اے ایم یو سینٹر اور حکومتوں کا معاندانہ رویہ

شکیل احمد سلفی
یوںتو مرکزی اور ریاستی حکومتوں نے ہمیشہ ہی مسلمانوں سے خوش نما وعدے کئے اور ان وعدوں کی تکمیل کبھی عمل میں نہیں آئی لیکن مرکزکی موجودہ حکومت نے مسلمانوں کی فلاح اور ان کی ہمہ جہت پسماندگی دور کرنے کے لیے جتنے وعدے کئے اور جس قدر دعوے کررہی ہے اگر ان کے دس فیصد پر بھی ایمانداری سے عمل ہوجاتا تو آج مسلمانوں کی حالت مختلف ہوتی ۔ آج سے چھ سال قبل یوپی اے (اول) نے مسلمانوں کی معاشی، سماجی اور تعلیمی صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے سچر کمیٹی تشکیل دی تھی جس نے پوری دیانت داری کے ساتھ مسلمانوں کے حالات کا جائزہ لیا اور حکومت کو پیش کی گئی اپنی رپورٹ میں واضح طور پر کہا کہ مسلمانوں کی مجموعی حالت دلتوں سے بھی بدتر ہے اور انہیں پسماندگی سے نکالنے کے لیے اپنی تجاویز بھی پیش کیں۔

سچر کمیٹی کی سفارش پر مسلمانوں کی تعلیمی پس ماندگی کو دور کرنے کے اقدام کے طور پر پانچ ریاستوں کیرالا، مہاراشٹر، مدھیہ پردیش، مغربی بنگال اور بہار میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سنٹر کے قیام کو منظوری دی گئی تھی، کیرالہ کے ملاپورم اور مغربی بنگال کے مرشد آباد میں تو سنٹروں کا قیام عمل میں آگیا لیکن مہاراشٹر اور مدھیہ پردیش میں اس سلسلہ میں کوئی سرگرمی ہنوز نظر نہیں آرہی ہے۔ مدھیہ پردیش حکومت کی بات تو سمجھ میں آتی ہے کہ اسے ابھی گئو کشی پر پابندی نافذکرنے سے فرصت نہیں ملی ہے۔ لیکن مہاراشٹر کی’’ سیکولر‘‘ حکومت جو یو پی اے کا حصہ ہے اس کی جانب سے اس سلسلہ میں سرگرمی نہ دکھانا ناقابل فہم ہے۔

اس رپورٹ کے سامنے آنے کے بعد حکومت نے بعض ایسی سرگرمیاں دکھائیں جن سے اندازہ ہو اکہ وہ واقعی مسلمانوں کی پسماندگی دور کرنے کے تئیں سنجیدہ ہے ۔ لیکن دھیرے دھیرے اپنی پرانی ڈگر پر واپس آگئی۔ یہ تو نہیں کہا جاسکتا کہ حکومت نے کچھ کیا ہی نہیں ، کچھ کام ضرور ہوئے ۔ تعلیمی وظائف کا اعلان کیا گیا ور کچھ وظیفے دئے بھی گئے۔ بعض دیگر اقدامات بھی کئے گئے۔ مختلف اسکیموں پر عمل در آمد کے لئے فنڈ بھی جاری کئے گئے۔ لیکن حقیقی صورت حال یہ ہے کہ جو فنڈفراہم کئے گئے ان کا ایک تہائی حصہ ہی خرچ کیا جاسکا۔ مسلمانوں کی پسماندگی دور کرنے کے لئے جو اعلانات ہوئے ان میں سے بیشتر پر عمل در آمد ہو اہی نہیں اور جہاں عمل درآمد کی نوبت آئی بھی وہان بے دلی اور دیانت داری کی کمی صاف جھلکتی ہے۔
سچر کمیٹی کی سفارش پر مسلمانوں کی تعلیمی پس ماندگی کو دور کرنے کے اقدام کے طور پر پانچ ریاستوں کیرالا، مہاراشٹر، مدھیہ پردیش، مغربی بنگال اور بہار میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سنٹر کے قیام کو منظوری دی گئی تھی، کیرالہ کے ملاپورم اور مغربی بنگال کے مرشد آباد میں تو سنٹروں کا قیام عمل میں آگیا لیکن مہاراشٹر اور مدھیہ پردیش میں اس سلسلہ میں کوئی سرگرمی ہنوز نظر نہیں آرہی ہے۔ مدھیہ پردیش حکومت کی بات تو سمجھ میں آتی ہے کہ اسے ابھی گئو کشی پر پابندی نافذکرنے سے فرصت نہیں ملی ہے۔ لیکن مہاراشٹر کی’’ سیکولر‘‘ حکومت جو یو پی اے کا حصہ ہے اس کی جانب سے اس سلسلہ میں سرگرمی نہ دکھانا ناقابل فہم ہے۔ جہاں تک بہار میں سنٹر کے قیام کا معاملہ ہے تویہ بھی آغاز سے ہی سیا ست کے چکرویو میں پھنسا ہوا ہے۔ عرصہ تک زمین کی فراہمی کے سلسلہ میں اے ایم یو اور ریاستی سرکار کے درمیان چوہا بلی کا کھیل ہوتا رہا۔ یونیورسٹی انتظامیہ ایک جگہ پر مکمل اراضی کے مطالبہ پر اصرار کرتی رہی جبکہ ریاستی حکومت الگ الگ ٹکڑوں میں زمین فراہم کرنے پر بضد رہی۔ اور شاید یہ سلسلہ یونہی سیاست کی نذر ہوجاتا اگر وہاں کے عوام نے اس کے حصول کے لیے زبردست اتحاد کا مظاہرہ نہ کیا ہوتا۔ ایم پی مولانا اسرار الحق قاسمی اور ایم ایل اے اختر الایمان کی قیادت میں یونیورسٹی کی شرطوں پر زمین کی فراہمی کے لیے زبردست مظاہرہ کیا گیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ریاستی حکومت نے ایک ساتھ 224 ایکڑ زمین فراہم کردی۔ جب تک ریاستی حکومت نے زمین فراہم نہیں کی تھی مرکزی وزرا اور کانگریس لیڈران ریاستی حکومت پر سنٹر کے قیام میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام لگاتے رہے ۔ لیکن اب جب کہ ریاستی حکومت نے بادل ناخواستہ ہی سہی اراضی فراہم کردی ہے تو مرکزی حکومت نے ٹال مٹول کا رویہ اپنا نا شروع کردیا ۔ حالاں کہ اس نے وعدہ کیا تھا کہ زمین فراہمی کے ساتھ ہی وہ سنٹر کے قیام کے لیے فنڈ فراہم کردے گی۔ لیکن فراہمی زمین کے کئی ماہ بعد بھی اس سلسلہ میں اب تک نہ صرف یہ کہ کوئی اقدام نہیں کیا ہے بلکہ مرکزی وزیر برائے فروغ انسانی وسائل کپل سبل قانونی پیچیدگیوں کا حوالہ دیتے ہوئے تقریباً اس باب کو بند ہی کردینا چاہتے ہیں جس سے کشن گنج جیسے پسماندہ علاقہ میں سنٹر کے قیام کے سلسلہ میں ان کا معاندانہ رویہ صاف جھلکتا ہے۔ عدالتی کارروائی کا قضیہ یہ ہے کہ اے ایم یو طلبہ یونین کے سابق صدر زیڈ کے فیضان نے سنٹر کے قیام کے خلاف الہ آباد ہائی کورٹ میں جو عرضی داخل کی تھی اسے کورٹ نے خارج کردیا۔ لہٰذا فیضان سپریم کورٹ گئے اور سپریم کورٹ نے انہیں الہ آباد ہائی کورٹ میں دوبارہ عرضی داخل کرنے کی ہدایت دی ۔ لیکن انہوں نے ابھی تک عرضی داخل نہیں کی ہے۔ اس سلسلہ میں کشن گنج میں اے ایم یو سنٹر کے قیام کے لیے جاری تحریک کے روح رواں اور کانگریس ایم پی مولانا اسرارالحق قاسمی کا کہنا ہے کہ عدالتی کارروائی سنٹر کے قیام میں مانع نہیں ہے اور اور اگر کوئی عدالتی فیصلہ ہوتا ہے تو ملک کے تینوں سنٹر کے خلاف ہوگا۔ لیکن ان کی یہ دلیل بھی قانون داں وزیر کپل سپل کو اقدام کے لیے راضی نہ کرسکی۔
سنٹر کے قیام اور فنڈ فراہمی کے لیے ضروری ہے کہ اسے اے ایم یو کی وزیٹر اور صدر جمہوریہ کی منظوری حاصل ہو جبکہ وزارت فروغ انسانی وسائل نے اب تک یہ فائل منظوری کے لیے ان کے پاس بھیجی ہی نہیں ہے۔ کیا یہ اس بات کا اشاریہ نہیں ہے کہ حکومت مسلمانوں کی  تعلیمی پسماندگی دور کرنے کا محض دعویٰ کرتی ہے جبکہ اس کی نیت درست نہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ حکومتیں ہر معاملہ کو اپنے سیاسی نفع نقصان کے حساب سے دیکھتی ہیں۔ فی الحال بہار میں کانگریس پارٹی کا وجود نہیں ہے۔ ممکن ہے کہ اس معاملہ کو آئندہ پارلیمانی انتخاب تک معرض التوا میں رکھا جائے اور عین انتخاب کے وقت سنٹر کے قیام کی راہ ہموار کر کے مسلمانوں میں اپنی کھوئی ہوئی ساکھ بحال کرنے اورخود کو ان کا ہمدرد باور کرانے کی کوشش کی جائے۔ اگر ایسا ہوا تو کوئی نئی بات نہیں ہوگی ۔ کیونکہ یہاں کے لوگوں نے سیاسی جماعتوں کو محض وعدوں اور اعلانات کی بنیا د پر ایک سے زیادہ انتخابات میں فتح حاصل کرتے دیکھا ہے۔ وزیر برائے فروغ انسانی وسائل کپل سبل کے منفی رویہ کے بعد تحریک کا روں نے یو پی اے چیئر پرسن محترمہ سونیا گاندھی سے ملاقات کرکے سنٹر کے قیام کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور خبروں کے مطابق محترمہ نے اس کا وعدہ بھی کیا ہے۔ اب دیکھنا ہے کہ اس وعدہ کی تکمیل کب ہوتی ہے اور کشن گنج میں سنٹر کے قیام کا خواب کب پورا ہوتا ہے؟ اب تک یہاں کے مسلمانوں نے انصاف پسند غیر مسلموں کو ساتھ لے کر جس انداز میں سنٹر کے قیام کے لیے تحریک چلائی ہے اگر اسی اتحاد ویگانگت کا ثبوت آئندہ بھی دیتے رہے تو یقین ہے کہ ریاستی حکومت کی طرح مرکزی حکومت کو بھی گھٹنے ٹیکنے پڑجائیں گے۔ بشرطیکہ سیاسی طالع آزما اس تحریک کو اچک نہ لیں اور دوسرا رخ دینے میں کامیاب نہ ہوجائیں۔
یہ ہمارے ملک کی بدقسمتی ہے کہ یہاں ہر معاملہ کو فرقہ وارانہ عینک سے دیکھا جاتا ہے ۔ اگر کسی معاملہ کا تعلق مسلمانوں کی بہبود سے ہو تو فرقہ پرست جماعتیں تو اس کے خلاف سرگرم ہوتی ہی ہیں نام نہاد سیکولر جماعتوں کا رویہ بھی اچھا نہیں ہوتا ۔ اس سلسلہ میں کانگریس نے ہمیشہ ہی دورخی پالیسی اپنائی ہے اور اس کے قول وعمل میں ہمیشہ تضاد رہا ہے۔ ایک طرف وزیر اعظم یہ بات تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں کہ سچر کمیٹی کی سفارشات پر عمل نہیں ہورہا ہے تو دوسری جانب انہی کی حکومت کے وزیر رکاوٹیں کھڑی کررہے ہیں۔ نیشنل ایڈوائزری کونسل کے ممبر ہرش مندر کے مطابق حکومت نے سچر کمیٹی کے قیام کے وقت جو جوش وخروش دکھایا تھا اس کی سفارشات کے نفاذ میں وہ جوش نہیں دکھارہی ہے بلکہ اب افسران بھی غالبا سمجھ گئے ہیں کہ حکومت کی اس میں دلچسپی نہیں ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ کانگریس ریاستوں میں ہونے والی اپنی شکست سے کوئی سبق نہیں لینا چاہتی ۔ حالانکہ اب اسے سمجھ لینا چاہیے کہ وہ مسلمانوں کو مزید بیوقوف بناکر ان کا اعتماد حاصل نہیں کرسکتی ۔ اس کے لیے اسے ان وعدوں کو نبھانا ہی ہوگا جن کی بنیاد پر اسے دوبارہ اقتدار حاصل ہوا تھا۔ اب محض خوش نما وعدوں کے سہارے اقتدار کا حصول نا ممکن ہے۔ اب بھی وقت ہے کہ کانگریس اپنے رویہ میں تبدیلی لائے اور مسلمانوں کی پسماندگی دور کرنے کے لیے سچر کمیٹی کی سفارشات پر ایمانداری سے عمل کرے۔ یہ بات طے ہے کہ اگر کشن گنج میں اے ایم یو سنٹر کے قیام کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور نہیں کیا گیا تو پہلے ہی سے بہار میں آکسیجن کے سہارے چل رہی کانگریس سانس لینا ہی بھول جائے گی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *