بالی ووڈ کو سائوتھ فلم انڈسٹری کا سہارا

سلمان علی 

ایسا لگتا ہے کہ بالی ووڈ میں فی الوقت بہترین اسکرپٹ رائٹرس کا فقدان پیدا ہوگیا ہے۔ گزشتہ کچھ عرصہ میں جتنی بھی بڑے بینر کی یا سپر ہٹ فلمیں ریلیز ہوئی ہیں بیشتر کنڑ ، ملیالم یا تمل فلموںکا ریمیک ہی ہیں۔اس کے علاوہ اگر کچھ فلمیں نئی کہانیوں کے ساتھ ریلیز بھی ہوئی ہیں تو ان میں سائوتھ فلم انڈسٹری کے فنکاروں کا سہارا ضرور لیا گیا ہے۔ کچھ فلم ڈائریکٹرس تو سائوتھ کی فلموں کے پیچھے ہاتھ دھو کر ہی پڑ گئے ہیں، گویا انھوں نے تمام سائوتھ فلموں کا ہندی ریمیک بنانے کی ٹھان لی ہو۔سائوتھ فلم انڈسٹری کی طاقت اور اہمیت کا اندازہ اسی بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جو فلمیں یہاں ریمیک بنا کر پیش کی جا رہی ہیں، ان میں کوئی چھوٹے موٹے اداکار نہیں بلکہ اکشے کمار، عامر خان، ابھیشیک بچن، جان ابراہم ، اجے دیوگن اور سلمان خان جیسے سرفہرست اداکار وںکو کاسٹ کیا جا رہا ہے۔ ان فلموں کا ہندی میں ریمیک بننے کے پیچھے ایک راز یہ بھی ہے کہ یہ فلمیں پہلے سے ہٹ ہوتی ہیں جو اس بات کی ضمانت ہوتی ہیں کہ یہ دوسری زبانوں میں بھی ہٹ ہو جائیں گی۔ ظاہر ہے ، یہ بالکل ویسا ہی ہوا جیسے نئی بوتل میں پرانی شراب پیش کی جاتی ہے اور گاہک فوراً نئی بوتل کے لالچ میں اسے ہاتھوں ہاتھوں لے لیتا ہے۔ اسی طرح ایک پرانی فلم کو نئے طریقہ، نئے اداکاروں ، نئے مرچ مسالوںاور نئی تکنیک سے لیس کر کے پیش کیا جائے گا ، تو اس کا ہٹ ہونا تقریباً طے ہے۔ 1994میں ریلیز ہوئی فلم ’’ہم آپ کے ہیں کون‘‘ اس کا بہترین نمونہ ہے۔ حالانکہ یہ فلم بھوجپوری فلم ’’ندیا کے پار ‘‘کا ریمیک ہے، جسے ڈائریکٹر سورج بڑجاتیا نے اس وقت کے ماحول اور ڈیمانڈ کے مطابق پیش کیا تھا۔ اس کے بعد کی کہانی سبھی کو معلوم ہے۔
یوں تو پہلے بھی بالی ووڈ میں مشترکہ طور پر ہندی فلم انڈسٹری اور سائوتھ فلم انڈسٹری ایک دوسرے کا تعاون کرتے رہے ہیں، لیکن گزشتہ کچھ عرصہ میں جنوب کی فلموں کے ساتھ ساتھ وہاں کے اداکاروں نے بھی اپنے پیر جمائے ہیں۔ سائوتھ فلموں کا ہندی سنیما میں کریز بڑھنا ایک طرف تو یہ ثابت کرتا ہی ہے کہ ہندی سنیما میں بہترلکھنے والوں کا فقدان ہے، یا پھر بالی ووڈ کے اتنے برے دن آگئے ہیں کہ انہیں سائوتھ کی فلموں کا سہارا لینا پڑ رہا ہے۔مان لیا کہ ایک دو فلموں کا ریمیک بنانا کوئی بری بات نہیں ہے ، لیکن فی الحال تو ہندی سنیما کے تمام ڈائریکٹرس سائوتھ کی ہٹ فلموں کے نام تلاش کرنے میں مشغول ہیں۔ قابل غور بات یہ ہے کہ ابھی تک سائوتھ کی جتنی بھی فلموں کا ریمیک بالی ووڈ میں بنا ہے، ان میں تمام فلمیں پہلے سے ہی ہٹ ہیں،جو اس بات کی ضمانت دیتی ہیں کہ یہ فلمیں دیگر زبانوں میں بھی بڑی ہٹ ثابت ہوں گی۔اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ فلم ڈائریکٹرس رسک نام کی چیز کو پالنا ہی نہیں چاہتے ۔ظاہر ہے جب حلوہ کھانے کی عادت پڑ جائے تو چنے کون چبانا چاہتا ہے۔کچھ ایسا ہی حال ہندی فلم انڈسٹری کے ڈائریکٹرس کا ہو گیا ہے۔ سائوتھ فلموں کے ریمیک تو بالی ووڈ میں پہلے بھی بن چکے ہیں، لیکن فی الحال جو کریز دیکھنے کو مل رہا ہے، اسے دیکھ کر تویہی لگتا ہے کہ بالی ووڈ میں اسکرپٹ رائٹرس کے برے دن آنے والے ہیں۔
سلمان خان نے سائوتھ کی ریمیک فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھا کر خوب واہ واہی لوٹی ۔سب سے پہلے انھوں نے فلم ’’وانٹیڈ‘‘ میں کام کیا، جس کے ڈائریکٹر پربھو دیوا ہیں۔ اس کے بعد ’’ریڈی ‘‘ اور پھر ’’باڈی گارڈ‘‘، اور تینوں ہی فلموں نے زبردست کمائی کی، خاص کر باڈی گارڈ اور ریڈی نے تو کئی ریکارڈ اپنے نام کیے۔فلمی بینوں کی مانیںتو بالی ووڈ کے ڈائریکٹرس کا مقصد سائوتھ فلموں کا ریمیک فلمیں بنا کر صرف اور صرف موٹی کمائی کرنا ہے۔اگر گزشتہ دو چار سالوں کا مشاہدہ کیا جائے تو سائوتھ فلموں کا کریز بالی ووڈ میں بہت تیزی سے بڑھا ہے۔ یہ ہندی فلم انڈسٹری کے لیے کوئی اچھی بات نہیں ہے۔ حالانکہ اس سے فلمی بینوںکی موٹی کمائی ضرور ہو رہی ہے، لیکن اگر بالی ووڈ میں اسی طرح ریمیک کا رجحان بڑھتا رہا تو وہ دن دور نہیں جب ہندی سنیما میں تخلیقی صلاحیتوں کا فقدان پیدا ہو جائے گا۔ فلمی صنعت سے وابستہ سرفراز احمد کا کہنا ہے کہ بالی ووڈ میں ہر سال سینکڑوں فلمیں ریلیز ہوتی ہیں۔ ان میں درجنوں فلمیں یا تو ہالی ووڈ کی فلموں سے متاثر ہوتی ہیں یا پھر وہاں کی کسی فلم کا ریمیک ہوتی ہیں۔لہٰذا چند فلمیں ہی نئی اور نئے کرداروں کو پیش کرتی ہیں، جو بالی ووڈ میں بیٹھے اسکرپٹ رائٹرس کی تخلیقی صلاحیتوں کی پول کھولتی ہیں۔ایسا نہیں ہے کہ گزشتہ کچھ سالوں میں سائوتھ فلموں کے صرف ریمیک ہی بنائے گئے ہیں، بلکہ وہاں سے کئی اداکاروں نے بھی یہاں آکر زبردست نام کمایا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان میں تمام اداکارائیں ہی شامل ہیں۔ان میں آسن، جنیلیا ڈسوزہ، کاجل اگروال، شیریا سرن، چارمی کور جیسی اداکارائوں کو بالی ووڈ کے سرفہرست اداکاروںکے ساتھ کاسٹ کیا جا رہا ہے۔

بالی ووڈ میں بنیں سائوتھ کی ریمیک فلمیں
راون: یہ فلم تمل زبان میں بنی فلم ’’راون‘‘ کا ریمیک ہے،جس کے تمل ورژن میں ایشوریہ رائے اوروکرم نے لیڈ رول ادا کیے ہیں جبکہ ہندی میں لیڈ رول ابھیشیک بچن نے ادا کیا ہے۔
ہیرا پھیری: یہ فلم 1989 میں بنی ملیالم فلم ’’راما جی رائو اسپیکنگ ‘‘ کا ریمیک ہے، جس میں بطور اداکار ملیالم فلموں کے مشہور اداکار سائیں کمار اور مکیش نے کام کیا ہے۔
بھول بھولیا:یہ فلم 1993 میں بنی ملیالم فلم ’’منی چترا ٹھازو‘‘ کا ریمیک ہے، جو کئی مقامی زبانوں میں بھی بن چکی ہے۔
ایک، دی پاور آف ون: یہ فلم 2005 میں مہیش بابو اور ترشا کرشنن کی اداکاری میں ریلیز ہوئی تیلگو فلم ’’اٹھاڈو‘‘ کا ریمک ہے۔اس کے ہندی ریمیک میں بابی دیول اور شیریا سرن نے لیڈ رول ادا کیا ہے۔
وانٹیڈ: یہ فلم 2006 میں بنی تیلگو’’ پوکھری‘‘ کا ریمیک ہے، جس میں مہیش بابو نے اہم کردار ادا کیا ہے۔اس کے بعد 2007 میں اسی نام سے یہ فلم تمل زبان میں بھی ریلیز ہوئی۔ 2009 میں پربھو دیوا نے سلمان خان اور عائشہ ٹاکیا کی اداکاری میں اس کا ہندی ریمیک بنایا، جس نے زبردست کامیابی حاصل کی۔
بیوی نمبر ون:1995 میں بنی تمل فلم ’’ساتھی لیلا وتی ‘‘ کا ہندی ریمیک ہے، جسے ڈیوڈ دھون نے 1999 میں سلمان خان اور کرشما کپور کی کی جوڑی کے ساتھ ’’بیوی نمبر ون ‘‘کے نام سے پیش کیا۔
وہ سات دن: 1981 میں بنی تمل فلم ’’انٹھا ایزو ناٹھکال‘‘ کا ہندی ریمیک ہے، جسے ڈائریکٹر بابو (آرٹسٹ) نے 1983 میں انل کپور اور پدمنی کولہاپوری، نصیر الدین شاہ کی اسٹار پاور کے ساتھ ہندی ورژن میں پیش کیا۔
رام اور شیام: 1964 میں بنی تمل فلم ’’راموڈو بھیموڈو‘‘ کا ہندی ریمیک ہے، جس کے ڈائریکٹر ٹی چانکیا تھے۔
کھٹا میٹھا: 1988 میں بنی ملیالم فلم ’’ ویلناکلوڈے ناڈو‘‘ کا ہندی ریمیک ہے۔اس فلم میں موہن لال اور شوبھانا نے اہم کردار ادا کیے ہیں، جبکہ ہندی ورژن میں اکشے کمار اور ترشا کرشنن نے لیڈ رول ادا کیا ہے۔
مسٹر اینڈ مسز کھلاڑی: 1993 میں بنی تیلگو کامیڈی فلم ’’آ اوکاٹی اڈکو‘‘ کا ریمیک ہے۔1997میں ڈیوڈ دھون نے اسے اکشے کمار اور جوہی چاولہ کی اسٹار پاور کے ساتھ پیش کیا۔
خوشی: 2002 میں بنی تمل فلم کا ہندی ورژن ہے، جسے 2003 میں ڈائریکٹر ایس جے سوریا نے فردین خان اور کرینہ کپور کی اداکاری میں پیش کیا۔
جڑواں: 1994 میں ریلیز ہوئی تیلگو بلاک بسٹر فلم ’’ہیلو برادر‘‘ کا ریمیک ہے، جس کی اداکاری ناگاارجن نے کی ہے۔ڈائریکٹر ڈیوڈ دھون نے 1997 میں اسے سلمان خان اور کرشما کپور ، رامبھا کے ساتھ پیش کیا۔
تیرے نام: 1993 میں بنی تمل فلم ’’سیتھو‘‘ کا ریمیک ہے۔
گجنی: 2005 میں ریلیز ہوئی تمل فلم ’’گجنی ‘‘ کا ہندی ورژن ہے۔اس کے تمل ورژن میں سوریہ نے کام کیا ہے جبکہ ہندی میں عامر خان نے ۔
سنگھم: 2010 میں بنی تمل ایکشن فلم ’’سنگھم‘‘ کا ہندی ورژن ہے۔اس کے تمل ورژن میں سوریہ ہیں جبکہ ہندی میں اجے دیوگن اور کاجل اگروال۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *