ایسے مارا گاندھی کو سرکار نے

ڈاکٹر منیش کمار
بابائے  قوم مہاتما گاندھی کے خون سے رنگی گھاس اور مٹی، ان کا چشمہ اور چرخہ سمیت باپو سے جڑی 29 چیزیں برطانیہ میں نیلام ہوگئیں اور اس ملک کی بدقسمتی دیکھئے، سرکار نے اس کے بارے میں کچھ نہیں کیا۔

گاندھی جی کی چیزوں کو خریدنے کا فیصلہ اِموشنل فیصلہ تھا۔ گاندھی جی جیسی شخصیت دنیا میں کہیں پیدا نہیں ہوئی ہے۔ یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہمارے فادر آف دی نیشن ہیں گاندھی۔ پوری بیسویں صدی کے سب سے بڑے آدمی وہ تھے۔ وہ ایک مکمل انسان تھے۔ ایک کمپلیٹ مین، جیسے کرشن کا ذکر بھگود گیتا اور رامائن میں رام کا آتا ہے۔ وہ زندگی کے ہر پہلو سے جڑے ہوئے تھے۔ ہمارے سامنے کے ویسے آدمی گاندھی جی تھے۔
کمل   مرارکا

اتنا ہی نہیں، اس کے بارے میں نہ تو سرکار نے کسی کو بتایا اور نہ ہی ملک کے میڈیا نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ بابائے قوم مہاتما گاندھی کی وراثت کو خریدنے والا شخص کون ہے۔ گاندھی جی کے ہاتھ سے لکھے اور ان کے دستخط کردہ خطوط، ذاتی دعائیہ کتاب، ایک ایل پی ریکارڈ اور فوٹو گراف کو کس نے خریدا، کیوں خریدا۔ کیا اسے پھر نیلام کیا جائے گا۔ لگتا ہے کہ ملک کی سیاست ایسے اندھیرے کی طرف گامزن ہو گئی ہے کہ ان سب باتوں کے بارے میں سوچنا بھی بے معنی ہے۔ ناتھو رام گوڈسے نے تو صرف گاندھی کے جسم کو ختم کیا تھا، لیکن سرکاری اہل کار اور سیاسی پارٹیاں تو گاندھی کی یاد اور افکار کو مارنے کا کام کر رہی ہیں۔ ویسے یہ ملک سرکار اور سیاسی پارٹیوں کے سہارے نہیں چلتا ہے۔ ہندوستان کے لوگ ہی ہندوستان کی اصل طاقت ہیں۔ جہاں سرکار ناکام ہو جاتی ہے وہاں ملک کا کوئی نہ کوئی سپوت ضرور سامنے آتا ہے جو ملک کی عزت اور وقار کو بچاتا ہے۔
کمل ایم مرارکا ایسی ہی شخصیت ہیں جنہوں نے اس بار ہندوستان کی عزت کو نیلام ہونے سے بچایا ہے۔ لندن میں ہوئی نیلامی میں گاندھی جی سے جڑی ساری چیزوں کو وہ ہندوستان واپس لے آئے۔ کمل مرارکا کی تعریف اس لیے ہونی چاہیے، کیوں کہ انہوں نے اس بات کو پوشیدہ رکھا۔ نیلامی کے بعد کئی دنوں تک اخباروں اور ویب سائٹس پر یہ سوال گونجتا رہا کہ وہ ہندوستانی کون ہے جس نے گاندھی جی کی چیزوں کو خریدا ہے۔ لیکن انہوں نے اسے کوئی میڈیا ایونٹ نہیں بنایا۔ انہوں نے جب نیلامی کے بارے میں اخباروں میں پڑھا کہ گاندھی جی سے جڑی کئی چیزیں فروخت ہو رہی ہیں۔ ٹی وی پر بھی بحث ہو رہی تھی اور کئی لوگ یہ کہہ رہے تھے کہ ہندوستانی سرکار کو اس میں مداخلت کرنی چاہیے۔ گاندھی بابائے قوم ہونے کے ساتھ ساتھ جنگ آزادی کے سب سے بڑے لیڈر تھے، اس لیے اس میں مداخلت کرنا سرکار کی اخلاقی ذمہ داری تھی۔ لیکن کمل مرارکا خود ایک وزیر رہے ہیں۔ سیاست پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ ملک کی سمت و حالت کو جانتے ہیں۔ انہیں یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگی کہ موجودہ سرکار تو کوئی سرکار ہی نہیں ہے۔ یہ تو ایک طرح سے مردہ سرکار ہے۔ یہ تو مر گئی ہے۔ یہ اپنا روز مرہ کا کام نہیں کر پا رہی ہے، تو گاندھی جی کی یادیں لانے کی کہاں اس کو فرصت ہے۔ یہ سرکار آرمی چیف کی تقرری سے لے کر ہر چھوٹی چیز تک میں پھنسی ہوئی نظر آتی ہے۔ جب ہر معاملے کا فیصلہ کورٹ ہی کرے گا تو ملک میں سرکار کہاں ہے۔ موجودہ سرکار تو نان ایگزسٹنگ سرکار ہے۔فی الحال ہندوستان سیاسی اور نظریاتی نقطہ نظر سے زوال کے دور میں ہے، اس لیے گاندھی جی کو لے کر آج کی سرکار کو نہ تو محبت ہے، نہ عقیدت ہے اور نہ ہی فرصت ہے۔ کمل مرارکا کو لگا کہ اگر سرکار اس میں دلچسپی نہیں لیتی ہے تو کم از کم کوئی ہندوستانی تو دلچسپی لے اور اسے ہندوستان واپس لے آئے۔ کمل مرارکا کو لگا کہ گاندھی جی کی یادیں کم سے کم آ تو جائیں گی۔ لیکن انہیں یہ معلوم نہیں تھا کہ کون فروخت کر رہا ہے، نیلامی میں کیسے شامل ہونا ہے۔ ممبئی کا ایک آکشن ہاؤس ہے اوسیانس، جو لندن میں ہونے والی اس نیلامی میں حصہ لینے جا رہا تھا۔ کمل مرارکا نے دلچسپی دکھائی اور دونوں میں رابطہ ہوا۔ کمل مرارکا نے اوسیانس کو کہا کہ وہ ان کی طرف سے بولی لگائے اور کسی بھی قیمت پر باپو جی سے جڑی ساری چیزیں خرید کر لے آئے۔
ادھر ملک میں اس نیلامی کو لے کر ہنگامہ مچا ہوا تھا۔ ملک میں گاندھی وادی کہلانے والے لوگ بھی لاچار نظر آئے۔ انا ہزارے نے بھی مخالفت کی۔ ٹی وی پر بحث ہوئی۔ ہر کسی نے نیلامی کے خلاف آواز اٹھائی، یہاں تک کہ ہندی کے جانے مانے قلم کار گری راج کشور نے پدم شری ایوارڈ کو واپس کرنے کی دھمکی دی۔ لیکن سرکار کے کانوں تک یہ آوازیں نہیں پہنچیں، اس نے آوازوں کو اَن سنا کر دیا۔ کانگریس کے لیڈر جناردن دویدی نے وزیر اعظم منموہن سنگھ کو خط بھی لکھا کہ مہاتما گاندھی سے جڑی یادوں کی نیلامی پر سرکار کو خاموش نہیں بیٹھنا چاہیے۔ اس خط میں نیلامی کو شرمناک بھی بتایا گیا۔ اتنا ہی نہیں، مرکزی وزیر غلام نبی آزاد نے بھی خط لکھ کر اسے بدقسمتی سے تعبیر کیا تھا۔ لگتا ہے کہ وزیر اعظم کے دفتر میں کام کرنے والے اہل کاروں نے کانگریس کے لیڈروں کے خطوط کو پڑھنا بند کر دیا ہے۔ اور اگر پڑھنے کے بعد بھی کوئی کارروائی نہیں ہوئی تو اس کا مطلب یہی ہے کہ سرکار نے گاندھی کی یادوں کو دفنانے کا ارادہ کر لیا ہے۔ سیاسی پارٹیوں کے ترجمان کو سن کر کبھی کبھی ہنسی آتی ہے۔ کانگریس کے ترجمان ہیں راشد علوی۔ صحافیوں نے جب پوچھا کہ نیلامی پر پارٹی کی رائے کیا ہے، تو دیکھئے ان کا جواب کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ گاندھی جی سے جڑی چیزوں کی نیلامی تو برداشت کی جاسکتی ہے، لیکن ان کے خون سے رنگی مٹی کی فروخت کو برداشت نہیں کیا جا سکتا ہے۔ لگے ہاتھوں انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اس معاملے میں برطانوی حکومت کو خط لکھیں گے۔ خط تو نہیں پہنچا اور لندن میں نیلامی بھی ہوگئی اور کمل مرارکا نے نیلام ہونے والی تمام چیزوں کو خرید لیا۔
یہاں سرکار کا ایک اور امتحان ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا سرکار ان سامانوں پر ٹیکس لیتی ہے اور کتنا ٹیکس لیتی ہے اور یہ ثابت کرتی ہے کہ گاندھی جی کے یومِ پیدائش یا یومِ وفات پر ملک چلانے والوں کا راج گھاٹ جانا، ان کی سمادھی پر پھول ڈالنا محض ایک دکھاوا ہے، گاندھی کے ساتھ دھوکہ ہے۔ اب سوال اٹھتا ہے کہ کمل مرارکا ان سامانوں کا کیا کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ چاہتے ہیں کہ مہاتما گاندھی سے جڑی چیزوں کو سرکار نیشنل میوزیم میں رکھے، کیوں کہ گاندھی جی تو ملک کی امانت ہیں۔ یہ ساری چیزیں ملک کے عوام کی ہیں اور انہیں یہ سب دیکھنے کا موقع ملنا چاہیے۔ ممبئی میں کمل مرارکا ان سامانوں کی نمائش لگانے والے ہیں، ساتھ ہی وہ اپنی سطح پر ملک کے الگ الگ شہروں میں نمائش لگانے کی کوشش کریں گے۔ اس نمائش کا مقصد لوگوں کو گاندھی سے صرف جوڑنا ہوگا۔
یہاں ایک اور نیلامی کا ذکر کرنا ضروری ہے۔ کچھ عرصہ پہلے کنگ فشر کے مالک وجے مالیا نے ٹیپو سلطان کی تلوار خریدی تھی۔ میڈیا میں بڑا ہنگامہ مچ گیا تھا۔ ٹی وی چینل والوں نے اسے ایک میڈیا ایونٹ اور کنگ فشر اور وجے مالیا کی تعریف و تشہیر کا ایک پروگرام بنا دیا۔ تلوار کو خریدنے کے بعد انہوں نے کہا کہ وہ پھر سے نیلامی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے ٹیپو سلطان کی تلوار سے تجارت کرنے کی کوشش کی، جس کا انہیں حق ہے۔ لیکن کمل مرارکا کے لیے گاندھی جی حوصلے کا باعث ہیں۔ اس لیے انہوں نے صاف کہا کہ وہ ان سامانوں کی پھر سے نیلامی نہیں کریں گے۔ گاندھی کو لے کر کمل مرارکا اتنے حساس ہیں کہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سرکار اگر ان سامانوں کو مناسب جگہ پر رکھنے کو تیار ہے تو وہ ان سامانوں کو سرکار کوبطور نذرانہ پیش بھی کر سکتے ہیں۔ لیکن نیلامی کے اتنے دنوں بعد بھی سرکار کی طرف سے کسی نے رابطہ کرنے کی کوشش نہیں کی۔ حیرانی کی بات تو یہ ہے کہ میڈیا کے وہ لوگ جو کل تک گاندھی کی امانت کی نیلامی پر اپنا کلیجہ پیٹ رہے تھے، ٹی وی اسٹوڈیو میں گھڑیالی آنسو بہا رہے تھے، وہ نیلامی کے بعد اس مدعے کو ہی بھول گئے۔ کسی ٹی وی چینل اور اخبار نے گاندھی کی امانت کی کھوج خبر لینے کی ضرورت نہیں سمجھی۔ اس سے یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ صحیح معنوں میں ملک کا میڈیا بھی اپنی راہ سے بھٹک گیا ہے۔ اخبار میں یہ خبر شائع ہوئی کہ سونیا جی منموہن سنگھ جی سے اس بات سے بہت ناراض ہیں کہ ان چیزوں کی نیلامی روکنے کے لیے یا اپنے ملک میں واپس لانے کے لیے انہوں نے کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ سمجھنے والی بات یہ بھی ہے کہ اگر سونیا جی کا یہ ارادہ ہوتا اور وہ حکم دے دیتیں تو منموہن سنگھ ضرور دلچسپی دکھاتے۔ کانگریس کی سرکار نے تو غلطی کی، لیکن اس معاملے میں اپوزیشن بھی اتنی ہی ذمہ دار ہے، کیوں کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے رخ اور کانگریس کی سوچ میں کوئی خاص فرق بچا نہیں ہے، چاہے معاملہ گاندھی کا ہی کیوں نہ ہو۔ اگر اپوزیشن پارٹیاں اس معاملے کو جم کر اٹھاتیں تو شاید سرکار کو اس میں مداخلت کرنی پڑتی۔ لیکن اس ملک کی بدقسمتی ہے کہ سرکار کے ساتھ ساتھ اپوزیشن بھی ایسے معاملوں میں بے حس ہوگئی ہے۔ آج ایک طرف کانگریس نے اپنے اصولوں کو درکنار کر دیا ہے، سماجواد اور سماجی ترقی کو طاق پر رکھ دیا ہے تو دوسری طرف بی جے پی نے اپنی آئڈیولوجی کو دفن کر دیا ہے۔ دونوں ہی پارٹیاں ایک جیسی ہو گئی ہیں۔ اب چاہے کرپشن ہو، چاہے امریکہ کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کا معاملہ ہو، دونوں ایک ہی ہیں۔ یہی ملک کے سامنے سب سے بڑا چیلنج ہے۔ دونوں پارٹیوں نے ملک کے سیاسی کلچر کو برباد کر دیا ہے۔ گاندھی کے خیالات ہوں یا جد و جہد آزادی کی وراثت، یہ سیاسی پارٹیوں کی ذمہ داری ہے کہ لوگوں کو اس کے تئیں بیدار کریں۔ سیاسی پارٹیوں نے اپنی اس اہم ذمہ داری کو نبھانے کی بجائے سیاست کو پیسہ کمانے کی مشین بنا دیا ہے۔ ان دونوں پارٹیوں نے ایک ایسا سیاسی کلچر پیدا کر دیا ہے، جہاں ایماندار ہونا ہی آپ کی سب سے بڑی کمزوری بن گئی ہے۔ سیاست میں سچ بولنا ہی سب سے بڑا جرم ہو گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی پارٹیوں اور سیاسی کارکنوں نے گاندھی کو بھلا دیا ہے۔ یہی بے حسی میڈیا میں بھی ہر جگہ رائج ہے۔ یہی ملک کی بدقسمتی بھی ہے۔
ایسے ماحول میں کمل مرارکا جیسی شخصیت کا ہونا ہر ہندوستانی کے لیے فخر کی بات ہے۔ ملک کے بڑے پیسے والوں کو کمل مرارکا سے ملک کے تئیں پاگل پن کی حد تک لگاؤ اور ملک کی آن، بان، شان کو کیسے جیا جاتا ہے، سیکھنا چاہیے۔ نیلامی میں گاندھی کی تمام چیزوں کو کسی ایک ہندوستانی نے خریدا ہے، جس نے بھی یہ خبر سنی اس کا سینہ پھول گیا۔ فخر سے سر اونچا ہو گیا۔ کمل ایم مرارکا ملک کے جانے مانے سرمایہ دار ہیں، لیکن سرمایہ دار سے زیادہ وہ ایک محب وطن اور اچھے انسان ہیں۔ مرارکا فاؤنڈیشن کے ذریعے وہ راجستھان اور دیگر ریاستوں میں زراعت، ماحولیات سے لے کر غریبوں کے درمیان تک سوشل ورک کرتے ہیں۔ وہ سرمایہ داری کے انسانی چہرے کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اخیر میں نیرج کی ایک کویتا یاد آتی ہے کہ:
نیتاؤں نے گاندھی کی قسم تک بیچی
کویوں نے نرالا کی قلم تک بیچی
مت پوچھ کہ اس دور میں کیا کیا نہ بکا
انسانوں نے آنکھوں کی شرم تک بیچی
کوی نیرج نے جو برسوں پہلے لکھا، وہ آج ایک بار پھر سچ ثابت ہوا ہے۔ لندن میں باپو کی امانت کی ایک بار پھر بولی لگی، لیکن سرکار اور نیتا خاموش تماشائی بنے رہے۔ ملک کے سپوت نے اپنا فرض نبھایا۔ گاندھی کے چاہنے والوں اور انہیں ماننے والوں کو کمل مرارکا کا شکریہ ادا کرنا چاہیے۔

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Latest posts by ڈاکٹر منیش کمار (see all)

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

One thought on “ایسے مارا گاندھی کو سرکار نے

  • May 23, 2012 at 9:41 pm
    Permalink

    کمال مورارکا کو دلی مبارکباد

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *