ہند ایران تعلقات

شفیق عالم
گزشتہ دنوں امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن اپنے دو روزہسرکاری دورے پر ہندوستان آئیں ۔ انہوں نے اپنے دورہ کا آغازمغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی سے ملاقات سے کیا اور ان سے ریاست مغربی بنگال میں امریکی سرمایہ کاری کے امکانات ، ایف ڈی آئی اور تستا آبی تنازعے پر تبادلہ خیال کیا۔ ممتا بنرجی سے ان مدعوں پر مذاکرہ جہاں ایک طرف کمزور مرکزی حکومت کی طرف اشارہ کرتا ہے ،وہیں یہ بھی ثابت کرتا ہے کہ چھوٹی پارٹیاں بین الاقوامی نوعیت کے مدعوں پر بھی حکومت پر دباو ٔبنانے سے گریز نہیں کر رہی ہیں۔ ممتا سے ملاقات کے بعد ہیلری کلنٹن نے نئی دہلی میں وزیر اعظم منموہن سنگھ، وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا اور سونیا گاندھی سے ملاقاتیں کیں۔ اس دوران انہوں نے حافظ سعید ،پاکستان، دہشت گردی اور افغانستان کے موضوع پر ان سے تبادلہ خیال کیا، لیکن ان کے دورے کا جو اصل مقصد ابھر کر سامنے آیا وہ تھا ایران سے خامپیڑول اور دیگر اشیا کی درآمدات میں کمی لانے کے لئے ہندوستا ن پر دباؤ ڈالنا۔
بحر حال ، ہندوستان نے اس ضمن میںواضح طور پر اپنا موقف ظاہرکردیا کہ وہ نیوکلیائی عدم پھیلاو ٔکے مسئلے پر بین الاقوامی برادری کے ساتھ ہے ،لیکن توانائی کی سیکورٹی کے مسئلے پر وہ اپنے قومی مفاد کونظرانداز نہیں کرسکتا۔ہند-ایران تعلقات کے تناظر میں ایک اہم سوال یہ اٹھتا ہے کہ ہندوستانی مفاد امریکی موقف کی حمایت میں مضمر ہی یا ایک آزادانہ خارجہ پالیسی اختیار کرنے میں؟ ظاہر ہے ایران کے سلسلے میںامریکہ غیر واجب طور پر ہندوستان پر دباو ٔڈال رہا ہے ۔جہاں تک ہندوستان کا سوال ہے یہ ایران سے متعلق اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی جانب سے عائد کردہ پابندیوں پر پوری طرح سے عمل کرتا ہے۔اقوام متحدہ کی پابندیوں کی فہرست میں خام پٹرول کی تجارت شامل نہیں ہے۔ اقوام متحدہ سلامتی کونسل نے ایران پر یہ پابندی اس کے یورینیم افزودگی کے پروگرام کو بند نہ کرنے کی وجہ سے عائد کی تھی۔
ہندوستان میں پیٹرول کی زبردست مانگ ہے۔ایران سے پیٹرول کی درآمد میں کسی طرح کی کمی کا براہ راست اثر یہاں کی معیشت پر پڑے گا ۔کیوں کہ یہاں بہت ساری ضروری اشیا کی قیمتوں کا انحصار پیٹرول کی قیمتوں پر ہوتاہے۔لہٰذا ایران سے پیٹرو ل کی درآمد میں کمی کسی طرح سے بھی قومی مفاد میں نہیں ہے۔اور ہندوستان ،امریکہ سے یہ کہنے میں حق بجانب ہے کہ اس کی توانائی کی ضرورتوں کی پالیسی قومی مفاد کو سامنے رکھ کرتیار کی جاتی ہے۔
ہند-ایران تعلقات کا دوسرا اور سب سے اہم پہلویہ ہے کہ ایران ، ہندوستان اور وسطی ایشائی مما لک کے درمیان رابطے کا واحد قابل اعتماد راستہ ہے ۔ ایران سے تعلقات منقطع ہونے کا مطلب ہے ان علاقوں سے زمینی رابطہ کا منقطع ہوجانا۔اس سلسلے میں ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ موجودہ امریکی حکمت عملی سے اس خطہ کے حالات بہتر ہونے کے بجائے اور بگڑ جائیں گے۔ فی الحال سعودی عرب اور اسرائیل دو ایسے ممالک ہیں جن کا یہ ماننا ہے کہ نیوکلیائی اسلحہ سے لیس ایران خطے کی طاقت کے توازن کو درہم برہم کردے گا ۔ اس لئے یہ دونوں ممالک ایران پر شکنجہ کسنے کے فراق میں ہیں۔ لیکن جس طرح سے امریکہ نے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے اسلحہ کا بہانہ بناکرعراق پر معاشی پابندی عائد کی اور اس کے بعد فوجی کارروائی کی اس خمیازہ اس خطہ کو آج بھی بھگتنا پڑ رہا ہے ۔ اب ایران امریکی نشانے پر ہے ۔اور پھر سے وہی پرانی کہانی دہرائی جارہی ہے ۔پہلے پابندی پھر فوجی کارروائی ۔ظاہر ہے فوجی کارروائی سے اس خطے میں عدم استحکام پیدا ہوگا۔ اور اس کا براہ راست اثر اس خطہ کے ساتھ ساتھ ہندوستانی معیشت پر بھی پڑے گا۔کیوں کہ خلیجی ممالک میں ہندوستان کے تقریباً60 لاکھ لوگ کام کرتے ہیںاور ہندوستان اپنی توانائی کی ضرورتوں کا 60فیصد حصہ پیٹرول کی شکل میں اسی علاقے سے درآمد کرتا ہے ۔ اس کے علاوہ ہندوستان اور خلیجی ممالک کے درمیان کل تجارت 100ارب ڈالر کے قریب ہے ۔ ظاہر ہے اس خطے میں عدم استحکام ہندوستان کیمفاد میں بالکل ہی نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان نہ تو یہ چاہتا ہے کہ ایران نیوکلیائی اسلحہ حاصل کرے اور نہ ہی اس مسئلے کو اتنا بڑھا دیا جائے کہ جنگ کی صورت حال پیدا ہوجائے۔
یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ ہندوستان اپنے تعلقات محض قومی مفاد کی بنیاد پر ہی استوار کرے گا یا کبھی آزاد خارجہ پالیسی کی پرانی روش کو بھی اختیار کرے گا ۔ لیکن ایران کے سلسلے میں بھی ایک بات جو غور کرنے کی ہے وہ یہ کہ عرب دنیا میں ایران کے اسلامی انقلا ب کو کبھی شک کی نگاہ سے نہیں دیکھا گیا۔حالیہ کچھ برسوں میں عرب عوام میں ایران کی مقبولیت کافی کم ہوئی ہے۔اس لئے اس سلسلے میں ایران کو نہ صرف بین الاقوامی برادری کو مطمئن کرنا ہے بلکہ عرب عوام کے یقین کو بھی بحال کرناہے۔ظاہر ہے یہ مسافت ایران کو ہی طے کرنی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *