ہندوستانی معاشرہ کو بہتر بنانے کی آئی او ایس کی 25سالہ کوشش

ڈاکٹر قمر تبریز
ہندوستان میں مسلمان اقلیتی برادری کا درجہ رکھتا ہے۔ ملک کے آئین نے دوسری قوموں کے ساتھ ساتھ اس ملک کے مسلمانوں کو بھی یکساں حقوق فراہم کیے ہیں، لیکن آزادی کے 60 سال سے زیادہ کا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی، آج مسلمان اپنے حقوق مانگ رہا ہے۔ یہ اپنے آپ میں ہمارے ملک کے جمہوری نظام پر ایک بڑا سوال ہے۔ اس کا سیدھا مطلب یہی نکلتا ہے کہ ملک میں اب تک بننے والی حکومتیں مسلمانوں کو ان کا آئینی حق دلانے میں ناکام رہی ہیں۔ ملک کے اندر کرمنل جسٹس کا یہ حال ہے کہ پولس کھلے مہار انسانی حقوق کی پامالی کر رہی ہے اور سب سے زیادہ مسلمانوں کو پریشان کر رہی ہے، لیکن پولس کے ان مظالم پر روک لگانے کے لیے ہمارے ملک کا قانون کسی کام نہیں آ رہا ہے۔ ووٹ کی خاطر سیاسی پارٹیاں مسلمانوں کو رجھانے کے لیے بہت سے قانون بناتی ہیں، لیکن وہ سرکاری افسران جن کے اوپر ان قوانین کو نافذ کرانے کی ذمہ داری ہے، وہ یا تو اس میں کوتاہی برتتے ہیں، یا پھر اقلیتوں اور خاص کر مسلمانوں کے لیے مختص کیے گئے فنڈ کو لوٹنے میں لگے رہتے ہیں اور ان کو سزا نہیں ہوتی۔ مرکزی حکومت کی طرف سے جب مسلمانوں کی پس ماندگی کا راز معلوم کیا جاتا ہے اور پتہ چلتا ہے کہ گزشتہ 60 سالوں سے سرکار کی طرف سے مسلسل اندیکھی ہونے کی وجہ سے آج اس ملک کا مسلمان زندگی کے ہر شعبے میں پچھڑا ہوا ہے، اس کی تعلیم کا کوئی بہتر انتظام نہیں ہے، بڑے پیمانے پر پھیلی تعصب پرستی کی وجہ سے اسے سرکاری یا پرائیویٹ نوکری نہیں ملتی، اگر وہ کاروبار کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اس میں بھی مسلمانوں کو بینکوں کی طرف سے قرض نہیں ملتے، ملک کے جن جن علاقوں میں تجارتی طور پر مسلمان مضبوط تھے اُن اُن جگہوں پر ملک اور سماج دشمن عناصر ایک سازش کے تحت فرقہ وارانہ فساد کراکر مسلمانوں کو اقتصادی طور پر کمزور کرد یتے ہیں، غریبی کی وجہ سے مسلمان اپنی زمینیں بیچ دیتا ہے اور اب یہ حال ہے کہ اس کے پاس قابل کاشت زمینیں نہیں بچی ہیں جن پر وہ فصل اگاکر اپنا اور اپنے گھر والوں کا پیٹ بھر سکے، اور ان سب سے تنگ حال ہو کر اب وہ اپنی گزر بسر کے لیے زیادہ تر محنت و مزدوری کے کاموں میں لگا ہوا ہے جہاں پر اس کی حالت دلتوں سے بھی بدتر ہے۔ ان اسباب کو جان لینے کے بعد سرکاری سطح پر مسلمانوں کی تعلیمی، سماجی اور اقتصادی ترقی کے لیے کچھ اسکیمیں بنائی جاتی ہیں، لیکن چونکہ برسر اقتدار سیاسی پارٹیوں کی نیت صاف نہیں ہے، اس لیے کام کم کیا جاتا ہے اور اس کا ڈھنڈورہ زیادہ پیٹا جاتا ہے، تاکہ مسلمانوں کو بیوقوف بناکر ان کا ووٹ حاصل کیا جا سکے۔ ایسے میں بھلا اس ملک کے مسلمانوں کو دوسری قوموں کے ہم پلہ کیسے کھڑا کیا جاسکتا ہے اور اکیسویں صدی میں ہندوستان عالمی سطح پر سپر پاور بننے کا خواب کیسے پورا کر سکتا ہے؟
یہی وہ سوالات و اندیشے ہیں، جن کی تحقیق و تجویز کے لیے ڈاکٹر منظور عالم کی قیادت میں انڈین انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز (آئی او ایس) گزشتہ پچیس سالوں سے سرگرداں ہے۔ ویسے تو مسلم مسائل پر غوروفکر کا سلسلہ سیکڑوں تنظیموں کی طرف سے جاری ہے، لیکن آئی او ایس کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ یہ ادارہ صرف مسلمانوں کی بات نہیں کرتا، بلکہ اس ملک میں رہنے والی تمام برادریوں میں ہم آہنگی پیدا کرنے کی بات کرتا ہے، اور ساتھ ہی اس کی یہ بھی کوشش ہے کہ مسلمانوں کو اس بات کے لیے تیار کیا جائے کہ انہیں صرف اس ملک کے آئین و حکومت سے سب کچھ لینا ہی نہیں ہے، بلکہ اس عظیم ملک کو بہت کچھ دینا بھی ہے، تاکہ جب ملک کی تاریخ لکھی جائے تو ان الفاظ کو سنہرے حروف میں لکھا جائے کہ ہندوستان کو اپنے مسلمانوں پر ناز ہے۔
پچھلے سال مارچ میں آئی او ایس نے اپنے قیام کے پچیس سال مکمل کر لیے۔ اس جشن کو یادگار بنانے کے لیے اس نے سلور جوبلی تقریبات کے تحت ملک کے مختلف شہروں میں کل 14 سیمینار کروائے، جن میں ہر مذہب اور فرقے کے دانشوروں کو مختلف عنوانات اور تھیم کے تحت اپنی بات رکھنے کے لیے مدعو کیا گیا۔ گزشتہ 13 سے 15 اپریل 2012 تک نئی دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب میں اختتامی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ یہاں بھی اس ملک کی عظیم شخصیات نے حصہ لیا اور اقلیتوں کے حقوق اور شناخت پر اپنی بات رکھی اور بتایا کہ تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا میں اقلیتوں کو کن کن چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور اس کے لیے انہیں کن صلاحیتوں سے لیس ہونا ضروری ہے۔
’’اقلیتوں کے حقوق و شناخت: گلوبل تناظر میں چیلنجز اور امکانات‘‘ تھیم کے تحت دہلی میں منعقد ہونے والی اس سہ روزہ بین الاقوامی کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے، دہلی ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس راجندر سچر نے کہا کہ کسی بھی ملک میں جب تک اقلیتوں کو اطمینان نہ ہو کہ ان کے ساتھ اچھا برتاؤ ہوگا، انہیں برابری کی حصہ داری ملے گی اور ان کے ساتھ انصاف ہوگا، تب تک کوئی بھی ملک ترقی کی جانب گامزن نہیں ہوسکتا ہے۔ جسٹس سچر نے مزید کہا کہ یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ ہمارے سیکولر نظام میں آج زنگ لگ چکا ہے، جس کی بدترین مثال 1987 میں میرٹھ کے ہاشم پورہ سے 41 بے گناہ و معصوم افراد کو پی اے سی کے ذریعہ اٹھاکر مراد نگر میں گنگ ندی کے کنارے گولیوں سے ہلاک کرکے بہتے ہوئے پانی میں پھینک دیا جانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ستم ظریفی نہیں تو کیا ہے کہ 25 سال بعد آج بھی اُس غیر انسانی حرکت کے ذمہ داری پی اے سی جوان و دیگر ذمہ داران کے خلاف مقدمہ کسی نتیجے پر نہیں پہنچا ہے اور مظلوموں کو اب تک انصاف نہیں ملا ہے۔
سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس، اے ایم احمدی نے اپنے صدارتی کلمات میں ملک میں موجود مختلف مذاہب کے حاملین کے درمیان فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے حوالے سے کہا کہ وہ اس تعلق سے Tolerance کے بجائے Accomodation کو ترجیح دیتے ہیں اور اس وقت ملک میں اس رجحان کو آگے بڑھانے کی ضرورت محسوس کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب یہ رجحان آگے بڑھے گا تو ملک کی اقلیتیں خود بخود آگے بڑھیں گی اور انہیں سکون و اطمینان حاصل ہوگا، نیز وہ ترقی کی طرف گامزن ہو سکیں گی۔
سپریم کورٹ آف انڈیا کے سابق جج اور پریس کونسل آف انڈیا کے چیئرمین، جسٹس مارکنڈے کاٹجو نے مغل شہنشاہ اکبر کو جدید ہندوستان کا معمار بتاتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایک ایسے وقت ، جب کہ یوروپ میں رومنس اور کیتھولکس ایک دوسرے سے نبردآزما تھے اور ایک دوسرے کا خون خرابہ کر رہے تھے، ہندوستان میں مختلف مذاہب کو یکساں اہمیت دی۔ انہوں نے کہا کہ اکبر کا ’دینِ الٰہی‘ تو ناکام ہوگیا مگر اُن کا ’صلحِ کل‘ کا فلسفہ اتنا کامیاب ہوا کہ آزاد ہندوستان کے آئین میں اسی فلسفہ کے تحت سیکولرازم کی تشریح کی گئی اور انہی سب باتوں کا اثر تھا کہ آزادی کے بعد اِس ملک کو ہندو اسٹیٹ نہیں بلکہ سیکولر اسٹیٹ بنایا گیا۔
وزیر مملکت برائے زراعت، فوڈ پروسیسنگ انڈسٹریز و پارلیمانی امور ہریش چندر سنگھ راوت نے کہ ہندوستان کو ایک سپر پاور کے طور پر دیکھنے کے لیے ملک کی شکل میں ٹرین کے ہر ڈبے کو مضبوط و مستحکم کرنے کی ضرورت ہے اور اس کام کو انجام دیتے وقت اقلیتوں پر فوکس کرنا پڑے گا، کیوں کہ اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ مختلف شعبوں میں مجموعی طور پر ان کی اور خصوصی طور پر مسلمانوں کی حالت نہایت خستہ ہے۔انہوں نے وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کی لال قلعہ میں گزشتہ تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 50 کروڑ افراد مستقبل قریب میں روزگار اور دیگر معاملوں میں اسٹیل و دیگر شعبوں میں ہونے والی ترقی سے مستفیض ہوں گے، لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ نہایت ہی پس ماندہ مسلم طبقہ کو بھی اس فائدے میں شامل کرنا چاہیے اور ان کی زیادہ آبادی والے علاقوں میں زیادہ سے زیادہ آئی ٹی آئی اور دیگر تکنیکی ادارے کھولنا چاہیے، نیز ایسی اسکیم بنانی چاہیے جس سے اقلیتوں کو زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل ہو۔ لیکن انہوں نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ مسلمانوں کی ترقی کے لیے جب 65 کروڑ روپے بجٹ میں مختص کیے جاتے ہیں تو اس کا ایک بڑا حصہ استعمال کیوں نہیں ہو پاتا ہے؟
سپریم کورٹ آف انڈیا کی سابق جج، جسٹس روما پال نے کہا کہ آئین ہند کے تحت تمام مذاہب و مکاتب فکر کو یکساں حقوق و آزادی دیے گئے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور ڈالا کہ سیکولر ازم کا مقصد سبھی کو آزادی و حقوق فراہم کرنا ہے اور اسی کے تحت ملک اور حکومت کو ہمیشہ غیر جانبدار رہنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حقیقی سیکولر ازم تو وہ ہے، جس کے تحت سبھی لوگ اپنے اپنے تشخص کے ساتھ رہ سکیں۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ پولس و دیگر محکموں میں جو ادارہ جاتی امتیازات پائے جاتے ہیں وہ ختم ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں پولس میں اصلاحات کی متعد د کوششیں ہوئی ہیں، مگر کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکلا۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ پولس اور سیاست دانوں میں دوری بنائے رکھنا ضروری ہے اور اس ضمن میں جب تک کوئی عملی و مؤثر کوشش نہیں ہوگی، یہ ملک ترقی نہیں کر سکتا۔ محترمہ روما پال نے مطالبہ کیا کہ مسلم نوجوانوں کی ایک قابل ذکر تعداد آج جس اذیت و آزمائش میں مبتلا ہے، اس سے انہیں جلد راحت ملنی چاہیے، جس کے لیے انہوں نے غیر قانونی گرفتاری اور زیادتیوں کے خاتمے کے لیے خصوصی اقدامات کرنے پر زور دیا۔
قومی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین، وجاہت حبیب اللہ نے بے گناہ و معصوم مسلم نوجوانوں کی گرفتاری کے تعلق سے کہا کہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ دہشت گردی سے متعلق مختلف معاملات میں ٹھیک سے چارج شیٹ بھی تیار نہیں کی جاتی ہے۔ اس تعلق سے انہوں نے مکہ مسجد، حیدرآباد بم بلاسٹ معاملہ میں 53 مسلم نوجوانوں کی گرفتاری اور ان سے زبردستی اقبال جرم کروانے کی بات اٹھائی اور کہا کہ غیر قانونی گرفتاری ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ اس کے تدارک کے لیے انہوں نے کہا کہ غیر قانونی گرفتاری اور غلط چارج شیٹ کے تعلق سے جب کوئی بات سامنے آئے تو اس کے ذمہ دار افراد کے خلاف کرمنل ایکشن لیا جانا چاہیے۔آئی او ایس کے چیئرمین، ڈاکٹر منظور عالم اور ایڈووکیٹ سالار ایم خان سمیت دیگر حضرات نے بھی تائید کی، بلکہ اس کانفرنس کے آخری دن ڈاکٹر منظور عالم نے راجیہ سبھا کے ڈپٹی چیئرمین، کے رحمن خان کے توسط سے ممبرانِ پارلیمنٹ اور اربابِ اقتدار تک یہ پیغام پہنچانے کی کوشش کی کہ حکومت اگر اس کانفرنس میں شریک ہونے والے افراد کو پڑھا لکھا تصور کرتی ہے تو اسے یہ سمجھ لینا چاہیے کہ اس ملک میں بے قصور مسلم نوجوانوں کی گرفتاری سے یہ طبقہ بھی اتنا ہی غم زدہ اور فکر مند ہے، جتنا کہ اس ملک کا کوئی عام مسلمان۔ اس سلسلے میں ڈاکٹر منظور عالم نے دلتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تعلیم اور ملازمت کے لحاظ سے دلتوں کی صورتِ حال مسلمانوں سے بہتر ہوئی ہے، لیکن منظم تشدد کا شکار ہونے کے اعتبار سے ان کی لاچاری میں خاطر خواہ کمی نہیں آئی ہے۔ دلتوں کا خون یو پی کے اندر دن دہاڑے بہایا جاتا رہا ہے، یہاں تک کہ مایاوتی کی حکومت میں بھی وہ بدترین ظلم و تشدد کا شکار ہوئے۔ اس مخصوص نقطہ نگاہ سے دلت خود مسلمانوں، سکھوں، عیسائیوں اور ان قبائل کی طرح ہیں، جن کے تحفظ میں ملک یا تو ناکام ہوگیا ہے یا ملک نے ان کے تحفظ سے انکار کر دیا ہے۔
اس کانفرنس میں مختلف مذاہب کے رہنماؤں نے بھی شرکت کی، جن میں عیسائی رہنما فادر ڈومینک ایمانوئل، سکھ رہنما ڈاکٹر مہندر سنگھ، ہندو مذہبی رہنما سوامی اومکرانند سرسوتی اور بدھ رہنما جے شے دور جی دمدل کے نام قابل ذکر ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *