کے لیے بھی وہ راہ دکھاتے نظر آتے ہیں۔ دہلی کے رہنے والے رضوان عابد معاشیات کے طالب علم تھے، لیکن گھر کے ماحول نے ان کے فکر و و احساس کو اسلامیات کی طرف موڑ دیا۔ گزشتہ دنوں ’’فکر‘‘ عنوان سے ان کا اسلامی و اصلاحی مضامین کا مجموعہ شائع ہوا ہے، جس میں انہوں نے اپنے مذہبی، اصلاحی اور سیاسی مضامین یکجا کرکے ایک کتاب کی شکل دے دی ہے۔
’’فکر‘‘ کے مقدمہ میں رضوان صاحب نے اپنی فکر کا یوں احساس کرایا ہے:
’’دنیا میں اس وقت 140 کروڑ مسلمان ہیں اور ما شاء اللہ سارے کے سارے مجھ سمیت بے توقیر اور ذلیل ہیں۔ آج کی ماڈرن دنیا میں ہمارا یوگدان زیرو ہے۔ دنیا کی بداخلاق قوم اگر کوئی ہے تو مسلمان ہیں۔ ہمیں اپنے معاملات کا از سر نو جائزہ لینا ہوگا اور قرآن و سنت کی اعلیٰ اقدار کے تحت زندگی گزارنی ہوگی۔ قرآن کو کتابِ ہدایت سمجھ کر پڑھ کر اس پر عمل کرنا ہوگا، شاید کہ فلاح پا جائیں۔ اپنی ناکامیوں اور نااہلیوں کو دوسروں کی سازش قرار دے کر کام نہیں چلے گا۔ خرابی دراصل ہمارے ہی اندر ہے۔‘‘
مقدمہ کا اختتام وہ ان الفاظ میں کرتے ہیں :
’’قرآن کو سمجھو، توحید کو اپناؤ، فرقوں میں تقسیم نہ ہو، ایک دوسرے کے دکھ درد کو سمجھو، دوسری قوموں کے ساتھ محبت و اخوت کا طریقہ اپناؤ۔ اپنے اخلاقیات سے دوسری قوموں کو متاثر کرو۔ سرور کائنات کو اپنا آئیڈیل بناؤ۔‘‘
’’فکر‘‘ چار حصوں پر مشتمل ہے۔ پہلا حصہ ’’قرآنی تطبیقات‘‘ ہے، جس کے تحت 20 مضامین لکھے گئے ہیں۔ اسلام کا سیاسی نظام، معاشرے کو مضبوط اور مربوط رکھنے کے لیے اسلامی سماج کے اصول، ایمان بالغیب اور روزے کی اصل حکمت، علم دین کیا ہے؟ اللہ کن لوگوں کو پسند نہیں کرتا، شہادت حسین: پس منظر اور تجزیہ وغیرہ جیسے مضامین قرآنی تطبیقات کی جان ہیں۔ اس کے بعد ’’اسلامی تاریخ کے دریچے سے‘‘ عنوان کے تحت چار مضمون شائع کیے گئے ہیں۔ تاریخی صلیبی جنگیں، حضرت سعد بن ابی وقاص، حضرت عمرو بن العاص اور سیدنا خالد بن ولیدؓ پر ایمان افروز مضمون لکھے گئے ہیں۔ تیسرا حصہ ’’اصلاحی مضامین‘‘ ہے، جس میں پندرہ مضامین ہیں۔ آخر قرآن کی تکذیب کیوں؟ ہم سب کام الٹے کیوں کرتے ہیں؟ شرم تم کو مگر نہیں آتی، ملت اسلامیہ کے نام ایک پیغام، ہندو مسلم مفاہمت، عرب دنیا اور سیکولر ازم، ہندوستان کی سیاست کاحل، کانگریس کی بقا اور ہندوستانی مسلمان، ہندوستان کے مسلمان اور ان کی مذہبی قیادت اور بٹلہ ہاؤں کی گونج جیسے عنوانات پر فکر انگیز اور اصلاحی مضامین رضوان عابد کے احساسات اور علم و آگہی کی ترجمانی کرتے ہیں۔ آخری حصہ میں ’صہیونیت اور مسلمان‘ عنوان کے تحت تقریباً نو مضامین شائع ہوئے ہیں، جس میں رضوان عابد نے اسرائیل، صہیونیت، اشکنازی اور اسلام، اسامہ بن لادن، عالم اسلام پر صہیونی یلغار اور سرمایہ دارانہ نظام جیسے عنوانات پر تاریخی حوالوں سے بھرپور انداز میں گفتگو کی گئی ہے۔ زبان سلیس اور دل میں اتر جانے والی ہے۔ قارئین کے دلوں پر یقینا ’’فکر‘‘ اپنی چھاپ چھوڑے گی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *