تو بچا بچا کر نہ اسے۔۔۔۔۔۔۔۔

زہیر حسن شیخ
آج شیفتہ شام ڈھلے چمن میں، آسمان کو گھورتے پائے گئے۔ ہم نے پوچھا، حضور کیا لباس مجاز میں نظر آنے کا پھر تقاضہ کیا جا رہا ہے یاکسی کو پھر کسی کا امتحاں مقصود ہے ؟ فرمایا، امت کا ایک نباض یہ تقاضہ کر کے دیکھ چکا اور پھر اسی کے دلنواز اور لازوال سخن سے یہ بھی کہلوا دیا گیا کہ، تیرا دل تو ہے صنم آشنا، تجھے کیا ملے گا نماز میں۔ جہاں صنم آشنا میں ہر ایک کجی اور برائی شامل ہے وہاں نماز میں عشق حقیقی کے تمام پہلو۔ پھر اس نباض سے یہ بھی کہلوا دیا گیا کہ گفتار کا غازی بن تو گیا کردار کا غازی بن نہ سکا، اور ان غازیوں میں علما، فضلا، ادبا اور  ہر وہ انسان شامل ہے جو کسی زعم میں مبتلا ہے۔ امت میں ایسے نباض گزرے ہیں کہ جنہوں نے زندگی صرف نماز درست کرنے میں گزرار دی اور عشق حقیقی کے بقیہ معاملات درست کرنے کا سلیقہ پھر آتے آتے آنے لگا۔ عشق حقیقی کے دعوے تو اغیار بھی کرتے رہے، لیکن نتیجہ یہی رہا کہ ’تیرا جمال بے پردہ، دیکھنے کی چاہ میں… بت بن گئے سبھی، وسعت چلمن دیکھ کر!‘۔
فرمایا، ہر ایک سیاسی لیڈر، قائد، عالم ، قوام اور اعلیٰ تعلیمی سند یافتہ، نباض نہیں ہوتا بلکہ ان میں اکثر ابن الوقت ہوتے ہیں۔ ان میں چند دین کا چولا پہن کر سیاست کرتے ہیں اور چند سیاست کا چولا پہن کر دین کا کام کرتے ہیں، بلکہ دین کا کام تمام کرتے ہیں۔ نباض ہونے کے لیے عشق حقیقی از حد ضروری ہے، جو صرف حکمت سے حاصل ہوتا ہے۔ اور حکمت صرف اور صرف قرآن میں تدبر سے ہی حاصل کی جاسکتی ہے… حضرت عبداللہ بن عمرؓ مسلسل دس بارہ سال تک سورہ بقرہ میں تدبر فرماتے رہے۔ اللہ اللہ! کوئی سمجھے اور سمجھائے کہ سمندر کی مچھلی کو تیراکی کے گر سیکھنے کی کیا ضرورت۔ آپ جناب کو بس امت کے لیے مثال قائم کرنا مقصود تھا، جس کا نتیجہ اعلیٰ حضرت کے بلند مقام تقویٰ کی صورت میں ظاہر ہوا.. حکمت صرف دینی دروس میں دس پندرہ سال بیٹھنے سے اور علما کو سن کر  گردن ہلانے سے حاصل نہیں ہوتی، اور نہ ہی صرف چلہ کشی سے۔ احادیث صحیحہ کی روشنی میں قرآن میں تدبر کرنا ایسا روحانی عمل ہے جو کسی قریب المرگ مریض کو بھی نباض بنا سکتا ہے۔
ابھی شیفتہ کی گفتگو جاری تھی کہ بقراط کسی جوان کے ساتھ تشریف لے آئے۔ عمر یہی کوئی تیس پینتیس کے درمیان۔ پیر تو نہیں لٹکائے ہوئے تھے البتہ کمر لٹک رہی تھی، معاشی حالات نے گردن کو تنگ کر رکھا تھا یا پتہ نہیں کیوں وہ بار بار گردن ہلائے جا رہا تھا، جیسے اسے حال آگیا ہو۔ شیفتہ نے پوچھا، جناب کچھ دنوں پہلے تک تو یہ اچھے بھلے نظر آتے رہے، ان کی یہ حالت کیونکر ہوگئی؟ کہا، جناب کل رات ہمارے ساتھ ادبی بحث میں الجھ گئے تھے اور پھر اپنے گھر چلے گئے۔ پتہ نہیں شاید اسی الجھن میں یہ حال ہوگیا ہو۔ ہم نے تصحیح کی کہ جناب یہ حال آگیا ہو کہیے۔ کہا، گھر پر کیا ہوا یہ تو گھر والے جانیں۔ بس ان کے حواس گنگ ہو گئے ہیں۔ کبھی ہکلاتے ہیں تو کبھی گفتگو میں وقفہ لے کر گردن سہلاتے ہیں۔ کبھی محسوس ہوتا ہے دیدہ دانستہ الفاظ کھا ر ہے ہیں، کھانا نہیں کھایا جارہا ہے ان سے۔ میر و غالب کو گھول کر پی چکے ہیں اور اب کچھ بھی پیا نہیں جاتا۔ شاعری میں ہی بات کیا کرتے تھے ہمیشہ۔ شیفتہ نے پوچھا مقید ہے کہ آزاد ؟ یا پھر مفرور تو نہیں؟
ہم نے سوچا اللہ خیر کرے، کوئی جن وغیرہ نہ ہو یہ، شاید کوئی تمثیل بیان کی ہو، یا ہو سکتا ہے دہشت گردی کے شبہ میں حبس بے جا میں ڈالا گیا ہوگا، اور معمول کے مطابق کسی سیاسی ادلا بدلی یا ناکام سازش میں رہا ہوگیا ہوگا۔ وہ تو خیر ہے کہ جھوٹے انکاؤنٹر میں قتل ہونے سے بچ گیا۔ ہندوستان میں مسلمانوں کے ساتھ یہ سب عام بات ہے، اور شاید ہمیشہ عام رہے گی۔ پاکستان بنانے کی قیمت ہند و پاک کے مسلمانوں کو مل کر چکاتے رہنا ہے۔  بس انداز و اطوار مختلف ہوں گے۔ ہندی مسلمانوں کا چکانا تو سمجھ میں آتا ہے لیکن… ابھی ہم تاریخ کی راکھ کرید کر اپنی انگلیاں جلانے ہی والے تھے کہ بقراط کی آواز سنائی دی، حضور مقید ہے اور وہ بھی کسی بڑے سسرال کا ’’عمر قیدی‘‘ ہے۔ یہ سنتے ہی ہمار ے شبہات غلط ثابت ہوئے اور پتہ چلا شیفتہ کی مراد شادی شدہ یا غیر شادی شدہ سے ہے۔
شیفتہ نے شفقت سے ’’عمر قیدی‘‘سے پوچھا، کیوں میاں کیا ہوا تھا؟ فوراً کہہ اٹھا، میں اچھا خاصہ تھا، اور آپ…بس پھر بے چارہ ہکلانے لگا اور ب ب ب سے آگے بڑھ نہ پا رہا تھا۔ کچھ لمحہ ب ب کے بعد نصف جملہ ادا ہوا کہ آپ بہرہ…… یہ سننا تھا کہ شیفتہ نے ناگواری سے منھ بنایا کہ خود تو آداب گفتگو  سے محروم کردیا گیا ہے اور کمبخت انھیں بہرہ سمجھ رہا ہے۔ بقراط نے اس جوان کی طرف ایک لمحہ دیکھا اور پھر پوچھا، ابے؟… اس نے اشارہ کیا نہیں نہیں، پھر شہادت کی انگلی آسمان کی سمت کھڑی کر دی اور نفی کی علامت بتا کر دائیں بائیں ہلانے لگا۔ ہم سب ایک دوسرے کا منھ تکنے لگے۔ شیفتہ نے فرمایا، اس علامت سے اس کی مراد ہے ’’ابے‘‘سے الف کو الگ کر دیجیے اور اب ہماری سمجھ میں آیا کہ وہ کہنا چاہتا ہے، آپ بے بہرہ ہے۔ یہ سنتے ہی قیدی کی آنکھوں میں تشکر کے آثار نظر آنے لگے۔ بقراط نے مصرع مکمل کیا، آپ بے بہرہ ہے جو معتقد میر نہیں؟ قیدی نے پہلے تو ہاں میں گردن ہلائی اور پھر فراٹے بھرتے ہوئے گویا ہوا، میں اپنی شامت سے بے خبر ایک مضمون اہلیہ کو سنانا چاہتا تھا کہ اس میں ہمارے مسائل کا حل پوشیدہ تھا، خوشی خوشی گھر پہنچ کر عنوان پڑھا اور تمہید شروع ہی کی تھی کہ… بے بے بے۔ قیدی روہانسی صورت بنا کر پھر ب پر اٹک گیا۔ کچھ لمحہ اس کی سانسیں اس کے حلق سے اٹکھیلیاں کرتی رہیں اور وہ گردن کو سہلاتے ہوئے یوں گویا ہوا… غم نے میری جان ہی لے لی ہو تی… ہم سب پھر ایک بار ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ شیفتہ نے کہا، یہ پہلے بھی ب پر ہی اٹک چکا ہے۔ اس نا مراد کی مراد اس کی بیگم سے ہے۔ کہنا چاہتا ہے مضمون سنتے ہی اس کی بیگم نے اس کی جان ہی لے لی ہوتی، پتہ نہیں خوش بخت بچ کیسے گیا۔ قیدی نے بے تحاشہ اٹھ کر شیفتہ سے مصافحہ کیا۔ شیفتہ نے کہا، اماں بقراط اسے ایک ایسے نباض اعظم کے پاس لے کر چلتے ہیں جو در اصل ہے تو ابن الوقت، لیکن دنیا کے تمام الٹے سیدھے کام کی معلومات رکھتا ہے اور اکثر کی گردن ناپ چکا ہے۔ اس کا علاج اب وہی کر سکتا ہے۔  بقراط نے کہا، حضور مغل اعظم، اکبر اعظم اور یہاں تک کے وزیر اعظم کے بارے میں سنا تھا، لیکن نباض اعظم۔ اب آپ کہتے ہیں تو چلتے ہیں۔ فرمایا، جناب یہ ہکلانا کوئی عام ہکلانا نہیں ہے۔ آپ نے غور نہیں کیا یہ ب پر ہی اٹک رہاہے۔ ایسی کیا بات تھی اس مضمون میں کہ یہ الف اور دیگر حروف چھوڑ ب پر صدمہ کھا کر ہکلانے لگا، اور ہم سب نباض کے گھر چل دیے ۔
راستے میں شیفتہ نے بتایا کہ اس نباض نما ابن الوقت کے والد شیفتہ کے دوست تھے اور ان کی خواہش کے مطابق انھیں ڈاکٹری کی تعلیم دلائی گئی تھی، تاکہ یہ قوم و ملت کی خدمت کرے۔ یہی کچھ چالیس پچاس لاکھ روپے ہوں گے جو ڈونیشن کے نام پر دیے گئے تھے، بینک سے سود پر لے کر۔ جیسے اکثر لوگ کرتے ہیں۔ یہ نباض پھر ڈاکٹری چھوڑ دلالی پر آگئے اور مختلف قسم کی جدید ٹیسٹ لیبارٹری اور ایک مطب کھول بیٹھے۔ بیٹھے کیا، بس آرام سے لیٹے رہے۔ باپ نے سرزنش کی تو اس نے عذر پیش کیا کہ اس پچاس لاکھ کے جو آج پچاس کروڑ بنتے ہیں، دنیا سے وصول کرنا ہے، مع مہاجنی سود کے۔ خیر، پھر اپنی ذہنیت کے مطابق زوجہ بھی ایک لیڈی ڈاکٹر کی شکل میں ڈھونڈ لی۔ کسی شریف ہمدرد انسان سے سن لیا تھا کہ معاشرہ میں ڈاکٹروں کی بے حد ضرورت ہے ۔ پھر دونوں نے مل کر اسلامک انوسٹمنٹ کمپنی بھی کھول دی۔ پہلے تو جی بھر کر داد وصول کی اور پھر جو بددعائیں لی ہیں کہ الامان۔ ایک وسیع شاہراہ پر پہنچتے ہی شیفتہ نے فرمایا، یہ دیکھئے! یہ پر شکوہ عمارت اور یہ ساری دکانیں اس جوڑے کی خدمت خلق اور ’’نوبل پروفیشن‘‘ کی نشانیاں ہیں۔ ہم سب اندر ایک کشادہ ہال میں داخل ہو ئے اور وہاں سے ایک دیدہ زیب کمرے میں۔
ایک خوابیدہ سا کمرہ جیسے سرمایہ دار عوام کو لوٹ کر سجاتے ہیں، کچھ کم کم روشنی، کچھ نیلی کچھ پیلی جس میں انسان کی صرف صورت نظر آئے اور سیرت چھپ جائے۔ تخت پر بچھی  سفید چاندنی جو اب سفید پوشوں کی علامت بن گئی ہے، جو کبھی شرفا کی ہوا کرتی تھی اور اس پر ایک مغربی خد و خال میں مغربی تاثرات لیے ایک منحنی سی شخصیت، بنا داڑھی کی  مونچھوں کو سہلا رہی تھی، یا شاید مونچھوں کو منا رہی تھی کہ وہ اب داڑھی سے تجدید وفا کرلے۔ سر پر ’’پینٹا گونی‘‘ ٹو پی ان کے امریکی سند یافتہ ہونے کی علامت تھی، سرمہ آلود آنکھیں تھیں یا پتہ نہیں خود اپنی آنکھوں میں دھول جھونک کر بیٹھے تھے۔ ہونٹ بھی یقینا پان کھا کر ہی سرخ ہوئے ہوں گے ورنہ کسی خونخوار سے شیفتہ کا کیا تعلق، امریکہ کا ہو تو ہو۔ باقی جثہ قیمتی یوروپین ملبوسات میں لپٹا ہوا تھا اور مانو ابھی ابھی جملہ مغربی ’’ایمی گریشن کلئیرنس‘‘ سے فارغ ہوئے ہیں۔ ایک نظر میں انھیں دیکھ کر ہمیں ڈپٹی نذیر احمد صاحب کا ابن الوقت یاد آگیا۔ ان صاحب کے قریب دائیں طرف ان کی اہلیہ بھی مکمل لباس فاخرانہ میں تشریف فرما تھیں۔ کچھ یوں آداب و سلام بجا لائیں کہ پہلے تو ایک ہاتھ میں کہنی تک لپٹی سونے کی چوڑیو ں نے احتجاج کر غص بصر کی یاد دہانی کروا دی، اور پھر ان کی آواز میں آواز ملاتے ہوئے دوسرے ہاتھوں میں سونے کے کنگن بھی زکوۃ کی اہمیت اور سود کی حرمت میں چیخ اٹھے۔ شیفتہ نے تعارف کرایا کہ محترمہ خود بھی بہت بڑی نباض ہیں۔
نباض نے عمر قیدی کو دیکھتے ہی کہا کہ جناب اس کی گردن کے اندرونی حصہ پر مخروطی انگلیوں کے نشان بتا رہے ہیں کہ کسی نازنین نے اس کا گلا دبانے کی کوشش کی ہے، اور انگلیوں کے نشان کے ساتھ ساتھ انگشتری میں جڑے ہیرے جواہرات کے نشانات بھی ہیں جو اس جوان کی گردن سے اس کا خون چوسے جانے کی بابت بھی اشارہ کرتے ہیں۔ انہوں نے شیفتہ سے مسکرا کر پوچھا کہ کیا یہ جوان ’’جنتی ہے یا جہنمی؟‘‘ شیفتہ نے بے دھڑک کہہ دیا، جناب جنتی ہے۔ ہم نے تعجب سے شیفتہ کی طرف دیکھا اور ناراضگی کا اظہار کر دیا، اور اٹھ کر جانا ہی چاہتے تھے کہ شیفتہ نے کان میں سر گو شی کی۔ جناب ، نباض صاحب کی مراد یہ ہے کہ اگر یہ شادی شدہ ہے تو اپنے حصے کی سزا کاٹ چکا ہے اور اس طور سے یہ جنتی ہوا نا؟ حقیقی نہ سہی مجازی تو ہو گیا ! عشق حقیقی اور مجازی تو سنا تھا، لیکن مجازی جنتی! سوچا شیفتہ سے بعد میں ضرور تصفیہ کریں گے کہ کہیں ان کی مراد اہل اعراف سے تو نہیں ہے۔ نباض نے کہا، واقعہ تفصیل سے جانے بغیر علاج نا ممکن ہے۔ اس قیدی نے پہلے تو کچھ کہنے کی کوشش میں منھ کھولا، لیکن ناکام ہوا۔ شیفتہ نے فرمایا، احمق… بسم اللہ سے کلام کر، شاید تیرا ہکلانا درست ہوجائے۔ بقراط نے کہا، حضور معاف کیجیے گا، بسم اللہ خود بھی ب سے ہی شروع ہوتی ہے اور یہ کمبخت تو ب ب پر اٹک رہا ہے۔ فرمایا، تب صرف اللہ کا نام لے۔ اس جوان نے آناً فاناً میں اللہ کا نام لے کر کانپتے ہاتھوں سے جیب سے مڑا تڑا کاغذ نکال کر نباض کے ہاتھوں میں رکھ دیا۔ انہوں نے اسے بغور دیکھا، پھر بہ آواز بلند پڑھنا شروع کیا،تو بچا بچا کے نہ رکھ اسے، تیرا سونا ہے یہ تیرا سونا… پھر پتہ نہیں کیا ہوا کہ ان کی آواز ایسے غائب ہوگئی جیسے اکثر ٹی وی کی خبروں میں سینسر ہوجانے پر غائب ہو جاتی ہے۔ صرف نباض کے لب ہلنے لگے۔ بیگم نباض اٹھ کر نباض اعظم کی پشت پر جا پہنچی اور ہمیں یقین ہوگیا کہ ایسے نباض کی کامیابی کی پشت پر ایک دکھتی نبض ہوتی ہے۔ دونوں مل کر مضمون کو آنکھوں ہی آنکھوں میں گھول کر پینے کی بھر پور کوشش کرنے لگے۔ پھر  کچھ سوچ کر دونوں نے آنکھوں ہی آنکھوں میں کچھ طے کر لیا اور ہمیں ہند و پاک کے حکمرانوں کی حالیہ ملاقات یاد آگئی۔ وہ دونوں پھر امریکہ کی طرز پر ابھی آتے ہیں کہہ کر اندر کمرے میں چلے گئے۔ ہم نے سو چا اس مضمون کی آج خیر نہیں۔ امریکی تفتیشی ایجنسیوں کے طرز پر آج اس مضمون کی سچائی معلوم کی جائے گی۔ چند لمحوں بعد اندرون خانہ عجیب و غریب آواز آنی شروع ہوئی، بالکل ایسے ہی جیسے پچھلے چند گھنٹوں میں سنامی کی خبروں کے ساتھ ٹی وی پر سنائی دی تھی اور ہر ایک ایماندار گنہگار سر بسجود ہوگیا تھا، لیکن میڈیا کو خدا کا خوف نہیں آیا کہ جھوٹ اور سنسنی سے پرہیز کیا جائے۔ پہلے تو ہمیں محسوس ہوا کہ نباض جوڑا آلات نباضی تلاش کر رہا ہوگا۔ شیفتہ کے چہرے سے بھی تشویش صاف ظاہر تھی۔ ابھی ہم ایک دوسرے کے تاثرات پڑھ ہی رہے تھے کہ نباض گردن سہلاتے ہوئے آکر بیٹھ گئے۔ ایک نظر عمر قیدی کو دیکھا اور کہا، زندگی بھر ہم مریضوں کی نبض اور صورت دیکھ کر مرض کی شناخت کر لیا کرتے تھے، لیکن ایسا پوشیدہ، نادیدہ اور نا شنیدہ بلکہ نا گفتہ بہ مرض بہ خدا پہلی بار پڑھا۔ مرض بھی ایسا کہ مریض کوئی اور، اور مرض کسی اور میں نظر  آتا ہے۔ یہ کہہ کر عمر قیدی پر ایک ناقدانہ نظر ڈالی۔ کہا، تعجب ہے کہ معاشرہ کا ایک بڑا حصہ  اس مرض میں مبتلا ہے لیکن آج تک کوئی ہمارے پاس علاج کے لیے نہیں آیا۔ ہزارہا ٹیسٹ ہوجاتے اور مغرب سے منگوائی گئی ہماری مشینوں کا صحیح مصرف نکل آتا، کچھ اور مشینیں بھی منگوا لیتے، اور مغرب کی اقتصادی حالت میں کچھ تو بہتری ہو جاتی، اور سب سے اہم یہ کہ ہمیں خدمت خلق کا موقع مل جاتا۔ در اصل مرض اتنا پیچیدہ ہے کہ جسم کے کسی  ایک عضو کو چھیڑنا دیگر اعضا کے علاوہ احساسات، جذبات، عقاید اور افکارات سب کو  ایک ساتھ دعوت سخن دینے کے مترادف ہے۔ یہ کہہ کر نباض اپنی گردن سہلانے لگے اور پھر عمر قیدی کی طرح گردن بھی ہلانے لگے، اور کچھ یوں گویا ہوئے: جناب مضمون پڑھ کر  ہمیں بھی اپنا خریدا ہوا پچیس کلو سونا یاد آگیا۔ سوچا اس کے ملبے تلے بیگم دب کر مر نہ جائے ایک دن، اور یہ سونا ان کی ابدی نیند کا باعث نہ بن جائے۔ مضمون میں بین السطور اتنا کچھ کہا گیا تھا کہ ہم عقل سے اندھے ہو گئے تھے اور پھر یاد ہی نہ رہا کہ بیگم کب پشت پر سوار  ہو گئی، اس لیے اسے آنکھوں کے اشارے سے اندر چلنے کی دعوت دی تھی۔ ہم نے سوچا اچھا ہوا ورنہ ہند و پاک کی داخلی پالیسی کی طرح سب کچھ عیاں ہو جاتا۔
اندرون خانہ آوازوں کا شور سنائی دے رہا تھا۔ شیفتہ نے پوچھا، اب اس قیدی کا علاج کیا ہے؟ کہا اس کے حالات اس کے علاج کے متحمل نہیں ہیں۔ ہمیں تو خود اپنا علاج کرانا ہے ابھی۔ بقراط نے پوچھا، وہ کیسے؟ کہا، ہم تو کل پشتینی جوہری کے پاس بیگم کو لے کر  جائیں گے اور کچھ نئے زیورات خریدیں گے، نہ خریدیں گے تو اس عمر قیدی کی طرح زندگی بھر گردن ہلاتے رہنا ہوگا۔ ابھی آپ فیس ڈھیلی کیجیے، اور اجازت دیجیے کہ خانہ خراب ہورہا ہے اور گھر میں بہت کام آن پڑا ہے، معاشرہ کا علاج تو بعد میں ہوگا، ابھی تو  خود اپنا علاج کرنا ہے، پھر اندر گھر کے کمروں کی صاف صفائی بھی کروانی ہے۔ شیفتہ نے کہا چلئے کل چل کر اس عمر قیدی کو ایک مغربی ماہر نفسیات کو دکھا لاتے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *