ملائم سنگھ کی اگلی نظر مرکزی اقتدار پر

اجے کمار
ملائم سنگھ یادو نے اپنے صاحبزادہ اکھلیش کو اتر پردیش کا تاج سونپ کر اپنا فریضہ پورا کر دیا۔ اب اکھلیش یادو کی باری ہے اپنے والد کا قرض ادا کرنے کی۔ سماجوادی پارٹی کے تمام لیڈر چاہتے ہیں کہ برسوں سے وزیر اعظم بننے کا خواب دیکھ رہے عمر دراز ملائم کے لیے اکھلیش راہ ہموار کریں۔ اس کے لیے ٹھیک ویسے ہی تیاریاں شروع کی جائیں، جیسے اتر پردیش اسمبلی انتخاب کے لیے ملائم سنگھ یادو نے کی تھیں۔ ملائم سنگھ اتر پردیش کے سہارے مرکز میں سماجوادی پارٹی کا پرچم لہرانا چاہتے ہیں۔ کانگریس کے منصوبوں سے دور سماجوادی پارٹی کے قومی صدر اور اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ ملائم سنگھ یادو کو لگتا ہے کہ ریاست کی سماجوادی حکومت کے مکھیا اکھلیش سنگھ یادو کے کام کی بنیاد پر وہ دہلی فتح کر سکتے ہیں۔

یہ اور بات ہے کہ ریاست اور مرکز کی سیاست میں کافی فرق ہے۔ اتر پردیش کی بات کی جائے تو یہاں سماجوادی پارٹی کو صرف بی ایس پی کو چنوتی دینی تھی۔ کانگریس اور بی جے پی حاشیہ پر کھڑی تھیں۔ عوام مایاوتی حکومت سے ناراض تھے۔ اسے متبادل کے طور پر سماجوادی پارٹی دکھائی دی اور اس نے اس کو اقتدار تک پہنچا دیا، لیکن مرکز میں بی ایس پی اور سماجوادی پارٹی کا وجود کانگریس کے پیچھے چلنے والی پارٹی کے طور پر ہی جانا جاتا ہے۔

2014 کے لوک سبھا الیکشن میں کانگریس کا نقصان طے ہے۔ بس دیکھنا یہ ہے کہ اس کا فائدہ کون اٹھا پائے گا۔ فائدہ اٹھانے کے لیے بی جے پی کی بے تابی تو کافی دنوں سے نظر آرہی ہے، لیکن اس کے علاوہ کئی ریاستوں کے طاقتور غیر کانگریسی اور غیر بھاجپائی لیڈروں میں ملائم سنگھ یادو، شرد یادو، لالو پرساد یادو، مایاوتی، ممتا بنرجی، جیہ للتا، نتیش کمار اور چندر بابو نائڈو کی نظریں بھی مرکز کی سیاست پر ٹکی ہیں۔ یہ لیڈر انتخاب کا وقت قریب آتے آتے متحد بھی ہو سکتے ہیں اور اقتدار کے لیے انتخاب کے بعد بھی اتحاد کرنے میں انہیں پرہیز نہیں ہوگا۔ بوند بوند سے سمندر بھرنے کی کوشش میں لگے مذکورہ لیڈروں کو قدم پھونک پھونک کر رکھنا پڑ رہا ہے۔ سب ایک دوسرے کو پچھاڑ کر آگے نکل جانے کا خواب سجائے بیٹھے ہیں۔
یہ اور بات ہے کہ ریاست اور مرکز کی سیاست میں کافی فرق ہے۔ اتر پردیش کی بات کی جائے تو یہاں سماجوادی پارٹی کو صرف بی ایس پی کو چنوتی دینی تھی۔ کانگریس اور بی جے پی حاشیہ پر کھڑی تھیں۔ عوام مایاوتی حکومت سے ناراض تھے۔ اسے متبادل کے طور پر سماجوادی پارٹی دکھائی دی اور اس نے اس کو اقتدار تک پہنچا دیا، لیکن مرکز میں بی ایس پی اور سماجوادی پارٹی کا وجود کانگریس کے پیچھے چلنے والی پارٹی کے طور پر ہی جانا جاتا ہے۔ دونوں ہی پارٹیاں گزشتہ کئی سالوں سے کانگریس کے سہارے چل رہی ہیں۔ مرکز میں کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی دو بڑی طاقتیں ہیں، جن کی پکڑ پورے ملک میں ہے۔ کئی ریاستوں میں ان پارٹیوں کی حکومتیں ہیں۔ مرکز کی ساری سیاست کانگریس اور بی جے پی کے ارد گرد گھومتی رہتی ہے۔ حالانکہ کمیونسٹ اور تمام علاقائی پارٹیوں کا بھی مرکز میں اچھا خاصا دخل ہے، لیکن یہ لوگ کچھ موقعوں کو چھوڑ کر کبھی بھی ان دونوں پارٹیوں کے لیے چنوتی نہیں بن پائے۔ کچھ موقعوں پر تیسرا محاذ کھڑا بھی کیا گیا تو اس میں اعتماد کی کمی صاف طور پر نظر آئی اور موقع پرستی حاوی رہی۔
ملائم سنگھ یادو ایک بار پھر غیر کانگریسی اور غیر بھاجپائی طاقتوں کو متحد کرکے مرکز کی سیاست میں اعلیٰ مقام حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ وہ اتر پردیش سے کم از کم اتنی سیٹیں جیت لینا چاہتے ہیں، جتنی دیگر ریاستوں سے کوئی غیر کانگریسی اور غیر بھاجپائی نے نکال پائیں۔ ملائم کے قریبی بتاتے ہیں کہ نیتا جی نے کم از کم 60 لوک سبھا سیٹیں اتر پردیش سے جیتنے کا عزم کر رکھا ہے۔ اگر ایسا ہوگیا یا پھر دو چار سیٹیں کم بھی رہیں تو ملائم کے لیے راہ خود بخود آسان ہو جائے گی۔ اتر پردیش میں اکھلیش کے اقتدار میں کھوتی جا رہی کانگریس، بی جے پی اور آر ایل ڈی کے لیڈروں کی طاقت اتنی نہیں لگتی ہے کہ وہ سماجوادی پارٹی کے لیے کوئی چنوتی بن پائیں گے۔ ایسا اتر پردیش میں پہلی دفعہ ہو رہا ہے، جب بی ایس پی لیڈروں کو چھوڑ کر سبھی پارٹیوں کے لیڈر اکھلیش کا قصیدہ پڑھ رہے ہیں۔ کانگریسی بھی اکھلیش کے جادو سے نہیں بچ پار ہے ہیں۔ ایک طرف سماجوادی پارٹی کے نوجوان لیڈر اور وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نئی بلندیاں حاصل کر رہے ہیں، وہیں اتر پردیش میں کانگریس، بی جے پی کے سامنے قیادت کی کمی ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی ہے۔ اتر پردیش بی جے پی آگے دیکھنے کی بجائے پیچھے دیکھ رہی ہے۔ تنظیم سے لے کر اسمبلی تک میں اس کی نئی قیادت پر پرانی قیادت کا ہی دبدبہ ہے۔ نتن گڈکری کے صدر بننے کے بعد پارٹی کے نوجوانوں لیڈروں میں جاگی امید کی کرن پھر سے ماند پڑ گئی ہے۔ بی جے پی کو یہ بھی نہیں دکھائی دے رہا ہے کہ اتر پردیش کے اقتدار پر ایک نوجوان چہرہ فائز ہے۔ اس کو کوئی نوجوان ہی چنوتی دے سکتا ہے۔ کانگریس کے حالات بھی کچھ اچھے نہیں ہیں۔ کہنے کو تو کانگریس میں درجنوں لیڈر ہیں، لیکن سب راہل گاندھی کے غلط اور صحیح تمام فیصلوں کے سامنے بے بس رہتے ہیں۔ ویسے کانگریسی یہ ماننے کو تیار نہیں ہیں کہ سماجوادی پارٹی اس سے الگ چل کر بھی کوئی راستہ بنا سکتی ہے۔ اس کے پیچھے ملائم کے خلاف چل رہا آمدنی سے زیادہ اثاثے کا معاملہ ہے۔ ایک کانگریسی نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ سینئر لیڈر نے کانگریس سے نظریں ٹیڑھی کیں تو نیتا جی کی آمدنی سے زیادہ اثاثے کی فائل، جو ابھی سست رفتار سے چل رہی ہے، اسے تیزی سے دوڑنے میں ذرا بھی دیر کانگریس کو نہیں لگے گی۔ کانگریسی مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ جب جعفر شریف سعودی عرب میں سفیر تھے، تب ان کو گورنر بنانے کی بات سامنے آئی تھی، لیکن آمدنی سے زیادہ اثاثہ کے معاملے میں پھنسے ہونے کے سبب وہ اس کرسی پر نہیں بیٹھ پائے تھے، پھر پی ایم کی کرسی پر بیٹھنے کی خواہش رکھنے والے ملائم کے لیے قانون الگ کیسے ہو سکتا ہے۔
مایاوتی کا تانا شاہی رویہ بی ایس پی کے لیے مصیبت بنا ہوا ہے۔ حالات ایسے ہی رہے تو بی ایس پی کو لوک سبھا الیکشن میں اپنی موجودہ طاقت کو بچانا آسان نہیں ہوگا۔ ویسے وہ دلت ووٹوں کو سنبھال کر رکھنے میں آج کل زیادہ دھیان دے رہی ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے اونچی ذات کے ووٹروں کو لبھانے کے لیے بنائی گئی بھائی چارہ کمیٹیوں کو بھی سرگرم کر دیا ہے۔ بی ایس پی کو لگتا ہے کہ جس طرح سے اکھلیش مسلمانوں کو لے کر نرم رویہ اپنائے ہوئے ہیں، اس سے اونچی ذات کے ہندوؤں میں ناراضگی بڑھے گی اور وہ ایک بار پھر بی ایس پی کی طرف رخ کر سکتے ہیں۔
ان سب باتوں سے بے فکر ملائم کے وفاداروں اور اکھلیش کی ٹیم نے دہلی کو فتح کرنے کے لیے ماحول ابھی سے بنانا شروع کر دیا ہے۔ دباؤ کی سیاست کی جا رہی ہے۔ مرکز کو ڈرا دھمکا کر اکھلیش سرکار وہ سب حاصل کرلینا چاہتی ہے، جو مایاوتی اپنی دادا گیری کے سبب نہیں حاصل کر سکی تھی۔ ترقیاتی اسکیموں کے لیے مرکز سے زیادہ سے زیادہ فنڈ حاصل کرنے کی مہم اکھلیش سرکار چلائے ہوئی ہے، تو سیاسی محاذ پر ملائم سنگھ یادو کانگریس کا امتحان لے رہے ہیں۔ سماجوادی پارٹی اتر پردیش میں اپنی پسند کا گورنر لانا چاہتی ہے، تاکہ اس کو کام کرنے میں آسانی ہو۔ وہیں صدر کے انتخاب کے لیے عبدالکلام کے نام کا شگوفہ چھوڑ کر اس پر دباؤ بنائے ہوئے ہیں۔ کلام کا نام آگے کرکے سماجوادی پارٹی ایک ساتھ دو محاذوں پر لڑائی جیتنا چاہتی ہے۔ ایک تو وہ مسلمانوں کو جتانا چاہتی ہے کہ اس کا جھکاؤ مسلمانوں کے تئیں کم نہیں ہوا ہے، وہیں مسلم صدر کا نام آگے کرکے ایس پی، کانگریس کے دلت کارڈ کی بھی ہوا نکالنا چاہتی ہے۔ بتاتے ہیں کہ کانگریس کسی دلت اور اس میں بھی دلت خاتون کو راشٹرپتی بھون بھیجنا چاہتی ہے۔ اس سے کانگریس کی دلتوں میں پکڑ مضبوط ہوگی، لیکن سماجوادی پارٹی مسلم چہرے کو آگے کرکے اپنا گیم پلان کر رہی ہے۔
ملائم سنگھ یادو اپنے کارکنوں کو سمجھا رہے ہیں کہ لوک سبھا الیکشن میں اتنی سیٹیں جیتنی ہیں کہ مرکز میں کوئی بھی پارٹی سماجوادی پارٹی کے بغیر حکومت نہ بنا پائے۔ ایس پی ایک قومی طاقت بن گئی ہے اور اسے ایک قومی متبادل بننا ہوگا۔ اتر پردیش میں ایس پی کا پرچم لہرانے سے خوش ملائم کا رخ مرکز کی منموہن حکومت کے تئیں ایک دم سخت ہو گیا ہے۔ ملائم جانتے ہیں کہ ان کی مرکز میں کیا اہمیت ہے۔ وہ دہلی کے تخت کے لیے اپنی سیاسی قیمت خود طے کرنا چاہتے ہیں۔ ملائم کا زیادہ تر وقت دہلی کے گلیاروں میں ہی گزر رہا ہے۔
ملائم کے لیے سب سے خوشی کی بات یہ ہے کہ اکھلیش عوام کے درمیان تیزی سے مقبول ہو تے جا رہے ہیں۔ انتخابی منشور کے وعدے جلد از جلد پورے کر لینے کے لیے ان کی حکومت انتظامیہ پر دباؤ بنائے ہوئے ہے۔ اکھلیش خود بھی کہتے ہیں کہ ان کی حکومت نئی اسکیمیں اور پروگرام پیش کر رہی ہے، جس کے نتائج اگلے تین ماہ میں نظر آنے لگیں گے۔

ہائی پروفائل دربار فروغ پا رہا ہے
سنجے سکسینہ
اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ جنتا دربار سے الگ ایک نیا دربار بھی سجا رہے ہیں۔ یہ دربار پوری طرح سے تکنیک پر مبنی اور ٹائم باؤنڈ ہوگا۔ فریادی نیٹ کے توسط سے اپنی فریاد درج کرائے گا۔ وزیر اعلیٰ کے دفتر کے اہل کاروں کی ٹیم انٹرنیٹ کی جدید تکنیک سے آنے والی شکایتوں کو پہلی نظر میں دیکھ کر شکایت کا درجہ طے کرے گی۔ اس کے بعد شکایتی خط مناسب کارروائی کے لیے متعلقہ افسر کو اس ہدایت کے ساتھ آگے بھیج دیا جائے گا کہ وہ ایک متعینہ وقت کے اندر شکایت پر مناسب کارروائی کرکے اس کی اطلاع وزیر اعلیٰ کے دفتر کو دیے۔ یہ متعینہ مدت شکایت کے مدارج کے مطابق ایک ہفتہ سے لے کر ایک ماہ تک ہو سکتی ہے۔ ضروری سمجھے جانے پر فریادی سے وزیر اعلیٰ خود بھی ملنے سے گریز نہیں کریں گے۔
دیکھنے میں یہ بھی آیا ہے کہ کچھ بڑی ہستیاں وزیر اعلیٰ سے ملنا تو چاہتی ہیں، لیکن وہ جنتا دربار میں جانے کی ہمت نہیں جٹا پا رہی ہیں۔ اگر یہ لوگ نیٹ کے ذریعے وزیر اعلیٰ سے ملنے کے لیے وقت مانگیں گے تو ان کو ملاقات کا الگ سے وقت دیا جائے گا۔ خاص کر ان لوگوں پر زیادہ دھیان دیا جائے گا، جو ریاست کے اندر اپنا پیسہ لگانا چاہتے ہیں۔ ایسے لوگوں اور بڑے بڑے صنعت کاروں کی 15 دنوں کے اندر وزیر اعلیٰ سے ملاقات طے کرا دی جائے گی۔ غور طلب ہے کہ وزیر اعلیٰ اتر پردیش کو صنعتی طور سے کافی آگے لے جانا چاہتے ہیں، تاکہ بے روزگاری دور ہونے کے ساتھ ساتھ ریاست کی ترقی بھی ہو۔ اسی سلسلے میں ریاستی حکومت لکھنؤ سے سٹے دیہی علاقوں میں 600 ایکڑ زمین پر آئی ٹی ہب بنانے جا رہی ہے۔ اس پروجیکٹ کے تحت حکومت ایک ہی جگہ پر آئی ٹی کے شعبہ سے وابستہ تمام سہولیات مہیا کرائے گی۔

جنتا دربار پہلے نہیں لگتا تھا
ایک وقت تھا، جب عوام کو اپنی فریاد وزیر اعلیٰ تک پہنچانے میں کوئی رکاوٹ نہیں پیش آتی تھی۔ عوام جب چاہتے وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ تک پہنچ جاتے۔ وزیر اعلیٰ موجود رہتے تو وہ مقررہ وقت پر باہر نکل کر آتے اور لوگوں کی فریاد اور شکایتیں سنتے، اپنے ساتھ موجود اہل کاروں کو احکام جاری کرتے اور چلے جاتے۔ یہ سلسلہ اتر پردیش کے پہلے وزیر اعلیٰ پنڈت گووِند ولبھ پنت سے شروع ہوا تھا اور تقریباً دو دہائیوں تک چلا۔ اتر پردیش کی سیاست میں وزیر اعلیٰ کا عوام سے سیدھا رابطہ بنانے کا یہ سب سے مؤثر طریقہ تھا۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا کہ وزیر اعلیٰ کو حقیقت کا پتہ چل جاتا ، وہیں دوسری طرف عوام کا حکومت کے تئیں بھروسہ بڑھتا تھا۔ وقت کے ساتھ وزرائے اعلیٰ کی مصروفیات بڑھتی چلی گئیں۔ ہمیشہ عوام سے ملنے کے لیے ان کے پاس وقت نہیں بچتا، یہیں سے جنتا درشن یا جنتا دربار کا سلسلہ شروع ہوا۔ ہفتہ میں کسی ایک دن وزیر اعلیٰ عوام سے ملاقات کا وقت مقرر رکھتے۔ بی ایس پی کی وزیر اعلیٰ مایاوتی کو چھوڑ کر اتر پردیش کے زیادہ تر وزرائے اعلیٰ عوام سے ملنے کے لیے وقت نکالتے رہے۔ ریاست میں ’جنتا دربار‘ لفظ کا پہلی بار استعمال 1974 میں اس وقت کے وزیر اعلیٰ ہیم وتی نندن بہوگنا نے کیا تھا۔ بی جے پی کے وزیر اعلیٰ کے طور پر کلیان سنگھ نے 1997 میں اس کا نام بدل کر ’جنتا دَرشن‘ کر دیا تھا۔ملک کی سیاست میں اس کی شروعات 1980 میں وزیر اعظم کے طور پر اندرا گاندھی نے کی تھی۔ ایمرجنسی لگانے کی وجہ سے کانگریس کی زبردست شکست کے بعد اندرا گاندھی 1980 میں جب اقتدار میں واپس آئیں تو انہیں اس بات کا احساس ہوا کہ جنتا دربار عام لوگوں کے تمام مسائل کو جاننے اور ملک کے مختلف حصوں کی صحیح معلومات حاصل کرنے کا سب سے مضبوط ذریعہ ہے۔ راجیو گاندھی نے بھی 1989 کے الیکشن سے قبل عوام سے ملنے کی شروعات کی، لیکن اس وقت سیکورٹی اسباب کی بناپر یہ چل نہیں پایا۔
اتر پردیش کے پہلے وزیر اعلیٰ پنڈت گووِند ولبھ پنت سے صبح 8 سے 9 کے درمیان کوئی بھی مل سکتا تھا۔ سمپورنا نند صبح 9 سے 10 بجے تک لوگوں سے ملتے تھے، تو چندر بھانو گپتا کا جنتا دربار راجدھانی کے پان دریبہ میں واقع ان کی رہائش گاہ پر ہر روز لگتا تھا۔ چودھری چرن سنگھ نے بھی سرکاری رہائش گاہ پر عوام سے ملنے کا وقت شام کے 4 سے 5 بجے تک طے کر رکھا تھا۔
ہیم وتی بہوگنا نے جنتا دربار کو سرکاری شکل دی۔ وہ لکھنؤ میں قیام کے دوران لوگوں سے ہر روز صبح 8 سے 10 بجے کے درمیان ملتے تھے۔ وشو ناتھ پرتاپ سنگھ کے وقت میں عوام سے ملنے کی روایت کمزور ہوئی۔ نارائن دت تیواری شام کو 4 بجے سے 5 بجے کے درمیان عوام سے ملتے تھے۔ ویر بہادر سنگھ نے عوام سے ملنے کی مہم کو پھر سے آگے بڑھایا تھا۔ ریاست میں پہلی بار ایس پی – بی ایس پی کی حکومت بننے پر ملائم سنگھ یادو بھی وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ پر پہنچنے والوں سے ملتے تھے، لیکن اس کے لیے کوئی وقت مقرر نہیں تھا۔ 1997 میں اور پھر 2007 میں بی ایس پی کی مکمل اکثریت والی حکومت بننے پر مایاوتی نے یہ کہہ کر جنتا دربار کی روایت ختم کر دی کہ اس سے ریاست بھر سے آنے والے عام شہریوں کو جہاں پریشانی ہوتی ہے، وہیں ان کے آنے جانے پر زیادہ خرچ بھی ہوتا ہے۔ مایاوتی کی دلیل تھی کہ لکھنؤ آنے کی بجائے عوام کے مسائل کا تھانہ دِیوس اور تحصیل دِیوس پر ہی نپٹارہ کر دیا جائے گا۔ پانچ سال بعد اکھلیش نے جنتا دربار لگایا تو ہجوم نے سارے ریکارڈ توڑ دیے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *