قصوروار کون ؟

عفاف اظہر 

کل سات سالہ کیٹلیں سمپسن کی اسکول کی ہوم ورک نوٹ بک بھری عدالت میں موجود ہر ذی شعور دل و دماغ پر بجلیاں گرا رہی تھی۔ کمرۂ عدالت میں موجود ہر ذہن ماؤف اور آنکھیں اشکبار تھیں کہ یہ فقط ہوم ورک نوٹ بک نہیں بلکہ انسانوں کے اس جنگل جسے ہم معاشرے کا نام دیتے ہیں منہ پر بھر پور طمانچہ تھی کہ جس پر جگہ جگہ خون کے دھبے تو تھے ہی مگر ساتھ ساتھ ہر دوسرے صفحے پر بار ہا ” آئی ایم این ان وانٹڈ چائلڈ …نو باڈی وانٹس می ” کے فقرے درج تھے جو اس معصوم فرشتے کی ذہنی کیفیت کی بھر پور عکاسی کر تے ہوے بھری عدالت میں معاشرے کی بے ضمیری و بے حسی کا منہ چڑا رہے تھے . ا س بہیمانہ طریق سے قتل کی گئی یہ معصوم جان جہاں پورے معاشرے کے لئے لمحۂ فکر تھی وہاں بچوں کے قوانین اور تحفظاتی اداروں کے لئے ایک سوالیہ نشان بھی تھی کہ انٹاریو دنیا بھر میں وہ واحد صوبہ ہے جس میں ون پوانٹ فور بلین بچوں کے تحفظ کا فعال و مستعد انتظام موجود ہے جہاں کے آفسز کا ایک دن میں بچوں سے متعلقہ پانچ سو سے زائد شکایتیں وصول کرنا معمول بن چکا ہے

یارک ڈ ئیل جو نیر پبلک ااسکول کی گریڈ سیکنڈ کی سات سالہ طالبہ کیٹلیں سمپسن جس کو کم عمری میں اس کی حقیقی ماں کے نشے کی عادت اور  بچی سے غفلت برتنے کی بنا پر لے کر ایک ایسے خواہشمند جوڑے کو گود دے دیا گیا جن کے پہلے دو بیٹے تھے.

یارک ڈ ئیل جو نیر پبلک ااسکول کی گریڈ سیکنڈ کی سات سالہ طالبہ کیٹلیں سمپسن جس کو کم عمری میں اس کی حقیقی ماں کے نشے کی عادت اور بچی سے غفلت برتنے کی بنا پر لے کر ایک ایسے خواہشمند جوڑے کو گود دے دیا گیا جن کے پہلے دو بیٹے تھے. ااسکول کی پرنسپل کے مطابق بچی کے چہرے اور جسم پر بہت دفعہ تشدد کے نشانات پائے گئے بچی سے پوچھنے کی کوشش پر ہمیشہ کوئی بہانہ تیار ہوتا ایک دفعہ جب حالات کافی تشویشناک لگی اور بچی سے براہ راست پوچھ گچھ کی گئی تو بچی نے کہا گھر میں کھانا پکانے میں والدین کی مدد کے دوران ہاتھ جل گئے لیکن چہرے اور جسم کے نشانات کچھ اور ظاہر کر رہے تھے پرنسپل کو تسلی نہ ہوئی تو معاملہ چلڈرن ایڈ سوسایٹی کے علم میں لے آئی لیکن اگلے ہی دن بچی کو یہ کہ کر ااسکول سے اٹھا لیا گیا کہ وہ کہیں اور شفٹ ہو رہے ہیں اور پھر دو ما ہ کے بعد سات سال کی عمر میں اپنے اس نئے گھر میں یہ معصوم روح اپنے اس چھوٹے سے جسم پر ستر گہرے زخموں کے ساتھ جن میں بے پناہ جسمانی تشدد کے سبب متعدد ٹوٹے ہوئے دانت اور کٹے ہونٹ سوجے گال نیلی آنکھیں آٹھ عدد ٹوٹی ہوئی پسلیاں جو تشدد کے دوران ٹوٹ کر جگر اور پھیپھڑوں میں گھس چکی تھیں ہاتھوں کی ٹوٹی ہوئی انگلیاں پاؤں اور ٹانگ کی ٹوٹی ہڈیوں کے ساتھ ساتھ سر پر زوردار چیزیں مارنے کی وجہ سے کھوپڑی کے جگہ جگہ سے کریک ہو جانے کے سبب مردہ حالت میں پائی گئی . طبعی تحقیقات کے مطابق اس معصوم جسم پر بیالیس کے قریب پرانے اور گہرے زخم بھی پائے گئے جن کا کسی بھی معالج کے پاس کوئی ریکارڈ نہیں پایا گیا .
ٹورانٹو میں بچوں کے حقوق اور تحفظ کی سبھی تنظیمیں اس معصوم موت پر چراغ پا ہیں تو بچوں کے اسکول بورڈ کافی برہم دکھائی دیتے ہیں اور تو اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی اس ضمن میں کافی مستعد ہیں کہ بچوں سے متعلق قوانین کے ان خلاؤں کو بھی بھرا جائے جس سے ایسے لوگ دوبارہ پھر کبھی بچ نہ سکیں. حتیٰ کہ تمام تر میڈیا بھی سر گرم عمل ہے اخبارات میں دھواں دھار قسم کے کالم ، ٹی وی پر ااسکول بورڈ کی جانب سے نت نئی رپورٹیں اور اسمبلی ہالوں میں گرما گرم بحث و مباحثے یقینا اس معاملے کی سنجیدگی کا احساس دلوا رہے ہیں.لیکن افسوس کہ اس سب شور و ہنگامے میں نجانے کیوں ایک اہم نقطہ ابھی بھی پوشیدہ ہے … اس واقعہ کا سب سے اہم حصہ ابھی تک اندھیرے میں کیوں ۔وہ سوال آج بھی اپنے جواب سے محروم کیوں دکھائی دیتا ہے جو معاشرے کی ان گنت معصوم زندگیوں سے انتہائی سفاکی سے یہ ظالمانہ کھیل کھیل رہا ہے ۔اس دردناک کہانی کے دو اہم کردارابھی بھی پردے کے پیچھے کیوں ہیں ؟ کہ بیشک یہ ایک افسوسناک واقعہ بچوں کے حقوق و تحفظ کی تنظیموں کے لئے انتہائی شرمناک ہے تو بچوں کے اسکول بورڈ کے لئے ہتک آمیز اور قوانین کے منہ پر ایک طمانچہ کہ اتنی کڑی نگرانی اور قوانین کے باوجود ایسا ہو جانا یقینا پورے معاشرے کے لئے ہی ایک لمحہ فکر ہے اور یہ ایک ایسا فعل ہے کہ جتنی بھی کڑی سزا دی جائے کم ہے لیکن یہاں سزاوار فقط یہ گود لینے والے والدین ہی کیوں ؟… وہ ماں کیوں نہیں جس نے اپنے بطن سے جنم دے کر اپنے ہوتے ہوے بھی اس معصوم کو بے یارو مددگار دوسروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ؟ اور وہ باپ کیوں نہیں جس نے اپنے اس تخم کو اس دنیا میں لا کر زندگی تو دی مگر اپنے ہوتے ہوے بھی اسے یتیم و لا وارث بنا دیا ؟ .مانا کہ بظاہر قصوروار گود لینے والے والدین ہیں جنہوں نے لالچ کی بنا پر گود لیا … تاکہ اس بہانے گورنمنٹ کی امداد وصول کرسکیں جب کامیاب نہ ہو سکے تو سزا بچی پر تشدد کرکے دیتے رہے …لیکن اپنے بطن سے پیدا کی ہوئی اپنی نسل کو کسی دوسرے کے لالچ اور مفاد کا ذریعہ بنا دینے والے تو حقیقی والدین ہی تھے تو پھر وہ سزا سے محروم کیوں ؟… مانا کہ اسکول بورڈ سے معاملے کی سنگینی کا احساس کرنے میں کوتاہی ہوئی مگر اس معاملے کو اس سنگین نتائج تک پہنچانے والے تو وہ دو اہم کردار ہی ہیں جنہوں نے ایک جان کو دنیا میں لا کر اپنے ہر دوسرے فرض سے آنکھیں پھیر لیں تو پھر انصاف کے کٹہرے میں وہ کیوں نہیں ؟ بیشک بچوں کے تحفظاتی ادارے سے یہ غلطی ہوئی کہ انہوں نے اس بچی کو ایک نا اہل جوڑے کے ارادے نہ جانتے ہوئے گود دے دیا لیکن وہ نااہل والدین کیوں قصوروار نہیں جنہوں نے نشے کی لت پر اپنی اس نسل کو بھی قربان کر دیا ؟ ہاں قانون میں بھی یقینا کہیں خلا موجود تھا جوشیطان صفت ارادوں میں اتنی ہمت پیدا کر گیا کہ ایک معصوم فرشتے کی جان سے کھیل سکیںلیکن اس خلا کا کہیں بھی ذکر کیوں نہیں جو خون کے رحمی رشتوں کی بے رحمی نے اس معصوم کی زندگی میں بھرا؟
اپنے بچوں کی حفاظت کے لئے تو جانور بھی اپنی جان پر کھیل جاتے ہیں مگر اس حضرت انسان نے شاید سانپ نما صفت پائی ہے کہ اپنی نسل کو اپنی اولاد کو بھی نگلنے سے گریز نہیں کرتا۔ بچوں کے تحفظاتی اداروں میں اپنے والدین کے تشدد کا شکار بچوں کے روزانہ سینکڑوں نئیکیس آتے ہیں ۔تشدد سے بھر پور گھریلو فضائیں نشہ کی عادت اور جوے کی لت ہو یا پھر یہ ٹوٹتے آنگن بکھرتے گھرانے وجوہات خواہ کچھ بھی ہوں مگر نتائج ایک سے ہیں اور وہ ہے یہ گمشدہ نسل اور آج یہ طرح طرح کی نفسیاتی الجھنوں کا شکار ہزاروں کی تعداد میں یہ معصوم بچے قانون اور معاشرے کیلئے ایک سوالیہ نشان ہیں کہ کیا دنیا میں آج کوئی ایسا مذہب ،کوئی ایسا قانون یا کوئی ایسا ادارہ ہے کہ جو ان سانپوں کی سیرت والے والدین کو پھر سے انسان سیرت بنا سکے ؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *