انتخابی وعدے پورا کرنے پر اکھلیش کی تنقید کیوں؟

ڈاکٹر قمر تبریز
کچھ  دنوں قبل اتر پردیش میں اسمبلی انتخابات کے مد نظر سیاسی گہما گہمی اپنے عروج پر تھی۔ ہر سیاسی پارٹی اسی ادھیڑ بن میں لگی ہوئی تھی کہ اقتدار تک آسانی سے کیسے پہنچا جائے۔ اس کے لیے جہاں ایک طرف ذات پات کو انتخابی مدعا بنایا گیا، وہیں سبھی سیاسی پارٹیوں نے مسلمانوں کا ووٹ حاصل کرنے کی خاطر وعدوں کی جھڑی لگا دی۔ کمال تو تب ہوگیا، جب مسلم دشمنی کی وجہ سے مشہور بھارتیہ جنتا پارٹی نے بھی اپنے انتخابی منشور میں مسلمانوں کی فلاح و بہبود سے متعلق وعدے کیے۔ لیکن مسلمانوں کا ووٹ حاصل کرنے کے لیے سب سے زیادہ مقابلہ آرائی کانگریس اور سماجوادی پارٹی کے درمیان دیکھنے کو ملی۔ کانگریس نے مسلمانوں کی ترقی کی باتیں تو بہت کیں، لیکن چونکہ اس کی نیت صاف نہیں تھی، اس لیے وہ مسلمانوں کو خوش کرنے میں ناکام رہی۔ یہی نہیں، کانگریس نے مسلمانوں کے تعلق سے اتنا جھوٹ بولا کہ جب اس جھوٹ کا پردہ فاش ہوا، تو کانگریس کے بڑے بڑے وزیر کہیں منھ دکھانے کے لائق نہیں رہے۔ دوسری طرف سماجوادی پارٹی نے مسلمانوں کے درمیان جاکر ان کے حق میں وعدے کیے اور حکومت بننے پر ان وعدوں کو عملی جامہ پہنانے کا انہیں یقین دلایا، جس کا نتیجہ آج ہمیں اتر پردیش میں اکھلیش کی حکومت کی شکل میں نظر آ رہا ہے۔
لیکن تعجب اس بات کا ہے کہ مسلمانوں سے کیے گئے جن وعدوں کی بنیاد پر سماجوادی پارٹی کو ریاست میں اپنی حکومت بنانے کا موقع ملا، آج جب اس کے مکھیا اکھلیش یادو انہیں عملی جامہ پہنانے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں، تو دوسروں کی پیٹ میں درد کیوں ہو رہا ہے۔ آج بی جے پی، کانگریس یا دیگر سیاسی پارٹیوں کو ایسا کیوں لگ رہا ہے کہ اکھلیش صرف مسلمانوں کے حق میں فیصلے لے رہے ہیں اور باقی فرقوں کو نظر انداز کر رہے ہیں۔ موجودہ حکومت کے کاموں کو دیکھتے ہوئے ایسا نہیں لگتا کہ سماجوادی حکومت انتخابی منشور میں کیے گئے وعدوں سے زیادہ کچھ مسلمانوں کے لیے کر رہی ہے۔
حقیقت تو یہ ہے کہ اکھلیش حکومت نے ابھی صرف مسلمانوں کے تعلق سے جائزہ لینے یا سروے کرانے کا ہی کام کیا ہے، جب کہ ملائم سنگھ یادو نے یقین دلایا ہے کہ سماجوادی پارٹی کو اپنے تمام انتخابی وعدوں کو پورا کرنے کے لیے تین سے چھ ماہ تک کی مہلت درکار ہے۔ ایسے میں یو پی حکومت پر بے جا الزام لگانا کہ وہ صرف مسلمانوں کے لیے کام کر رہی ہے، درست نہیں لگتا۔ اگر ایسا ہی تھا، تو یو پی کی تمام سیاسی پارٹیوں کو الیکشن سے پہلے ہی سماجوادی پارٹی کی جم کر تنقید کرنی چاہیے تھی اور اس کے انتخابی منشور کا کوئی متبادل پیش کرنا چاہیے تھا، لیکن اس وقت مسلمانوں کا ووٹ حاصل کرنے کی خاطر تمام سیاسی پارٹیاں مصلحتاً خاموشی اختیار کیے ہوئے تھیں، اور اب جب کہ اکھلیش کی حکومت تیزی سے عوام کے درمیان مقبول ہو رہی ہے، تو ان سیاسی پارٹیوں کو ان سے جلن ہونے لگی ہے۔ ایسے بیانات دے کر ان پارٹیوں کو ریاست کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو بگاڑنے سے پرہیز کرنا چاہیے ۔ انہیں یہ بات سمجھنی چاہیے کہ ملک میں کوئی بھی حکومت صرف کسی ایک فرقہ کو خوش کرکے کامیاب نہیں ہوسکتی اور ملائم سنگھ یادو بھی اس بات کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ 2014 میں لوک سبھا کے انتخاب ہونے والے ہیں، اس لیے وہ صرف اور صرف مسلمانوں کو خوش کرکے مرکز میں اہم کردار ادا کرنے یا پھر وزیر اعظم بننے کے اپنے دیرینہ خواب کو پورا نہیں کر سکتے۔
اکھلیش حکومت میںشہری ترقی، اقلیتی اور حج امور کے وزیر اعظم خاں اگر وقف جائدادوں پر سے ناجائز قبضوں کو ہٹانے میں لگے ہوئے ہیں یا پھر محمد علی جوہر یونیورسٹی کے قیام کے لیے کوشاں ہیں یا پھر مسلم لڑکیوں کو اگر دسویں کے بعد کی تعلیم جاری رکھنے یا ان کی شادی کے لیے سماجوادی حکومت کی طرف سے 30 ہزار کی سرکاری رقم مہیا کرائی جا رہی ہے یا اگر ریاست کی مختلف جیلوں میں بند بے قصور مسلمانوں کی راہیں ہموار کی جا رہی ہیں تو ان باتوں میں برائی کیا ہے؟ کیا سماجوادی حکومت کو ایسا نہیں کرنا چاہیے؟ کیا مسلمانوں کو ان کی خستہ حالت پر یونہی چھوڑ دینا چاہیے، کیوں کہ وہ مسلمان ہیں؟ پھر رنگناتھ مشرا کمیشن اور سچر کمیٹی کی رپورٹ تیار کروانے کا کیا مطلب رہ جاتا ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں، جن کے جواب ہر حکومت کو دینے پڑیں گے، چاہے وہ کسی بھی پارٹی کی ہو، کیوں کہ اس ملک میں مسلمانوں کو بھی آئین نے اتنے ہی حقوق دیے ہیں، جتنے کہ ملک کے دیگر شہریوں کو۔ اور سب سے بڑی بات یہ کہ اگر سرکاری بے رخی یا لاپروائی کی وجہ سے ملک کے مسلمانوں کی آج یہ حالت ہوئی ہے کہ وہ دلتوں سے پچھڑے ہوئے ہیں، تو پھر یہ ذمہ داری بھی سرکار کی ہی ہے کہ انہیں قومی دھارے میں شامل کرنے کے لیے الگ سے کوئی انتظام کرے اور ایسا کرنے میں نہ تو کسی کو کوئی شرم آنی چاہیے اور نہ ہی کسی کے طعن و تشنیع کو خاطر میں لاناچاہیے۔

    آئیے ایک نظر ڈالتے ہیں کہ سماجوادی پارٹی نے اپنے انتخابی منشور میں اقلیتوں کے مفادات کے تحفظ سے متعلق کیا کیا وعدہ کیے تھے:
.1      سماجوادی پارٹی کی حکومت رنگناتھ مشرا کمیشن اور سچر کمیٹی کی سفارشوں کو نافذ کروانے کے لیے مرکزی حکومت پر پورا دباؤ ڈالے گی اور جو سفارشیں ریاستی حکومت کے ذریعے نافذ ہو سکتی ہیں، انہیں پورے اتر پردیش میں جلد از جلد لاگو کرایا جائے گا۔
.2      مسلمانوں کو ریزرویشن دینے کے لیے سچر کمیٹی کی سفارشوں کی روشنی میں سبھی مسلمانوں کو اقتصادی، سماجی اور تعلیمی نقطہ نظر سے نہایت پس ماندہ مانتے ہوئے دلتوں کی طرح آبادی کی بنیاد پر الگ سے ریزرویشن دیا جائے گا۔
.3      مسلم اکثریتی علاقوں میں نئے سرکاری تعلیمی ادارے قائم کیے جائیں گے۔
.4      دہشت گردی کے خلاف کارروائی کی آڑ میں اتر پردیش کے جن بے قصور مسلم نوجوانوں کو جیلوں میں ڈالا گیا ہے، انہیں فوراً
رہا ہی نہیں کرایا جائے گا، بلکہ معاوضے کے ساتھ انصاف بھی دیا جائے گا اور بدنام کرنے والے افسران کو سزا بھی دی جائے گی۔
.5      اردو کے فروغ کے لیے مسلم اکثریتی علاقوں میں پرائمری، مڈل اور ہائی اسکول کی سطح پر سرکاری اردو میڈیم اسکول قائم کیے
جائیں گے۔ پہلے کی طرح روزی روٹی سے جوڑتے ہوئے نوکریاں دی جائیں گی۔
.6      مدرسوں میں تکنیکی تعلیم کے لیے مخصوص بجٹ کا انتظام کیا جائے گا۔
.7      مسلمانوں کے اندر خود اعتمادی پیدا کرنے کے لیے ریاستی سلامتی دستوں میں مسلمانوں کی بھرتی کا خاص انتظام کیا جائے گا اور کیمپ لگا کر ان کی بھرتی کی جائے گی۔
.8      قبرستانوں کی زمین پر ناجائز قبضوں کو روکنے اور زمین کی حفاظت کے لیے چہار دیواری بنانے کے لیے بجٹ میں اسپیشل پیکیج مختص کیا جائے گا۔
.9      درگاہوں کی حفاظت اور نگرانی کے لیے درگاہ ایکٹ بنایا جائے گا اور اس کے لیے اسپیشل پیکیج دیا جائے گا۔
.10      سبھی سرکاری کمیشنوں، بورڈوں اور کمیٹیوں میں اقلیتی فرقہ کے کم از کم ایک نمائندہ کو ممبر مقرر کیا جائے گا۔
.11      وقف جائدادوں کی حفاظت کے لیے الگ سے قانون بناکر، وقف بورڈ کی ملکیت سے غیر قانونی قبضہ ہٹاکر انہیں واقف کے حوالے کر دیا جائے گا۔ وقف بورڈ کی جائدادوں کو تحویل اراضی قانون کے دائرے سے باہر رکھا جائے گا۔ جن زمینوں پر قبضہ کرکے فرضی کرایے داری قائم کی گئی ہے، ان پر بنی عمارتوں کو زمین کے ساتھ واقف کو دے دیا جائے گا۔
.12    جن صنعتوں سے اقلیتی طبقہ کثرت سے جڑا ہوا ہے، جیسے ہتھ کرگھا، ہینڈی کرافٹ، ہینڈ لوم، قالین صنعت، چوڑی، تالا، زری، زردوزی، بیڑی، قینچی صنعت ، ریاست کی طرف سے مالی امداد دے کر ان کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ کرگھوں پر بجلی کے بقایا بلوں، لگنے والے سود، جرمانہ کے طور پر سود کو معاف کرکے بنکروں کو راحت دی جائے گی۔ چھوٹی اور گھریلو صنعتوں میں ہنرمند کاریگروں کی کمی کو پورا کرنے کے لیے ہر ایک بلاک کی سطح پر ایک ایک آئی ٹی آئی قائم کی جائے گی۔
.13      دسویں کلاس پاس مسلم لڑکیوں کو آگے کی تعلیم حاصل کرنے یا شادی کے لیے 30 ہزار روپے فراہم کرنے کا انتظام کیا جائے گا۔
.14      مسلمانوں کے وہ تعلیمی ادارے جو یونیورسٹی کی شرطوں پر پورے اترتے ہیں، انہیں قانون کے تحت یونیورسٹی کا درجہ دیا جائے گا۔
.15      کسان کی طرح غریب بنکر کو بھی بجلی مفت دی جائے گی۔
.16      سماجوادی حکومت کے ذریعے بنائی گئی محمد علی جوہر یونیورسٹی کی سبھی قانونی رکاوٹیں ختم کرتے ہوئے اسے مثالی یونیورسٹی بنایا جائے گا۔ میڈیکل کالج سمیت ہر قسم کی جدید تعلیم کے لیے بھرپور رقم کا انتظا م کیا جائے گا۔ بی ایس پی حکومت نے پانچ سال داخلوں پر روک لگا کر اور بلڈوزر چلاکر جو تاریخی ناانصافی کی ہے، اسے انصاف میں بدلا جائے گا۔ ظلم کرنے والے اہل کار سزا پائیں گے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *