مسلم صدر کا انتخاب ایک نیا چھلاوا

وسیم راشد
مسلم صدر بنانے کے پیچھے کیا سیاست ہے ۔آئیے اس پر بات کرتے ہیں۔کیوں بار بار مسلم صدر بنانے کی بات کہی جا رہی ہے؟کیا اس کے پیچھے کوئی سیاست  پوشیدہ ہے؟کیا اس کے پیچھے مسلمانوں کی ترقی کی ایماند ارانہ کوشش ہے؟ کیا مسلمانوں کو سیاسی اور سماجی طور پر مضبوط کرنے کی کوشش ہے یا یہ سب ایک دکھاوا ہے ؟کیا واقعی کسی مسلم کا نام بحیثیت امیدوار زیر غور ہے اور اس کے پیچھے یوپی میں کانگریس کی شرمناک شکست  کے بعد مسلمانوں کو خوش کرنے کی کوشش ہے اور باقی ریاستوں  کے مسلمانوں کے ووٹ بینک کو اپنے حق میں کرنے کے لئے رجھایا جارہا ہے؟بے شمار سوالات ہیں جو مسلم صدر بنانے کے پیچھے، اس سیاست میں سامنے آرہے ہیں۔ یہ تو بالکل صاف ہے کہ مسلمانوں کی ترقی اور خوشحالی کے مد نظر یہ فیصلہ نہیں کیا جارہا ہے بلکہ سیاسی پارٹیاں اپنے ووٹ بینک کو درست کرنے اور ان کے اعداد و شمار کو بہتر کرنے کے لئے یہ چال چل رہی ہیں ۔

صدر جمہوریہ ہند کی صدارتی مدت ختم ہورہی ہے اور ملک کی موجودہ صدر محترمہ پرتبھا پاٹل جو اس وقت بیرونی ملک کے دورے پر ہیں ان کا بحیثیت صدر یہ آخری غیر ملکی دورہ ہے بلکہ یوں کہہ لیجئے کہ محترمہ کی ملک ملک گھومنے کی سرکاری مراعات ختم ہونے جارہی ہیں۔سب جانتے ہیں کہ ہندوستان کا صدر ایک شو پیس کی طرح ہوتا ہے اور جس طرح گھر کو سجانے کے لئے خوبصورت سے خوبصورت دلکش اور قیمتی شو پیس رکھے جاتے ہیں ایسے ہی جمہوری ملک کا صدر ہوتا ہے اور ظاہر ہے شو پیس بے جان ہوتا ہے تو صدر جمہوریہ بھی بس ایک بے جان شو پیس کی طرح ہی کام کرتا ہے۔

ایسے میں ان سبھی سیاسی پارٹیوں کا منشا صاف نظر آرہا ہے کہ مسلم صدر کے نام پر مسلمانوں کے جذبات سے کھیلا جائے  لہٰذا ان کو بے وقوف بنا کر کبھی حامد انصاری، کبھی اے پی جے عبد الکلام اور کبھی ڈاکٹر ایس وائی قریشی کے نام پر بازی کھیلی جارہی ہے۔ یہ بازی چیف منسٹر بنانے ،وزیر اعظم بنانے یا دوسری اہم وزارتوں کے لئے کیوں نہیں کھیلی جاتی ہے۔ اس کا مطلب صاف ہے کہ صدر چونکہ صرف اور صرف ایک ربڑ اسٹامپ کی طرح ہوتا ہے اس لئے سیاسی پارٹیاں دہری چال چل رہی ہیں کہ مسلمان خوش بھی ہو جائیں اور ایک کٹھ پتلی بھی ان کے ہاتھ میں آجائے۔ یہ دہرا رویہ مسلمانوں کے ساتھ آج سے نہیں، ہمیشہ سے ہے، مگر مسلمان نہ جانے کیوں اس پالیسی کو سمجھ ہی نہیں پاتے۔
نائب صدر جمہوریہ حامد انصاری صاحب جو اس صدارتی عہدے کے لئے ایک مضبوط دعویدار مانے جارہے ہیں ۔ وہ ایک ایسا پروڈکٹ ہیں جس کو صرف مسلم چہرہ بنا کر کچھ سیاسی پارٹیوں نے آگے کیا ہے مگر حامد انصاری سے بڑے ہی عزت و احترام سے پوچھنا چاہئے کہ اتنے دن آپ نائب صدر رہے ۔آپ نے مسلمانوں  کے لئے کیا کیا۔ کتنی اسکیمیں آپ نے مسلمانوں کے لئے ،ان کی تعلیم کے لئے، ان کے روزگار کے لئے شروع کیں تھے یا پھر ان اسکیموں کو جو پہلے سے ہی مسلمانوں  کے لئے چلائی جارہی ہیں ان کو اور بہتر طریقے سے لاگو کرنے کے لئے کیا اقدامات کیے ہیں۔ چلئے کوشش تو چھوڑ دیجئے ! آپ نے مسلمانوں کی بہتری کے لئے کیا کبھی سوچا بھی یا سوچا بھی نہیں ہے ۔ہمیں بہت ہی ادب و احترام کے ساتھ محترم نائب صدر کے لئے ایسی باتیں کہنے کے لئے مجبور ہونا پڑ رہا ہے ،کیونکہ وہ اس وقت بھی نائب صدر تھے جب پارلیمنٹ میں ممبران پارلیمنٹ نے رنگناتھ مشرا کمیشن کی رپورٹ پیش کرنے کے لئے ہنگامہ کیا۔ آپ سے گزارش کی گئی کہ یہ رپورٹ مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لئے  ہے ۔ اس میں ان کے پچھڑے پن کا مداوا ہے۔اس رپورٹ  میں معاشی اور تعلیمی پسماندگی کا حل پوشیدہ ہے اور اس رپورٹ کو پارلیمنٹ میں پیش کیا جانا بے حد ضروری ہے، مگر حامد صاحب نے حکومت کو مجبور نہیں کیا کہ اس رپورٹ کو پیش کرے اور ان ہی کے نائب صدر رہتے ہوئے یہ رپورٹ حکومت کی الماری میں سڑتی رہی جبکہ یہی وہ واحد رپورٹ ہے جو مسلمانوں کے لئے ریزرویشن کی بات کرتی ہے۔ اس کمیشن کی رپورٹ کے دوران جو حامد انصاری کا برتائو رہا  وہ کرمنل نیگلیجنز والا رہا۔ دیکھا جائے تو ایک طرح حامد انصاری نے ملک کے مسلمانوں کے ساتھ دھوکہ کیا ہے۔ کیونکہ ’چوتھی دنیا‘ نے جب پہلی بار اس رپورٹ کو اپنے اخبار میں چھاپا اور پارلیمنٹ میں ’چوتھی دنیا ‘کو ہاتھوں میں اٹھا اٹھا کر جب ممبران پارلیمنٹ حامد انصاری سے سوال پوچھ رہے تھے کہ آخر یہ رپورٹ کیوں  پیش نہیں کی گئی۔ کیوں اس کی سفارشات کو لاگو کرنے کے لئے حکومت پر دبائو نہیں ڈالا گیا۔ اس وقت بھی نائب صدر نے اس اخبار کو نہ دکھانے کا شاہی حکم صادر کردیا  اور پھر جب اس سے بھی ان کا دل نہیں بھرا تو انہوں نے ’چوتھی دنیا‘ کے چیف ایڈیٹر محترم سنتوش بھارتیہ کو ایک نوٹس بھیجوا دیا۔ اس وقت کیا حامد انصاری کا یہ فرض نہیں تھا کہ ایک مسلمان ہونے کے ناطے غریب مسلمانوں کے لئے وہ اتنا تو کرتے کہ حکومت  سے جواب طلب کرتے کہ رپورٹ تو بھیج دی گئی ہے Action Taken Report کہاں ہے جبکہ قانوناً یہ حکومت کا فرض بنتا ہے کہ جب بھی اس کی رپورٹ کو پارلیمنٹ میں پیش کیا جاتا ہے تو حکومت بتاتی ہے کہ فلاں رپورٹ ہمیں ملی ہے اور اس رپورٹ پر ہم نے یہ کارروائی کی ہے مگر یہ مسلمانوں کی بد قسمتی ہے کہ حامد انصاری کے رہتے ہوئے پارلیمنٹ میں رنگناتھ مشرا کمیشن رپورٹ پیش کی جاتی ہے اور بنا ایکشن رپورٹ لئے حکومت سے کوئی جواب لئے بغیر اسے ٹھنڈے بستے میں ڈال دیا جاتا ہے۔ ظاہر ہے یہ بے حد اہم رپورٹ تھی ۔ اگر اس وقت حامد انصاری مسلمانوں کی تکلیف کا احساس کرتے ہوئے حکومت سے اس پر عمل در آمد کی بات کرتے تو یہ رپورٹ بنا ایکشن لئے نہیں دبادی جاتی ۔ یہ وہ رپورٹ تھی جو حکومت دو سالوں سے دبا کر بیٹھی ہوئی تھی اور اس رپورٹ میں کمیشن نے مسلمانوں اور عیسائیوں کو ریزرویشن دینے کی بات بھی کہی تھی ۔ کمیشن 2007 میں ہی اپنی رپورٹ حکومت کو سونپ چکا تھا لیکن دو سالوں کے بعد بھی یہ رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش نہیں کی جاسکی تھی۔ ’چوتھی دنیا‘ نے ہمت اور حوصلے سے یہ رپورٹ شائع کردی اور تمام پارٹیوں ،سماجوادی پارٹی، راشٹریہ جنتا دل، لوک جن شکتی پارٹی ، کمیونسٹ پارٹی کے ممبران پارلیمنٹ نے ہنگامہ مچایا لیکن رپورٹ کو راجیہ سبھا میں حامد انصاری کے ہوتے ہوئے بھی پیش نہیں کیا جاسکا۔ لوک سبھا میں سماجوادی پارٹی کے ممبران پارلیمنٹ نے ’چوتھی دنیا‘ کی کاپی لہراتے ہوئے وزیر اعظم سے اس معاملے پر بیان دینے کا مطالبہ کیا اور پارلیمنٹ کی کارروائی نہیں چلنے دی۔ آخر کار وزیر اعظم کو لوک سبھا میں اس مسئلہ پر بیان دینا پڑا اور کہنا پڑا کہ اس سیشن میں رپورٹ پیش کردی جائے گی۔ ہوا بھی یہی کہ 2009 کے سرمائی سیشن کے آخری دن رپورٹ پیش بھی کر دی گئی لیکن اس کے بعد اس رپورٹ کا کیا ہوا ۔ اس کے بعد کئی سیشن آئے اور چلے گئے لیکن ابھی تک اس پر نہ تو کوئی ٹھوس عمل ہوا اور نہ کوئی پیش قدمی۔ حامد انصاری آج بھی نائب صدر ہیں ۔ انہوں نے کیا کبھی حکومت سے اس رپورٹ کے بارے میں سوال کیا، نائب صدر کے پاس حکومت کے کاموں اور فیصلوں میں کچھ نہ کچھ توپاور ہوتی ہے مگر صدر کے پاس تو کچھ بھی پاور نہیں ہوتی ہے، سوائے ایک ڈمی بنے رہنے کے ۔صدر کچھ نہیں کرسکتا ۔ایسے میں اگر حامد انصاری صدر بن بھی جاتے ہیں تو اس سے مسلمانوں کا کیا بھلا ہوگا۔
دوسرا نام ڈاکٹر ایس وائی قریشی کا سامنے آیا ہے ۔ ظاہر ہے وہ چیف الیکشن کمشنر ہیں۔ان کی جھولی میں بے داغ اور صاف و شفاف الیکشن کرانے کا کریڈٹ  ضرور ہیلہٰذا  ریٹائرمنٹ کے بعد بہت سے بہت ان کو گورنر یا ہائی کمشنر بنایا جا سکتاہے۔ صدر کے لئے ان کے نام کا کوئی مطلب نہیں بنتا ۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ یہاں بھی زبردستی مسلمانوں کوخوش کرنے کے لئے ان کا نام ڈالا جارہا ہے۔
ایک کامیاب صدر بن چکے ڈاکٹر اے پی جے عبد الکلام کا نام دوبارہ کیوں لیا جارہا ہے ۔اس کامطلب بھی وہی ہے کہ مسلمان صدر کا نام لے کر صرف مسلمانوں کو رجھانے اور مسلم ووٹ بینک تیار کرنے کا ہدف پورا کیا جارہا ہے۔وہ پانچ سالوں تک صدر جمہوریہ رہے مگر ہمیں یاد نہیں آتا کہ انہوں نے مسلمانوں کی بھلائی کے لئے کچھ بھی کیا ہو۔
اس طرح مسلم صدر بنانے اور ماحول تیار کرنے سے یہ ہوگا کہ مسلمان صدربنے یا نہ بنے مگر مسلمانوں کے خلاف ایک ماحول ضرور تیار ہوجائے گا اور اسمیں بی جے پی اور آر ایس ایس کو موقع مل جائے گا کہ مسلمانوں کو خوش کرنے کے لئے یہ سب کیا جارہا ہے۔ مسلمان خود ایمانداری سے سوچیں کہ آیا ان کو مسلم صدر کی ضرورت ہے یا پھر اسکول، کالج، اور روزگار کی۔ ہوتا یہ ہے کہ مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لئے نہ تو ان کی تعلیم کا بہتر انتظام کیا جاتا ہے نہ بنیادی ضروریات کا خیال رکھا جاتا ہے نہ ہی ان کے لئے ریزرویشن کا مسئلہ حل کیا جاتاہے ۔بس ان کوخوش کرنے کے لئے بار بار کوئی نہ کوئی شوشہ چھوڑ دیا جاتا ہے
وزیر اعظم منموہن سنگھ نے 2006 میں کہا تھاکہ ملک کے وسائل پر مائنورٹیز کا پہلا حق ہے۔انہوں نے کہا اور پھر بڑی آسانی سے بھول بھی گئے۔ مسلمانوں کے لئے اگر حکومت کچھ کرناہی چاہتی ہے تو کسی مسلم کو صدر بنانے کے بجائے  ان کی تعلیم کا بہتر انتظام کرے ،بے روزگاری کا مسئلہ حل کرے،غریبی،بھکمری دور کرے،مسلم خواتین کا استحصال نہ ہو۔ ہوتا یہ آرہا ہے کہ مسلمانوں کے نام پر لیڈر تو بن جاتے ہیں ،چیف منسٹر ،منسٹر، گورنر بھی بن جاتے ہیں مگر اس کے بعد ان ہی کو بھول جاتے ہیں ۔ آزادی کے بعد سے اب تک جس طرح مسلمانوں کو دھوکہ دیا جاتا رہا ہے ۔مسلم صدر بنانے کی یہ کوشش اسی فہرست میں ایک اور اضافہ ہے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *