ایران: اونٹ نے دوسری طرف کروٹ لے لی ہے

اسد مفتی 

نومبراسرائیل کے نائب وزیر اعظم نے کہا ہے کہ اسرائیل کا ایران کے خلاف فوجی طاقت کے استعمال کا کوئی ارادہ نہیں، انہوں نے کہا ہے کہ اسرائیل ایران کے داخلی معاملات میں مداخلت نہیں کرے گا۔انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ایرانی صدر محمود احمدی نژاد ایرانی عوام کے لئے ایک بڑا مسئلہ ہیں کیونکہ یہ شخص نہ کوئی وعدہ نبھاتا ہے اور نہ ہی کوئی حل ڈھونڈتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایک برطانوی تھِنک ٹینک نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران دو سے تین برس میں ایٹمی ہتھیار بنانے کے قابل ہوجائے گا۔ یہ دعویٰ انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار اسٹرٹیجک اسٹڈیز کے سربراہ ’جان چم مین‘ نے دنیا کی مجموعی فوجی طاقت کے جائزے پر مشتمل سالانہ رپورٹ کے اجرا کے موقع پر لندن میں کیا ہے۔
دعویٰ اور جوابی دعویٰ سے قطع نظر آئیے آپ کو ایران اسرائیل تنازعہ کے پس منظر میں ایک دلچسپ کتاب کے اقتباسات سے روشناس کرواتا ہوں۔ ’ہارورڈ یونیورسٹی‘ کے ایک پروفیسر ڈاکٹر جیرم آر کورسی نے اپنی کتاب ’’ ایٹمی ایران‘‘ میں ایران پر اسرائیل کے پیشگی حملے کو بائبل کی تعلیمات کے عین مطابق قرار دیا ہے۔ اس کتاب میں جیرم آر کورسی نے ایرانی قیادت کو ’پاگل ملائوں کا ہجوم‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار تیار کرنے کی اجازت دینے کا مطلب پوری دنیا کی تباہی و بربادی کا بٹن اس کے حوالے کردینا ہے۔ کتاب میں اس بات کا دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایٹمی ایران تل ابیب پر اچانک حملہ کرسکتا ہے اور اگر تل ابیب پر حملہ ہوا تو پورا اسرائیل تباہ ہوجائے گا۔ اسرائیل کی تباہی کے لئے ایک ایٹم بم ہی کافی ہے۔ ڈاکٹر جیرم آر کورسی نے ایران پر پیشگی حملے کو بائبل کے فرمان کے عین مطابق قرار دیتے ہوئے یہ تجویز پیش کی ہے کہ اسرائیل عراق میں امریکی اڈے استعمال کرتے ہوئے بہ آسانی ایران کی ایٹمی تنصیبات کو تباہ کرسکتا ہے ۔ اس کے علاوہ خلیج فارس میں امریکی طیارہ بردار بحری جہاز بھی حملے کے لئے استعمال کیے جاسکتے ہیں ۔ جیسا کہ سالانہ رپورٹ کے جائزے میں کہا گیا ہے کہ ایران کے پاس ڈھائی سو ٹن یورینیم فلورائڈ ہے جو افزودہ ہونے کی صورت میں تیس سے پچاس ایٹمی ہتھیار بنانے کے لئے کافی ہو سکتی ہے۔ مصنف کورسی نے 2008 میں منظر عام پر آنے والی ایک رپورٹ کا حوالہ دیا ہے جس میں تل ابیب نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ اسرائیل ایران پر پیشگی حملے کی ریہرسل پہلے سے ہی کرچکا ہے۔ مصنف کے مطابق اسرائیل کے دو اہم شہروں (جو دراصل مقبوضہ علاقے ہیں)بیت المقدس اور تل ابیب میں سے کسی بھی شہر پر حملہ کیا گیا تو وہ دراصل تل ابیب پر حملہ تصور ہوگا اور تل ابیب پر نیوکلیئر حملہ اسرائیل کی معیشت کی بنیادیں ہلادے گا۔ لاکھوں افراد موقعہ پر ہی ہلاک ہوجائیں گے ۔ اس کے چند گھنٹوں یا چند دنوں بعد ہی تابکاری سے مزید ہزاروں افراد لقمہ اجل بن جائیںگے ۔ اس لئے اسرائیل کو چاہئے کہ کمانڈو کارروائی کے ذریعہ چند اہم ایرانی ملائوں کو قتل کرکے پورے ملک میں ہلچل مچادے اور حملے سے قبل یہ کارروائی بہتر اور اہم ثابت ہوسکتی ہے۔ کتاب ’’ ایٹمی ایران‘‘ میں کورسی نے انتہا پسند عیسائیوں کا اسرائیل کی بقا میں اہم کردار کا حوالہ دیتے ہوئے بائبل کے اقتباسات پیش کیے ہیں ۔ وہ لکھتا ہے ’’ سیمسن اینڈ ڈیلائلا‘‘کی کہانی پر غور کیجئے(16-4-3)ڈیلائلا نے اپنے شوہر سے بے وفائی کی۔ اس نے اپنے فلسطینی عوام کے لئے جو اسرائیلیوں کے دشمن ہیں اپنے شوہر کو دھوکہ دیا۔سیمسن کی طاقت اس کے بالوں میں تھی۔فلسطینیوں نے اس کی آنکھیں نکال لیں اور بال کاٹ دیے۔سیمسن اپنے گناہوں پر بہت نادم ہوا ۔ بال اس کے دوبارہ اُگ آئے اور اس کی طاقت بھی واپس آگئی۔ موقع ملتے ہی اس نے اپنی طاقت استعمال کرتے ہوئے مندر کے دو بڑے ستونوں کو گرا دیا اس طرح مندر کی چھت ان فلسطینیوں پر گر گئی جو اسے بھینٹ چڑھانا چاہتے تھے۔ سیمسن نے اس طرح فلسطینیوں کی ایک بڑی تعداد کو موت کے منہ میں دھکیل دیا مگر چھت گرنے سے وہ خود بھی مارا گیا۔ کتاب کے مصنف نے اس واقعہ کو مشرق وسطیٰ کے بحران کا حل بتایا ہے ۔ اس نے اسے اسرائیل کا سمیسن آپشن ’’ قرار دیا ہے۔ بائبل کے اس واقعہ کا حوالہ دیتے ہوئے اسرائیل کے ایران پر پیشگی حملے میں بھرپور حمایت کی ہے کہ ایران کسی بھی وقت اسرائیل پر حملہ کرسکتا ہے ۔ اس کی جذباتی کیفیت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا اور اسرائیل کے پاس اس کے سوا دوسرا کوئی راستہ نہیں کہ وہ اس پر پہلے حملہ کردے جیسا کہ اس نے عراق پر کیا تھا۔ آگے چل کر مصنف نے خود ہی یہ سوال اٹھایا ہے کہ اسرائیل ایران پر حملہ کیوں کرے؟ اور خود ہی اس سوال کا جواب دے دیا ہے۔وہ کہتاہے کہ اسرائیل نے قسم کھائی ہے کہ ہٹلر کے ہاتھوں یہودیوں کا قتل عام جیسا دوسرا واقعہ وہ اب کبھی نہیں ہونے دے گا وہ واقعہ اس لئے ظہور پذیر ہوا تھا کہ یوروپ کے یہودی مزاحمت نہیں کرسکے تھے لیکن اسرائیل اب ایسا نہیں ہونے دے گا۔ 5 جون 1976 کو چھ روزہ جنگ کے آغاز پر ہی اسرائیل نے سرزمین مصر پر کھڑے فضائی بیڑے کو تباہ کردیا تھا۔ یہ اسی قسم کے تحت کیا گیا جون 1981 میں عراق کے ایٹمی تنصیبات پر حملہ بھی اس کھائی ہوئی قسم کا نتیجہ تھا۔ اور اب اگر اسرائیل کے لئے کوئی دوسرا خطرہ موجود ہے تو اسے مٹانے کے لئے بھی یہی قسم کام آئے گی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *