مدھیہ پردیش کے بدعنوان بابو

 دلیپ چیرین

یسا لگتا ہے کہ یوگا گرو بابا رام دیو بدعنوانی مخالف اپنی یاترا کے تیسرے مرحلے میں مدھیہ پردیش اور اترپردیش جائیں گے۔ مدھیہ پردیش میں آج کل بدعنوانی کے نئے نئے معاملوں کا انکشاف ہو رہا ہے۔ مدھیہ پردیش کیڈر کے افسران کے اثاثے کی جانچ ہو رہی ہے۔ کئی افسروں کے پاس کافی دولت ملی ہے، جب کہ ابھی نہ جانے کتنے آفیسر ایسے ہیں، جو اپنی پراپرٹی کو چھپانے کے نئے نئے طریقے ڈھونڈ رہے ہیں۔ پچھلے سال ایک آئی اے ایس جوڑی اروِند اور تنو جوشی کے پاس 363 کروڑ کی پراپرٹی کا خلاصہ ہوا۔ ان سے 135 کروڑ روپے بطور ٹیکس دینے کو کہا گیا۔ ریاست کے ہیلتھ ڈائریکٹر اے این متل بھی نشانے پر ہیں۔ ریاست کے لوک آیکت نے ان کے ذریعے ریئل اسٹیٹ میں لگائی گئی رقم کا خلاصہ کیا ہے۔ متل کی اراضی سے وابستہ ملکیت کی قیمت پچاس کروڑ روپے سے زیاد ہے۔ ان باتوں سے تو یہی پتہ چلتا ہے کہ مدھیہ پردیش میں بڑے پیمانے پر لوٹ ہو رہی ہے۔ بابو لوگ سرکاری خزانے کو لوٹ رہے ہیں۔ ابھی کئی افسران کی جانچ ہونی باقی ہے۔ مدھیہ پردیش کے بدعنوان افسروں کے درمیان خوف کا ماحول بنا ہوا ہے۔
بابوئوں کے لئے گھر
یوٹی سخت قاعدے قانون صرف محنت مزدوری کرنے والوں کے لیے ہوتے ہیں۔ جب بھی تنخواہ میں اضافہ کی بات ہو تو سب سے پہلے لیڈر اور بابو ہی اسے لپکنے کے لیے تیار بیٹھے ملتے ہیں۔ دہلی کے مشرقی موتی باغ میں بن رہی آرامدہ سرکاری کوٹھیاں اور اپارٹمنٹ بن کر تیار ہونے کو ہیں۔ اب ملک کے کئی طاقتور لوگوں کو نئے گھر ملیں گے۔ وزیر اعظم کے پرنسپل سکریٹری پُلک چٹرجی، ہوم سکریٹری آر کے سنگھ، ڈیفنس سکریٹری ششی کانت شرما، ایس سی / ایس ٹی کمیشن کے صدر پی ایل پنیا کے ساتھ ساتھ اسٹیل، مائنس، روڈ ٹرانسپورٹ اور دیہی ترقی کے سکریٹری بھی اس علاقے میں رہیں گے۔ بابوؤں کے لیے رہائشی سہولیات بڑھانے کی بات پر کوئی اعتراض نہیں کرتا ہے۔ سبھی بابوؤں کو سرکاری رہائش گاہیں ملنی چاہئیں، لیکن سرکار کو دیگر ملازمین کی ضروریات کا بھی دھیان رکھنا چاہیے، جو کئی سالوں سے سرکاری رہائش گاہ ملنے کا انتظار کر رہے ہیں۔ جب بھی سہولیات کی بات ہوتی ہے تو بابو اور نیتا ان کا استعمال کرنے کے لیے تیار بیٹھے رہتے ہیں، لیکن ملک میں ان کے علاوہ بھی کافی لوگ رہتے ہیں، ان کے اوپر بھی دھیان دیا جانا چاہیے۔
جموں و کشمیر کا کابینی اجلاس
ریاستی کابینہ کے اجلاس بہت کم خبروں میں رہتے ہیں، لیکن جموں و کشمیر میں ہوئے کابینی اجلاس میں لیے گئے فیصلے نے لوگوں کا دھیان اپنی طرف کھینچا ہے۔ جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ریاستی انتظامیہ کے توسط سے ایک پیغام دیا ہے۔ انہوں نے بے روزگاری کے مسئلہ سے پریشان نوجوانوں کو راحت دینے کے لیے پارٹ ٹائم اور کنٹریکٹ کی بنیاد پر ہیلتھ اور میڈیکل ایجوکیشن محکمہ میں تقرریاں کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جموں و کشمیر حکومت کے سامنے ریاست کے نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کا چیلنج ہمیشہ سے رہا ہے۔ عمر عبداللہ کے اس فیصلہ سے ایک طرف روزگار میں اضافہ ہوگا، وہیں دوسری طرف ریاست کے عام آدمی کو بھی راحت ملے گی۔ میٹنگ میں دس سینئر آئی اے ایس افسروں کے تبادلے کا بھی فیصلہ لیا گیا۔ ٹرانسفر ہونے والے افسروں میں وزیر اعلیٰ سکریٹریٹ کے اسپیشل سکریٹری ظفر احمد بھی شامل ہیں، جنہیں ریاست کا انفارمیشن ڈائریکٹر بنایا گیا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *