بین الاقوامی کرکٹ کو ترستا پاکستان

سلمان علی
پاکستان میں تین مارچ 2009کو سری لنکن کرکٹ ٹیم پر ہوئے دہشت گردانہ حملے کو کرکٹ کو چاہنے والے کبھی نہیں بھلا سکتے۔ یوں تو پاکستان میں آئے دن دہشت گردانہ حملے ہوتے رہتے ہیں اور اس کا شکار بھی بیشتر پاکستانی عوام ہی ہوتے ہیں لیکن پاکستانی شر پسندوں نے کرکٹ ٹیم وہ بھی کسی ملک کی قومی ٹیم پر حملہ کر کے پاکستانی کرکٹ کی شکل و صورت کو ہی بگاڑ دیتا ہے۔ عالمی سطح پر پاکستان جتنا دہشت گردی کی بدولت بدنام ہوا ہے اس سے کہیں زیادہ رسوائی اسے کرکٹ سے بھی ملی ہے۔ سال 2010میں ہوئے لارڈ ٹیسٹ میں پاکستانی کھلاڑیوں کے ذریعہ پھینکی گئی نوبال کے معاملہ کو کون بھلا سکتا ہے۔جس میں اس وقت کے پاکستانی کپتان سلمان بٹ، فاسٹ بالر محمد عامر اور محمد آصف کو انگلینڈ کے بدنام زمانہ انگریز ی اخبار ’’نیوز آف دی ورلڈ‘‘(جو اپنی متنازعہ سرگرمیوں کے سبب بند ہو چکا ہے)کے ایک اسٹنگ آپریشن میں مبینہ طور پر فکسنگ کی رقم وصولتے ہوئے دکھایا گیاتھا۔لہٰذا اس خبرکے شائع ہوتے ہی دنیائے کرکٹ میںتہلکہ مچ گیا۔ تقریباً سال بھر کی تفتیش کے بعدایجنٹ مظہرمجید سمیت تینوں پاکستانی کھلاڑی قصور وارپائے گئے۔ جن میں سے سلمان بٹ ابھی جیل میں اپنی سزا مکمل کر رہے ہیں اور دومحمد عامراور محمد آصف رہا ہو چکے ہیں۔ یہ پاکستان میں پھیلی دہشت گردی کا ہی نتیجہ ہے کہ آج وہاں کے تمام اسٹیڈیم بین الاقوامی کرکٹ کے لئے ترس رہے ہیں۔پاکستان میں 2009کے بعد سے کسی بھی طرح کا بین الاقوامی مقابلہ نہیں ہوا ہے۔خیر وقت بدلا، حالات بدلے اور اب وقت اور حالات کچھ بہتر ہوئے ہیں تو پاکستانی کرکٹ بورڈ(پی سی بی) جدوجہد کر رہا ہے کہ شاید اسے ایک ایسی قومی کرکٹ ٹیم مل جائے ، جو یہاں آ کر ان کے سونے پڑے میدانوں میں رونق لائے۔ جس سے وہ دنیائے کرکٹ کو یہ پیغام دے سکے کہ پاکستان بین الاقوامی کرکٹ کے اعتبار سے ایک محفوظ ملک ہے۔سری لنکن ٹیم پر ہوئے دہشت گردانہ حملے کی مذمت دنیائے کرکٹ ہی نہیں بلکہ پوری دنیا نے کی تھی اور تمام ممالک کے کرکٹ بورڈ نے فور ی طور پر پاکستان میں اپنی قومی ٹیمیں بھیجنے سے انکار کر دیا تھا۔ پی سی بی کے موجودہ چیئر مین ذکا اشرف نے جب سے اپنا عہدہ سنبھالا ہے، تب سے وہ پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کو اولین ترجیح دے رہے ہیں۔
ذکا اشرف کو عہدہ سنبھالے ہوئے ابھی کچھ ہی مہینے ہوئے ہیں اور انھوں نے پاکستان میں قابل قدر اصلاح بھی کی ہے۔گزشتہ کئی مہینوں سے ذکاء اشرف بھارت ، پاک سیریز کے لئے بھی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں، لیکن بی سی سی آئی سے انہیں ٹال مٹول کا ہی سامنا کرنا پڑ رہاہے۔تمام ممالک سے بات چیت کے بعد آخرکارذکا اشرف نے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کو اپنی قومی کرکٹ ٹیم پاکستان بھیجنے کی دعوت دی ، اس کے بعد بی سی بی کچھ غور وخوض کے بعد اور سخت حفاظتی انتظامات کی شرط پر حامی بھر لی۔ لہٰذا دورہ کا شیڈول بھی جاری ہو گیا، لیکن ذکا اشرف کی تمام محنت اور کوششوں پر پانی اس وقت پھر گیا،جب بنگلہ دیش کے ایک عوامی وکیل نے ہائی کورٹ میں ایک درخواست داخل کر کے اس دورہ پر ہائی کورٹ کے ذریعہ روک لگوا دی ۔فی الحال معاملہ ہائی کورٹ میں زیر غور ہے ۔
آزاد کشمیر میں ہوں گے بین الاقوامی مقابلے
آخر کار تمام ممالک کے کرکٹ بورڈ کے انکار کے بعد پی سی بی نے پاکستان میں بین الاقوامی میچز کھیلنے جانے کی غرض سے آزاد کشمیر کو محفوظ مقام تصور کرتے ہوئے وہاں کے میرپور اسٹیڈیم کی تجدیدکاری کا کام شروع کر دیا ہے۔پی سی بی کے چیئر مین ذکا اشرف کا کہنا ہے کہ کراچی، لاہور اوراسلام آباد کو تمام ممالک سیکورٹی کے لحاظ سے محفوظ مقام نہیں سمجھ رہے تھے، اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم نے اپنے بین الاقوامی میچز کو آزاد کشمیر میں کرانے کے لئے میرپور اسٹیڈیم کو کچھ سالوں کے لئے لیز پر لیا ہے۔ہم توقع کرتے ہیں کہ تمام ممالک کے کرکٹ بورڈ ہماری اس پہل کو تسلیم کریں گے اور آزاد کشمیر کو محفوظ مقام سمجھ کر اپنی قومی ٹیموں کو ہمارے یہاں کھیلنے کے لئے بھیجیں گے۔غور طلب ہے کہ آزاد کشمیر ریاست جموں و کشمیر کا وہ حصہ ہے جو پاکستان کے زیر انتظام آتا ہے۔
بھارت پاک سیریز
ہمیشہ ہی ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کھیلے جانے والے کرکٹ مقابلے دونوں ممالک لئے کے کسی ورلڈ فائنل کے مقابلے سے کم نہیں ہوتے۔لیکن حالات نے بھارت ، پاک کرکٹ تعلقات کو سیاسی رنگ میں رنگ دیا ہے۔ بھارت، پاک کرکٹ تعلقات ممبئی میں ہوئے 26/11کے حملوں کی نذر ہو گئے اور تبھی سے دونوں ٹیموں نے باضابطہ طور پر کوئی سیریز نہیں کھیلی ہے۔ حالانکہ آئی سی سی شیڈول میں دونوں ٹیموںکے اکا دکا میچ شامل ہو جاتے ہیں۔ ورلڈ کپ سیمی فائنل مقابلہ کے بعد سے گزشتہ دونوں ٹیمیں ایشیا کپ میں آمنے سامنے ہوئی تھیں، جس کا جوش وخروش شائقین میں دیکھنے لائق تھا۔ دونوں ممالک کے بورڈ کے درمیان مذاکرات کا دور جاری ہے۔ فی الحال اس مسئلہ کا کوئی مثبت حل نکلتا نظر نہیں آ رہا ہے، لیکن امید ہے کہ جلد ہی شائقین دونوں ٹیموں کو میدان میں دیکھیں گے۔
آئی پی ایل پاک کھلاڑیوں سے محروم
آئی پی ایل کے شروعاتی دو سیزنوں کی زبردست کامیابی میں پاک کھلاڑیوں کی موجودگی کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ آئی پی ایل میں بی سی سی آئی کی طرف سے پاکستانی کھلاڑیوں کو شامل نہ کرنا بھی ایک پیچیدہ مسئلہ بن گیا ہے۔ بی سی سی آئی پاکستانی کھلاڑیوں کو آئی پی ایل میں شامل نہ کرنے کے پیچھے ہمیشہ یہ دہائی دیتا ہے کہ انہیں وزارت کھیل سے اس کی اجازت نہیں ہے ۔قابل غور بات یہ ہے کہ آئی پی ایل کے موجودہ سیزن میں پاکستانی امپائر مستقل طور پر مقابلوں کی امپائرنگ کر رہے ہیں، وسیم اکرم جو سابق پاکستانی کھلاڑی ہیں، کولکاتہ نائٹ رائڈر کے مستقل کوچ ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان کے سابق کھلاڑی رمیز راجا مسلسل آئی پی ایل 5کے مقابلوں کی کمنٹری کر رہے ہیں اور انتہائی دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان کے موجودہ کھلاڑی اظہر محمود جو موجودہ سیزن میں کنگس الیون پنجاب کی طرف سے کھیل رہے ہیں انہیں بی سی سی آئی نے آئی پی ایل میں شامل صرف اس بنا پر کیا ہے کیونکہ حال ہی میں انہیں برطانوی شہریت حاصل ہوئی ہے۔لہٰذا ،بی سی سی آئی کے ذریعہ آئی پی ایل میں صرف پاکستانی کھلاڑیوں کو نہ کھلانا کچھ اور ہی اشارے کرتا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *