عازمین سے کئے گئے وعدے کہیں سراب نہ ثابت ہوں

وسیم احمد
حاجیوں کے مسائل پر غو رو فکر کرنے اور حج سبسڈی پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پیش آنے والی صورت حال کو مد نظر رکھتے ہوئے وگیان بھون میں ایک قومی سطح کی کانفرنس ہوئی ،اس کانفرنس میں ملک کے سیاسی و ملی دانشوروں کے علاوہ حج کے انتظامی امور سے جڑے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی ۔ اس کانفرنس میں کئی ایسی تجاویز پیش کی گئیں جن کو عمل میں لایا جائے تو بہت سے مسائل جن سے عازمین دوچار ہوتے ہیں ،ان کا خاتمہ ہوسکتا ہے مگر شاید ایسا نہ ہو کیونکہ یہ ایک پرانی روایت ہے کہ جب حج کا موسم قریب آتا ہے تو ہمارے لیڈروں ،تنظیم کے عہدیداروں کو حاجیوں کی فکر ستانے لگتی ہے۔مٹینگیں ہوتی ہیں، قراردادیں پاس کی جاتی ہیں،وعدے ہوتے ہیں اور ان وعدوں کی تکمیل کے لئے لائحہ عمل تیار کیا جاتا ہے ۔حج کا موسم جاتے ہی تمام وعدے سرد خانے میں ڈال دیے جاتے ہیں اور حاجیوں کے مسائل جوں کے تیوں رہتے ہیں۔وگیان بھون کی اس کانفرنس میں جن پریشانیوں کے حل کے لئے قرار دادیں پاس کی گئی اور بڑے بڑے وعدے کیے گئے یہ ایک روٹینی عمل ہے جس کو ہر سال حج سے پہلے عمل میں لایا جاتا ہے اور پھر بھلا دیا جاتا ہے۔

حج کمیٹی آف انڈیا کی طرف سے وگیان بھون میں ایک کانفرنس منعقد کی گئی جس میں ملک کے گوشے گوشے سے دانشوروں، صحافیوں،ڈپلومیٹ ، سیاسی رہنماؤں اور تنظیم کے سربراہوں نے شرکت کی۔اس کانفرنس میں وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا،حج کمیٹی کی چیئرمین محسنہ قدوائی، سعودی عرب میں تعینات ہندوستانی سفیرحامد علی راؤ، ہندوستان میں سعودی کے سفیر سعود بن محمد الساطی کے علاوہ دیگر کلیدی عہدوں پر فائز شخصیتوں نے شرکت کی اور حاجیوں کو درپیش مسائل پر غور و خوض کیا۔مشکلوں کو دور کرنے کے وعدے ہوئے مگر دیکھنا یہ ہے کہ یہ وعدے پائے تکمیل کو کب پہنچتے ہیں۔

ایسا نہیں ہے کہ حج انتظامی امور سے جڑے ہوئے ہر فرد صرف روٹینی عمل کے طور پر ہی ان کانفرنسوں میں شریک ہوتے ہیں بلکہ ایسے لوگ بھی ہیں جو مخلص ہیں۔ حاجیوں کی پریشانیوں کو دور کرنے کے لئے انتہائی ایماندرانہ کوشش کرتے ہیں اور کامیاب تجاویذ بھی پیش کرتے ہیں۔ اگر ان کی تجویذوں کو سنجیدگی سے لی جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ حاجیوں کی مشکلیں دور نہ ہوںمگر افسوس اس بات کا ہے کہ ان کے مسائل پر گرما گرم بحثیں تو کی جاتی ہیں مگر ان کے حل کے لئے سنجیدگی سے غور نہیں کیا جاتا ہے۔جب حل کرنے کا موقع آتا ہے تو حج کمیٹی کہتی ہے کہ اس کے اختیارات محدود ہیں، وزارت خارجہ کو اس مسئلے پر غور کرنا چاہئے حج کمیٹی ان تجویذوںسے وزارت کو مطلع کردیتی ہے اور جب وزارت کی توجہ اس طرف دلائی جاتی ہے تو جواب دیا جاتا ہے کہ مسائل کا حل بتدریج ہورہا ہے۔ دراصل عازمین کے مسائل حل کرنے میں کسی کو بھی دلچسپی نہیں ہے اگر ہے بھی تو برائے نام ،یہی وجہ ہے کہ جب وزارت خارجہ تک شکایت پہنچائی جاتی ہے تو شکایتیں ریسیو کرنے کے بعدان شکایتوں کو کسی فائل میں بند کردی جاتی ہے۔اگر وزارت خارجہ ان تجویذوں پر غور کرے تو سعودی حکومت کے ساتھ کورڈینیٹ کرکے تمام مسئلوں کو آسانی کے ساتھ حل کرسکتی ہے۔
وگیان بھون کی اس کانفرنس میں اتر پردیش کے وزیر حج جناب اعظم خان نے کئی ایسی تجویذیں پیش کیں جو مناسب ہیں ۔انہوں نے ایک اہم تجویذ یہ پیش کی کہ حج آفس ممبئی کے بجائے دہلی شفٹ کی جائے۔ حج آفس کو ممبئی میں بنانے کا منصوبہ اس لئے تھا کہ اس وقت عازمین پانی جہاز سے سفرِ حج پر جایا کرتے تھے۔بندرگاہ ممبئی میں تھی لیکن اب عازمین ہوائی جہاز سے جاتے ہیں۔لہٰذا ممبئی میں حج آفس کی ضرورت باقی نہ رہی، راجدھانی ہونے کی حیثیت سے دہلی اس کے لئے سب سے موزوں جگہ ہے۔ ان کی اس تجویذ کی مختلف صوبوں سے آئے نمائندوں نے تائید کی۔انہوں نے حج سبسڈی ختم کیے جانے کے تئیں اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ ملک کا خزانہ ہر شہری کے لئے ہوتا ہے۔اگر دیگر مذاہب کے زائرین کو سبسڈی دی جاسکتی ہے تو مسلمانوں کو دی جانے والی رقم کو بھیک کیوں کہا جاتا ہے۔یہ ان کا قومی حق ہے۔جموں کشمیر، یوپی،آسام،کیرالہ کے حج چیئرمین نے حج کوٹا میں کمی کیے جانے پر افسوس کا اظہار کیا۔
امسال ایک لاکھ 70 ہزار حاجیوں کو حج پر جانے کی اجازت ملی ہے مگر حج کمیٹی کی طرف سے صرف ایک لاکھ پچیس ہزار حاجیوں کو ہی بھیجا جائے گا بقیہ عازمین کو پرائیویٹ ٹولز اینڈ ٹریلولز کے ذریعہ سفر کرنا ہوگا۔اس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ جو صاحب ثروت ہیں وہ تو پرائیویٹ ٹریلوز میں میں زیادہ رقم جمع کرکے چلے جاتے ہیں مگر جو لوگ پوری زندگی تھوڑا تھوڑا کرکے پیسہ جمع کرتے ہیں ان کے لئے مشکل ہوجاتا ہے۔ اگر حج کمیٹی پرائیویٹ ٹریلوز کو کوٹہ منتقل کرنے کے بجائے خود ہی اپنی طرف سے تمام حاجیوں کو سفر پر روانہ کرے تو ایسی صورت میں کسی بھی ریاست کو کوٹہ میں کمی کیے جانے کی نہ تو شکایت ہوگی اور نہ ہی کم آمدنی والے عازمین کے لئے سفر کے مصارف برداشت کرنا نا ممکن ہوگا۔ حالانکہ اس سلسلے میں حج کمیٹی یہ عذر پیش کرتی ہے کہ اسے سعودی حکومت کی طرف سے دبائو دیا جاتا ہے کہ وہ منظور شدہ کوٹہ میں سے کتنے حاجیوں کو پرائیوٹ ٹریویلز سے بھیجے مگ اور کتنے کو حج کمیٹی کے ذریعہ۔ اس پر روشنی ڈالتے ہوئے سید شہاب الدین نے بڑی معقول بات کہی کہ حاجیوں کو حج کمیٹی سے بھیجا جائے یا پرائیویٹ ٹریولوز سے یہ فیصلہ کرنا ہمارا کام ہے ،سعودی عرب کو یہ اختیار نہیں ہے کہ اس سلسلے میں ہمارے اندرونی معاملوں میں مداخلت کرے۔اگر ایسا ہے تو وزارت خارجہ کو سعودی حکومت سے بات کرنی چاہے۔ ایک معاملہ ایئر لائنس کے انتخاب کا بھی ہے۔حاجیوں کو اینڈین ایئر لائنس سے سفر کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے ۔اس کا فائدہ ایئر لائنس اٹھاتی ہے اور کرایہ میں من مانی اضافہ کرتی ہے۔ اس اضافے کاجواز ایئر لائنس یہ پیش کرتی ہے کہ جہاز کو سعودی سے خالی واپس آنا پڑتا ہے جس سے کمپنی پر اضافی بوجھ پڑتا ہے لیکن ایئر لائنس کے اس عذر کو لنگ قرار دیتے ہوئے سید شہاب الدین نے کہا کہ انٹرنیشل ایئر لائنس صرف 30 فیصد ریزرویشن کی بنیاد پر اپنی بزنس چلاتی ہے۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر کسی ایئر لائنس کی تیس فیصد سیٹیں ریزرو ہوجاتی ہیں تو اسے نقصان نہیں ہوگا۔ اس طرح دیکھا جائے تو اگر انڈیاایئر لائنس کو واپسی میں مکمل سیٹیں ریزرو نہیں ہوتی ہیں تو بھی نقصان کا امکان نہیں ہے کیونکہ وہ ایک طرف سے فُل ہوکر جاتی ہیں لہٰذا تیس فیصد کے ٹارگٹ کو پار کر جاتی ہے۔اس سلسلے میں ایک اور بات سامنے آئی کہ سعودی عرب ہندوستان کو عازمین کی آمد ورفت کے لئے ایئرلائنس کے انتخا ب میں گلوبل ٹنڈر نہ دینے کے لئے اپیل کرتی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہی اپیل یوروپ ملکوں کے لئے کیوں نہیں ہے۔ وہاں کے عازمین جس ایئر لائنس سے چاہتے ہیں سفر حج پر جاسکتے ہیں تو پھر ہندوستان کے ساتھ یہ تفریق کیوں۔اس سلسلے میں وزارت خارجہ سعودی حکومت سے بات چیت کرکے اس مسئلے کا حل نکا ل سکتی ہے۔
خدام کے بھیجے جانے میں کچھ سالوں سے لازم کر دیا گیا ہے کہ سرکاری ملازمین خاص طور پر مرکزی ملازمین کو ہی بھیجا جائے۔اس سلسلے میں شکایتیں ملتی رہی ہیں کہ وہ نہ تو حج کے ارکان سے واقف ہوتے ہیں اور نہ ہی حاجیوں کی خدمت کاجذبہ ان میں ہوتاہے۔ اگر ان کی جگہ مسجد کے ائمہ ،موذن یا مذہب کے جانکاروں کو خدام بنا کر بھیجا جائے تو یہ نہ صرف حاجیوںکو ارکان کی ادائیگی میں بہتر ذمہ داری نبھائیں گے بلکہ دوسرے لوگوں کی بہ نسبت بہتر خدمت بھی کریںگے۔ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ ہر صوبے کے حاجیوں کو ان کی زبان کے اعتبار سے رہائش دی جائے اور ان کے لئے جن خدام کو مقرر کیا جائے وہ بھی ان کے ہم زبان ہو ں تو کام کی صورت بہتر ہوسکتی ہے۔تما م تجاویز کو سناگیا اور حج کمیٹی کے ذمہ داروں نے اس کو عمل میں لانے کا وعدہ بھی کیا۔مگر ان وعدوں پر عمل ہوتا ہے یا ماضی کی طرح صرف موسمی لہر ثابت ہوتا ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ سرد خانے میں چلا جائے گا یہ تو آنے والے دنوں میں ہی معلوم ہوگا۔
اس کانفرنس میں حج سبسڈی کو دس برسوں کے طویل عرصے میں بتدریج ختم کیے جانے پر حیرت کا اظہار کیا گیا۔ اگر یہ سبسڈی غیر قانونی ،غیر مناسب تھی تو فوری بند کی جانی چاہئے ،اسے دس برسوں تک توسیع کیوں کی گئی اور اگر یہ ایک قانونی اور مسلمانوں کا حق ہے جو 1973 سے حاجیوں کو دی جاتی ہیتو پھر اسے بند کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔
اس موقع پر وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے اردو ،ہندی اور انگریزی تینوں زبانوں میں حج گائڈ جاری کیا اور کہا کہ ہم مسلسل حاجیوں کے مسائل کو حل کرنے کی راہ میں مثبت قدم اٹھا رہے ہیں۔سامان ،رہائش اور پرواز کے تئیں حاجیوں کی جو بھی شکایتیں تھیں ان میں گزشتہ سالوں کی بہ نسبت بہت حد تک کمی ہوئی ہے اور جو کمیاں رہ گئیں ہیں انہیں دور کرنے کی بھرپور کوشش ہورہی ہے۔حج آفس کی طرف سے یہ اطلاع دی گئی کہ اب تک عرفہ سے مزدلفہ آنے میں حاجیوں کو بڑی دقتوں کا سامنا ہوتا تھا،خاص طور پر بوڑھوں کے لئے چل کر مزدلفہ آنا ایک مشکل ترین کام تھا ۔اس مشکل کو دور کرنے کے لئے سعودی حکومت نے میٹرو ریل کا بندوبست کیا ہے۔ مگر اس سے سفر کرنے کے لئے پیشگی اجازت لینی پڑتی ہے۔ حج کمیٹی نے اپنے عازمین کو میٹرو سے سفر کرنے کی اجازت لے لی ہے۔یہ سفر صرف 15 منٹ کا ہوگا۔البتہ بھیڑ ہونے کی وجہ سے عازمین کو لمبی لائن کی مشقت جھیلنی پڑ سکتی ہے۔مکہ میں رہائش کے لئے 57 ہزار رہائش یونٹ کا انتظام کیا گیاہے۔بقیہ حاجیوں کے لئے عزیزیہ میں ٹھہرانے کا انتظام کیا گیا ہے۔جن حاجیوں کو عزیزیہ میں ٹھہرایا جائے گا ان کے لئے ٹرانسپوٹ کا بھی انتظام ہے تاکہ انہیں حرم آنے جانے میں مشکل پیش نہ آئے۔حج کے لئے قرعہ اندازی ہوچکی ہے۔عازمین بڑی توقعات کے ساتھ اس مقدس سفر پر جارہے ہیں کہ انہیں امسال ہندوستان سے لے کر سعودی عرب تک کہیں بھی پریشانیوں کا سامنا نہ کرنا پڑے گا۔اللہ کرے ان کی توقع سچ ہوں اور حج کمیٹی اور وزارت خارجہ کے لئے جو وعدے کیے ہیں وہ پورے ہوں۔ g

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *