افغان پالیسی پر نظر ثانی کی ضرورت ہے

راجیو کمار
افغانستان میں طالبان کا اثر کم ہوتا نہیں دکھائی دے رہا ہے۔ یہاں گاہے بگاہے حملے تو ہوتے ہی رہتے ہیںلیکن اس دوران ایک بڑا حملہ ہوا، جو افغانستان کی موجودہ صورت حال اور اس کے مستقبل کے بارے میں حکمت عملی پرنظر ثانی کرنے پر مجبورکرتا ہے۔ یہ حملہ گزشتہ کئی حملوں سے الگ دکھائی دے رہا ہے۔ پہلے کے حملے کسی سفارت خانے یا کسی خاص جگہ پر بم بلاسٹ کے ذریعہ کیے جاتے رہے ہیں لیکن یہ اس طرح کا حملہ نہیں ہے۔ منصوبہ بند طریقے سے کیا گیا یہ حملہ نیٹو کے سیکورٹی اور خفیہ سسٹم کی دھجیاں اڑارہا ہے۔راجدھانی کے کئی علاقوں میں پہلے بم دھماکے کیے گئے اور اس کے بعد گولی باری کی گئی، جس سے نمٹنے میں نیٹو اور افغانستان کی سیکورٹی کو کئی گھنٹے لگ گئے۔ یہ حملہ افغانستان کے مرکز یعنی کابل میں کیا گیا۔

طالبان افغانستان میں حملہ کرکے یہ دکھا رہا ہے کہ ابھی وہ کمزور نہیں ہوا ہے۔ اس میں ابھی بھی اتنی طاقت ہے کہ افغانستان کو جھٹکا دیتا رہے۔ یہی نہیں اس حملے سے تو اس نے یہ بھی بتا دیا کہ اس کے حملے کا دائرہ کہاں تک ہے۔ وہ صرف سفارت خانوں پر نہیں ، بلکہ پارلیمنٹ اور صدر جمہوریہ  کے بھون پر بھی حملہ کر سکتا ہے۔ اگر ایسی ہی صورت حال رہی تو نیٹو کے افغانستان سے نکلنے کے بعد وہ پھر سے تختہ پلٹ کر اپنی حکومت قائم کر سکتا ہے حالانکہ امریکی سفیر ’ریان کروکر ‘نے افغان فوج کی پالیسی کو سراہا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ’’ جس طریقے سے افغان فوج نے طالبانی حملے کو ناکام کیا ہے، اس سے ایسا لگتا ہے کہ ان کی تربیت کی سطح صحیح ہے‘‘۔ حملوں سے نمٹنے میں ان کی صلاحیت بڑھی ہے لیکن اتنا کہہ دینے سے ہی امریکہ کی ذمہ داری ختم تو نہیں ہو جاتی ہے۔ جس طرح سے افغانستان میں لگاتار حملے ہو رہے ہیں، اس سے وہاں امن قائم ہونا مشکل لگ رہاہے۔ امریکہ ایسے حملوں کو ناکام کرتا رہے گا اور طالبان حملہ کرتا رہے گا، کیونکہ دونوں کے اپنے اپنے خفیہ مفاد ہیں۔

حالانکہ اس کے علاوہ تین دیگر شہروں میں بھی حملے ہوئے، لیکن ان حملوں کا اہم علاقہ کابل کو ہی کہا جا سکتا ہے۔ کابل میں یہ حملہ غیر ملکی سفارت  خانے پر کیا گیا، جس میں 36 حملہ آور ، 8 فوجی  اور 3 عام شہری مارے گئے۔ مرنے والوں کی تعداد کی وجہ سے یہ حملہ الگ نہیں کہا جا سکتا ہے، کیونکہ دیگر حملوں میں بھی مرنے والوں کی تعداد اسی تعداد کے قریب ہوتی ہے لیکن یہ حملے جس طریقے سے اور جن جگہوں پرکیے گئے، اس  سے ایک ساتھ کئی سوال کھڑے  ہورہے ہیں۔
سب سے پہلے ان حملوں سے نیٹو کے خفیہ سسٹم کی صلاحیت پر شک ہوتا ہے۔ یہ حملہ طالبان نے کابل کے ان علاقوں میں کیا، جہاں کی سیکورٹی کافی مضبوط ہے ،لیکن سیکورٹی کا مضبوط ہونا اور خفیہ نظام کا مضبوط ہونا ،دونوں الگ باتیں ہیں۔ سیکورٹی کی مضبوطی صرف حملے کو ناکام کر سکتی ہے لیکن نظام کی مضبوطی حملے کو روک سکتی ہے۔ اتنے بڑے پیمانے پر کیے گئے حملے کے لئے کافی پہلے سے منصوبہ بنایا جا رہا ہوگا، اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے، لیکن نیٹو کی خفیہ ایجنسی کو اس بات کی بھنک تک نہیں لگی، اسے خفیہ ادارے کی ناکامی نہیں تو اور کیا کہیں گے۔دوسری بات یہ کہ اگر یوروپین،امریکن اور اسرائیلی خفیہ ایجنسی کو مضبوط مانیں،جیسا کہ کہا جاتا ہے تو پھر اس کے معنی بدل جائیں گے۔ اگر مان لیں کہ خفیہ ایجنسیوں کو اس کی جانکاری تھی، جیسا کہ کئی خفیہ افسران اپنے بچائو میں کہہ رہے ہیں ، تو پھر اس نے حملہ ہونے سے پہلے اسے ناکام کیوں نہیں کیا۔ اس حملے میں جس طرح کے ہتھیاروں اور جتنے لوگوں کا استعمال کیا گیا ہے، وہ ایک دن کا کام تو ہے نہیں ۔ ایسے خطرناک ہتھیار اس حساس علاقے میں کیسے پہنچ گئے، لیکن پہنچے تو ہیں اور خفیہ محکمہ کہہ رہا ہے کہ اس طرح کے حملے کی جانکاری انہیں تھی، پھر اس کا مطلب تو یہی ہے کہ نیٹویایوں کہیں کہ امریکہ اپنے سابقہ اعلان پر عمل کرنا نہیں چاہتا ہے جس کے مطابق  2014 تک اسے افغانستان سے اپنی فوج ہٹا لینیہے۔ حالانکہ نیٹو کا افغانستان میں خرچ بہت زیادہ ہے اور اس کی فوج پر حملے بھی لگاتار ہو رہے ہیں ، لیکن امریکہ اپنی فوج کی قیمت پر بھی اپنی موجودگی اس علاقے میں تب تک بر قرار رکھنا چاہے گا، جب تک کہ پاکستان اس کی حمایت میں  کھڑا نہ دکھائی دے۔ ابھی پاکستان کی طرف سے کوئی ایسا اشارہ نہیں مل رہا ہے کہ وہ دہشت گرد کے خلاف امریکہ کی حمایت کرنے لئے پوری طرح اس کے ساتھ ہے۔ افغانستان میں موجود اپنے فوجی اڈوں سے ہی افغان پاک سرحد اور پاکستان کے کچھ دیگر علاقوںمیں دہشت گردوں پرامریکہ ڈرون حملہ کرتا ہے۔ ایسے میں جب تک امریکہ کو پاکستان کی پوری  حمایت  ملنے کا یقین نہیں ہوتا ہے، تب تک وہ افغانستان سے نکلنے کی جلد بازی نہیں کرے گا۔ یہ حادثہ اور خفیہ ایجنسی کا دعویٰ دونوں ہی نیٹو کی پالیسیوں  پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت کا احساس دلاتا ہے۔
طالبان افغانستان میں حملہ کرکے یہ دکھا رہا ہے کہ ابھی وہ کمزور نہیں ہوا ہے۔ اس میں ابھی بھی اتنی طاقت ہے کہ افغانستان کو جھٹکا دیتا رہے۔ یہی نہیں اس حملے سے تو اس نے یہ بھی بتا دیا کہ اس کے حملے کا دائرہ کہاں تک ہے۔ وہ صرف سفارت خانوں پر نہیں ، بلکہ پارلیمنٹ اور صدر جمہوریہ  کے بھون پر بھی حملہ کر سکتا ہے۔ اگر ایسی ہی صورت حال رہی تو نیٹو کے افغانستان سے نکلنے کے بعد وہ پھر سے تختہ پلٹ کر اپنی حکومت قائم کر سکتا ہے حالانکہ امریکی سفیر ’ریان کروکر ‘نے افغان فوج کی پالیسی کو سراہا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ’’ جس طریقے سے افغان فوج نے طالبانی حملے کو ناکام کیا ہے، اس سے ایسا لگتا ہے کہ ان کی تربیت کی سطح صحیح ہے‘‘۔ حملوں سے نمٹنے میں ان کی صلاحیت بڑھی ہے لیکن اتنا کہہ دینے سے ہی امریکہ کی ذمہ داری ختم تو نہیں ہو جاتی ہے۔ جس طرح سے افغانستان میں لگاتار حملے ہو رہے ہیں، اس سے وہاں امن قائم ہونا مشکل لگ رہاہے۔ امریکہ ایسے حملوں کو ناکام کرتا رہے گا اور طالبان حملہ کرتا رہے گا، کیونکہ دونوں کے اپنے اپنے خفیہ مفاد ہیں۔اس کے ساتھ عام آدمی  کا امن وچین  اور خوشحالی چھنتی رہے گی۔ وہ اسی طرح تماشائی بنے رہیں گے  اور اپنے سگے رشتہ داروں کے کھونے کا درد جھیلتے رہیں گے۔
ان حملوں کو روکنے کے لئے مستقل حل نکالنا ہوگااور مستقل حل فوجی کارروائی سے نہیں ہوگا۔ اس کے لئے نئی پالیسی بنانی ہوگی۔ طالبان سے بات چیت کرکے اسے جمہوریت کے راستے پر لانا ہوگا۔ امریکہ نے طالبان سے بات چیت تو کی، لیکن افغانستان اور پاکستان کے ساتھ ہم آہنگی نہ ہونے کی وجہ سے کامیابی نہیں ملی۔ امریکہ طالبان سے دوحہ میں بات چیت کررہا ہے، تو افغانستان سعودی عرب کے توسط سے طالبان سے بات چیت کر رہا ہے۔ دونوں کو پتہ ہے کہ پاکستان کی حمایت  کے بغیر طالبان سے نہیں نمٹا جا سکتا ہے۔ اس لئے دونوں ہی پاکستان سے مدد مانگ رہے ہیں، لیکن اس طرح سے کی جا رہی بات چیت کا کامیاب ہونا ممکن  نہیں ہے ۔جب تک  افغانستان ، پاکستان اور امریکہ ایک منچ پر نہیں آئیں گے  اور طالبان کو ایسا محسوس نہیں ہوگا کہ اب  پر تشدد کارروائی کرنا اس کے لئے نا ممکن ہے،تب تک اس طرح کی بات چیت کامیاب نہیں ہوسکتی ہے۔ پاکستان کو ساتھ لانا ضروری ہے، کیونکہ طالبان کو پاکستانی شدت پسند تنظیموں سے حمایت ملتی  رہتی ہے۔ اس حملے میں بھی پاکستان میں حقانی نیٹ ورک کے ہاتھ ہونے کی بات کہی گئی ہے۔ افغانستان میں ہوئے حملے سے ایک دن پہلے ہی پاکستان کی ایک سینٹرل جیل پر حملہ کرکے طالبانیوں  نے 400 قیدیوں کو چھڑا لیا۔اگر یہی صورت حال رہی تو پھر طالبان کی طاقت کم ہونے کے بجائے بڑھتی ہی جائے گی۔
دوسری بات یہ ہے کہ امریکہ کو اپنی پالیسی ٹھوس کرنی چاہئے۔ اس کے لئے افغانستان کو خود کفیل بنانا ہوگا اور وہاں کے نوجوانوں کو روزگار دینا ہوگا۔ حال ہی میں افغان فوج کی تعداد میں کمی کی گئی۔فوج کی تعداد 240000 سے گھٹا کر 191000 کر دی گئی ہے۔ پولیس اور فوج دونوں کی بات کریں تو ان کی تعداد350000 سے گھٹا کر 230000 کر دی گئی ہے۔ دیکھا جائے تو 120000 نوجوانوں کو فوج اور پولیس سے دور کر دیا گیا۔ یہ نوجوان لڑنے کے علاوہ کوئی کام کرنا نہیںجانتے ہیں۔ ان کا طالبان کے ساتھ جانے کے امکان  سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے۔ ایسی صورت حال سے نمٹنے کی بھی کوشش کی جانی چاہئے، تبھی طالبان کے پھیلائو کو روکا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ افغانستان کے پڑوسی ملکوں کا رول کیا ہوگا ، اس پر بھی سنجیدگی سے گفتگو کی جانی چاہئے۔ اس مسئلے کو صرف افغانستان تک محدود کرکے دیکھنا غلط ہوگا۔ دہشت گردی ایک عالمی مسئلہ ہے اور طالبان جیسی تنظیم کو روکنے کے لئے عالمی کوششضروری ہے۔ ہندوستان کے رول میںبھی اضافے کی ضرورت ہے۔ افغان فوج کی تربیت کی ذمہ داری ہندوستان کو دینی چاہئے، جس کی فوج کو دہشت گردی سے نمٹنے کا لمبا تجربہ ہے۔ اگر نیٹو فوج کے افغانستان سے واپسی کے بعد وہاں طالبان پھر سے متحدہوتا ہے تو اس کا خمیازہ پوری دنیا کو بھگتنا پڑے گا۔ اس حادثے کے بعد یہ صاف ہوگیاہے کہ افغانستان میں اپنائی جارہی پالیسی پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *