آرمی چیف کا تنازعہ: ملک پر بھاری وزیر اعظم کی رشتہ داری

روبی ارون
لیفٹیننٹ جنرل بکرم سنگھ اور وزیر اعظم منموہن سنگھ کے درمیان کیا رشتہ ہے؟ لیفٹیننٹ جنرل بکرم سنگھ پر لگے تمام الزامات کو وزیر اعظم کے دفتر اور وزارتِ دفاع نے کیوں نظر انداز کر دیا؟ اتنا ہی نہیں، سنگین الزامات کے باوجود لیفٹیننٹ جنرل بکرم سنگھ کو سرکار بے داغ ثابت کرنے کی قواعد میں لگی ہے۔

اگر وزیر اعظم منموہن سنگھ اور ان کے فرماں بردار صلاح کاروں کو لگتا ہے کہ چوتھی دنیا کی اس رپورٹ میں مبالغہ آرائی ہے تو وہ اس کی تردید کریں۔ ملک کو بتائیں کہ سچ کیا ہے؟ وزیر اعظم صاف کریں کہ لیفٹیننٹ جنرل بکرم سنگھ سے ان کا کیا خاندانی رشتہ ہے؟ انہیں یہ بھی واضح کرنا چاہیے کہ وزیر اعظم رہتے ہوئے وہ کتنی بار غیر سرکاری وجوہات سے ملک کے آئندہ کے آرمی چیف سے ملے ہیں۔ وزیر اعظم کو یہ بھی صاف کرنا چاہیے کہ کیا لیفٹیننٹ جنرل بکرم سنگھ کو ہی آرمی چیف بنانے کے لیے جنرل وی کے سنگھ کو وقت سے پہلے ریٹائر کرنے کی سازش ہوئی اور جس میں ان کی پوری مدد سابق آرمی چیف جے جے سنگھ اور وزیر اعظم کے چیف سکریٹری رہ چکے ٹی کے نائر نے کی۔ ہم اِن سوالوں کو اس لیے اٹھا رہے ہیں، کیوں کہ وزیر اعظم پر اس قسم کے الزامات لگ رہے ہیں۔ ملک کے عوام انہیں ایک ایماندار وزیر اعظم سمجھتے ہیں۔ ان کی خطرناک خاموشی ملک کے لوگو ں کے اعتماد کو چکنا چور کر رہی ہے۔ فوج سے جڑے گھوٹالے سامنے آ رہے ہیں، جو نہ صرف سرحد پر تعینات ہمارے جوانوں کے حوصلے کو پست کر رہے ہیں، بلکہ ملک کے لوگوں کی بھی تشویش بڑھ گئی ہے۔ ملک کے مفاد میں ہم یہ جاننا چاہ رہے ہیں کہ وہ بتائیں کہ اس رپورٹ میں جو لکھا ہے، وہ سچ ہے یا نہیں؟ اگر وہ کہیں گے کہ یہ غلط ہے تو ہم سرعام معافی کے خواستگار ہوں گے۔

جنرل وی کے سنگھ کی عمر کے تنازع میں منموہن سنگھ کے چیف سکریٹری رہ چکے ٹی کے نائر کا کیا رول ہے؟ کیا وی کے سنگھ کی عمر کے تنازع کو اس لیے اتنا طول دیا گیا، تاکہ ایسٹرن کمانڈ کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل بکرم سنگھ کو آرمی چیف بنایا جاسکے؟ آخر کار ایسا کیا ہوا کہ ہندوستانی عدلیہ کی تاریخ میں پہلی بار سپریم کورٹ نے کسی مسئلے پر فیصلہ سنانے کی بجائے صلاح کار کا رول اختیار کر لیا؟ اور سب سے بڑا سوال یہ کہ وی کے سنگھ کی عمر کے تنازع اور بکرم سنگھ کے آرمی چیف بننے کے درمیان کی جو داستان ہے، اس میں وزیر اعظم منموہن سنگھ کی بیوی گُر شرن کور کا کیا رول ہے؟
ہم آپ کو بتاتے ہیں، جنرل وی کے سنگھ جیسے آفیسر کو متنازع اور ذلیل کرنے کی اس کہانی کی ایک تلخ سچائی ہے۔ حیران کرنے والی سچائی یہ ہے کہ وزیر اعظم منموہن سنگھ اور لیفٹیننٹ جنرل بکرم سنگھ قریبی رشتہ دار ہیں، جس کے بارے میں کسی کو معلوم نہیں ہے۔ کیسے، آپ کو بتاتے ہیں۔ منموہن سنگھ کی بیوی گُر شرن کور اور بکرم سنگھ کی بیوی سرجیت کور خالہ زاد بہنیں ہیں۔ اس ناطے بکرم سنگھ کی بیوی سرجیت کور وزیر اعظم منموہن سنگھ کی سالی ہوئیں۔ جنرل وی کے سنگھ سے جڑی یہ ساری سازش وزیر اعظم کی سالی کو خوش کرنے کے لیے کی گئی۔ اس کھیل میں اعداد و شمار کی ہیرا پھیری اور کاغذوں کی الٹ پلٹ کا تماشہ، وزیر اعظم کے چیف سکریٹری ٹی کے نائر نے کیا، جس کا پورا منظر نامہ سابق آرمی چیف جنرل جے جے سنگھ پہلے ہی تیار کر گئے تھے۔ منموہن سنگھ اور جنرل جے جے سنگھ کی نزدیکیاں بھی جگ ظاہر ہیں۔ گر شرن کور اور جے جے سنگھ، دونوں ہی پٹیالہ کے رہنے والے ہیں۔ شاید رشتہ دار بھی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جنرل جے جے سنگھ کو منموہن سنگھ کی سرکار نے فوج سے ریٹائر ہوتے ہی اروناچل پردیش کا گورنر بنا دیا۔جنرل جے جے سنگھ کی بیوی انوپما سنگھ اور گر شرن کور میں گہری دوستی ہے۔ دونوں کا ایک دوسرے کے گھروں میں آنا جانا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کولکاتا میں منموہن سنگھ کی بہن کے گھر پر، ڈنر پر جنرل جے جے سنگھ کے ساتھ لیفٹیننٹ جنرل بکرم سنگھ بھی موجود تھے۔ یہ صرف اتفاق ہی نہیں ہے۔ سازش کی باتیں لوگ سچ مان رہے ہیں، اس لیے وزیر اعظم کو اپنی خاموشی توڑنی ہی چاہیے۔
لیفٹیننٹ جنرل بکرم سنگھ کے پیچھے سابق فوجی اہل کاروں اور بدعنوان سیاست دانوں اور نوکرشاہوں کی لابی ہے۔ کہنے کو ملک کے وزیر دفاع اے کے انٹونی ضرور وی کے سنگھ کے ساتھ کھڑے ہیں، پر وہ بھی پی چدمبرم، کپل سبل اور منموہن سنگھ کی تکڑی کے سامنے بے بس اور لاچار ہیں۔ اے کے انٹونی کو اس بات کا بے حد ملال ہے کہ جنرل وی کے سنگھ کے ساتھ غلط ہو رہا ہے۔ لہٰذا، وہ اکثر اپنے بے حد قریبی اہل کاروں اور دوستوں سے یہ کہتے ہوئے پائے جا رہے ہیں کہ جنرل وی کے سنگھ کی عمر کے تنازع کا معاملہ تو ’اوپن اینڈ شٹ‘ کا کیس ہے، پر وہ کچھ کر نہیں پا رہے ہیں، کیوں کہ ان کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔بہرحال، یہاں ہم بات وزیر اعظم کے رشتے میں سالی، سرجیت کور کی کر رہے ہیں۔ منموہن سنگھ کی بیوی گر شرن کور کی پیدائش جالندھر میں ہوئی تھی۔ ان کے والد آزادی سے پہلے نوشہرہ (پاکستان) میں کام کرتے تھے۔ پھر ان کے والد کا ٹرانسفر امرتسر ہوگیا۔ گر شرن کور کی تعلیم و تربیت امرتسر کے گرونانک کنیا پاٹھ شالہ میں شروع ہوئی۔ بعد میں انہوں نے گورنمنٹ انٹر کالج، پٹیالہ سے تعلیم حاصل کی۔ فیملی میں گر شرن کور کے علاوہ ان کی چار بہنیں اور ایک بھائی ہے۔ لیکن وہ بچپن سے اپنی خالہ زاد بہن سرجیت کور کے نزدیک رہیں اور ان کے ساتھ ہی زیادہ وقت گزارتی تھیں۔ اس لیے منموہن سنگھ اور گر شرن کور کی شادی کے بعد سرجیت کور کا ان کے گھر آنا جانا گر شرن کور کی سگی بہنوں کے مقابلہ زیادہ ہی رہا۔ لہٰذا سرجیت کور، منموہن سنگھ کی بھی لاڈلی بنی رہیں، جس کا پورا فائدہ ان کے شوہر لیفٹیننٹ جنرل بکرم سنگھ کو وقت وقت پر ملتا رہا۔ بکرم سنگھ کو، منموہن سنگھ کا رشتہ دار ہونے کے ناطے کیا کیا ملا، اس کی تفصیل ہم آگے بیان کریں گے۔ پہلے تو آپ کو بکرم سنگھ کے فوجی کمانڈر بننے کی کہانی بتاتے ہیں۔سرجیت کور کی تمام خواہشوں میں جو سب سے بڑی خواہش تھی، وہ یہ کہ ان کے شوہر اپنی ریٹائرمنٹ سے پہلے ہندوستان کے آرمی چیف بنیں۔ سرجیت کور نے اپنی بڑی بہن گر شرن کور کو اپنی یہ حسرت بتائی۔ گرشرن کور نے وزیر اعظم شوہر کو اپنی بہن کی خواہش بتائی، پر یہ ممکن ہو تو کیسے؟ پیچ یہ تھا کہ بکرم سنگھ اکتوبر میں ریٹائر ہونے والے تھے اور تب تک آرمی چیف کی کرسی خالی نہیں ہونے والی تھی، کیوں کہ اس پر جنرل وی کے سنگھ فائز تھے۔ جنرل وی کے سنگھ کی ایمانداری اور حب الوطنی سے جنرل جے جے سنگھ ، تیجندر سنگھ، وی آر ایس نٹراجن، روی رشی، نندا، کارتک چدمبرم جیسے لوگوں کی لابی تو ناراض تھی ہی، وزیر داخلہ پی چدمبرم بھی سب سے زیادہ خار کھائے بیٹھے تھے۔ بیٹے کے علاوہ چدمبرم کے وی کے سنگھ سے خار کھانے کی جو سب سے بڑی وجہ تھی، وہ ہے دو سال قبل آرمی چیف وی کے سنگھ کے ذریعے چدمبرم کی نکسل وادیوں پر گولی چلانے کی منشا کو ناکام کر دینا۔ وی کے سنگھ کے اس انکار سے چدمبرم کے اُن کارپوریٹ دوستوں کا بڑا نقصان ہوا تھا، جو ہندوستان کے جنگلوں میں مائننگ کا اپنا سامراج کھڑا کرنا چاہتے تھے۔ ویدانتا اور اسٹرلائٹ جیسی یہ کمپنیاں ہمارے ملک کی زمینوں اور جنگلوں کو لوٹنے کے بدلے چدمبرم کو مالا مال کرنے والی تھیں۔ ویسے بھی پی چدمبرم غیر ملکی سرمایہ کاری والی اِن کمپنیوں کے وکیل رہ چکے ہیں اور ان کی بیوی نلنی چدمبرم اور صاحبزادے کارتک چدمبرم کا نام بھی اسی فہرست میں آتا ہے۔ لہٰذا جنرل وی کے سنگھ کے ذریعے اپنے ہی ملک کے لوگوں پر گولی چلانے سے انکار نے پی چدمبرم کو تلملا دیا تھا۔ چدمبرم بھی جنرل کو نیچا دکھانے کے لیے موقع کی تلاش میں تھے۔گزشتہ دنوں لگاتار راہل گاندھی کو وزیر اعظم بنانے کی جو مہم چل رہی تھی اور اس قسم کی پختہ خبروں کی وجہ سے یہ کہا جا رہا تھا کہ منموہن سنگھ اپنا عہدہ اپنی مرضی سے چھوڑ دیں گے۔ گر شرن کور بھی ان خبروں سے پریشان بیٹھی تھیں۔ دس جن پتھ اور سات ریس کورس کے درمیان دوریاں بڑھ چکی تھیں۔ اسی دوران جب سرجیت کور نے اپنی خواہش گر شرن کور سے ظاہر کی، تب انہیں بھی لگا کہ اگر ملک کا آرمی چیف بھی ان کا اپنا آدمی ہو تو ان کے شوہر کو ایک مضبوط سپورٹ سسٹم مل جائے گا اور انہیں کمزور اور کٹھ پتلی وزیر اعظم کے خصوصی تمغوں سے بھی نجات مل جائے گی۔
پر سوال پھر وہی کہ جنرل وی کے سنگھ کے رہتے بکرم سنگھ کو آرمی چیف بنایا جائے تو کیسے؟ تب منموہن سنگھ کے چیف سکریٹری رہ چکے ٹی کے نائر نے جنرل وی کے سنگھ کو پھنسانے اور ہٹانے کا ایک منصوبہ بنایا۔ جنرل وی کے سنگھ کے ذریعے یو پی ایس سی ایپلی کیشن اور میٹری کولیشن میں درج پیدائش کی تاریخوں میں فرق کا مسئلہ اٹھایا گیا، جسے جنرل جے جے سنگھ کی سازشوں کے تحت ملٹری سکریٹری برانچ کی فائلوں میں محفوظ اور ایسے ہی موقع پر آخری ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کے لیے رکھا گیا تھا۔ وزیر اعظم منموہن سنگھ اور سابق آرمی چیف جنرل جے جے سنگھ کے بے حد قریبی رشتے ہیں۔ اس لیے اس سازش کا سب سے پہلا داؤ بھی جنرل جے جے سنگھ نے کھیلا۔ جنرل وی کے سنگھ سے زبردستی خط لکھوایا گیا، جسے اب سرکار ثبوت بناکر پیش کر رہی ہے۔اس سازش کے ایک اور اہم کردار پنجاب کیڈر کے آئی اے ایس افسر ٹی کے نائر ہیں۔ وہ وزیر اعظم منموہن سنگھ کے اہم صلاح کار رہے ہیں۔ نائر نے سابق وزیر اعظم آئی کے گجرال اور سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کے وقت بھی وزیر اعظم کے دفتر میں اہم ذمہ داریاں نبھائی ہیں۔ پی ایم او میں ایک لمبا عرصہ گزارنے کی وجہ سے نائر کئی ایسی غیر ضروری باتوں سے بھی واقف تھے، جن میں ایک بات یہ بھی تھی کہ ملٹری سکریٹریٹ میں پڑا یو پی ایس سی کا ایپلی کیشن فارم، جس میں جنرل وی کے سنگھ نے اپنی ڈیٹ آف برتھ قلم سے غلطی سے 10 مئی، 1950 لکھ دی تھی۔
ایمرجنسی کے وقت چنڈی گڑھ کے ڈپٹی کلکٹر رہے اور منموہن سنگھ کے بھی بے حد قریبی رہے دیوا شیام بتاتے ہیں کہ چونکہ جنرل جے جے سنگھ سکھ تھے، اس لیے وہ چاہتے تھے کہ آنے والے دنوں میں بھی ہندوستانی فوج کے سربراہ کے طور پر سکھ فوجی افسروں کا ہی بول بالا رہے۔ اس وقت جنرل جے جے سنگھ آرمی چیف تھے، جن کے پاس 2006 میں ہی وی کے سنگھ کی عمر صحیح کرنے کا اختیار اور موقع تھا۔ لیکن جنرل جے جے سنگھ نے ایسا نہیں کیا۔ انہوں نے اس مدعے کو دبا دیا۔ جنرل جے جے سنگھ نے جانشینوں کی ایک کڑی بنا دی، کیوں کہ جنرل جے جے سنگھ چاہتے تھے کہ ان کے بعد جنرل دیپک کپور کو آرمی چیف کی کرسی ملے اور پھر اس کے بعد وی کے سنگھ کی عمر 10 مئی، 1950 ہی رکھ کر اپنے خاص لیفٹیننٹ جنرل بکرم سنگھ کو آرمی چیف کے عہدہ پر بیٹھا یا جائے۔

مقصد کو کامیاب بنانے کے لیے ضروری تھا کہ جنرل وی کے سنگھ کی عمر 10 مئی، 1950 ہی رکھی جائے۔ اگر جنرل وی کے سنگھ اپنی تاریخ پیدائش کے مطابق ریٹائر ہوتے ہیں تو اگلے چیف ویسٹرن کمانڈ کے ہیڈ لیفٹیننٹ جنرل کے ٹی پڑنائک بن جاتے اور اس دوران لیفٹیننٹ جنرل بکرم سنگھ ریٹائر ہو جاتے۔
اتنا ہی نہیں، بکرم سنگھ کو آرمی چیف بنانے کے لیے ایک اور کھیل کھیلا گیا۔ وزارتِ دفاع کے بے حد سینئر آفیسر بتاتے ہیں کہ جنرل وی کے سنگھ کے بعد آرمی چیف کی دوڑ میں شامل ہونے والے امیدواروں میں میجر جنرل آر کے اروڑہ، جو جنرل وی کے سنگھ کے بیچ میٹ ہیں اور بہترین آرمی آفیسر مانے جاتے ہیں۔ لیفٹیننٹ جنرل ایچ ایس پناگ اور جنرل آر کے کروال کو پہلے ہی بڑے شاطرانہ طریقے سے اس ریس سے باہر کر دیا گیا۔ منموہن سنگھ 2004 سے وزیر اعظم ہیں اور ٹی کے نائر بھی تبھی سے منموہن سنگھ کے ساتھ سایے کی طرح لگے ہیں۔ آئی بی کے ایک افسر بتاتے ہیں کہ 2006 سے چل رہے اس شاطرانہ کھیل کے ایک ایک پل کی خبر وزیر اعظم کے دفتر کو تھی۔ چونکہ اس کھیل کا نتیجہ منموہن سنگھ کے حق میں آنا تھا، اس لیے وزیر اعظم کے دفتر نے نہ صرف خاموشی اختیار کی، بلکہ اس سازش کو اپنی حمایت بھی دیتا رہا۔ ویسے سیاست کے گلیاروں میں بھی جنرل جے جے سنگھ، لیفٹیننٹ جنرل بکرم سنگھ کی دوستی کے قصوں کے خوب چرچے ہوتے ہیں۔
ایک تو منموہن سنگھ کا رشتہ دار ہونا، اوپر سے ہتھیار لابی کا زبردست بیک اَپ۔ نتیجہ یہ کہ لیفٹیننٹ جنرل بکرم سنگھ پر سنگین الزام لگتے رہے، پر کارروائی کبھی نہیں ہوئی۔ نمونہ دیکھئے  –  2008 میں اقوام متحدہ کی امن مہم کے دوران بکرم سنگھ پر الزام لگے۔ لیکن کسی کو کوئی سزا نہیں ہوئی۔ معاملہ ابھی تک زیر التوا ہے۔ بکرم سنگھ مارچ 2001 میں جموں و کشمیر میں ہوئے فرضی انکاؤنٹر میں شامل تھے اور اس معاملے میں بھی انہیں ملزم بنایا گیا۔ اس سے متعلق عرضی جموں و کشمیر ہائی کورٹ میں ابھی بھی التوا میں پڑی تھی، لیکن بکرم سنگھ کے نام کا اعلان اگلے آرمی چیف کے طور پر کرتے ہی سرکار نے انہیں اس معاملے میں کلین چٹ دے دی۔
ترنمول کانگریس کے ایک ایم پی امبیکا بنرجی نے وزیر اعظم کو خط لکھ کر یہ جواب مانگا کہ لیفٹیننٹ جنرل بکرم سنگھ کی ایک بہو پاکستان کی ہیں۔ اس کا جواب امبیکا بنرجی کو آج تک نہیں ملا ہے۔ ایسے میں جنرل کو آرمی چیف کیسے بنایا جاسکتا ہے، جب کہ فوج کی تینوں شاخوں، خفیہ ایجنسیوں اور امورِ خارجہ کے محکمہ میں کام کرنے والے اہل کاروں اور ملازموں کے لیے ایک بڑا ہی سخت قانون ہے کہ اگر ان کی فیملی کا کوئی رکن دوسرے ملک میں شادی کرتا ہے تو اسے اپنے محکمہ میں اس بات کی اطلاع تفصیل کے ساتھ دینی ہوگی اور اجازت ملنے پر ہی شادی ہو پائے گی۔ لیکن لیفٹیننٹ جنرل بکرم سنگھ پر یہ قانون لاگو نہیں ہوتا۔ انہوں نے نہ تو پہلے اس بات کی اطلاع دے کر اجازت مانگی، نہ ہی شادی کے بعد انہوں نے اس کی کوئی خبر دی۔ کچھ خفیہ اہل کار یہ بھی بتاتے ہیں کہ سرکار نے پاکستانی بہو پر جو جانچ کارروائی کی وہ بھی شک کے دائرے میں ہے۔ بتایا یہ جاتا ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل بکرم سنگھ کے دو بیٹے ہیں۔ جس بیٹے کی بیوی پاکستانی نژاد ہے، اس کی تو جانچ ہوئی ہی نہیںہے۔ یہ واقعی حیرانی کی بات ہے کہ اتنی اونچی سطح پر دن کے اجالے میں اتنی بڑی سازش کو انجام دیا جا رہا ہے اور کوئی کچھ نہیں بول رہا ہے۔ چونکہ اس سازش میں وزیر اعظم اور ان کی فیملی کا نام آ رہا ہے، تو ایسے میں سب سے بہتر تو یہی ہوتا کہ وزیر اعظم خود ان سوالوں کا جواب دے دیں۔ ہمیں اس بات کا یقین ہے کہ اگر وہ ایک بار سچائی بتا دیں گے تو پورے ملک میں عدم اعتماد کا ماحول ختم ہو جائے گا۔ ہر سازش کی افواہوں کو لوگ درکنار کر دیں گے۔
بہرحال، ایڈمرل رام داس، سابق چیف الیکشن کمشنر این گوپال سوامی اور ایم جی دیواشایم نے کچھ ریٹائرڈ فوجی افسروں اور سینئر نوکرشاہوں، دانشوروں اور صحافیوں کے ساتھ مل کر لیفٹیننٹ جنرل بکرم سنگھ کی آرمی چیف کے طور پر تقرری کی مخالفت کی ہے۔ اس سلسلے میں ان لوگوں نے سپریم کورٹ میں ایک پی آئی ایل بھی داخل کی ہے۔ اس پی آئی ایل میں صاف طور سے اس سچائی کا ذکر ہے کہ بکرم سنگھ کی تقرری سیاسی اور ذاتی مفاد سے متاثر ہے اور بکرم سنگھ ہندوستانی فوج میں غیر جانبدار اور آزادانہ طور پر کام کرنے میں اہل آفیسر نہیں ہیں۔
ایم جی دیوا شایم کہتے ہیں کہ جنرل وی کے سنگھ کے وکیلوں نے جنرل کی بات عدالت کے سامنے نہیں رکھی۔ اگر جنرل کے وکیلوں نے صرف ان کی دستاویزوں کو ہی عدالت کے سامنے مضبوطی سے رکھا ہوتا، تب بھی جنرل اپنا کیس جیت جاتے۔ پر یہاں بھی سیاست ہوئی ہے۔ اس لیے ہم نے اپنی عرضی میں جنرل کی عمر کے تنازع اور جان بوجھ کر سرکار کے ذریعے ان کی سماجی طور پر بے عزتی کا معاملہ بھی اٹھایا ہے۔ سپریم کورٹ نے اس عرضی پر سماعت شروع کر دی ہے، پر اگر کورٹ نے اس معاملے کو اگلی تاریخوں تک بڑھایا تو مشکل ہو سکتی ہے، کیوں کہ پھر گرمی کی چھٹیاں شروع ہو جائیں گی اور اسی درمیان جنرل وی کے سنگھ ریٹائر ہو چکے ہوں گے۔ یہ سپریم کورٹ کا بھی امتحان ہے کہ وہ اس تاریخی پی آئی ایل پر فیصلہ دیتا ہے یا اسے مرنے کے لیے چھوڑ دیتا ہے۔

باکس صفحہ 1
جس طرح سے لوگوں کا سرکاری اداروں سے بھروسہ اٹھ رہا ہے، اس میں فی الحال امید صرف چیف جسٹس ایچ ایس کپاڑیہ صاحب سے ہی ہے۔ کچھ لوگ ان کو لے کر بھی افواہ اڑا رہے ہیں۔ جنرل وی کے سنگھ کی تاریخ پیدائش تنازع میں سپریم کورٹ کا کوئی بھی فیصلہ نہ دینے کی بھی سیاسی وجوہات بتائی جا رہی ہیں۔ دہلی کے سیاسی حلقوں میں ان دنوں وزیر داخلہ پی چدمبرم اور وزیر برائے فروغِ انسانی وسائل کپل سبل کی کارگزاریوں کے قصے خوب چٹخارے لے کر سنائے جا رہے ہیں۔ جنرل وی کے سنگھ کے کیس سے بھی جڑی ایک کہانی خوب سنی سنائی جا رہی ہے اور جس کے کردار بھی چدمبرم اور سبل ہی ہیں۔ فوج کے ایک بڑے افسر اس سنسنی خیز قصے کی تصدیق بھی کرتے ہیں۔ واقعہ 3 فروری اور 10 فروری کے درمیان کا ہے۔ 3 فروری کو سپریم کورٹ کی کارروائی جنرل وی کے سنگھ کے حق میں ہوئی تھی۔ یہ کہا جانے لگا تھا کہ آرمی چیف جنرل وی کے سنگھ نے عمر کے تنازع پر پہلے دور کی قانونی لڑائی جیت لی ہے، کیو ںکہ سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ جس طریقے سے وی کے سنگھ کی قانونی شکایت کو خارج کیا گیا ہے، وہ بدگمانی سے متاثر لگتا ہے۔ سرکار، کورٹ کے اس رخ سے گھبرا چکی تھی۔ عدالت نے اگلی سماعت کی تاریخ 10 فروری مقرر کی۔ منموہن سرکار، دفاعی سودوں سے جڑی لابی اور جنرل وی کے سنگھ سے ناراض وزیروں کو لگا کہ اگر سپریم کورٹ کا فیصلہ جنرل کے حق میں ہو گیا تو یہ ان سبھی کے لیے مصیبت کا سبب بن جائے گا، کیوں کہ وی کے سنگھ بھی کہہ چکے تھے کہ وہ جلد ہی اُس لابی کا پردہ فاش کر دیں گے، جو بدعنوانی سے جڑی ہے۔ یہ فوجی آفیسرز کہتے ہیں کہ چدمبرم اور سبل، وزیر اعظم کے ایلچی بن کر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ایس ایچ کپاڑیہ سے ملے اور ان سے کہا کہ اگر سرکار کا موقف غلط ہو گیا اور جنرل وی کے سنگھ جیت گئے تو ملک میں سرکار کو لے کر بہت غلط پیغام جائے گا اور آئینی بحران پیدا ہو جائے گا۔ جب 10 فروری کو سماعت کی کارروائی پوری ہوئی، تب سبھی کو لگا کہ جنرل وی کے سنگھ جیت جائیں گے۔ مگر ہندوستانی عدلیہ کی تاریخ میں ایسا پہلی بار ہوا کہ سپریم کورٹ فیصلہ سنانے کی بجائے صلاح کار کے رول میں آگیا۔ کورٹ کے اس رخ پر دلیل یہ دی گئی کہ اس متنازع مسئلے پر اس سے اچھا قدم ہو ہی نہیں سکتا تھا۔ ایک طرف سرکار کی ضد تھی تو دوسری طرف فوج کی شان کا سوال تھا، پر ملک کے شہریوں کی سمجھ میں یہ نہیں آیا کہ جب یہی کورٹ اسی معاملے میں سرکار کو کھری کھوٹی سنا چکا ہے تو اچانک اس کے رویے میں یہ نرمی کیوں آئی؟ فیصلے کی جگہ سپریم کورٹ نے صلاح کیوں دی؟
سچ ہے کہ سپریم کورٹ سے کوئی بھی سوال نہیں کر سکتا، پر ملک کے عوام کے ذہن میں پیدا ہونے والے شک کو سپریم کورٹ کے سامنے رکھنے کا فرض تو ہمیں پورا کرنا ہی پڑے گا۔

روبی ارون

روبی ارون سیاسی ، جرائم اور سماجی سروکاروں کی خبروں کو اپنی قلم کے ذریعہ گزشتہ 18سال سے اٹھاتی آ رہی ہیں۔ عام عوام کے مفاد اور صحافت کے لئے ہمیشہ جدو جہد کرنے والی روبی ارون ”چوتھی دنیا“ میں ایڈیٹر( انویسٹی گیشن)کا عہدہ سنبھال رہی ہیں۔
Share Article

روبی ارون

روبی ارون سیاسی ، جرائم اور سماجی سروکاروں کی خبروں کو اپنی قلم کے ذریعہ گزشتہ 18سال سے اٹھاتی آ رہی ہیں۔ عام عوام کے مفاد اور صحافت کے لئے ہمیشہ جدو جہد کرنے والی روبی ارون ”چوتھی دنیا“ میں ایڈیٹر( انویسٹی گیشن)کا عہدہ سنبھال رہی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *