تبصرۂ کتب

نام کتاب : لفظ لفظ آئینہ
مصنف و ناشر : ابوالخیر نشتر
صفحات : 128
قیمت : 100 ر وپے
تبصرہ نگار : شاہد نعیم

غزل انسانی جذبات و احساسات، تخیلات و محسوسات کے اظہار کا بہترین وسیلہ ہے۔ اس صنف نے اردو شاعری کو فخر و امتیاز عطا کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس صنف میں انسانی احساسات کو چھو لینے اور دل کی گہرائیوں میں اتار دینے کی بلا کی صلاحیت ہوتی ہے۔ اسی لیے غزل کا جادو روزِ اول سے لے کر آج تک سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ غزل گوئی کے میدان میں سبھی شاعر طبع آزمائی کرتے ہیں، مگر اس میدان میں اپنا منفرد مقام بنانا ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہیں۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ہر دور میں غزل گو شعراء کی ایسی کھیپ ضرور رہی ہے، جس نے غزل کے سفر کو نئی منزلوں سے روشناس کرایا ہے۔
عہد حاضر کے شعراء میں ابوالخیر نشتر کا نام ادبی حلقوں میں تعارف کا محتاج نہیں۔ آپ صوبہ بہار کی تاریخی و ادبی سر زمین چمپارن کے شہر بتیا سے تعلق رکھتے ہیں۔ درس و تدریس کے پیشہ سے وابستہ ہیں۔ ان کا نظموں کا مجموعہ ’’الفاظ کی خوشبو‘‘ بہت پہلے شائع ہو چکا ہے اور اب حال ہی میں ان کی غزلوں کا مجموعہ ’’لفظ لفظ آئینہ‘‘ منظر عام پر آیا ہے۔ ان کی شاعری کے بارے میں ڈاکٹر انور پاشا لکھتے ہیں:
’’ابوالخیر نشتر کے مجموعۂ غزل ’لفظ لفظ آئینہ‘ میں احساس و شعور کی بالیدگی اور شعری ہنرمندی کا ایک سدھا ہوا التزام ملتا ہے۔ ان کے یہاں آگہی کا کرب ایک اہم قدر بن کر ابھرتا ہے۔ زبان و اسلوب کی سادگی و پرکاری ان کے فکر و شعور کو تازگی اور ندرت عطا کرنے میں نمایاں کردار ادا کرتی ہے۔ چھوٹی بحر اور چھوٹے چھوٹے مصرعوں کے سہارے بڑے شعر خلق کرنا ابوالخیر نشتر کی فنکاری کی دلیل ہے۔‘‘
ڈاکٹر مولا بخش ’’لفظ لفظ آئینہ‘‘ کے تعلق سے لکھتے ہیں :’’ابوالخیر کے کلام میں قرأت کے دوران کچھ ایسے شعروں پر نگاہ ضرور ٹکتی ہے جو انہیں مزید پڑھنے پر ہمیں اکساتی ہے۔ انہوں نے اپنی غزلوں میں استعارہ سازی سے زیادہ کام تو نہیں کیا ہے، لیکن پرانے علائم کے کثرت استعمال کے ذریعے کلام میں استعاراتی اسلوب خلق کرنے کی سعی ضرور کی ہے۔‘‘
مجموعہ ’’لفظ لفظ آئینہ‘‘ کا آغاز حمد و نعت پاک سے ہوا ہے۔ اس کے بعد غزلیں ہی غزلیں ہیں۔ نشتر کی شاعری صداقت، نفاست اور سادگی پر مبنی ہے۔ وہ زمانے میں جو کچھ دیکھتے اور محسوس کرتے ہیں، اسے شعر کے قالب میں بڑے سلیقے اور ہنرمندی سے ڈھال لیتے ہیں۔ ان کے کلام میں انسان کی بے چہرگی، نامرادی، انسانی اقدار کا زوال، انسانی خود غرضیاں، عیاریاں اور انسان کی گم ہوتی ہوئی شناخت کے المیے کا احساس کثرت کے ساتھ ملتا ہے۔ امید ہے کہ ’’لفظ لفظ آئینہ‘‘ اردو نوازوں میں اپنا مقام حاصل کرے گا۔
نشتر کے چند پسندیدہ اشعار یہ ہیں :
کسی حریص کو اپنا امام مت کرنا
حدوں سے بڑھ کر کبھی احترام مت کرنا
عجیب شہر ہے ہر شخص ہے یہاں کا خدا
کسی سے ملنا تو جھک کر سلام مت کرنا
…………
آئینہ رو برو ہے شکستہ کھڑا ہوں میں
دنیا سمجھ رہی ہے کہ سب سے بڑا ہوں میں
…………
میری پہچان جیسے ہو مٹاؤ
میں آئینہ ہوں تم پتھر اٹھاؤ

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *