تبصرۂ کتب

نام کتاب    :    کہیں کچھ کھو گیا ہے
مصنف ؍ناشر    :    انجم عثمانی
صفحات     :    144
قیمت     :    200 روپے
تبصرہ نگار    :    شاہد نعیم
انجم عثمانی کم لفظوں میں بڑی بات کہنے کا ہنر جانتے ہیں۔ ان کی کہانیوں میں معاشرے کی ٹوٹتی بکھرتی اقدار، رشتوں کا تصادم اور اقلیتوں کے احوال و مسائل کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ حال ہی میں ’’ کہیں کچھ کھو گیا ہے‘‘ عنوان سے ان کا افسانوی مجموعہ منظر عام پر آیا ہے جسے پڑھنے کے بعد ایسا لگتا ہے کہ یہ ساری کہانیاں ہمارے  آس پاس کی ہیں، ہمارے طبقے اور ہمارے معاشرے میں پیش آئی ہیں۔
دیوبند علم و ادب کا ایسا گہوارہ ہے جس نے پوری دنیا کو قابل ذکر عالم ، شاعر، مصنف اور ادیب مہیا کیے۔ انجم عثمانی کا تعلق بھی دیوبند سے ہے اور سونے پہ سہاگہ یہ کہ عثمانی خاندان سے ہے جو صدیوں سے علم و ادب ، شریعت و طریقت کا امین رہا ہے۔’’ کہیں کچھ کھو گیا ہے‘‘ میں انجم عثمانی نے اپنے پہلے مضمون ’’ کہانی مجھے لکھتی ہے‘‘ میں اپنے خاندان، تعلیم اور کس طرح وہ ایک افسانہ نگار بنے، اس بارے میں بھر پور روشنی ڈالی ہے۔ مجموعے میں 12 افسانے  اور ایک ڈرامہ ’’ زنجیر کا نغمہ‘‘ شائع کیا گیا ہے۔ ان کے افسانوں کے بارے میں ممتاز افسانہ نگار  جو گندر پال نے لکھا ہے۔
’’انجم عثمانی نے اردو فکشن کو نئی فضا، نیا ماحول دیا ہے۔ ان کی کہانیوں میںمِجیکل ریلزم کا عنصر نمایاں ہے۔ کئی کہانیاں پر اسرار مدرسہ لائف کا خوبصورت اشاریہ ہیں‘‘
جبکہ عابد سہیل یوں رقمطراز ہیں۔
’’ صاف اور شستہ زبان‘ واقعات کا فطری بہائو، ڈرامائیت پیدا کرنے سے گریز ، تکینک ایسی جو اصل کہانی پر کہیں با لادستی حاصل نہیں کرتی اور چھوٹے چھوٹے جملے  انجم عثمانی کے افسانے کی اضافی خوبیوں میں شامل ہیں‘‘
’’ کہیں کچھ کھو گیا ہے‘‘ میں جو افسانے شائع کیے گئے ہیں سب کے سب دل کو چھونے والے ہیں۔ افسانے مختصر ہونے کے باوجود قصہ گوئی اور فنکاری کا بھرپور احساس دلاتے ہیں۔آخر میں ایک اسٹیج ڈرامہ ’’ زنجیر کا نغمہ‘‘ شامل اشاعت کیا گیا ہے جو مغلیہ دور کے آخری تاجدار بہادر شاہ ظفر کی بادشاہت کے زوال کی پوری روداد بیان کرتا ہے جسے پڑھنے کے بعد مغلیہ سلطنت کے خاتمے کی تاریخ معلوم ہوتی ہے۔ ڈائیلاگ جاندار اور برجستہ اور زبان عام فہم ہے ۔ چونکہ انجم عثمانی میڈیا سے وابستہ ہیں ۔اس لئے مشاہدہ گہرا اور تجربہ وسیع ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے افسانے سماج کے ہر طبقے اور معاشرے کی عکاسی کرتے ہیں۔  انجم عثمانی کے اس سے قبل تین افسانوی مجموعے’’ شب آشنا‘ سفر در سفر‘ اور ٹھہرے ہوئے لوگ‘‘ شائع ہوچکے ہیں جن کی کافی پذیرائی ہوئی ہے۔ امید ہے کہ یہ چوتھا افسانوی مجموعہ ’’ کہیں کچھ کھو گیا ہے‘‘ بھی قارئین کے دل و نگاہ میں اتر جائے گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *