زرداری کی آمد: خدا کرے رشتوں کی کھٹاس، مٹھاس میں بدل جائے

وسیم راشد
دو ملک ایک تہذیب،دو ملک ایک لائن سرحد کی، دو ملک زبان ایک رسم الخط ایک، دو ملک آب و ہوا ایک، کتنی عجیب کہانی ہے یہ دو ملکوں کی جنہیں ہندوستان پاکستان کہا جاتا ہے۔میں بچپن سے سوچتی تھی کہ اگر ان دو ملکوں کا نام مذہب کی بنیاد پر رکھا گیا ہے یعنی اگر ہندوستان کو ہندوئوں کے رہنے کی وجہ سے’ ہندو استھان ‘ کو بگاڑ کر ہندوستان رکھا گیا ہے تو پاکستان کا نام تو مذہب کی بنیاد پر’ مسلم استھان ‘ کو بگاڑ کر مسلمستان ہونا چاہئے تھا۔ ہمیشہ یہ نام پاکستان مجھے کھلتا رہا لیکن اس کے ساتھ ساتھ دو ملکوں کی تہذیب و ثقافت دونوں ملکوں کے رسم و رواج سب ایک جیسے ہونے کی وجہ سے ذہن یہ بھی تسلیم نہیں کرسکا کہ دو ملک کیسے ہوگئے؟

1947  کے بٹوارے نے دو ملکوں کو ہی تقسیم کیا،مگر دو ملکوں کے عوام کے دلوں کو تقسیم نہیں کرسکا۔تین بار جنگیں لڑ چکے یہ دونوں ممالک آج بھی ایک دوسرے کے لئے خیر سگالی کا جذبہ رکھتے ہیں۔ اس معاملے میں ہندوستان کا دل یقینا بہت بڑا ہے ۔ہمارے ملک پر ممبئی حملہ ہونے کے باوجود  ہم آج بھی پاکستان کے لئے نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ ممبئی حملہ نے تو جیسے ساری کسر پوری کردی تھی مگر اس کے باوجود ہندوستان نے ہمیشہ دوستی کرنی چاہی۔پاکستان کی طرف سے بھی کئی بار پیش قدمی ہوئی لیکن پھر بھی اس معاملے میں ہندوستان نے ہمیشہ ہی پہل کی۔

علی سردار جعفری کی یہ نظم’ ایشیا والے سے یوروپ کی زمین کھینچ کے نہ مل‘ کے یہ دو مصرعے : بوئے گل ایک سی ہے بوئے وفا ایک سی ہے۔
تیرے اور میرے غزالوں کی ادا ایک سی ہے۔اکثر دونوں ملکوں کے تعلق سے دل و دماغ کو جھنجھوڑتے رہے کہ در حقیقت  سب کچھ ایک جیسا ہے پھر یہ نفرت کیوں؟یہ دونوں ممالک دو ایسے پڑوس ہیں جیسے دو سگے بھائی جائداد کی وجہ سے لڑکر ایک دیوار کھینچ کر اپنا صحن الگ کر لیتے ہیں۔ 1947  کے بٹوارے نے دو ملکوں کو ہی تقسیم کیا،مگر دو ملکوں کے عوام کے دلوں کو تقسیم نہیں کرسکا۔تین بار جنگیں لڑ چکے یہ دونوں ممالک آج بھی ایک دوسرے کے لئے خیر سگالی کا جذبہ رکھتے ہیں۔ اس معاملے میں ہندوستان کا دل یقینا بہت بڑا ہے ۔ہمارے ملک پر ممبئی حملہ ہونے کے باوجود  ہم آج بھی پاکستان کے لئے نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ ممبئی حملہ نے تو جیسے ساری کسر پوری کردی تھی مگر اس کے باوجود ہندوستان نے ہمیشہ دوستی کرنی چاہی۔پاکستان کی طرف سے بھی کئی بار پیش قدمی ہوئی لیکن پھر بھی اس معاملے میں ہندوستان نے ہمیشہ ہی پہل کی۔ دونوں ملکوں کے سفارتی تعلقات  جیسے بھی رہے ہوں مگر دونوں ملکوں کے عوام ایک دوسرے کے لئے آج بھی پیار کا جذبہ رکھتے ہیں۔ ذرا بھی کوئی واقعہ ظہور پذیر ہوتا ہے تو اُدھر پاکستانیوں کے اور اِدھر ہندوستانیوں کے دل دھڑک جاتے ہیں کہ کہیں کوئی واقعہ پھر سے ایسا نہ ہوجائے کہ سرحدیں  بند ہوجائیں دونوں ممالک کا ڈاک سسٹم بند ہوجائے۔بس سروس بند ہوجائے کیونکہ دونوں ملکوں کے مسلمانوں کا یہ حال ہے کہ نانا نانی  پاکستان میں ہیں تو دادا دادی ہندوستان میں ۔مسلمانوں کا کوئی ایسا گھر نہیں ہوگا جس کا کوئی پاکستان میں نہ ہو اور پاکستان کا ہندوستان میں نہ ہو۔
ظاہر ہے ایسے میں جب دونوں ملکوں کے سربراہ ملتے ہیں تو ایک آس جاگتی ہے دونوں ممالک کے عوام میں، ایک امید پیدا ہوتی ہے دونوں ملکوں کے رشتہ داروں کے دلوں میں سکون اترجاتا ہے کہ اب اپنوں سے مل سکیں گے۔
زرداری کو پاکستان میں کتنا پسند کیا جاتا ہے،یہ تو ساری دنیا جانتی ہے،  وہ ہمارے ملک ہندوستان آئے ہیں تو ہمارے ہندوستان میں بھی وہ کم بد نام نہیں ہیں۔چاہے زرداری کی ایک دن کی آمد مذہبی رہی ہو لیکن انہوں نے ایک بار پھر سے ہندو پاک تعلقات میں بہتری آنے کا احساس کرایا ہے۔
آصف زرداری اور بلاول بھٹو کی دہلی و اجمیر آمد اور ہمارے وزیر اعظم کے ساتھ ملاقات سے دونوں ملکوں میں ہوا کا ایک نیا جھونکا سا محسوس ہوا ہے۔ زرداری یوں تو اپنے ملک کے کمزور ترین صدر ہیں اور اپنے ملک میں بھی کوئی زیادہ اچھی شبیہ ان کی نہیں ہے مگر اس کے باوجود ہندوستان میں ان کی آمد کو بے حد قدر کی نگاہوں سے دیکھا جارہا ہے جو اس بات کا احساس ہے کہ ایسے وقت میں جبکہ حافظ سعید پر امریکی حکومت  10 لاکھ ڈالر کا انعام رکھ چکی ہے اور وہ ہندوستان کے لئے ممبئی حملہ کا مجرم ہے۔ زرداری کے لئے یہ فیصلہ کرنا یقینا آسان نہیں رہا ہوگا ،مگر پھر بھی انہوں نے یہ رسک لیا، اجمیر شریف میں خواجہ معین الدین چشتی کے روضہ پر حاضری دے کر انہوں نے یہ ثابت کردیا کہ مذہبی مقدس مقامات دونوں ملکوں کو جدا نہیں کرسکتے۔ہندوستان کو تو ویسے بھی خواجوں کی چوکھٹ کہا جاتا ہے، جہاں خواجہ معین الدین چشتی ہیں ، حضرت امیر خسرو ہیں، حضرت نظام الدین اولیاء ہیں ، حضرت نصیر الدین چراغ ہیں، وہیں پاکستان میں بھی بابا فرید گنج شکر ہیں ،داتا گنج بخش ہیں۔یہاں کے مسلمان وہاں کے بزرگوں سے عقیدت و احترام رکھتے ہیں اور وہاں کے مسلمان یہاں کے بزرگوں سے بے حد عقیدت رکھتے ہیں۔ظاہر ہے ایسے میں یہ بزرگان دین دونوں ملکوں کے عوام کے دلوں کو ملانے کا بھی کام کر رہے ہیں ۔ان بزرگان دین کے بہانے ہی سہی، جس طرح ہندوستان سے ہمارے سکھ بھائی ننکانہ صاحب جاتے ہیں ،اسی طرح وہاں کے عوام کو بھی یہاں کے بزرگان دین کی زیارت کرنے کے بھرپور مواقع ملنے چاہئیں بلکہ وہاں رہنے والے ہمارے ہندو بھائیوں کی ہندوستان میں ان کے دھرم استھان پر آنے کے لئے ویزا میں نرمی ہونی چاہئے ۔متھرا ، کاشی، رشی کیش جیسے مقامات کے لئے ان کو بھی اسی طرح آنا چاہئے ۔مذہب کے نام پر لڑانے والوں کو احساس ہونا چاہئے کہ مذہب لڑانے کا کام نہیں کرتا ،یہ ملانے کا کام کرتا ہے۔اصل میں دونوں ملکوں کے تعلقات خراب کرنے میں جتنا ہاتھ امریکہ کا ہے، اتنا ہی دونوں ممالک کے میڈیا کا بھی ہے ۔ابھی زرداری کی آمد سے پہلے 9 بجے تمام چینلز پر بحث و مباحثہ کرنے والے سبھی بڑے بڑے تھنکرز نے زرداری کی آمد پر سخت تعجب کا اظہار کیا تھا ،بلکہ ان کا تو کہنا یہ تھا کہ زرداری کی اس وقت آمد ضرور کسی وجہ سے ہے کیونکہ حافظ سعید کے سر کی قیمت کا لگانا اور زرداری کا آنا ،ضرور کچھ مشابہت ہے .
زرداری آکر چلے بھی گئے لیکن وہ ایک پیغام ضرور چھوڑ گئے خیر سگالی کاپیغام۔ اسی طرح دونوں ممالک کے نوجوان لیڈر راہل اور بلاول ایک دوسرے سے گرم جوشی سے ملے اور ایک دوسرے کو اپنے ملک آنے کی دعوت دی وہ یقینا قابل ستائش ہے۔ اس طرح زرداری نے منموہن سنگھ جی کو اپنے ملک آنے کی دعوت دی جس کو ہمارے وزیر اعظم نے خوش دلی سے قبول کیا ۔یہ سب بہت ہی خوش آئند ہے۔ دونوں ملکوں کے عوام یقینا امن چاہتے ہیں اور دونوں ملکوں کے مسلمان ویزا میں نرمی چاہتے ہیں۔ اس قدر دکھ درد دونوں ممالک کے مسلمان جھیل چکے ہیں کہ ابھی بھی ویزا میں نرمی نہ ہونے سے اپنے پرایوں کی شادی بیاہ ،موت میں شرکت نہیں ہوپاتی ۔ ایسے میں دونوں ملکوں کے عوام اپنے لیڈروں کی طرف ہی دیکھتے ہیں ۔ زرداری منموہن سنگھ ملاقات یقینا دونوں ملکوں کے لئے ایک اچھی پیش رفت ثابت ہوگی۔   g

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *