وزیر اعظم کے نام انا ہزارے کا خط

اروند کیجریوال
دس  اپریل، 2012
عزت مآب ڈاکٹر منموہن سنگھ جی،
گزشتہ کچھ مہینوںمیں وقوع پذیر ہونے والے واقعات نے ہندوستان کی سلامتی کو لے کرملک کے عوام کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔لیکن زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ  کیا ان واقعات کے رونماہونے کے باوجود کچھ سدھار ہوگا؟ ہندوستانی حکومت کی ابھی تک کی کارروائی سے ایسا نہیں لگتا کہ کچھ سدھار ممکن ہے۔ اسی فکر نے ہمیں یہ خط لکھنے پر مجبور کیا۔
جنرل وی کے سنگھ نے آپ کو ایک خط لکھا۔ انہوں نے اپنے خط میں فوج کی خستہ حالی پر اپنی تشویش کا اظہار کیا۔جو تشویش جنرل وی کے سنگھ نے اپنے خط میں ظاہر کی ہے کیا وہ سب سچ ہیں؟ ان کا کہنا ہے کہ فوج کے پا س گولہ بارود تک نہیں ہے۔ ہمارے جوان مشکل سے مشکل حالات میں اپنی جان داؤ پر لگاکر ملک کی حفاظت کرتے ہیں۔

سنڈے گارجین اخبار کے مطابق انڈین ایکسپریس میں شائع اس خبر کے پیچھے آپ کے ایک سینئر وزیر کا ہاتھ ہے۔ حالانکہ اس رپورٹ میں اس وزیر کا نام نہیں لکھا گیاہے ، لیکن یہ قیاس آرائی کی جارہی ہے کہ اشارہ ملک کے وزیر داخلہ پی چدمبرم کی جانب ہے۔ کیا یہ سچ ہے؟اگر سچ ہے تو آپ حالات کی نزاکت کو سمجھ سکتے ہیں۔ جس ملک کا وزیر داخلہ اپنی فوج کو کمزور کرنے لگے تو وہ ملک کتنا محفوظ ہو گا؟ اسی اخبار میں یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ وزیر داخلہ کے فرزند کے اسلحہ دلالوں سے گہرے تعلقات ہیں۔ کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ انڈین ایکسپر یس کی خبر کے پیچھے ہتھیاروں کے دلالوں کا ہاتھ ہے۔ سچائی کیا ہے؟ یہ سبھی خبریںپریشان کرنے والی ہیں۔ اگر یہ خبریں سچ ہیں تو فوراً  بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے اور اگر انڈین ایکسپر یس یا سنڈے گارجین کی خبریں جھوٹی ہیں تو ان اخباروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ جناب اے کے انٹونی ایک بہت ہی ایماندار وزیر دفاع تصور کیے جاتے ہیں۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ دلال اور بدعنوان عناصر جناب انٹونی کو برطرف کرنے کی سازش کررہے ہیں۔ کیا یہ سچ ہے؟

اگر لڑنے کے لیے انہیں وقت پر اسلحہ مہیا نہیں کرایا جائے گا تو وہ ملک کی حفاظت کیسے کریں گے؟ ہماری فوج کی ایسی حالت کیسے ہوئی، اورملک یہ معلوم کرنا چاہتاہے کہ اس کے لیے کون ذمہ دار ہے؟
ہندوستان اپنے دفاع پر خوب پیسہ خرچ کرتاہے۔ اپنے دفاع پر سب سے زیادہ خرچ کرنے والے ممالک میں ہندوستان نویں مقام پر ہے۔ دنیا سمجھتی ہے کہ ہندوستان سب سے زیادہ ہتھیار خریدنے والا ملک ہے۔ہر سال دفاعی بجٹ میںبھاری اضافہ کیا جاتاہے۔ 1996-97 میں ملک کا دفاعی بجٹ تقریباً 30کروڑ تھاجو 2001-02 میں بڑھ کر62,000 کروڑ ہو گیا،اور 2010-11 میں یہ بڑھ کر 1.5 لاکھ کروڑ ہوگیا۔ جب جب ملک کے دفاع کے لیے پیسہ مانگا گیا ، کبھی کسی نے منع نہیں کیا ۔عوام کو یہ محسوس ہوتاہے کہ ہماری افواج جدید ترین اسلحہ جات سے لیس ہیں۔ تو جب ہماری فوج کے سربراہ یہ کہتے ہیں کہ فوجی کی حالت خستہ ہے اور اس کے پاس گولہ بارود تک نہیں ہے، تویہ سوال اٹھتاہے کہ آخر یہ سارا پیسہ جا کہاں رہاہے؟ اس میں سے کتنا پیسہ بدعنوانی کی نذر ہوجا تاہے؟ایک اخبار کی خبر کے مطابق، 2003 سے لے کرآج تک 5000 کروڑ روپے کے ٹٹرا ٹرک خریدے گئے، جس میں 750 کروڑ روپے کی رشوت دی جا چکی ہے۔ یہ سب خبریں تشویش پیدا کرتی ہیں۔
ہتھیاروںکے معاملے میں ہمارا ملک ابھی تک خود کفیل کیوں نہیں ہوا؟ اس سمت میں بامعنی اقدام کیوں نہیں کیے گئے؟ اسرائیل اور چین جیسے ممالک ہتھیاروں کے معاملے میں خود کفیل ہو چکے ہیں تو ہندوستان کیوں نہیں ہو سکتا؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ اگر ہندوستان خودکفیل ہوگیا ہوتا تو شاید دلالوں، نیتاؤں اور افسروں کے کمیشن بند ہو جاتے؟ تو کیایہ سچ نہیں کہ ہندوستان کے خود کفیل ہونے میں بدعنوانی آڑے آرہی ہے؟ ایسا محسوس ہوتاہے کہ ہماری فوج کی حوصلہ شکنی کے لیے اور اس کے سربراہ کی ساکھ کو ختم کرنے کے لیے ایک سوچی سمجھی سازش چل رہی ہے۔ انڈین ایکسپریس اخبارنے ایک خبر کو شائع کرکے یہ ماحول پید ا کرنے کی کوشش کی ہے، جیسے جنرل وی کے سنگھ حکومت کا تختہ  پلٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہمیں خوشی ہے کہ آپ کی حکومت نے اسے سراسر بے بنیاد بتایا۔ لیکن کیا صرف خبر کی تردید کر دیناکافی ہے؟آپ نے کہا کہ یہ خبر بکواس ہے، لیکن کیا اتنی بڑی بکواس کرنے کی اجازت دی جانی چاہیے؟ کیا اس کی تہہ تک نہیں جانا چاہیے کہ انڈین ایکسپر یس نے یہ خبر کیسے چھاپی، اس کے پیچھے کون تھا؟ کس نے یہ سازش رچی؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ اہل اقتدار میں سے کو ئی شخص انڈین ایکسپر یس کی اس خبر کے پیچھے ہے، جس کی وجہ سے آپ کچھ نہیں کر پارہے ہیں؟
سنڈے گارجین اخبار کے مطابق انڈین ایکسپریس میں شائع اس خبر کے پیچھے آپ کے ایک سینئر وزیر کا ہاتھ ہے۔ حالانکہ اس رپورٹ میں اس وزیر کا نام نہیں لکھا گیاہے ، لیکن یہ قیاس آرائی کی جارہی ہے کہ اشارہ ملک کے وزیر داخلہ پی چدمبرم کی جانب ہے۔ کیا یہ سچ ہے؟اگر سچ ہے تو آپ حالات کی نزاکت کو سمجھ سکتے ہیں۔ جس ملک کا وزیر داخلہ اپنی فوج کو کمزور کرنے لگے تو وہ ملک کتنا محفوظ ہو گا؟ اسی اخبار میں یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ وزیر داخلہ کے فرزند کے اسلحہ دلالوں سے گہرے تعلقات ہیں۔ کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ انڈین ایکسپر یس کی خبر کے پیچھے ہتھیاروں کے دلالوں کا ہاتھ ہے۔ سچائی کیا ہے؟ یہ سبھی خبریںپریشان کرنے والی ہیں۔ اگر یہ خبریں سچ ہیں تو فوراً  بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے اور اگر انڈین ایکسپر یس یا سنڈے گارجین کی خبریں جھوٹی ہیں تو ان اخباروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ جناب اے کے انٹونی ایک بہت ہی ایماندار وزیر دفاع تصور کیے جاتے ہیں۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ دلال اور بدعنوان عناصر جناب انٹونی کو برطرف کرنے کی سازش کررہے ہیں۔ کیا یہ سچ ہے؟
یہ آپ کے اور میرے سوال ہیں۔ اگر آپ اس سے اتفاق رکھتے ہیں تو اس پرچے کو زیادہ سے زیادہ لوگوں کو پڑھوائیں۔آخر سچائی کیا ہے؟ یہ سچائی کیسے سامنے آئے گی؟ جیسے کچھ اہم سوالات ہیں۔ملک ان سوالوں کا جواب چاہتاہے۔ انڈین ایکسپر یس کی خبر کے پیچھے کس کی سازش تھی؟ ان کا مقصد کیا تھا؟ کیا اس میں وزیر داخلہ یا کسی اور وزیر کا ہاتھ تھا؟ ملک کے دفاعی سودوں میں کس قدر بدعنوانی ہوتی ہے؟اہل اقتدار میں سے کون لوگ یا ان کے رشتے دار ا س میں شامل ہیں؟ اس سے ملک کی سلامتی کو کس حد تک خطرہ ہے، اسے روکنے کے لیے کیا کرنا چاہیے؟ گزشتہ کچھ مہینوں کے واقعات ہمارے ایماندار فوجی سربراہ اور یماندار وزیر دفاع کے خلاف سازش تو نہیں ہیں؟ یاپھراس میں دفاعی سودوں کے دلالوں کا ہاتھ تو نہیں ہے؟ ان دفاعی سودوں کے دلالوں کے اقتدار میں بیٹھے کن کن لوگوں سے تعلقات ہیں؟
ہمیں نہیں لگتا کہ آپ کے پا س ان سوالو ں کے جواب ہیں۔ ان سوالوں کے جواب تلاش کیے بغیر کوئی بھی بامعنی کو شش ناممکن ہے۔جب تک کو ئی غیر جانبدار اور بھروسہ مند ایجنسی اس معاملے کی تحقیقات کرکے سچائی اور مسئلہ کی گہرائی کا پتہ نہیں لگالیتی، تب تک  ایمانداری کے ساتھ سدھار کی کو ششیںنا ممکن ہوںگی۔کیا پھر سے ملک کا دفاع سیاسی الزام تراشی کی نذر ہو جائے گا؟ یہ مسئلہ ہمارے لیے بہت تشویش ناک ہے، جس کی وجہ سے ہمیں آپ کو یہ خط لکھنے پر مجبور ہونا پڑا۔
ان تمام معاملوں میں ابھی تک حکومت ہند نے کون سے اقدامات کیے ہیں؟ اخباروں کے مطابق حکومت نے صرف آئی بی اور سی بی آئی کو جانچ کی منظوری دی ہے۔ لیکن اس سے سچائی کا پتہ نہیں چلے گا، کیونکہ یہ دونوں ایجنسیاں غیر جانبدار نہیں ہیں۔ اس معاملے میںایسے الزامات عائد کیے گئے ہیں کہ وزیر داخلہ یا حزب اقتدار کے دوسرے لوگوں کے شامل ہونے کا اندیشہ ہے۔ خدا کرے یہ الزامات غلط ہوں۔ لیکن ان الزامات میں اگر ذرا بھی سچائی ہے تو کیا آپ کو یہ نہیں لگتا کہ آئی بی یا سی بی آئی یہ جانچ نہیں کر سکتی؟ آئی بی تو براہ راست طور پر وزارت داخلہ کے کنٹرول میں ہے۔ وہ سیدھے وزات داخلہ سے ہدایات موصول کرتی ہے۔ پھر وہ وزیر داخلہ کے خلاف کیسے جانچ کر سکتی ہے؟ اسی وجہ سے اعلیٰ عہدوں پر بیٹھے لوگوں کی بدعنوانی روکنے میں سی بی آئی آج تک ناکام رہی ہے۔
گزشتہ کئی دہائیوں میں دفاعی سودوں کے کئی گھوٹالے سامنے آئے ، لیکن سی بی آئی کسی بھی معاملے میں مجرموں کو سزا دلوانے میں ناکام رہی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ سی بی آئی  نااہل ہے۔ لیکن جب اعلیٰ سطح پر بیٹھے لوگ براہ راست طور پر بدعنوانی کے معاملوں میں ملوث ہوتے ہیں تو سی بی آئی کو ایمانداری سے کام نہیں کرنے دیتے۔چونکہ سی بی آئی انہی کے کنٹرول میں ہوتی ہے، اس لیے اس پر دباؤ ڈال کر معاملہ رفع دفع کر دیا جا تا ہے۔ بو فورس معاملے میں سیاسی دباو ٔکے تحت سب سے اہم ملزم کواتروچی کے بینک کھاتے ہی چھوڑ دیے گئے۔ اسی طر ح آج تک اسکورپن ڈیل اور تابوت گھوٹالوں میں کو ئی نہیں پکڑا گیا۔ فوج میں گھو ٹالوں پر گھو ٹالے ہو رہے ہیں لیکن ان کی منصفانہ جانچ نہیںہوتی۔ اگر پچھلی بدعنوانیوں کے مجرموں کو کڑی سزا دلوائی گئی ہوتی تو شاید ان گھوٹالوںپر روک لگ سکتی تھی۔ لیکن ایسا ہو ، ہمارے ملک میں اس کی گنجائش ہی نہیںہے۔ کچھ سالوں کے وقفے کے بعددفاعی سودوں کے گھوٹالے سامنے آتے ہیں، کچھ دنوں تک شو ر شرابہ ہو تاہے ، معاملہ کوسی بی آئی کے حوالے کر دیا جاتاہے، سی بی آئی پر سیدھے طور پر ملزموں کا کنٹرول ہوتاہے، جس کی وجہ سے منصفانہ جانچ نہیں ہو پاتی اور آخر میں کسی کو سزا نہیں ملتی۔ یہ کہانی گزشتہ کچھ دہائیوں میں کئی بار دہرائی جا چکی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ یہ کہانی ایک بار پھر سے دہرائی جائے گی۔ ہمارے ملک کا دفاع، ہمارے ملک کی فوج، ہمارے ملک کے وزیر دفاع اور ہمارے ملک کے فوجی سربراہ  ان سب کے خلاف گہری سازشیںرچی گئیں۔ ان سازشوں کی جانچ کرنے کا کام پھر سے سی بی آئی کو دے دیا گیا ہے، اورپھر سے سی بی آئی ناکام رہے گی۔ یہ کہانی چلتی رہے گی اور ملک کی سلامتی پر خطرہ منڈلاتا رہے گا۔
اگر جانچ ایجنسی پر یا جانچ پر ملزموں کا، دلالوں کا یا بدعنوان لوگوں کا کسی طرح کا اثر رہے گا تو سچائی کبھی باہر نہیں آئے گی اور بغیر سچائی جانے مسئلہ کبھی حل نہیںہو پائے گا۔ اس لیے آپ کی حکومت کے ذریعہ کی گئی کسی بھی کارروائی سے ملک غیر مطمئن ہے۔ گزشتہ 44 سالوں سے ملک ایک مضبوط اور آزاد لوک پا ل کی مانگ کر رہا ہے۔ وہ آپ کی سرکار بنانا نہیں چاہتی۔ ا گر آج ایسا لوک پا ل ہوتا تو اس معاملے کی آزادانہ جانچ ہوسکتی تھی، لیکن مضبوط لوک پا ل تشکیل دینے کے بجائے آپ نے ایک نہایت ہی کمزور لوک پال بل پارلیمنٹ میں پیش کیا۔ حد تو اس وقت ہوگئی، جب 27دسمبر2011کو لوک سبھامیں ترمیم پیش کرکے فوج میں ہورہی بدعنوانی کو لو ک پال کے دائرے سے باہر کر دیا گیا۔ ایسا کیوں کیا گیا؟
آپ کا
کے بی ہزارے
اب حل کیا ہے؟
سی بی آئی کو فوراً سرکاری شکنجے سے آزاد کیا جائے، تاکہ ملزم، دلال اور بدعنوان لوگ اس کی جانچ کو متاثر نہ کرسکیں۔ تبھی سی بی آئی اس سازش پر سے پردہ اٹھا سکے گی۔
وزیر اعظم صاحب، ہم ہندوستان کے لوگ آپ سے جاننا چاہتے ہیں۔ کیا ہندوستان اور ہندوستان کے لوگ آپ کے ہاتھوں میںمحفوظ ہیں؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *