ہندی صحافت اپنی ذمہ داری سمجھے

سنتوش بھارتیہ
یہ مہینہ ہلچل کا مہینہ رہاہے۔ مجھ سے بہت سارے لوگوں نے سوال پوچھے، بہت سارے لوگوں نے جانکاریاں لیں۔ لیکن جس جانکاری بھرے سوال نے مجھے پریشان کیا، وہ سوال صحافت کے ایک طالب علم نے کیا۔ اس نے مجھ سے پوچھا کہ کیا ہندی  اور انگریزی صحافت الگ الگ ہیں؟میں نے پہلے اس سے سوال کیا کہ آپ یہ سوال کیوں پوچھ رہے ہیں؟اس نے مجھ سے کہا کہ یہ سوال میں اس لئے پوچھ رہا ہوں کہ اکثر میں دیکھتاہوں کہ انگریز ی میں لوگ ایک ہی ٹیون پر کام کرتے ہیں۔ بہت کم لوگ ہیں جو شروع کئے گئے ڈھرے کے خلاف اسٹوری کرتے ہیں۔ جبکہ ہندی میں اس طرح کی یکسانیت نہیں دکھائی دیتی۔انگریزی صحافت میںاسٹوری کو ڈیولپ کرنے میں دلچسپی دکھائی دیتی ہے لیکن ہندی صحافت میں اسٹوری کو مارنے کی مارا ماری دکھائی دیتی ہے۔ صحافت کے میدان میں آنے کاخواب پالے ہوئے اس نوجوان نے مجھے یہ سوچنے پر مجبورکردیا اور مجبور اس لئے کر دیاکیونکہ صحافت کے مستقبل کوایسے ہی لوگ سنبھالنے والے ہیں۔اس طالب علم کا جوش مجھے اس لئے فکرمند کرگیا کیونکہ اس کا خواب ہندی صحافت میں آنے کا ہے۔ہندی صحافی کیوں ایک دوسرے کے خلاف کھڑے ہو جاتے ہیں ؟یہ سوال تو ہے۔ ہندی صحافی کیوں ایک دوسرے کی رپورٹ کو ڈیولپ نہیں کرتے ہیں ؟یہ سوال تو ہے۔ اور سب سے بڑا سوال تو یہ ہے کہ کیوں ہندی صحافی بڑھ چڑھ کر زبردستی کی دلیلیںگڑھ کر اپنے ساتھی صحافی کی رپورٹ کِل کرنے میں اپنی ساری طاقت لگادیتے ہیں۔ان سوالوںکا جواب تو ہندی کے صحافیوںکو ہی تلاش کرنا ہے۔ لیکن میںنے اس کی تلاش میں کچھ لوگوں سے بات چیت کی۔آؤٹ لک کے ایڈیٹرنیلابھ مشرا، سینئر صحافی سریش وافناجیسے بہت سارے لوگوںسے میر ی بات چیت ہوئی۔ ان سبھی نے تسلیم کیا کہ ہندی صحافت کچھ زیادہ ہی لڑکھڑا رہی ہے۔ انہوں نے طالب علم کی اس بات کو بھی تسلیم کیا کہ ہندی صحا فت میں ایک دوسرے کو بِلو دی بیلٹ ہِٹ کرنے کارجحان کچھ زیادہ ہی بڑھ گیا ہے۔جبکہ سچائی کا ایک پہلویہ بھی ہے کہ ہندی صحافت ہی اس ملک کی زمینی صحافت کی وضاحت کرتی ہے۔جب میں ہندی صحافت کی بات کرتاہوں تو اس میںتمام زبانوںکی صحافت شامل ہو جاتی ہے۔جس طرح کی رپورٹ، جس طرح کے موضوع کو ہندی کے ساتھ ساتھ دوسری زبانوںکے لوگ چھاپتے ہیں، ویسے موضوع انگریزی صحافت میں نظر نہیں آتے۔ اس کے باوجود ہندی صحافی اور دوسری زبانوںکے صحافی ایک شدید احساس کمتری میں مبتلارہتے ہیں۔انگریزی نے بڑے بڑے صحافی دیے ہیں۔ جب ہم بڑے صحافیوںکی فہرست تیار کرتے  ہیں تواس میں انگریزی سے تعلق رکھنے والے صحافیوںکی تعداد بہت زیادہ ہوتی ہے۔جب صحافت کا طالب علم جانے مانے اور بڑے صحافیوں کے بارے میں بولتاہے تو اس میں وہ نوے فیصد نام انگریزی صحافیوں کے لیتاہے،اور شاید اس لئے ان کانام لیتا ہے کیونکہ ہم اپنے کام ، اپنے کام کی اہمیت اور اپنے کام کااثر نہ تو خود دیکھتے ہیںاور نہ ہی دوسروںکو دکھانا چاہتے ہیں۔ہندی کے وہ صحافی جونہ کسی سے متاثر ہوتے ہیں، نہ کسی کے دباؤ میںآتے ہیںاور جن کا دماغ بالکل صاف ہے، ان کے ساتھ سب سے بڑی پریشانی یہ ہے کہ وہ اپنے جیسے دوسرے صحافیوں سے بات کرنا اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ یہ شاید کہیں شخصیت میں شامل ایگو یا تکبرکا عنصر ہے، جو پوری شخصیت کو متاثر کرجاتاہے۔ ہندی کے صحافی اور خاص کر ویسے صحافی جن کا میںنے ذکر کیا، کسی میٹنگ یاتقریب میں تو مل لیتے ہیں، لیکن آپس میں بیٹھ کر وقت نہیں گزارتے تاکہ ان کا تناؤ کم ہو سکے یا ان کی صحافت کے تناؤ میں دوسرے لوگ شامل ہوکر ان کے اس تناؤ کو کم کرنے میں مدد گار ثابت ہو سکیں۔شاید یہ کلچر کا بھی فرق ہے۔ ذہنی طورپر ہم انگریزی صحافت کو یا انگریزی صحافیوںکو زیاد ہ  چست،زیادہ درست اور زیادہ اثردار مانتے ہیں، شاید ہیں بھی کیوںکہ ملک کی حکومت ، ملک کی انتظامیہ، ملک کے لیڈر چاہے وہ سونیاگاندھی ہوں یا اڈوانی ہوں انہیں انگریزی اخبار پڑھ کر موضوع کی صداقت زیادہ سمجھ میں آتی ہے، جب کہ ہندی اخباروں میں چھپی ہوئی جاندار اور حقائق پر مبنی بامقصد رپورٹ سمجھ میں نہیں آتی۔ لیکن کیا اس سے لسانی صحافت خاص طور پر ہندی صحافت دوئم درجے کی ہو جاتی ہے یا ہم ان موضوعات کو منتخب کرنا بند کردیںجن موضوعات کی وجہ سے ہماری اہمیت اکثر قائم ہوتی ہے۔ مجھے یاد ہے 70کی دہائی میںیا 80کی دہائی کے پہلے حصے میںآنند بازار پتریکا نے سنڈے اور رویوار نام کے دو میگزین نکالے تھے۔ ہم لوگ رویوار کے نامہ نگار تھے۔ سریندرپرتاپ سنگھ ایڈیٹر تھے اور اکثر سنڈے اور رویوار میں خبروں کو لے کر مسابقت ہوتی رہتی تھی۔ میں یہ نہیں کہتا کہ ہمیشہ لیکن اکثر رویوار کی رپورٹ سنڈے سے پہلے آجاتی تھی اور شاید دونوں میگزینس نے مل کر اس وقت کی سیاست پر اور اس وقت کی حکومت کے اوپر بہت اثر ڈالاتھا۔ ایم جے اکبر سنڈے کے ایڈیٹرتھے اور ایم جے اکبر نے اس کا توڑ نکال لیا۔ وہ اگلے ہفتے رویوار میں چھپی رپورٹ کو اسی رپورٹر کے نام سے انگریزی میں چھاپ دیتے تھے۔ اور جو آج ذہنیت ہے ، اس وقت بھی یہی ذہنیت ہوتی تھی کہ انگریزی میںچھپی ہوئی بہت ساری رپورٹیں جو ایک ہفتے پہلے ہندی میں چھپ چکی ہوتی تھیں ملک میں دھوم مچادیتی تھیں۔آج بھی حالت کچھ اس سے الگ نہیں ہے، میں ایک مثال دے سکتا ہوں 23،24اور 25مارچ کو میں نے جنر ل وی کے سنگھ کا ہندی میں انٹرویو لیا۔ اور وہ انٹرویو ای ٹی وی پر چلا۔ اس انٹرویو کانوٹس ملک میں کسی نے نہیں لیا۔ لیکن جب 26تاریخ کو صبح ’دی ہندو‘ نے انہی معاملوں پر جنرل وی کے سنگھ کی رپورٹ چھاپی تو ملک میں طوفان آگیا تب اچانک کچھ لوگوںکو یاد آیا کہ یہ ساری باتیں جنرل وی کے سنگھ تین دن پہلے کہہ چکے ہیں، میرے انٹرویو میں۔ اور ٹائمس ناؤ نے جیسے ہی اس انٹرویو کو چلانا شروع کیاتو اچانک سارے انگریزی اورہندی چینل میرے اس انٹرویو کو اپنے اپنے یہاں دکھانے لگے یا کون پورا پہلے دکھاتا ہے اس کی دوڑ میں لگ گئے۔ ہم نے ہندی میں سب سے پہلے انٹرویو کیا لیکن اس انٹرویو کا کوئی نوٹس کسی ہندی اخبار نے نہیں لیا۔ جب کہ انگریزی چینل ٹائمس ناؤ نے اس کا نوٹس لیا تو سارے ہندی چینل اور اخبار اس انٹرویوکا نوٹس لینے لگے۔ اس حالت کو جب ہم دیکھتے ہیں ، تب اس طالب علم کا درد جس نے مجھ سے یہ سوال پوچھا،زیادہ سمجھ میں آتاہے۔ میں اپنے ساتھی صحافیوں اور ایڈیٹروں سے گزارش کرنا چاہتاہوں کہ آپ کے اوپر بہت ذمہ داریاں ہیں۔ اگر آپس میں مکالمہ شروع ہوسکے اور جس اسٹوری میں کسی ایک نامہ نگار کو امکان نظر آئے وہ اس اسٹوری کا’ فالواَپ‘ کرے تو شایدصحافت کے اس سنہرے دور کی واپسی ممکن ہو سکتی ہے جس دور کو ہم صحافت  کا سنہرا عہد کہتے ہیں۔ ان دنوں بھی جلن  تھی، ان دنوں بھی مسابقت تھی، لیکن منفی مسابقت کم تھی اور مثبت مسابقت زیادہ تھی۔ اس لئے میری یہ گزارش اگر میرے ساتھیوں کی سمجھ میں آجائے ، تو وہ مجھ پر کم اور ہندی صحافت پر زیادہ احسان کریں گے۔ہندی میں ششی شیکھر، اجے اپادھیائے، نیلابھ مشرا جیسے ایڈیٹر ہیں۔ ان میں کئی نام جوڑے جاسکتے ہیں، خواہ وہ شرون گَرگ ہوں، گلاب کوٹھاری ہوںیا پھرآلوک مہتاہوں۔ اگر یہ لوگ مثبت پہل نہیں کریںگے تو آنے والے صحافیوں کا اعتماد حاصل کرنا ان کے لئے مشکل ہوگا۔ آخر میں صر ف اتنی گزارش ، ضروری نہیں کہ اس لئے ملیں کہ فالو اَپ اسٹوری کرنی ہے، یا اس لئے ملیں کہ مل جل کرکوئی اسٹوری کرنی ہے۔ لیکن اس لئے ملنا چاہئے کہ ایک دوسرے سے تبادلہ خیال ہوتو اس تبادلہ خیال میںاس ملک میں کس طرح کے ٹرینڈس شروع ہو رہے ہیں اور کس طرح کے ٹرینڈس کا ساتھ دیناہے اور کس طرح کے ٹرینڈس کا ساتھ نہیں دیناہے، کم سے کم یہ تو صاف ہوسکے۔ امید کرنی چاہیے کہ ہندی صحافت جو اس ملک کو سمجھنے والی صحافت ہے، اپنی ذمہ داری سمجھے گی اور ہندی صحافت کے رہنما بھی اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں گے۔     g

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *