ممبئی: مہاراشٹر حکومت کی آرام نگر کو بیچنے کی سازش

ششی شیکھر
آرام نگر کا مکان نمبر 21/1۔ اس میں نوین ویگن کر اور ان کی بہن کُندا ویگن کر رہتے ہیں۔ 1947 میں ان کے والد کراچی (پاکستان) سے ممبئی آئے۔ سارا بھائی کمپنی میں نوکری ملی اور کمپنی کی ہی سفارش سے آرام نگر کے اس بیرک میں رہنے کو ایک چھوٹا سا گھر ملا۔ بچپن سے جوانی تک اور اب بڑھاپا اسی علاقہ، اسی گھر میں گزر رہا ہے، لیکن اب ان کے آشیانے کو کسی کی نظر لگ گئی ہے۔ اسی طرح للتا پاٹنکر کے والد مدھوکر سدا شیو پاٹنکر مجاہد آزادی تھے۔ 1946 میں مرارجی بھائی دیسائی کے بھائی سی آر دیسائی کی سفارش پر انہیں آرام نگر کے بیرک میں مکان نمبر 50 رہنے کو ملا۔ لیکن اب للتا پاٹنکر کے سر سے کبھی بھی چھت غائب ہو سکتی ہے۔ اسی طرح ستیانند راؤ، جینی لال سومیا، ہری ہرن، نسرین شیخ، نریندر جیٹھوانی، دیپک سرین، پرکاش پارکر، سنجیو بترا جیسے سیکڑوں ایسے خاندان ہیں جو پچاسوں سال سے آرام نگر میں رہ رہے ہیں۔ لیکن اب انہیں ان کے گھر سے بے دخل کرنے کی سازش رچی جا رہی ہے۔ وجہ، کچھ لالچی لوگوں کی نگاہ اس علاقہ کی بیش قیمت زمین پر پڑ چکی ہے۔
مہاراشٹر ہاؤسنگ اینڈ ایریا ڈیولپمنٹ اتھارٹی (مہاڈا) کی نظر میں اب یہ علاقہ سلم بن چکا ہے اور اس لیے اس علاقہ کی از سر نو تعمیر کی ضرورت ہے، جب کہ حقیقت بالکل اس کے برعکس ہے۔ سمندر کے کنارے آباد آرام نگر ممبئی کا شاید سب سے خوبصورت اور سبر سبز علاقہ ہے۔ لیکن مہاڈا 17 ہیکٹیئر میں پھیلی اس تاریخی جگہ پر ملٹی اسٹوری بلڈنگ بناکر قدرتی خوبصورتی کو برباد کرنا چاہتا ہے۔ اور مہاڈا ایسا اس لیے کرنا چاہتا ہے تاکہ اربوں کی اس زمین سے ایک خاص بلڈر کو فائدہ پہنچے۔ یہاں کی زمین کی قیمت اربوں روپے ہے۔

کہتے ہیں ممبئی میں کھانے کو مل جاتا ہے، رہنے کی جگہ آسانی سے نہیں ملتی۔ ایسے میں جب ممبئی کے کسی باشندہ کو اپنا 65 سال پرانا گھر چھوڑنے کے لیے، حکومت مجبور کرے تو اسے کیا کہیں گے؟ حکومت گھر توڑنے کی دھمکی دے تو کسی پر کیا گزرتی ہوگی؟ اور یہ سب کچھ اس لیے تاکہ ہزاروں کروڑ روپے کی زمین ایک بلڈر کو دی جاسکے۔ تاکہ، اس سر سبز زمین پر کنکریٹ کا جنگل پیدا کیا جاسکے۔ تاکہ، اس سے اربوں کی کمائی ہو سکے۔ کچھ یہی کہانی ہے ممبئی کے وَرسووا (ساحل سمندر) سے ٹھیک 50 میٹر دور آرام نگر علاقہ کی۔ ایک ایسا تاریخی علاقہ جسے محفوظ رکھے جانے کی ضرورت ہے، لیکن لیڈر، نوکر شاہ اور بلڈر مل کر اسے تباہ کرنے کی سازش رچ رہے ہیں۔

ظاہر ہے، بلڈر، نوکرشاہ اور لیڈروں کی نظر سے آخر کب تک یہ علاقہ بچتا۔ نتیجتاً، آج آرام نگر کی از سر نو تعمیر کے نام پر یہاں کے باشندوں کو کبھی ان کے گھر کو گرا دینے کا نوٹس بھیجا جا رہا ہے تو کبھی انہیں لالچ دیا جا رہا ہے۔ بلڈر غلط ڈھنگ سے اور فرضی کانسینٹ لیٹرس (جن کے مکان ہیں ان کے نام کے) تیار کرواکر مہاڈا کے سامنے پیش کر رہا ہے۔ چوتھی دنیا کے پاس وہ تمام دستاویز موجود ہیں، جو یہ ثابت کرتے ہیں کہ کیسے آرام نگر ٹنینٹ ویلفیئر ایسو سی ایشن کے عہدیداروں کو اپنے حق میں کرکے بلڈر نے فرضی کانسینٹ لیٹر تیار کروایا۔ ایک اور اہم سوال، آر این اے کو ہی کیوں پروجیکٹ ملا، وہ بھی بنا ٹنڈر نکالے۔ سب سے اہم بات جو سمجھ سے پرے ہے کہ آخر آر این اے بلڈرس میں ایسی کیا خوبی تھی جو مہاڈا نے بغیر کسی ٹنڈر کے یہ پروجیکٹ اسے دے دیا۔ کیوں نہیں دوسرے بلڈرس کو بھی مدعو کیا گیا۔ ظاہر ہے، مہاڈا کا یہ قدم اپنے آپ میں شک پیدا کرتا ہے۔
بہرحال، آر این اے اور مہاڈا نے مل کر آرام نگر ٹیننٹ ایسو سی ایشن کے کچھ با اثر لوگوں کو اپنے ساتھ ملا کر، ایک سہ فریقی معاہدہ کر لیا جس کے تحت غلط ڈھنگ سے کانسینٹ لیٹرس بھی بنائے گئے اور لوگوں کو لالچ بھی دینے کی کوشش کی گئی۔ زیادہ تر لوگوں نے ایسو سی ایشن کے اس قدم کی مخالفت کرنی شروع کی اور ایک میٹنگ میں ایسوسی ایشن کی ایگزیکٹیو کمیٹی میں عدم اعتماد کی تجویز پیش کردی، یعنی 2 اکتوبر، 2009 کو ہوئے جوائنٹ ری ڈیولپمنٹ ایگریمنٹ کو ماننے سے انکار کر دیا۔ اس سے پہلے بھی، آرام نگر کے لوگوں نے مہاڈا کو باخبر کیا تھا کہ وہ از سر نو تعمیر کی اس اسکیم سے متفق نہیں ہیں اور چونکہ بلڈر کو یہ معلوم تھا کہ فرضی کانسینٹ لیٹرس کے سہارے وہ یہ کیس عدالت سے جیت نہیں سکتا، تو اس نے ایک نئی چال چلی۔ مہاڈا اور میونسپل کارپوریشن آف گریٹر ممبئی سے ساز باز کرکے 351 ڈیمولیشن نوٹس جاری کروائے گئے تاکہ مکان مالکوں پر دباؤ بنایا جاسکے، انہیں ڈرایا جاسکے، تاکہ وہ ڈر کر اصلی کانسینٹ لیٹر دے دیں۔ اس نوٹس کا سب سے مزیدار پہلو یہ ہے کہ میونسپل کارپوریشن آف گریٹر ممبئی نے یہ نوٹس بغیر کسی ہوم ورک کے تیار کیا ہے۔ کسی مکان کے گراؤنڈ فلور کو اَلیگل اور سیکنڈ فلور کو لیگل بتایا گیا ہے۔ اور یہ نوٹس تب جاری کیا گیا ہے جب یہ معاملہ عدالت میں زیر غور ہے۔
اس کے علاوہ باز تعمیر کی اس اسکیم سے مقامی قدرتی توازن کو بھی خطرہ ہے۔ لیکن اس سوال پر کسی بھی سرکاری ایجنسی نے سوچنے کی زحمت نہیں اٹھائی۔ آرام نگر کا یہ علاقہ کوسٹل ریگولیشن ژون (سی آر زیڈ) میں آتا ہے۔ کوسٹل لائن سے محض 60 میٹر دور ہے۔ سی آر زیڈ کے مطابق کوسٹ لائن کے 100 میٹر کے اندر کے پلاٹ پر ڈیولپمنٹ ورک نہیں کیا جاسکتا ہے۔ 17.5 ہیکٹیئر کے اس پلاٹ کی از سر نو تعمیر کے لیے وزارتِ ماحولیات و جنگلات سے انوایرمینٹل کلیئرنس کی بھی ضرورت ہوگی۔ اس علاقہ کی زمین چونکہ سمندر کے کنارے ہے، اتنی کمزور ہے کہ اس پر ملٹی اسٹوری بلڈنگ بنانا خطرے کو دعوت دینا جیسا ہے۔اسی علاقہ میں کچھ دنوں پہلے نابارڈ کی ایک سات منزلہ عمارت بنائی گئی تھی جو کام میں آنے سے پہلے ہی ڈھے گئی۔ ایسے میں اگر یہاں پچاس منزلہ عمارت بنائی جائے گی تو اس کا کیا حال ہوگا۔ بہرحال، اس معاملے کو لے کر آرام نگر کے باشندوں نے عدالت اور لوک آیکت کا دروازہ بھی کھٹکھٹایا ہے۔ لوک آیکت کے یہاں سے ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں آیا ہے۔ جہاں تک عدالت کا سوال ہے تو اس معاملے میں پہلے ہائی کورٹ نے ان کے پٹیشن نمبر 2086/2010 کو خارج کر دیا تھا۔ اس کے بعد دوبارہ ان لوگوں نے تمام دستاویز جمع کرکے ہائی کورٹ میں فریاد کی ہے۔ آرام نگر ٹیننٹ ایسو سی ایشن سے الگ، یہاں کے لوگوں نے ہائی کورٹ میں ریویو پٹیشن ڈال کر عرضی نمبر 2086/2010 میں 7/10/2010 کو جاری کیے گئے حکم پر نظر ثانی کرنے کی درخواست کی ہے۔ پٹیشن کے ساتھ تمام کاغذی ثبوت بھی دیے گئے ہیں۔ مثلاً، فرضی کانسینٹ لیٹرس، انوایرمنٹ کلیئرنس نہ ہونے کی بات، گورنمنٹ ریزولیوشن کی کاپی، آرام نگر ٹیننٹ ایسو سی ایشن کی ایگزیکٹیو کمیٹی کا یک طرفہ فیصلہ۔ ریویوپٹیشن کے گراؤنڈ کے طور پر بتایا گیا ہے کہ مہاڈا ایکٹ 1976 کے تحت یہ ری ڈیولپمنٹ اناتھرائزڈ ہے، کیوں کہ مہاڈا اس قسم کے ایگریمنٹ، جس میں خود وہ ایک فریق ہو، نہیں کر سکتا۔ اور بغیر تکنیکی اور ایڈمنسٹریٹو منظوری کے ایسا ٹنڈر قبول نہیں کیا جاسکتا ہے۔ ٹنڈر کارروائی پر بھی سوال اٹھائے گئے ہیں۔ ساتھ ہی، ڈی سی (ڈیولپمنٹ کنٹرول رولس) رول 1991 کی دفعہ 33(5) کے تحت 2004 کے کانسینٹ لیٹرس قابل قبول نہیں ہو سکتے۔ نئے کانسینٹ لیٹرس لیے جانے کی ضرورت ہے۔ ساتھ ہی بامبے ٹرسٹ ایکٹ 1950 کی دفعہ 35 (جس کے تحت آرام نگر ایسو سی ایشن رجسٹرڈ ہے) کے تحت ایسوسی ایشن کو اس معاہدہ کے لیے پہلے سے منظوری لینی چاہیے تھی، جو نہیں لی گئی۔ اس طرح سے کئی اہم نکات کے ساتھ آرام نگر کے لوگوں نے بامبے ہائی کورٹ سے آرام نگر کو بچانے کی فریاد کی ہے۔ پٹیشن میں مہاڈا، آر این اے اور ایسو سی ایشن کے درمیان ہوئے سہ فریقی معاہدے کے عمل کو فی الحال روکنے کی مانگ کی گئی ہے۔ ڈیمولیشن نوٹس کو ردّ کیے جانے کی بات بھی پٹیشن میں کی گئی ہے۔ فی الحال، معاملہ عدالت میں زیر غور ہے۔ کورٹ کا کیا فیصلہ آتا ہے، اس کا انتظار آرام نگر کے لوگ بے صبری سے کر رہے ہیں۔ لیکن ان سب کے درمیان، ایک بڑا سوال حکومت مہاراشر کی نیت اور پالیسی پر بھی کھڑا ہوتا ہے، کیوں کہ لبرلائزیشن کے اس دور کا سب سے قیمتی وسیلہ زمین ہے اور یہ محدود ہے، اس لیے اس پر قبضہ کرنے کے لیے ہر قسم کے ہتھکنڈے اپنائے جا رہے ہیں۔ آرام نگر دوسری عالمی جنگ سے لے کر آزادی اور پناہ گزینوں کے آنے اور ان کے بسنے کی کہانی سمیٹے ہوئے ہے۔ کیا حکومت مہاراشٹر آرام نگر کو بچائے گی یا پھر ایک پراپرٹی ڈیلر بن کر بلڈروں کے ہاتھ کا کھلونا بن کر رہ جائے گی؟ یہ سوال صرف آرام نگر کا نہیں ہے، پورے مہاراشٹر کا ہے، پورے ملک کا ہے۔

کیا کہتی ہیں دستاویز
آرام نگر کے ان 357 گھروں میں 65 سال قبل مہاجرین آئے تھے۔ اب ان کے پوتے – بیٹے اس میں رہتے ہیں۔ بعض گھر دوسرے لوگوں نے بعد میں خرید لیے۔ اب سوال ہے کہ کیا ان لوگوں کو، جن کے والد یا دادا کو 65 سال قبل ہندوستان یا حکومت مہاراشٹر نے آباد کیا تھا، پھر سے حکومت مہاراشٹر اپنے ہی ملک میں پناہ گزین بنانا چاہتی ہے۔ انہیں ان کے ہی گھر سے بے دخل کرکے یا ان کے گھروں کو توڑ کر اور زمین کو پرائیویٹ بلڈروں کے ہاتھ فروخت کرکے۔ لیکن ایک نظر دوڑاتے ہیں ان سرکاری دستاویزوں پر جو یہ ثابت کرتی ہیں کہ ان گھروں کے مالک کون ہیں؟
ماہانہ کرایے کی رسید:  جن لوگوں (پناہ گزین یا مجاہدین آزادی) کو یہ گھر تقسیم کیے گئے تھے، وہ لگاتار اپنا ماہانہ کرایہ دیتے رہے اور اب بھی دے رہے ہیں۔ شروع میں اور اب بھی مہاڈا یا میونسپل کارپوریشن کی طرف سے اس علاقہ پر کوئی خاص دھیان نہیں دیا گیا۔ یہاں کے لوگ خود ہی اپنی بنیادی سہولیات کا انتظام کرتے رہے ہیں۔
گورنمنٹ ریزولیوشن 1987 :  1987 میں مہاراشٹر ہاؤسنگ اینڈ ایریا ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے ایک ریزولیوشن جاری کرکے یہاں کے ٹیننٹ (کرایے دار) کو اونر شپ (مالکانہ حق) دینے کی بات کہی تھی۔
بامبے ہاؤسنگ بورڈ، 1955 کا خط :  آرام نگر کے ہاؤس نمبر 50 میں رہنے والی للتا پاٹنکر کے والد مدھوکر سدا شیو پاٹنکر کے نام ایک خط 29 جون، 1955 کو بامبے ہاؤسنگ بورڈ نے لکھا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ آپ زمین کا استعمال باغیچہ کے طور پر کر رہے ہیں، اس لیے آپ کو فی 100 مربع فٹ کے لیے ایک روپیہ کی مد سے اضافی کرایہ دینا پڑے گا۔

کانسیپٹ لیٹر اور آر این اے کا جھوٹ
حکومت مہاراشٹر کے قانون کے مطابق کسی بھی علاقہ کی از سر نو تعمیر کے لیے یہ ضروری ہے کہ اس علاقہ میں رہنے والے 70 فیصد خاندانوں کی منظوری ہو، یعنی 70 فیصد خاندان جب تک اپنی منظوری، وہ بھی تحریری طور پر، نہیں دیتے تب تک از سر نو تعمیر کی اسکیم نہیں بنائی جا سکتی ہے۔ آرام نگر کی از سر نو تعمیر کی اسکیم تو مہاڈا نے بنا لی۔ یہ پروجیکٹ بھی آر این اے بلڈرس (جس کا نام اب ایسٹ اینڈ ویسٹ ہو گیا ہے) نام کے ایک پرائیویٹ بلڈر کو دے دیا۔ وہ بھی بغیر کوئی ٹنڈر نکالے۔ ظاہر ہے، ایک اکیلا یہی فیصلہ اس پورے پروجیکٹ کو کٹہرے میں لا کھڑا کر تا ہے۔ بہرحال، اس کے بعد آر این اے نے کانسینٹ لیٹر حاصل کرنے کے لیے ایک سازش رچی۔ چونکہ آر این اے کو معلوم تھا کہ آرام نگر کے لوگ کانسینٹ لیٹر نہیں دینے والے ہیں، اس لیے اس نے سب سے پہلے آرام نگر ٹیننٹ ویلفیئر ایسو سی ایشن کے عہدیداروں کو اپنے ساتھ لانے کی کوشش کی۔ اس طرح ایک ایک کرکے فرضی کانسینٹ لیٹرس بنانے کا کام شروع ہو گیا اور باقاعدہ 70 فیصد سے زیادہ کانسینٹ لیٹرس بناکر مہاڈا کے پاس جمع بھی کرا دیے گئے۔ لیکن سچائی تب سامنے آئی جب آرام نگر کے لوگوں نے آر ٹی آئی قانون کے تحت مہاڈا سے سارے کانسینٹ لیٹرس کی کاپی حاصل کی۔ جب ان لیٹرس کا تجزیہ کیا گیا تو پتہ چلا کہ ان میں سے محض 29 فیصد کانسینٹ لیٹرس ہی صحیح ہیں، باقی سب فرضی ہیں۔ مثال کے طور پر، بی کے موم میا (کمرہ نمبر 14) کے کانسینٹ لیٹر میں نہ تو کوئی فوٹو ہے اور نہ ہی دستخط۔ دیوندر سنگھ کوچر کو کمرہ نمبر 31 کا ٹیننٹ بتایا گیا ہے، جب کہ سچائی یہ ہے کہ اس جگہ پر ایک گرودوارہ ہے۔ مزیدار بات یہ کہ یہی دیوندر سنگھ کوچر کمرہ نمبر 32 کے مالک کے طور پر بھی اپنا کانسینٹ لیٹر دے دیتے ہیں۔ ایک ہی مکان نمبر 97 کے لیے دو لوگوں (اونر) کیلاش گپتا اور اشوک گپتا کے نام سے کانسینٹ لیٹر بنا لیا جاتا ہے۔ اور جو کانسینٹ لیٹرس صحیح بھی ہیں، ان میں سے کئی میں مکان مالکوں نے بلڈرس کے نام پر سخت اعتراض درج کرایا ہے۔

تاریخی ہے آرام نگر
دوسری عالمی جنگ کے دوران ممبئی کے آرام نگر میں فوجیوں کے لیے بیرک بنوائے گئے تھے۔ تقریباً 17 ہیکٹیئر میں پھیلے، ہریالی اور سمندر کے کنارے آباد یہ علاقہ ممبئی کی بھیڑ بھاڑ کے درمیان سکون اور راحت دیتا ہے۔ دو حصے میں بنٹے یعنی آرام نگر – 1 اور آرام نگر – 2 میں تقریباً 357 چھوٹے چھوٹے گھر ہیں۔ پہلے یہ بیرک مرکزی حکومت کے سی پی ڈبلیو ڈی کے ماتحت تھا۔ بعد میں اسے حکومت مہاراشٹر (مہاڈا – مہاراشٹر ہاؤسنگ اینڈ ایریا ڈیولپمنٹ اتھارٹی) کو دیا گیا۔ 1947 میں آزادی کے بعد، پاکستان سے کافی تعداد میں پناہ گزین ممبئی پہنچے۔ حکومت نے ان بیرکوں میں پناہ گزینوں اور مجاہدین آزادی کو رہنے کے لیے جگہ دے دی۔ ماہانہ کرایے کی بنیاد پر انہیں ایک ایک گھر دے دیا گیا۔ ابھی یہاں پر رہ رہے زیادہ تر لوگوں کے والد یا دادا پاکستان سے آئے تھے۔ ممبئی کے وَرسووا بیچ سے قریب 50 میٹر کی دوری پر واقع آرام نگر ایک معنی میں ہندوستانی تاریخ کے کئی اہم صفحات کو خود میں سمیٹے ہوئے ہے۔ دوسری عالمی جنگ سے لے کر آزادی اور پناہ گزینوں کے درد کو سمیٹے ہوئے اس آرام نگر کا وجود اب خطرے میں ہے۔ اس پر لالچی بلڈروں اور لیڈروں کی نظر پڑ چکی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *