ہریندر کے بعد کون

ہریندر ہیرا کو ہماچل پردیش کا چیف سکریٹری بنایا گیا ہے، لیکن وہ جلد ہی ریٹائر ہونے والی ہیں۔ اس لیے اب ان کے بعد چیف سکریٹری کے عہدہ پر مقرر کرنے کے لیے کسی آفیسر کی تلاش ہے۔ ہریندر ہیرا کی تقرری سینئرٹی کی بنیاد پر کی گئی تھی۔ غور طلب ہے کہ ہیرا ہماچل پردیش کی چیف سکریٹری بننے والی تیسری خاتون آفیسر ہیں۔ ان سے پہلے آشا سوروپ اور راجونت سندھو کو اس ریاست کا چیف سکریٹری بنایا گیا تھا۔ ہماچل پردیش حکومت کے لیے یہ حصولیابی ہے جس پر فخر کیا جاسکتا ہے۔ اب کئی بابوؤں کی نظر ہریندر کے ریٹائرمنٹ کے بعد خالی ہونے والی چیف سکریٹری کی کرسی پر ہے۔ ذرائع کے مطابق اس عہدہ کے لیے مقابلہ آرائی 1977 بیچ کے آفیسر اشوک ٹھاکر اور سدرپتو رائے کے درمیان ہے۔ اشوک ٹھاکر ابھی مرکزی ڈپیوٹیشن پر ہیں اور سدرِپتو رائے ریاست کے محکمہ جنگلات کے ایڈیشنل سکریٹری ہیں۔ ایسا کہا جا رہا ہے کہ سدرِپتو رائے کی تقرری ہونے کی امید زیادہ ہے، کیوں کہ وہ ابھی ریاست کے اندر ہی تعینات ہیں۔ ساتھ ہی انہیں حال ہی میں او ایس ڈی بھی بنایا گیا ہے۔ لیکن ابھی یقین کے ساتھ تو کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا ہے ۔ تھوڑا انتظار کر لیتے ہیں۔
وزارتِ مالیات کے بابو
وزارتِ مالیات میں کچھ نئی چیزیں ہو رہی ہیں۔ اکثر دیکھا جاتا ہے کہ جو آفیسر کسی وزیر یا حکومت کے قریبی ہوتے ہیں یا پھر ان کے وفادار ہوتے ہیں، انہیں ریٹائرمنٹ کے بعد کوئی عہدہ دے دیا جاتا ہے۔ عام طور پر سکریٹری رینک کے آفیسرز کو ایکسٹینشن نہیں دیا جاتا ہے، کیوں کہ ان کی سبک دوشی سے کئی لوگ امید لگائے رہتے ہیں کہ اس دفعہ ان کی باری آنے والی ہے۔ وزارتِ مالیات میں کچھ ایسا ہی ہوا۔ مالی امور کے سکریٹری آر گوپالن کو تین مہینے کا ایکسٹینشن دیا گیا ہے۔ اپریل کے اخیر میں وہ ریٹائر ہونے والے تھے، لیکن اب وہ تین ماہ بعد ریٹائر ہوں گے۔ کچھ آفیسر ان کے جانشین بننے کے لیے تیار بیٹھے تھے، لیکن اب انہیں مزید تین ماہ تک انتظار کرنا پڑے گا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ گوپالن کو ملی ایکسٹینشن کے پیچھے بجٹ ہے۔ اس دفعہ کا بجٹ تھوڑا مایوس کن ہے، جس پر بحث کے لیے اسے بنانے میں مدد کرنے والے آفیسرز کی ضرورت ہوگی، جس کی وجہ سے گوپالن کو ایکسٹینشن دیا گیا ہے۔
بہار کی انتظامیہ میں ذات پات
بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ وہ اچھی انتظامیہ چلا رہے ہیں ، لیکن ذات پات تو ان کی انتظامیہ میں بھی صاف نظر آ رہا ہے۔ ریاست کی انتظامیہ میں ذات پات کا اچھا خاصا اثر ہے۔ حال ہی میں بہار کے چیف سکریٹری نوین کمار نے پرنسپل سکریٹری سمیت کئی اعلیٰ عہدیداروں کو پیغام بھیجا ہے کہ وہ اپنے محکمہ کے آفیسرز کو ایک ہدایت جاری کریں، جس میں عوامی نمائندوں سے آفیسرز کو کیسے ملنا چاہیے، اس کا ذکر ہو۔ کئی ممبرانِ پارلیمنٹ اور ممبرانِ اسمبلی نے وزیر اعلیٰ سے اس بات کی شکایت کی ہے کہ آفیسرز کا رویہ ان کے تئیں اچھا نہیں ہے۔ کچھ درج فہرست ذات کے ایم ایل ایز نے تو یہاں تک کہا ہے کہ ان کے تئیں بعض آفیسرز کا برتاؤ ذات پات سے متاثر ہوتا ہے۔ یہ معاملہ بہار اسمبلی کے سامنے بھی رکھا گیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ بابوؤں کو سمجھایا جاتا ہے یا پھر لیڈروں کو۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *